نیلم جہلم ہائیڈل پراجیکٹ ،حقائق اورخدشات

posted Sep 23, 2012, 7:29 AM by PFP Admin   [ updated Sep 23, 2012, 10:31 AM ]
 ڈیم کی تعمیر کو شروع ہوئے 4سال گزر چکے ہیں مگر آج 
تک
 حکومت آزا دکشمیر سے اس کا معاہدہ نہیں کیا گیا۔

اعتراضات۱۔ درج بالا سوالات پرواپڈا کے ذمہ داران نے کبھی بھی توجہ نہیں دی ،۲۔ جیالوجیکل سروے کے لیے من پسند افراد لائے گئے ، اور اپنی مرضی کی رپورٹیں مرتب کیں ۔ ۳۔ واپڈ نے معاہدے سے قبل نیلم جہلم پراجیکٹ کی تعمیر کیوں شروع کی ۔۴۔ آزاد کشمیر کا یہ خطہ پاکستان کے زیر انتظام ضرور ہے پاکستان کے آئین کے مطابق اس کا حصہ نہیں ۔ واپڈا کشمیر کے ان پانیوں کو استعمال میں لانے کا حق نہیں رکھتا کیونکہ یہ علاقہ اس کی آئینی حدود میں نہیں آتا۔ افغانستان چین ، ایران اور بھارت کے اندر واپڈا جس طرح کوئی ڈیم نہیں بنا سکتا بین الاقوامی قوانین کے تحت اسی طرح آزاد کشمیر کے اندر کوئی ڈیم نہیں بنا سکتا۔ ۵۔ ڈیم سے متاثرہ لوگوں کی آباد کاری کے مسائل لے حوالے سے واپڈا دوہرا معیار اپنائے ہوئے ہے ۶۔نوسیری سے چھتر کلاس تک 50سے زائد گاؤں کے 300سے زائد چشمے خشک ہو چکے ہیں ، ۷۔ لوگ میلوں دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں ، واپڈا نے ان علاقوں کو پانی کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کوئی سکیم شروع نہیں کی ،۸ ۔ نوسیری جہاں سے دریائے نیلم کا رخ موڑا جا رہا ہے سے لیکر مظفرآباد تک دریائی پانی زیر زمین پانی کی سطح کومتوازن رکھتا ہے جب ستمبر سے مارچ تک سات مہینے پانی نہیں ہو گا تو زیر زمین چشمے خشک ہو جائینگے ، جس سے بحران پیدا ہو گا ۹۔ یہ بحران ایک انسانی المیہ ہو گا لاکھوں لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہو جائینگے ۔۱۰۔ اس وقت مظفرآباد کی ضرورت 15سے 20ملین گیلن پانی روزانہ ہے ، آئندہ عرصہ میں یہ ضرورت مزید بڑھے گی ۔ اس وقت ماکڑی واٹر سپلائی سکیم جہاں سے مظفرآباد کو پانی حاصل ہوتا ہے ، 4سے5ملین گیلن پانی فراہم ہو رہا ہے ۔ ضرورت سے تین گنا کم پانی سے مظفرآباد میں پانی کا شدید بحران ہے ، جب آئندہ بیس ، تیس ، پچاس سال میں اس شہر کے لوگوں کی ضرورت پچاس ملین گیلن روزانہ ہو گی، وہ پانی کہاں سے آئیگا ۔
۱۱۔ مظفرآباد کی میونسپل حدود کے اندر سیوریج کا نظام بچھانے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ 16لائنز کے بجائے ایک لائن بچھائی جا رہی ہے ، جس کے تباہ کن اثرات مرتب ہونگے ،
۱۲۔ اس وقت پانی کا بہاؤ تیز ہونے سے سیوریج کا میٹریل دریا اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے ، مستقبل میں جب 9کیوسکس پانی ہو گا تو یہ دریا موت کا پیغام ہو گا ۔
۱۳۔ تعفن زدہ ماحول میں مظفرآباد بیماریوں کا گڑھ بن جائیگا ، 
۱۴۔مظفرآباد کے ارد گرد پہاڑوں پر سبزہ ختم ہو جائے گا ، اور خشک پہاڑ سرکنا شروع ہو جائینگے ۱۵۔مستقل لینڈ سلائیڈنگ اہل مظفرآباد کا مقدر بن جائیگی ، ڈیم سے متاثرہ علاقوں میں جنگلات کے خاتمے سے جنگلی حیات ، پانی کے انتہائی کم بہاؤ کی وجہ سے آلودگی (مٹی ، سیوریج میٹریل )پانی پر غالب آجائینگے ، جس سے آبی حیات ختم ہو جائیگی ۔
۱۶۔ خشک سالی کی وجہ سے گھریلو پالتو جانور رکھنا مشکل ہو جائیگا جس سے دودھ گوشت 
اور دیگر خوراک ناپید ہو جائیگی اور نشیبی علاقوں کے باسیوں کا مستقبل سوالیہ نشان بن جائیگا ۔

