ڈَل گیٹ سے لاہورکی منڈی تک

posted Oct 10, 2012, 3:53 PM by PFP Admin   [ updated Oct 10, 2012, 4:31 PM ]
ڈل گیٹ،جھیلِ ڈل کا گیٹ وے ہے ۔یہاں بڑی بڑی کشتیاں ہیں،ان پر پورے پورے مکانات بنے ہوئے ہیں،انہی میں دکانیں اور ہوٹل بھی سجائے گئے ہیں،جنہیں ہاؤس بوٹ کہتے ہیں۔لوگ بڑے شوق سے ان ہاؤس بوٹس پر جھیلِ ڈل کی سیر کرتے اور راتوں کو ٹھہرتے ہیں۔
 دیکھانہ دیکھا ،تاہم اتناضروردیکھ لیا کہ تاریخ انسانی کے بدترین ظلم و بربریت کے باوجودکشمیریوں کے حوصلے بلندہیں۔آزادی کاروشن چراغ ہردل میں جگمگارہاہے۔وادی کی صورت حال تمام ترسفاکیوں ا وردرندگی کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کرسکی،

ڈل گیٹ کے داخلی جانب پُل بناہواہے۔اس پل کے دونوں اطراف لوگوں نے ٹھیلے لگارکھے ہیں۔دورتک پھیلاہوایہ بازار چھابڑی والوں اور ریڑھی بانوں کے روزگار کا سامان کرتاہے ۔اسی مقام پر چھابڑیاں رکھے کئی خواتین بیٹھی، جن میں بچے بھی شامل ہیں، سبزیاں،فروٹ اور مختلف اقسام کا سامان فروخت کرتی نظرآتی ہیں۔ان عفت مآب ماؤں اور بہنوں کی ایسی ہی ہزاروں دردناک اور دلدوز داستانیں زبان زدعام ہیں،جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ہزاروں سلام اُن عظیم ماؤں کی خستہ حالی پر کہ جو اپنے جوان شوہراور بیٹوں کواس دھرتی ماں کی آزادی کے لئے بخوشی قربان کرچکی ہیں اورآج کسمپرسی کی زندگی گزاررہی ہیں۔لاکھوں سلام اُن عظیم بہنوں کی عظمت پر کہ جو مظالم کے ہزار پہاڑبرداشت کر کے بھی اوراپنے شوہروجوان بھائیوں کے جنازے تک نہیں دیکھ سکی ہیں۔وہ ہمالہ کی طرح بلندہمت اور کہنہ مشق بہنیں اور مائیں جوغاصب بھارت کی ناپاک فوج کی سنگینوں سائے تلے ایامِ زیست کے تلخ لمحات میں بھی ’’لے کے رہیں گے آزادی،ہے حق ہماراآزادی ‘‘کے فلک شگاف نعرے بلندکرنے والے اپنے بچوں اور بھائیوں کاحوصلہ بڑھارہی ہیں۔
کشمیرکے 28روزہ سفرکے دوران میں نے کچھ اور دیکھانہ دیکھا ،تاہم اتناضروردیکھ لیا کہ تاریخ انسانی کے بدترین ظلم و بربریت کے باوجودکشمیریوں کے حوصلے بلندہیں۔آزادی کاروشن چراغ ہردل میں جگمگارہاہے۔وادی کی صورت حال تمام ترسفاکیوں ا وردرندگی کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے پست نہیں کرسکی،لیکن اِس پار جب نظردوڑاتاہوں تو بہت مایوسی ہوتی ہے ۔اس کیپیٹل سٹی کو جس کو تحریک آزادی کا بیس کیمپ کہتے ہوئے سرندامت سے جھک جاتاہے ،اقتدارکاریس کیمپ بناہوا نظرآتاہے۔کیا دنیاکی ساتویں ایٹمی قوت کے حامل اس دیس میں ایک بھی محمدبن قاسمؒ نہیں،کیا18کروڑانسانوں کے اس ہجوم میں کوئی بھی صلاح الدین ایوبیؒ ،اورٹیپوسلطانؒ کا پرستارنہیں،کیا ہزاروں مربع میل کایہ علاقہ اتنابھانج ہوچکاہے کہ اس میں طارق ابن ذیادؒ اور سلطان نورالدین زنگیؒ کاکوئی جانشین ابھی تک پیدانہیں ہوسکا۔
یہ درست ہے کہ جنگ کسی مسئلہ کاحل نہیں ،ہم تین جنگیں کرکے بھی کچھ حاصل نہیں کرسکے بلکہ اُلٹانقصان ہی اٹھایا۔
