طالبان، ملا اور پتھر کا زمانہ

ملالہ اور ملک کی دوسری بیٹیوں کے معصوم جسموں کوگولیوں سے چھلنی کرنے والے طالبا ن کو اپنے ناراض بچے قرار دے کر نہتے انسانوں پر ان کے بزدلانہ حملوں کے برحق ہونے کا جوا زتلاش کر نا کوئی عقل مندی نہیں ہے، یہ وقت ملالہ پر ہونے والے حملے کو سازشی نظریات کی دھند میں دھندلاتے اور محدب عدسے لگا کر مبینہ غیر ملکی سازشوں کا سراغ لگانے کا نہیں بلکہ خم ٹھونک کر بندو ق برداروں او ر امریکی سامراج کی مذمت کرنے کا ہے ، اگر ہم نے سنگینیوں کے خلاف احتجاج میں کسی مصلحت سے کام لیا تو اس جرمن شاعر مارٹن نمشے کی طرح کہیں ہمیں بھی مستقبل میں ااپنی مصلحت کوشی اور خاموشی کا ماتم نہ کرنا پڑے جس نے یہ تاریخ ساز نظم لکھ کر مزاحمت کے علمبرداروں کے جذبوں کو نئی مہمیز دی ہے۔
پہلے وہ کمیونسٹوں کے قتل کو آئے لیکن میں چپ رہا کہ میں کمیونسٹ نہ تھا ۔
پھر وہ سوشلسٹوں کے قتل کو آئے لیکن میں چپ رہا کہ میں سوشلسٹ نہ تھا ۔پھر وہ ٹریڈ ورکروں کے قتل کو آئے لیکن میں چپ رہا کہ میں ٹریڈ ورکر نہ تھا ۔پھر وہ یہودیوں
پہلے وہ کمیونسٹوں کے قتل کو آئے لیکن میں چپ رہا کہ میں کمیونسٹ نہ تھا ۔
پھر وہ سوشلسٹوں کے قتل کو آئے لیکن میں چپ رہا کہ میں سوشلسٹ نہ تھا ۔
پھر وہ ٹریڈ ورکروں کے قتل کو آئے لیکن میں چپ رہا کہ میں ٹریڈ ورکر نہ تھا ۔
پھر وہ یہودیوں کے قتل کوآئے لیکن میں چپ رہا کہ میں یہودی نہ تھا ۔
بلا آخر وہ میری جان لینے کو آ ٹپکے تب کوئی نہ بچا تھا جو میرے قتل پر آواز اُٹھاتا
کے قتل کوآئے لیکن میں چپ رہا کہ میں یہودی نہ تھا ۔
بلا آخر وہ میری جان لینے کو آ ٹپکے تب کوئی نہ بچا تھا جو میرے قتل پر آواز اُٹھاتا
تو قارئین !
بولیے،اس سے پہلے کہ وہ گھڑی آن پہنچے جب طالبان کی گولیاں ہمارے سینوں میں پیوست ہو جائیں اور ہماری خاطر بو لنے والا بھی کوئی نہ ہو۔
یہ وقت ملالہ پر ہونے والے حملے کو سازشی نظریات کی دھند میں دھندلاتے اور محدب عدسے لگا کر مبینہ غیر ملکی سازشوں کا سراغ لگانے کا نہیں بلکہ خم ٹھونک کر بندو ق برداروں او ر امریکی سامراج کی مذمت کرنے کا ہے ، 
 کالم نگار ظفراقبال قیام امن کے لے کوشا ں غیرسرکاری ادارے پریس فار پیس کے بانی اور فری لانس جرنلسٹہیں۔  
داخلی اور خارجی عسکریت کے اس پس منظر میں حکومت کے ساتھ ساتھ ملک کی نام نہاد دینی قیادت اور قوتیں بھی بد ترین دوغلے پن اور مصلحت کوشی کا شکا رہیں، جو یک نہتی بیٹی کے نحیف و نزار جسم پر ا‘ٹھنے والی بندوقوں کی مذمت کی بجائے طرح طرح کی تاویلیں تلاش کر کے طالبا ن شدت پسندوں کے موقف کی کھلم کھلا یا بالواسطہ حوصلہ افزائی کی موجب بن رہی 
ہیں۔