اہم سوال
ان ساری قربانیوں کے باوجود کیا ڈیم کشمیریوں کی ملکیت ہو گا ۔ نئی نسل ، پڑھے لکھے با شعور لوگوں ، یونیورسٹی کے طلباء تاجروں کو اس بارے میں سوچنا ہو گ۔ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان سے بجلی کا بحران ختم ہو لیکن اس کے لیے جائز حد تک قربانی دی جا سکتی ہے۔
۔اصولاً واپڈا کشمیر کے اندر پانی کا کوئی بھی پراجیکٹ نہیں بنا سکتا ، عالمی قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے جس طرح بھارت کشمیر کے پانیوں پر قبضہ کیے ہوئے ہے بالکل اسی طرح پاکستان کا ایک ادارہ کشمیر کے پانیوں پر قبضہ کر چکا ہے
اصولاً واپڈا کشمیر کے اندر پانی کا کوئی بھی پراجیکٹ نہیں بنا سکتا ، عالمی قوانین اس کی اجازت نہیں دیتے جس طرح بھارت کشمیر کے پانیوں پر قبضہ کیے ہوئے ہے بالکل اسی طرح پاکستان کا ایک ادارہ کشمیر کے پانیوں پر قبضہ کر چکا ہے 

مقامی آبادی کے مطالبات۱
۔ماحولیاتی مضمرات کے تدارک کے لیے تحفظ ماحولیات کے عالمی معیار کی پابندی کی جائے ۔۲۔ مظفرآباد شہر کے لیے عالمی معیار کے مطابق کم بہاؤ کے عرصہ (ستمبر تا مارچ میں ) مجموعی پانی کا 40فیصد پانی چھوڑا جائے ، جو 20کیوسکس رہتا ہے کیونکہ ان ماہ میں پانی کا بہاؤ 50سے 55کیوسکس ہوتا ہے۔۳۔ پاکستان کا کشن گنگا ڈیم پر عالمی عدالت میں مقدمہ 40فیصد پانی رواں رکھنے پر ہے ، معاہدے کا متن قانون ساز اسمبلی میں پیش کیا جائے اور عوام کو اس کے تمام جزیات سے با خبر رکھتے ہوئے تمام مکتبہ فکر سے مشاورت کی جائے اور پھر معاہدہ پر دستخط کیے جائیں۔
۔ جو لوگ ڈیم سے متاثر ہوئے ہیں ان کی آبا دکاری کا کام آئندہ دو سال میں مکمل کیا جائے ،
۔ ڈیم پچاس سال بعد حکومت آزاد کشمیر کی ملکیت میں دیا جائے ۔ کیونکہ انتظامی اخراجات سمیت ڈیم 7سال میں اپنے اخراجات پورے کر لے گا ۔بقیہ 43سال میں 17سوارب روپے منافع ہو گا جب کہ ڈیم پر تقریباً274ارب 90کروڑ اخراجات آ رہے ہیں۔۶۔معاہدے میں ایک عالمی ضامن ہونا چاہیے ۔ ۷۔ سراں سے کوہالہ ضامن آباد تک تین لاکھ لوگ بری طرح 
متاثر ہو نگے ، ان کی آباد کاری کے لئے واضح پالیسی اپنائی جائے۔