یہ درست ہے کہ جنگ کسی مسئلہ کاحل نہیں ،ہم
 تین جنگیں کرکے بھی کچھ حاصل نہیں کرسکے بلکہ اُلٹانقصان ہی اٹھایا۔لیکن یہ کہاں کاانصاف اورکیسی مردانگی ہے کہ جس رجیم ولعین نے ہماری ماؤں اور بہنوں کو ڈلگیٹ کے ٹھندے وننگے فرش پرسبزیاں بیچنے کے لئے لاکھڑاکردیاہو، ہم اُسی مکاربھیڑئے کی دہلی کی منڈیاں لاہورمیں سجانے کے لئے دیدہ ودل فرش راہ بنانے کے لئے بے تاب ہورہے ہوں۔کیاتم سے سیدھی اور کھری بات بھی نہیں ہوسکتی ۔اگرتم اتنے مجبورہوگئے ہوتو ہم سے اپناتعلق ہی توڑدو۔پھرتم لاہورکی منڈی کھولواور جو جی میں آئے کرو،ہزارون زخم کھائے ہیں ،اُف تک نہ کی ،مگر ہم سے اب یہ زخم برداشت نہیں ہو سکتاجوتم لگارہے ہو،اگربھارت تمہاراپسندیدہ ہے تو ہم کون ہیں؟؟؟
جمعۃ المبارک کادن تھا،ہم نے نمازجمعہ کی ادائیگی درگاہ حضرت بل کی تاریخی جامع مسجدمیں اداکرناتھی،اس لئے اس تاریخی ودلفریب باغ کو جلدی الوداع کہناپڑا۔مجھے اندازہ تھاکہ باغ میں داخل ہونے کے بعد سب لوگ تو اکٹھے رہ نہیں سکیں گے،ٹولیاں بن گئیں تو سب کو تلاش کرنا مشکل ہو جائے گا۔لہٰذاسب کو ایک ہی وقت بتادیاجائے تاکہ آگے کا سفر بروقت شروع کیاجاسکے ۔ اس لئے پہلے ہی سب کو بتادیاگیاکہ ٹھیک 12بجے دن تمام لوگ باغ کے باہر کھڑی گاڑی کے پاس پہنچ جائیں۔ایساہی ہوناچاہیئے تھا،ہم تو مقررہ وقت پر گاڑی کر قریب آکر کھڑے ہوگئے ،لیکن دو لوگ نہ پہنچ سکے۔موبائل فون اُن کے پاس نہیں تھاکہ کال کرلیتے۔اب انُ کا انتظار ہونے لگا۔ہم باغ کے داخلی گیٹ کے سامنے جھیلِ ڈل کے کنارے کھڑے تھے ۔میں نے موبائل نکالا اس منظر کی وڈیو بنانے لگا، پہلے تودل میں کھٹکا ہواکہیں کوئی ٹوک نہ دے دیں، جب دیکھا کہ سب لوگ اپنے اپنے حال میں مست ہیں، توگھبراہٹ جاتی رہی ۔دوسے تین منٹ کی ویڈیومیں،میں نے تاحدنگاہ پھیلی جھیلِ ڈل کو سمولیا ۔ڈل میں کمال قسم کاسکوت اور خاموشی چھائی ہوئی تھی البتہ اس میں تیرنے والے شکارے (کشتیاں)جھیلِ ڈل میں لہروں کا معمولی تلاطم برپاکرکے منظرکو اورزیادہ دلکش بنا دیتے تھے۔ڈل پراُڑنے والی مرغابیاں اور رنگ رنگ کے پرندے اپنی چہچہاہٹ کاخوب رعب جماکر ایک سِرے اُڑان بھرتے ہوئے دوسری طرف گزرجاتے۔میں ڈل کے پاس کھڑے ہوکر اس کے اندر خاص ترتیب سے نصب فواروں اور اُس پرجمے ہوئے کنول کے پھولوں کو بڑے انہماک سے دیکھ رہاتھاکہ اس منظرمیں اچانک ایک شکاراداخل ہوا۔ترچھا،بیضوی شکل کا،دونوں سِروں سے باریک ،درمیان سے گول،دور سے لگتاتھاجیسے انڈے کاتراشا ہواکوئی ٹکڑا۔ اس شکارے پر دوافراد بیٹھے تھے ، میری توجہ ان خوبصورت نظاروں سے ہٹ گئی جب میں نے دیکھا کہ وہ دونوں عورتیں ہیں۔ ایک نسبتاً ادھیڑ عمر،دوسری نوجواں۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلی بار کسی عورت کوکشتی کے چپوہلاتے ہوئے دیکھاتو میری حیرانی کی انتہائی نہ رہی۔ میں کچھ عرصہ پنجاب کے علاقہ جہلم میں بھی گزارچکا ہوں، وہاں بھی دریا میں کشتیاں چلتے ہوئے دیکھیں، مگرمیں نے کسی عورت کوکھبی بھی کشتی چلاتے ہوئے نہیں دیکھاتھا، وہ جوں جوں میری طرف(کنارے ) بڑھ رہی تھیں،مجھے لگاجیسے میرے دل کی دھڑکن تیز ہورہی ہو۔