طالبان ،طالبات اور اسلام تحریر: شمس رحمان

posted Oct 10, 2012, 2:21 PM by PFP Admin   [ updated Oct 11, 2012, 3:06 AM ]

۔  وہ معاشرے اور معاشروں کے وہ حصے جہاں دین اور علم کے سمجھ کے فرق کو دلیل  کی بجائے طاقت کے ذریعے نپٹائے جانے کا چلن  ہو وہاں[   قبائلی سردار  اپنا اقتدار بچانے کے لیے  اور جدید سیاست دان اقتدار حاصل کرنے کے لیے] دین کی سمجھ کو سیاست کا رنگ دے کر عوامی قوت اپنے حق میں کرنے کی چالیں چلتے ہیں ۔ 

افغانستان میں ایسا جب 1979 میں آنے والے ثور انقلاب کے بعد ہوا تو اس وقت میں کراچی یونیورسٹی میں تھا۔  پہلے پہل میں ان طلباء  میں شامل تھا جو یہ سمجھتے تھے کہ   روس  افغانستان میں دہریت پھیلانے کے لیے آیا ہے۔ مگر بعد ازاں معلوم ہوا کہ شہروں میں  سوشلسٹ اور لبرل نظریات کی حمایت میں اضافے کے نتیجے میں سیاسی طاقت بھی سوشلسٹوں کے ہاتھ میں آگئی تو پاکستان میں سوشلسٹ مخالف قوتوں نے امریکہ میں ایسی ہی قوتوں  کی سرپرستی میں قبائلی سرداروں کو اکسایا اور ورغلایا کہ اسلام خطرے میں ہے۔ درحقیقت قبائلی نظام خطرے میں تھا ۔ مگر  اسلام کو ایک سیاسی نظریے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ سوشلسٹوں نے اسلام کے اندر علم و ترقی  کی گنجائش کو مقامی دیہی  سماج  کے حالات کے مطابق پیش کرنے کی بجائے دیہاتوں پر جدید تعلیم ٹھونسنے کی کوشش کی ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ کفر اور اسلام کی جنگ بن گئی۔ اس کو پاکستان اور امریکہ کے اندر مختلف قوتوں نے اپنے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ۔  جب روس کو بھاگنا پڑا تو افغانستان کے وسائل جو کہ گذشتہ جنگوں میں بیرونی مداخلت بشمول روسی  مداخلت کا ایک  اہم سبب رہےہیں پر اختیار حاصل کرنے  لیے امریکیوں نے کوشش کی  تو ایک نئی جنگ شروع ہو گئی جس میں مقامی سطح پر طالبان اور عالمی سطح پر القائدہ ایک نئی قوت بن کر  سامنے آئی ۔ بے شک مادی وسائل اور معاشی مفادات جھگڑوں اور جنگوں کی بنیادی وجوہات ہوتے ہیں مگر جنگوں کو درست اور فرض ثابت کرنے  اور جنگ بازوں کو  ترغیب و تحریک بخشنے کے لیے  ظاہر ہے کہ اخلاقی جوازات تراشے جاتے ہیں۔  ان  جوازوں کے ذریعے  امریکی حکمران   دہشت گردی کے خاتمے  اور جمہوریت و آزادیوں کو فروغ دینے [ فروغنے؟] کے نام پر  لوگوں دہشت ذدہ کرتے ہیں اور طالبان  اسلام کے نام پر   سکولوں کو جلاتے ہیں، خاص طور سے لڑکیوں کے سکولوں کو اور علم کے حصول کا خطرہ مول لینے والی بچیوں پر  فحاشی اور عریانی کا الزام لگا کر قتل کرنے کو جواز بخشتے ہیں۔  بنیادی طور پر یہ جنگ مذہبوں  کی نہیں بلکہ  دنیا بھر کے عام انسانوں جن کو جدید  دنیاوی  علم کی ضرورت ہے ان کے درمیان اور  جہالت کی ان قوتوں کے درمیان ہے جن کی آجاراہ داری  کو  جدید دنیاوی علم  سے خطرہ ہے۔  ملالہ اس علم کی علامت ہے جس کی انسان کو ضرورت ہے ۔ جو علم انسان کو خدا تک لے جاتا ہے ۔ درحقیقت اس علم کی ضرورت ملالہ پر گولی چلانے والے اس کے  طالب بھائی کو بھی ہے  تاکہ اس کی اندھی عقیدت کو روشنی نصیب ہو سکے اور وہ  اللہ تبارک و تعالیٰ  کے پیغام کو بہتر سمجھ سکے  مگر اس وقت  وہ ایسے  علم کی علامت ہے جو انسان کی سوچ و فکر کو ساکت و جامد کر دیتا ہے  اور جوہر کا وہ پانی بن جاتا ہے جو ایک ہی جگہ رُکا رہنے کے باعث سرانڈ  چھوڑ دیتا ہے ۔  مسئلہ اسلام کا نہیں  ہماری سمجھ یعنی فہم و فراست کا ہے۔ 