تحفظ ماحولیات
تحفظ ماحولیات کی طرف سے  عائد کی گئیں  شرائط 
یہ ہیں
آزاد کشمیر تحفظ ماحولیات ایکٹ2000 انڈر سیکشن دفعہ 11کے مطابق واپڈا قومی تحفظ ماحولیات کے معیار کی پابندی کرے گا ۔ 
15کیوسکس پانی کا بہاؤ کم سے کم پانی کے عرصہ میں برقرار 
رکھے گا ۔
 اس وقت مظفرآباد کی ضرورت 15سے 20ملین گیلن پانی روزانہ ہے ، آئندہ عرصہ میں یہ ضرورت مزید بڑھے گی 
 
پانی کے بہاؤ کو ماپنے کے لیے جدید ترین آلات لگانے کا پابند ہو گا ۔ اس کی نگرانی حکومت آزاد کشمیر واپڈا مشترکہ طورپر کریں گے ۔ 
واپڈا سیوریج کے16 نظام نصب کرے گا ، نیلم دریا کے ساتھ مظفرآباد کی بلدیہ حدود میں پانی کے معیار کو جانچنے کے انتظامات کرے گا۔
مظفرآباد کو پانی سپلائی کرنے والے ماکڑی واٹر سپلائی میں اگر پانی میں کمی ہوئی تو اسے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کا واپڈا پابند ہو گا ۔ 
مستقبل میں اگر مظفرآباد کی بلدیہ حدود کو بڑھایا جاتا ہے تو واپڈا اس کیلئے اضافی پانی فراہم کرنے کا پابندہو گا۔ 
ٹنل کی کھدائی سے قدرتی پانی کے جو ذرائع ختم ہونگے واپڈامتبادل پانی فراہم کرنے کا پابندہو گا۔
دریائے نیلم کی خوبصورتی بحال کرنے کے لیے پتھر چٹانیں ہٹائے گا اور پانی بہاؤ کو کھلا رکھے گا ۔


ماحولیاتی اثرات کا تخمینہ کی رپورٹ اور ماحولیاتی انتظامی
 منصوبوں میں تجویز کردہ اقدامات کا تدارک اس منصوبہ کو شروع کرنے سے پہلے کیا جانا ضروری ہے ۔ تاکہ اس کے منفی ماحولیاتی اثرات ، زمین پر ،زیر زمین پانی ،ہوا کی شفافیت، قدرتی پانی ، سیلاب اور سلائیڈنگ کے خطرات کے تدارک اور درختوں کے بچاؤ اور ماحولیاتی نقصانات کو جانچنے کے لیے واپڈاکمیٹی قائم کرے گا جس میں تمام متعلقہ پارٹیز کے نمائندے ہونگے ۔ یہ کمیٹی آزاد کشمیر کے محکمہ تحفظ ماحولیات کی مشاورت سے بنائی جائیگی ۔
 
ماحولیاتی نگرانی کا سلسلہ پراجیکٹ کی تکمیل تک جاری رہے گا ۔ ہر تین ماہ بعد رپورٹ محکمہ ماحولیات کو دی جائیگی ۔ 
واپڈا اپنی ماحولیات کے حوالے سے نقول متعلقہ ٹھیکیدار کو ادا کرنے کا پابند ہو گا ۔ ا س منصوبے کی وجہ سے جن لوگوں کی زرعی زمین ، فصلیں جائیداد یا جائیداد کو استعمال کرنے کا حق اگر سلب ہوتا ہے تو واپڈا معاوضہ دے گا ۔ جو طے شدہ معائدے کے مطابق ہوگا ۔ اختلافی امور باہمی بات چیت سے حل کیے جائینگے ۔
دھماکہ خیز مواد استعمال نہیں کیا جائیگا ۔ 
غیر ہنرمند مقامی لوگوں کو 100فیصدملازمتیں دی جائیں گی۔ ہنر مندی میں بھی مقامی لوگ ترجیح ہونگے ۔ 
کھدائی کے دوران زمین سے جو معد نیات اور قیمتی دھاتیں برآمد ہو نگی کام روک لیا جائیگا اور متعلقہ اداروں کو اطلاع دی جائیگی ۔ 
سرنگ کی کھدائی کا مواد پہلے سے طے شدہ جگہوں پر ڈالا جائیگا ، اسے دریاؤں اور نالوں میں نہیں پھینکا جائیگا ،
گھاس، پانی کے قدرتی چشموں اور ذخیروں کو جو نقصان ہو گا اسے اصل حالت میں لانے کے لیے 
اقدامات کیے جائینگے ۔
 274ارب90 کروڑ روپے ہے ۔ ا س ڈیم سے سالانہ 39ارب 64 کروڑ کی آمدن ہو گی یہ رقم سات سال میں پوری ہو جاتی ہے