جنوبی وزیر ستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن میں امریکہ او راس کے اتحادیوں کی طر سے ڈرون حملوں کی بھینٹ چڑھنے والے سویلین افراد کی حمایت کوئی بھی درد مند انسان نہیں کر سکتا،لیکن کون نہیں جانتا کہ عمران خان کی تحریک انصاف نے ڈرون حملوں کے خلاف ملکی اور عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے اوراس ظلم پر آواز اُٹھانے کیلئے لندن اور واشنگٹن کے جنگ دشمنوں اور ڈرون مخالف تحریک کے کرتا دھرتا آوازوں کو جنوبی وزیر ستان کے خطر ناک علاقے میں لا کھڑا کیا تو خود کو اسلام کی چلتی پھرتی ہوئی تصویر سمجھنے اور ساری زندگی پیٹ سے سوچنے والے مولوی فضل الرحمان نے ڈیرہ اسماعیل خان کے اپنے روایتی انتخابی حلقے کی سر زمین بھارتی توند کے بوجھ تلے دبے پاؤں سے سرکتی ہوئی محسوس ہوئی تو اپنے کارندوں کے ذریعے علاقے کی مساجد میں مذموم اعلان کے ذریعے اس امن مارچ کو ناکام بنانے کی سعی لاحاصل کی کہ ا س مارچ میں مغرب سے یہود او رانصاری آ رہے ہیں،
 حالانکہ اس سے بڑا عظیم سچ اور کیا ہو گا کہ جب مولوی فضل الرحمن اسلام آباد میں یہود ی نصرانی سفارتی عملے کے آگے ا س بات کے لیے گڑگڑا رہے تھے کہ ا مریکہ بہاد ر اقتدار کے ایوانوں میں ان کے داخلے کیلئے راستہ ہموار کرے ، ا س وقت ڈرون حملوں کے متاثرین کے ساتھ یک جہتی کے لیے آنے والی امریکی خاتون امن کارکن میڈیا بنجمن اور اس کی گلابی تحریک کے دیگر یہودی اور نصرانی ساتھی اسرائیل کے مظالم کا شکار مظلوم فلسطینی عوام سے اظہار ہمدردی کیلئے غزہ مارچ کر رہی تھی اور جب مولوی فضل الرحمان کی ایم ایم اے کے دیگر رہنما کیس شریر مرید کی طرف سے بے ہوشی والی دعا ملا حلوہ کھانے کے بعد اسلام آباد کے ایک ہسپتال کے اے سی والے کمرہ میں زیر علاج او ر آرام فرما تھے تو برطانیہ میں یہی جنگ مخالف تحریک کے کارکن یخ بستہ موسم میں لندن کی سڑکوں پر امریکی جارحیت کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
 لشکروں اور جیشوں پر عائد پابندیوں کے باوجود آزا دکشمیر کے درالحکومت مظفر آباد میں دفاع پاکستان کونسل کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں نقاب پوش چہروں کے ہاتھوں میں تھمی کلاشنکوفوں اور بندوقوں کی بارات نظر آتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگرطالبان کے ہاتھوں کی بندوق اگرملک وقوم کے لیے خطرہ ہے تو کسی اور لشکر یا جیش اور.نجی ملیشیا کے کی کلاشنکوفوں سے حکومت اور اداروں کی چشم پوشی کیوں؟



ظفر اقبال
طالبان بندوق بردار عوام کے جسموں اور ذہنوں پر قابض ہو کر پاکستان سماج کو پتھر کے عہد میں دھکیلنے کے لیے خود ساختہ جہاد میں مصروف ہیں لیکن دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کیلئے حکومت اور پاک فوج کی پالیسی دوغلی ، تذبذب اور مخمصے کا شکار ہے ، جس کا سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ جنوبی وزیر ستان میں طالبان شدت پسندوں سے نبرد آزما پاک فوج کے سپہ سالارایک طرف ملامہ یوسف زئی پر حملے میں ملوث عسکریت پسندوں کو ملکی سلامتی کیلئے ایک سنگین خطرہ قرار دے کر ان کی سرکوبی کی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پر عزم ہیں لیکن دوسری جانب اسی پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے کالعدم قرار دی گئی تنظیموں کے شدت پسند عناصر کو دفاع پاکستان کونسل کے سائے تلے کراچی سے کشمیر تک طالبان نواز خیالات اور ایجنڈے کی تکمیل کیلئے کھلی چھوٹ حاصل ہے ، دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف برسر پیکار حکومت کی دوغلی پالیسیوں کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ حکومت کی طرف سے لشکروں اور جیشوں پر عائد پابندیوں کے باوجود آزا دکشمیر کے درالحکومت مظفر آباد میں دفاع پاکستان کونسل کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں نقاب پوش چہروں کے ہاتھوں میں تھمی کلاشنکوفوں اور بندوقوں کی بارات نظر آتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگرطالبان کے ہاتھوں کی بندوق اگرملک وقوم کے لیے خطرہ ہے تو کسی اور لشکر یا جیش اور.نجی ملیشیا کے کی کلاشنکوفوں سے حکومت اور اداروں کی چشم پوشی کیوں؟
حقیقت یہ ہے کہ اسلام ، پاکستان اور نطریے کے نعروں کے سہاروں پر شدت پسند گروہوں کو اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے جمع کرنے کی ایسی پالیساں مخصوص ملکی اشرافیہ ارو مذہبی گروہوں کے لیے تو جمہوری اور آمرانہ حکومتوں میں باران رحمت ثابت ہوتی رہی ہیں لیکن ملک وقوم کے لیے ان کے اثرات انتہائی مہلک ثابت ہوئے ہیں۔سوویت یونین کی سرخ آندھیوں کے آگے نظریاتی اور سٹریٹجک حصار باندھنے کیلئے مقتدرقوتوں کی طرف سے مذہبی حلقوں کے استعمال کی پالیسی تو افغان جہاد تک کامیاب رہی لیکن ا س کے دور رس نتائج اس وقت پورے ملک میں طالبا ن شدت پسندوں کی طرف سے حکومتی اداروں اور عوام کو نشانہ بنانے کی نہ مٹنے والی مہم کی شکل میں ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
مذہبی گروپوں کے سہارے اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے نمٹنے کی روائیتی پالیسی کے تسلسل میں 1989ء میں کشمیر سے اُٹھنے والی ہند مخالف مزاحمت کو بھی کشمیر کی آزادی سے زیادہ ہندوستان کو زچ کرنے اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے کشمیر کی ’’پراکسی وار‘‘میں بڑی کامیابی سے استعمال کیا گیا، جس میں اگرچہ اسلام آباد آ 
کو ہندوستان کو کشمیر میں الجھائے رکھنے اور افغان جہادکے خاتمے کے بعد مسلم عسکریت پسندوں کے لہو گرم رکھنے کیلئے مصروف جہاد رکھتے میں وقتی طور پر خاطرخواہ کامیابی ملی لیکن سب سے زیادہ نقصان کشمیر ی قوم کو ہوا جس کی ایک پوری نسل تصاد م کے المیوں کی بھینٹ چڑھ گئی ، کشمیر میں تحریک حریت کے عروج میں دانش وروں ، پروفیسروں او ر عالمی دماغوں کو ہندوستان کی پیر املٹری فورسز کے ساتھ ساتھ عسکریت پسندوں نے چن چن کر قتل کیا، ہندوستان کی طر ف سے تحریک مزاحمت کو کچلنے کے تمام حربے اگرچہ ناکام رہے ہیں لیکن بہاولپور ، جنوبی پنجاب اور مرید کے سے کشمیر جانے والے لشکروں ، جیشوں اور حزبوں کے ایڈونچر ازم نے کشمیری عوام کی مسلمہ حق خود ارادیت کے حصول کی قومی جہدو جہد کے چہرے پر دہشت گردی کا ایک ایسا ان مٹ داغ لگا دیا ہے کہ کشمیریوں کی طرف سے پر امن سیاسی جدو جہد کی طرف مراجعت اور عسکریت سے الگ تھلگ رہنے کی تڑپ کے باجود اقوام عالم او ر عالمی ایوانوں میں کشمیر میں عوامی بے چینی کی تما م لہروں کو ’اسلام آباد‘‘ کنٹرولڈ مزاحمت سے ہی تعبیر کیا جا سکتاہے۔
Comments