ایک طرف وہ ہیں جو ان آیات و احادیث کو رہنما مانتے ہیں جن میں دنیاوی علم کی اہمیت و افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے انسان کو کائنات کو سمجھنے اور اس کو علم کے ذریعے تسخیر کرنے اور علم حاصل کرنے کے لیے چین تک جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق دنیاوی  علم کا حصول جائز ہی نہیں بلکہ فرض ہے۔اس علم کا سفر اور سماجی تبدیلیاں لازم و ملزوم ہیں۔دنیاوی علم دنیا کے جس خطے میں بھی حاصل کیا جائے اس کے نتیجے میں مروجہ انداز فکر و عمل میں تبدیلیاں رونما ہونا لازمی ہوتی ہیں ۔ ان تبدیلیوں کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ اس میں مروجہ طاقت و علم کے سرچشموں کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کیا جاتا بلکہ کہیں تو ان کا صاف انکار کیا جاتا ہے۔

بنیادی طور پر یہ جنگ مذہبوں کی نہیں بلکہ دنیا بھر کے عام انسانوں جن کو جدید دنیاوی علم کی ضرورت ہے ان کے درمیان اور جہالت کی ان قوتوں کے درمیان ہے جن کی آجاراہ داری کو جدیددنیاوی علم سے خطرہ ہے۔

دوسری طرف طاقت کے یہ مروجہ سرچشمے جو  صدیوں سے طاقت کے حقدار ہوتے ہیں ظاہر ہے  اس میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے ۔ جہاں طاقت کے ان سرچشموں کو میسر طاقت و متعلقہ مراعات دین کے نام پر ملی ہوئی ہوتی ہیں وہاں  ان کی طرف سے فوری ردعمل  اس نئی روش و نئی روشنی کو کافر قرار دینا  ہی ہوتا ہے۔ اگر بات یہاں تک رہے تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں پیدا ہوتا۔ کیونکہ ایسا ساری دنیا میں ہوتا ہے کہ ہر ایک نئی سوچ و فکر اور تجویز و تحریک کو مروجہ قوتوں کی طرف سے مزاحمت و استراد کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مسئلہ اس وقت بھیانک شکل اختیار کر جاتا ہے جب طاقت کے ذریعے نئی سوچ و فکر کو کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔

  اس میں یہ قوتیں چونکہ دین ہی کے ان پہلووں کو مانتی اور اُجاگر کرتی ہیں جن میں مخصوص [قبائلی]  معاشروں میں مخصوص معاملات کے لیے مخصوص ہدایات دی گئی ہوتی ہیں  اور یہ قوتیں ان ہدایات کی اپنے قبائلی اور جاگیردارانہ   رنگ میں شرح کر کے ان کو آفاقی جامد و ساکت مانتی اور منواتی ہیں ۔ اگر کوئی ان کی ان قبائلی تشریحات کو نہ مانے تو اس کو کافر قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر  اس کے باوجود  " لادینی " قوتیں فروغ پذیر رہیں تو ان کے خلاف جہاد فرض کر دیا جاتا ہے۔  
طالبان اور عالمی سطح پر القائدہ ایک نئی قوت بن کر  سامنے آئی ۔ بے شک مادی وسائل اور معاشی مفادات جھگڑوں اور جنگوں کی بنیادی وجوہات ہوتے ہیں مگر جنگوں کو درست اور فرض ثابت کرنے  اور جنگ بازوں کو  ترغیب و تحریک بخشنے کے لیے  ظاہر ہے کہ اخلاقی جوازات تراشے جاتے ہیں۔