ادارہ تحفظ ماحولیات آزاد کشمیر کیطرف سے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ کیلئے شرائط
ادارہ تحفظ ماحولیات آزاد کشمیر کیطرف سے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ کیلئے جو شرائط عائد کی گئی ہیں اس سے مندرجہ ذیل سوالات سامنے آتے ہیں ۔ 
تعمیراتی کام اور بہتر ماحول میں توازن .
اچھے ماحولیات کو یقینی بنا کر ترقی کے لیے اقدمات 
فضائی آبی اور شور کی آلودگی کے خطرات سے نبرد آزماہونے کیلئے حکمت عملی۔
ڈیم کی تعمیر سے کمزور اور بوسیدہ ہونیوالی زمین کی بحالی ۔ 
عالمی معیار کے مطابق زیادہ سے زیادہ بہاؤ 
آبی حیات کے تحفظ کے اقدامات ۔ 
زلزلہ زدہ علاقہ میں پانی کی زیر زمین جھیل کی حفاظت کے لیے اقدامات ، 
پانی کے بہاؤ میں کمی اور اضافے سے سلائیڈنگ کے روکنے کیلئے اقدامات 
پانی کا معیار ، موسمی اثرات ، ثقافت ، تاریخی اثرات اور
 صحت کے مضمرات کے تدارک کے لیے اقدامات کی 
ضرورت ۔ 
سیاحت ،تجارت ، آبادی کی نقل مکانی ، نئی آباد کاری ، زیر
 زمین پانی کے ذخائر میں کمی ، جنگلات کے مسائل، فصلوں کی تباہی کے بارے میں کیا کیاجائے ۔ 

خصوصی رپورٹ:۔ ملک عبدالحکیم کشمیری
تعارف
 دو سو پینتالیسکلو میٹر لمبائی پر محیط دریائے نیلم کرشنا سر جھیل اور وادی سونا مرگ سے نکلتا ہے اور دنیا کے شفاف ترین پانی پر مشتمل ہے ، یہ دریا پچاس کلو میٹر بھارتی مقبوضہ کشمیر اور 195کلو میٹر آزاد کشمیر (پاکستان کے زیر انتظام علاقہ ) میں مظفرآباد کے مقام پر دریائے جہلم میں شامل ہو جاتا ہے ۔
منصوبہ
30 جنوری 2008ء ؁ کو دریائے نیلم پر ہائیڈل پراجیکٹ پر کام شروع کیا گی جس کا نام نیلم جہلم ہائیڈل پراجیکٹ ہے ۔ اس منصوبے کے تحت مظفرآباد سے 41کلو میٹر پہلے نوسیری نوسدہ کے مقام سے دریائے نیلم کا رخ تبدیل کر کے ایک ٹنل کے ذریعے چھتر کلاس کے مقام پر بجلی کے پیدواری یونٹ لگائے جائینگے ۔ 969میگا واٹ کے اس پراجیکٹ کو واپڈ ا (واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی ) جو کہ پاکستان کا ایک ادارہ ہے تعمیر کر رہا ہے اس پر 274ارب 90کروڑ روپے اخراجات آئینگے۔
تحفظات
اس ڈیم کی تعمیر کو شروع ہوئے 4سال گزر چکے ہیں مگر آج تک حکومت آزا دکشمیر سے اس کا معاہدہ نہیں کیا گیا۔ اس پراجیکٹ کی تعمیر سے پاکستان میں گرمیوں کے ایام میں بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی مگر اس ڈیم سے مقامی آبادی کو کیاملے گا، آئیے دیکھتے ہیں حقائق اور خدشات کیا ہیں۔ اور مقامی آبادی کے تحفظات کیا ہیں ؟ اس پراجیکٹ کے بارے میں جو اہم سوالات اٹھائے جاتے ہیں وہ درج ذیل ہیں :
۱۔ واپڈا نے معاہدے سے قبل ڈیم کیوں شروع کیا ؟ 
۲۔ کیا واپڈا کشمیر کے پانیوں کے استعمال کا حق رکھتا ہے ؟ 
۳۔ کیا واپڈنے ڈیم کی تعمیر سے متاثر ہونے والے لوگوں کی آبادکاری کے لیے عالمی معیار کے مطابق اقدامات کیے ؟
۴۔ کیا واپڈا نے عالمی تحفظ ماحولیات کے قانون کی پابندی کی یا کر رہا ہے ؟
۵۔ 19ستمبر 2012کو نیلم جہلم ہائیڈل پراجیکٹ پر جو معاہدہ ہونے جارہا تھا جو بعض ناگزیر وجوہ کی بنا پر فی الوقت ملتوی ہو گیا اس سے آزاد کشمیر کے لوگوں کو کیا ملے گا ؟ 
۶۔ مجوزہ معاہدے پر جو تین آفسیران دستخط کرینگے ان میں سے ایک بھی کشمیری نہیں تو معاہدہ کس سے ہو رہا ہے ۔ 
۷۔ معاہدے کے متن کو آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں کیوں نہیں پیش کرنے دیا جا رہا ہے تاکہ اس کے تمام نکات پر بحث ہو سکے ۔ اور قانون ساز اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ معاہدہ کیا جائے ؟
۸ ۔کیا ریاست کے لوگوں کو رائیلٹی ملے گی؟ اور نیٹ ہائیڈل پرافٹ ،( جومنافع دیا جائے گا) وہ کتنا ہو گا؟
۹۔ ریاست آزاد کشمیر کے لوگوں نے 10پیسے فی یونٹ کے حساب سے نیلم جہلم کے لیے کتنی رقم دی ؟
۱۰۔ یہ ڈیم جو کشمیر کی سرزمین پر ریاست کے پانیوں سے بجلی پیدا کرے گا ،اس کا مالک کون ہے واپڈا یا حکومت آزاد کشمیر؟
۔ پانی کا رخ تبدیل کر نے سے عالمی معیار کے مطابق کتنا پانی چھوڑا جانا ضروری ہے اور پاکستان کا عالمی برادری میں مقدمہ کیا ہے ؟
۱۲ ۔ اس پراجیکٹ سے سالانہ کتنے یونٹ بجلی پیدا ہو گی اور اس کی آمدن کیا ہے؟

