سب دہشت گرد ہیں

posted Sep 29, 2012, 2:10 PM by PFP Admin   [ updated Sep 29, 2012, 2:29 PM ]
اس شیطانی عمل کی اگر کو ئی قابل فہم تو جیح پیش کی جا سکتی ہے تو وہ اس سے حاصل ہونے والے مقاصد ہیں ۔ اب جبکہ دنیا بھر کا میڈیا ، عوام اور حکومتیں کسی نہ کسی صورت اس کے بداثرات سے نبٹنے کی کوشش کر رہی ہیں تو اس کے تیاری کے پس پردہ محرکات اور مقاصد بھی سمجھے جا سکتے ہیں۔ جب کسی سوچی سمجھی سازش کے مقاصد مبہم اور غیر واضح ہوں تو نتاٰئج اس کی سار ی حقیقت آشکار کر دیتے ہیں ۔ 
اگر اس ایک پہلو کو ہی دیکھا جائے کہ اب تک اس اشتعال انگیز فلم کا ٹریلر یو ٹیوب پر تادم تحریر ۱۴۱۳۸۹۵۱ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے، تو بات کچھ کچھ سمجھ میں آتی ہے۔ اس وقت دنیا میں کروڑوں انسان اس پر اپنے اپنے انداز میں ردعمل کاا ظہار کر رہے ہیں ۔ انفرادی اور اجتماعی حوالوں سے ان گنت اور نئے بحران جنم لے چکے ہیں ، کرہ ارض کے کٰئی بڑے مسائل اور معاملات پس منظر میں چلے گئے ہیں ، تریپولی سے صنعا اور استنبول سے کابل تک مسلم دنیا سراپا احتجاج ہے ۔ مگر دوسری جانب الٹی گنگا بہ رہی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے اور مسلمہ ایوانوں میں مسلم شدت پسندی کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ایران اور شام کے خلاف نئی صف بندیاں ہو چکی ہیں اور کروڑوں انسانوں مستقبل داو پہ لگ چکا ہے ۔ خودکش حملوں کی ایک نئی لہر افغانستان اور پاکستان سے ہوتی ہوئی مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اظہار رائے کی ایسی آزادی جو دنیا کو تہذیبی ، سیاسی اور سماجی تباہی کی جانب دھکیل دے کیا دنیا کا کوئی معاشرہ اس کی اجازت دے سکتا ہے ؟ اگر نہیں تو پھر وقت کا تقاضا ہے کی بین الاقوامی سطح پر آزادیء اظہار کا ایسا معیار مقرر کیا جائے جو تمام مذاہب ، عقائد اور اقوام عالم کے لئے قابل قبول ہو اور جس میں آزادیء اظہار اور فکری دہشت گردی کے مابین واضح فرق موجود ہو۔ 
ایک بدبخت انسان نے اپنے اسلام دشمن عقائد کو 
پھیلانے کے لئے پستی اور ذلالت کے اندھیروں میں ڈوب کر ایک ایسی فلم بنائی جو نہ صرف اخلاقی اور سماجی حوالوں سے انتہائی تباہ کن، اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی ہے بلکہ فنون لطیفہ ، فلم سازی اور تخلیق کاری کے حوالوں سے بھی انتہائی بھونڈا اور بے رحم مذاق ہے ۔ فلم بنانے والا کسی مستند پروڈکشن ہاوس سے تعلق رکھتا ہے اور نہ ہی کسی قابل ذکر سینما گھر نے اس کی اس اشتعال انگیز فلم کو نمائش کے قابل سمجھا۔
نکولا بیسلے نکولا نام کا یہ شر پسند جس کے بارے میں دنیا کو بتا یا جا رہا ہے کہ وہی اس سازش کا واحد مرکزی کردار ہے ایک سزا یافتہ مجرم اور معمولی درجے کا کاپٹک عیسائی ہے ۔ اور بنک فراڈ ، دھوکا دہی ، جھوٹ ، مکاری اور غلیظ مواد کی تیاری کے الزامات کے تحت جیل کی سزا کاٹ چکا ہے ۔ جبکہ عقل اس بات کو تسلیم کرنے سے قاصر ہے کہ اگر یہ صرف ایک آدمی کے ذہنی و اخلاقی دیوالیہ پن کا شاخسانہ ہے تو تکنیکی اور تخلیقی معیار سے اس قدر پست درجے کی فلم دینا بھر کے میڈیا ، جس میں سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کا کردار نمایا ں ہے ، پر اس قدر حاوی کیونکر ہو گئی ہے ۔ ہمیں یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ ایک فرد واحد کا مجرمانہ فعل ہے۔ 
مظہر اقبال
بی بی سی ریڈیو پر امریکا کو انتہائی مطلوب ابو حمزہ کے
 بارے میں ملکہء عالیہ کے خیالات افشا کرنے پر برطانوی نشریاتی ادارے کی پوری ٹیم نہ صرف شرمندہ ہے بلکہ اپنے انتہائی ہونہار اور ہردلعزیز رپورٹر کو قربانی کا بکرا بنانے پرآمادہ دکھائی دیتی ہے ۔ فرینک گارڈنر کا ذاتی معافی نامہ بھی ان کی زبان سے پھسلے ایک جملے کی تلافی نہ کر سکا تو ادارتی شعبے کے سینیر رکن اور ادارے کے سربراہ کو وضاحتی بیان لکھنا پڑا ۔ پیر س کے ایک میگزین میں شہزادی کیٹ مڈلٹن کی نیم برہنہ تصاویر شائع ہونے پر تاج برطانیہ کو جو توہین برداشت کرنا پڑی ابھی اس کی بازگشت سنائی دے رہی تھی کہ شاہی خاندان کی توہین کا یہ نیا واقعہ رونما ہو گیا ۔ 

اظہار رائے کی جس آزادی کا پرچار مغربی ممالک کرتے ہیں ، اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ ان دونوں واقعا ت کو نہ صرف فراموش کر دیا جاتا بلکہ بی بی سی کے مذکورہ رپورٹر اور فرانس کے میگزین فوٹو گرافر کو مغربی اقدار کی پاسداری کی کوششوں پر انعام و اکرام سے نوازا جاتا ، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ شاہی محل نے میڈیا کے اس رویے پر نہ صرف سخت ردعمل کااظہار کیا بلکہ فرانس کی حکومت پر دباو ڈال کر مذکورہ میگزین کے خلاف عدالتی کارروائی کا آغاز بھی کر دیا ہے ۔ اور اب انگلینڈ اور آئرلینڈ میں اس حوالے سے نئی قانون سازی پر بھی غور و فکر ہو رہا ہے ۔ 

لیبیا کے شہر بن غازی میں ایک سفیر سمیت چار اہلکاروں کی موت کا دکھ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کا مرکزی نقطہ بحت تھا مگر اب تک جو پچاس سے زائد افراد اس نفرت انگیز فلم کے شر کی بھینٹ چڑھ چکے ان کی موت کا تذکرہ بھی شدت پسندی کی علامت سمجھا جا رہا ہے ۔  
محمد عربیﷺ کو ماننے والے سب دہشت گرد اور باقی دنیا ان کی دہشت گردی کا شکار بتائی جارہی ہے۔
Comments