پولیس  کی طرف سے جاری کردہ معلومات  کے مطابق ملالہ یوسف زئی چودہ سالہ لڑکی سکول سے گھر جانے کے لیے سکول کی وین میں بیٹھی ہوئی تھی جب اسلام کے نام پر جہاد کرنے والی تحریک   طالبان کے ایک  باریش بندوق باز  نے آکر پوچھا کہ ملالہ کون ہے؟ ایک لڑکی نی ملالہ کی طرف اشارہ کیا ۔ ملالہ نے انکار کرتے ہوئے کہا میں ملالہ نہیں ہوں۔ اور بندوق باز طالب  نے دونوں طالبات کو گولی مارد ی۔  دنوں شدید زخمی حالت میں اربوں انسانوں کی دعاوں کے سائے میں زیر علاج ہیں۔

چند لمحوں میں ایک مرد نے جو جہاد کے لیے   پاکستانی سرکار اور امریکہ یلغار کے خلاف برسرپیکار ہے اور جس کی تحریک کا نام  طالبان یعنی  علم کے طالب ہے  نے  دو نہتی طالبات کو گولی کیوں مار دی؟

چند لمحوں میں ایک مرد نے جو جہاد کے لیے   پاکستانی سرکار اور امریکہ یلغار کے خلاف برسرپیکار ہے اور جس کی تحریک کا نام  طالبان یعنی  علم کے طالب ہے  نے  دو نہتی طالبات کو گولی کیوں مار دی؟ ظاہر ہے ان لڑکیوں کے ساتھ اس کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ اس لیے  قتل کا یہ اقدام خاندانی رنجش کا نتیجہ نہیں تھا۔ وہ لڑکیاں اس لڑکے کی رشتہ دار نہیں تھیں اور نہ ہی وہ کسی ایسے فعل میں ملوث تھیں جس سے اس کے قبیلے کی عزت پر حرف آیا اور غیرت کے تقاضے میں ان کا قتل واجب ہو گیا ہو ۔ ان طالبات کو طالب نے اسلام کے نام پر گولی ماری۔ لیکن کیا اسلام اس طرح  سکول کی کسی بچی کو گولی مارنے کی آجازت دیتا ہے؟

اس طالب کے عمل سے ظاہر ہے کہ اس کی تحریک کے نقطہ نظر کےمطابق دیتا ہے۔ مگر لاکھوں کڑوڑوں مسلمان جو پاکستان و افغانستان سمیت دنیا کے سینکڑوں ممالک میں مقیم ہیں کہتے ہیں کہ اسلام اس طرح کے فعل کی آجازت نہیں دیتا۔ علمی طور پراسلام ہی کے ماننے والوں کی  رائے میں اس فرق کی وجوہات پیروکاروں کی مذہبی سمجھ اور ترجمانی میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ تاہم عملی طور پر  یہ واقعہ مذہبی  نہیں  بلکہ سیاسی  تصادم کاہے ۔ اور اس واقعے کی سیاست میں تصادم بنیادی طور پر دو مسلمان قوتوں کے درمیان ہے  جن کی اسلامی سمجھ میں فرق ہے۔ 

 تاہم عملی طور پر  یہ واقعہ مذہبی  نہیں  بلکہ سیاسی  تصادم کاہے ۔ اور اس واقعے کی سیاست میں تصادم بنیادی طور پر دو مسلمان قوتوں کے درمیان ہے  جن کی اسلامی سمجھ میں فرق ہے۔ 


  

Comments