پیداواری استطاعت

نیلم جہلم ہائیڈل پراجیکٹ میں 969میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی استطاعت ہے لیکن یہ استطاعت صرف پانچ ماہ میں میسر ہو گی یہ مہینے اپریل ، مئی جون جولائی اگست ہیں ، ان پانچ ماہ میں پانی کا بہاؤ عروج پر ہوتا ہے اس دوران درایے نیلم میں 465سے 600کیومکس پانی ہوتا ہے ۔ 
نیلم جہلم پراجیکٹ کی تمام ٹربائنز کو چلانے کے لیے 280کیوسکس پانی کی ضرورت ہے ۔
با الفاظ دیگر ان پانچ مہینوں میں یہ ڈیم 969میگا واٹ بجلی روزانہ پیدا کرے گا ۔ ستمبر ، اکتوبر ، نومبر ، دسمبر ، جنوری ، فروری ، مارچ ،ان سات مہینوں میں دریائے نیلم میں اوسطاً 51کیومکس پانی ہوتا ہے لہذاٰ اس عرصہ میں واپڈا کے پاس تیار کیے گئے معاہدے کے مطابق 42کیوسکس پانی بجلی پیدا کرنے کے لیے میسر ہو گا ، باقی 9کیوسکس پانی اہل مظفرآباد کی مقامی آبادی کی گھریلو ضرورت کے لیے چھوڑا جائیگا ۔ 
42کیوسکس پانی سے 150میگا واٹ بجلی روزانہ پیدا ہو گی یوں ستمبر اکتوبر ، نومبر ، دسمبر ، جنوری ، فروری ، مارچ میں اس ڈیم سے روزانہ 150میگا واٹ بجلی پیدا ہو گی ۔ 
ایک میگا واٹ سے مراد ہے 24000یونٹ یعنی جو پراجیکٹ ایک میگا واٹ کا ہو گا وہ 24گھنٹے میں 24000یونٹ بجلی پیدا کرے گا ۔ اس طرح 100 میگا واٹ سے 24لاکھ یونٹ بجلی روزانہ حاصل ہو گی ، 150میگا واٹ سے 36لاکھ یونٹ بجلی روزانہ حاصل ہو گی ۔ 
ایک سال میں آمدنی 42 ارب 44کروڑ 40لاکھ روپے 
پاکستان میں اس وقت اوسطاً بجلی فی یونٹ گھریلو اور تجارتی مقاصد کے لیے دونوں کو ملا کر 10روپے فی یونٹ سے زیادہ ہے لیکن ہم اسے 10روپے فی یونٹ تسلیم کرتے ہوئے اگر36لاکھ کو 10روپے میں ضرب دیں 10x3600000 = 36000000 ۔تین کروڑ 60لاکھ روپے روزانہ پاکستانی روپوں میں آمدن ہو گی جو ایک مہینے میں 3x30کروڑ 60لاکھ یعنی 1ارب 8کروڑ روپے ہر مہینے آمدن ہو گی ۔ ستمبر سے مارچ تک کے 7مہینوں کی یہ رقم 7ارب 56کروڑ روپے بنے گی ۔ 