تھوڑی ہی دیرمیں وہ شکاراعین میرے سامنے پہنچ چکاتھا۔اُس شکارے پر گھاس،تھوڑی سی لکڑیاں اور باقی دوتین قسم کی سبزیاں رکھی ہوئی تھیں۔جب وہ شکارا کنارے لگاتوخاتون باہرآگئی اور بچی نے سامان پکڑاناشروع کردیا ۔ساراسامان اتارکر وہ بچی بھی نیچے آگئی،جس کی عمر لگ بھگ 13سے 15برس ہوگی۔وہ آپس میں کشمیری زبان میں باتیں کررہی تھیں۔میری مادری زبان بھی کشمیری ہی ہے اس لئے مجھے ایک ایک لفظ کی صاف سمجھ آرہی تھی۔بچی ماں سے کہتی ہے،’’آزُک مال چھُوسیٹھہہ‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔،آج کامال کافی ہے ،فروخت ہوجائے تو ساری سختی ٹل جائے گی۔آج کل امن ہے، اس لئے اب میں سکول سے زیادہ چھٹیاں نہیں کرسکتی ،روزانہ ہڑتالوں سے پہلے ہی پڑھائی بہت متاء ثرہوتی ہے ،ماں کہتی ہے ،اچھا چپ کر ٹھیک ہے ۔ماں بیٹی کی یہ گفتگوسن کر میرے جسم میں جیسے ایک بجلی سی کوندگئی ہو ،میرے جسم کابال بال کھڑاہوگیاتھا،باوجود اس کے کہ سرینگر میں بولی جانے والی کشمیری زبان ،میں پوری طرح روانی سے نہیں بول سکتاتھا۔کیوں کہ ہمارے ہاں آزادکشمیر میں بولی جانے والی کشمیری اوروہاں کے لب ولہجہ میں کافی فرق ہے ،میں نے تھوڑا ساقریب ہوکراُس خاتون سے بے ساختہ پوچھ لیا ’’ییہی کور چھُونِوان؟ ‘‘۔۔۔۔۔۔۔،یہ سبزی کدھر لے کر جارہی ہیں،اس کو کون فرخت کرے گا؟خاتون نے فوری طورپرپلوسے اپنا منہ ڈھانپ لیا ،بچی ایک طرف ہوگئی ،پہلے تو اُس نے مجھے قدرے غصے سے دیکھا ،پھر نرمی سے بولی، تم کیوں پوچھ رہے ہو ،تم نے خریدنی ہے کیا؟میں نے کہا نہیں،میں آزادکشمیرسے آیاہوں،ابھی میری بات پوری نہیں ہوئی تھی ،اُس نے ٹوکتے ہوئے جلدی سے پوچھا،تم پاکستان سے آئے ہو ،میں نے کہا جی ہاں،اُس کی آنکھوں میں عجیب سی خوشی چمکنے لگی،کہنے لگی ،ہاں بیٹا،یہ سبزی ہم فروخت کرنے کے لئے ہی لائے ہیں۔مگرتم کیوں پوچھتے ہو ،تمہیں جتنی ضرورت ہے رکھ لو ،میں نے کہا نہیں ،میں تو ایسے ہی پوچھ رہاتھاکہ آپ خود کیوں اس کو فروخت کرینگے ،کیا�آپ کے شوہر یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔،شہید ہوگیاتھاوہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،اس کی آنکھیں بھرآئیں ،سب کچھ ختم ہوگیا،یہ چھوٹی اُس وقت ایک سال کی تھی جب اُن کو فوجیوں نے ہمارے گھرکے اندرماردیاتھا،اِس کے داداکو بھی بہت مارا،کئی سال پہلے وہ بھی چل بسا،کون پالے گا اس کو ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،یہ سبزی ڈلگیٹ پہ رکھ کر بیچوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،میں اپنے آنسوضبط نہ کر سکا اورمنہ چھپاکر ایک طرف ہوگیا۔‘‘(یہ اکتساب میرے زیرتحریر سفرنامہ کشمیر’’گھرسے گھرتک‘‘کاہے،انشااللہ بہت جلد مکمل کر کے نذرقارئین کرونگا)
ڈَل گیٹ سے لاہورکی منڈی تک
سفیراحمدرضا 
’’ نشاط باغ سے جھیل ڈل کامنظر،سبحان اللہ ،کیا
 کہنے.........دورچھائے ہوئے بادل اور سامنے درگاہ حضرت بل کاعکس ڈل کی رونق کوچارچاندلگارہاتھا،ایسے پُرکیف نظارے،کہ آنکھوں کو معراج نصیب ہورہی تھی۔
ان عفت مآب ماؤں اور بہنوں کی ایسی ہی ہزاروں دردناک اور دلدوز داستانیں زبان زدعام ہیں،جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں

میں کافی دیرتک اسی احساس میں گم رہاکہ جلال الدین اکبر نے
’’گرفردوس برروئے زمیں است ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمی است وہمی است ہمی است ‘‘کہہ کرگویاقلم توڑدیاہوگا،اورپھراقبال ؒ نے تو’’یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیرہے جنت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،جنت کسی کافرکوملی ہے نہ ملے گی‘‘کہہ کراس حقیقت کا واشگاف اندازسے اظہارکرکے جو پیغام دیاوہ رہتی دنیاتک لوگوں کو کشمیر کے قدرتی 
حسن کادلدادہ کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

 نشاط باغ کے خوبصورت پھولوں ،پھلواریوں،مختلف انواع
 واقسام کے درختوں اور آرائیشی فواروں کے سامنے کھڑے ہوکر ان یادگارمناظرکو کیمرے کی آنکھ سے محفوط کررہے تھے۔باغ میں سیاحوں کا اک ہجوم تھا،ہرعمرکے سینکڑوں افرادگھوم پھررہے تھے،مختلف ممالک، مذاہب ورنگ ونسل سے تعلق رکھنے والے مردوزن،بچے اوربوڑھے سبھی ان خوبصورت مناظرسے اپنی آنکھوں کو راحت پہنچارہے تھے۔ہم نے پہلی ہی فرصت میں چشمہ شاہی کے قریب ایک گروپ فوٹو بنوایاجووہاں کے مقامی فوٹوگرافرنے کوئی آدھ گھنٹہ بعد بڑے سائزمیں تیارکرکے ہمیں لاکردیدیا۔اس باغ کے بارے میں مجھے زیادہ معلومات تو حاصل نہ ہوسکیں ،تاہم بتایاگیاکہ اس باغ کو مغل بادشاہ شاہجہاں نے اپنی ملکہ کے لئے بطورخاص پر بنوایاتھا۔باغ کافی وسیع ہے اور مختلف حصوں میں منقسم نظرآتاہے۔
لاکھوں سلام اُن عظیم بہنوں کی عظمت پر کہ جو مظالم کے ہزار پہاڑبرداشت کر کے بھی اوراپنے شوہروجوان بھائیوں کے جنازے تک نہیں دیکھ سکی ہیں۔وہ ہمالہ کی طرح بلندہمت اور کہنہ مشق بہنیں اور مائیں جوغاصب بھارت کی ناپاک فوج کی سنگینوں سائے تلے ایامِ زیست کے تلخ لمحات میں بھی ’’لے کے رہیں گے آزادی،ہے حق ہماراآزادی ‘‘کے فلک شگاف نعرے بلندکرنے والے اپنے بچوں اور بھائیوں کاحوصلہ بڑھارہی ہیں۔

اس کاداخلی گیٹ کافی بلنداور باغ کے شایان شان خوبصورتی سے بنایاگیاہے ،اس سے ملحق دومقامات سے گرتی ہوئی آبشار پہلی ہی نظرمیں سیاحوں کا دل موہ لیتی ہے۔
باغ میں طرح طرح کے پھول لگائے گئے ہیں جن کی حفاظت اور نشونماکے لئے بطورخاص عملہ تعینات ہے۔باغ کے تقریباً درمیان میں نصب پانی کے فوارے اور چھوٹی سی نہر سٹیپ وائزباغ کے بلندی سے پستی کی طرف بہتی ہوئی اس کی رونق کودوبالاکرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
ڈل پراُڑنے والی مرغابیاں اور رنگ رنگ کے پرندے اپنی چہچہاہٹ کاخوب رعب جماکر ایک سِرے اُڑان بھرتے ہوئے دوسری طرف گزرجاتے

Comments