اپریل سے اگست تک کے پانچ مہینے جب پانی کا بہاؤ عروج پر ہوتا ہے اور 969میگا واٹ بجلی پیدا ہو تی ہے اس سے روزانہ 2کروڑ 32لاکھ56ہزار یونٹ بجلی پیدا ہو گی اگر فی یونٹ 10روپے ہو تو جو رقم روزانہ کی بنیا د پر سامنے آتی ہے وہ 23کروڑ25لاکھ 60ہزار روپے ہے اور ایک مہینے میں یہ رقم بنتی ہے 6ارب 95کروڑ 68لاکھ۔ اپریل سے اگست تک نیلم جہلم ہائیڈل پراجیکٹ سے پاکستانی روپوں میں جو آمدن ہو گی 34ارب 88کروڑ 40لاکھ روپے اس طرح نیلم جہلم پراجیکٹ سے واپڈا ایک سال میں 42 ارب 44کروڑ 40لاکھ روپے حاصل کرے گا ۔
آزادکشمیر کو کیا ملے گا؟
آزاد کشمیر کی حکومت کے ایک سینئر وزیر کا کہنا تھا کہ نیلم جہلم سے ریاست کو 2ارب 80کروڑ ریونیو ملے گا اگر ان کی بات درست تسلیم کر لی جائے تو واپڈا کو اس ڈیم سے سالانہ 39ارب 64کروڑ آمدن ہو گی ، جبکہ تیار کیے معاہدے کے مطابق ہمیں ایک یونٹ کے ساتھ سوا چار (0.425)پیسے ملیں گے 100یونٹ کے ساتھ 4روپے 25پیسے 1000یونٹ کے ساتھ 42روپے 50پیسے ایک لاکھ یونٹ کے ساتھ 4250روپے ملیں گے گویا نیٹ ہائیڈل پرافٹ میں ایک لاکھ روپے کے ساتھ مقامی آبادی کو 42روپے 50پیسے ملیں گے ۔ جبکہ نیلم جہلم ہائیڈل پراجیکٹ کی تعمیرکیلئے ریاست کے لوگ اس وقت تک 10پیسے فی یونٹ کے حساب سے ادائیگی کر چکے ہیں ۔ گزشتہ4 سال کے ریکارڈ کے مطابق آزاد کشمیر حکومت واپڈا سے سالانہ 1340ملین سے 1400ملین یونٹ خرید رہا ہے ، اوسطاً 1ارب 30کروڑ50لاکھ یونٹ اگر سالانہ لگائے جائیں تو 10پیسے فی یونٹ کے حساب سے 13کروڑروپے سالانہ اور 4سال میں56کروڑ روپے ادا کر چکے ہیں ۔
اخراجات
نیلم جہلم پراجیکٹ پر واپڈا کے جو اخراجات ہیں وہ 274ارب90 کروڑ روپے ہے ۔ ا س ڈیم سے سالانہ 39ارب 64 کروڑ کی آمدن ہو گی یہ رقم سات سال میں پوری ہو جاتی ہے باقی عرصہ منافع ہی منافع ہے ۔ اس ڈیم کا 35فیصد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے آزاد کشمیر کے ادارہ تحفظ ماحولیات نے جو شرائط لاگو کی تھیں واپڈا اس پر بھی پورا نہیں اتر رہا ۔ 
Comments