کشمیر کونسل، آزادحکومت اورگلگت بلتستان پاکستان کے رولز آف بزنس کے تحتمنسٹری کشمیر افیرئس کے سبجکٹ ،جبکہ منسٹری کسی کے پاس جواب دہ نہیں ہے۔ اس معاملہ سے نفرت مملکت پاکستان کے خلاف پیدا ہوگی بیوروکریٹ تو حسب روایت یہ کہکرجان چھوڑا دءں گئے’’ میں نے تو کہا تھا ایسا نہ کریں ‘‘ کرپشن چھپانے کے لئے اب مظہر کلیم شاہ صاحب کے بجائے سردار رفیق محمود صاحب کی تقرری کی گئی ہے۔کلیم شاہ صاحب امر ہو کر رفیق محمود صاحب کو آزمائش میں ڈال گئے۔اس کرپشن کو بے نقاب کرنے کے لئے کسی کو تو کام کرنا پڑے گا۔ مناسب طریقہ کار یہ ہے نئے چئیرمین کو کشمیر کونسل کے لٹے بھی نوٹی فائی کر دیا جائے جیساکہ پا کستان فیڈرل پبلک سروس کمیشن ، آڈیٹر جنرل آف پاکستان اور دیگرکو نوٹی فائی کیا گیاہے۔اس مر حلہ پر چئیر مین کو بدلنا اس حقیقت کا ثبوت ہے کشمیر کو نسل ؍منسٹری کشمیر آفیرس کرپشن چھپانے کے لئے ایسا کررہی ہے۔صدر آزادکشمیر کا کونسل کی ایڈوائس کو التواء میں رکھنا نیک نیتی پر نہیں بلکہ پسند کی تقرری کرانے کی منصوبہ بندی پر مبنی تھا۔ یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آیا کہ 2003/2002 جب میں ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تھا اسی قانون کے تحت اپیلیں سننے کے لئے ڈویژن بینچ مقررکر نا تھا لیکن میرے دوساتھی ججوں نے ایک مقدمہ سننے سے معذرت کر لی۔اس وقت میں کشمیر کونسل کو دو ججوں کی تقرری کے لئے سفارش کر چکا تھا لئکن تقرری نہیں ہو رہی تھی۔میں نے اس مقدمہ میں حکم لکھا اگر آہیندہ ایک ہفتے کے اندر دو ججوں کی تقرری نہیں ہوئی تو سمجھا جائے گا کہ یہ قانون معطل ہے۔چنانچہ ایک ہفتے کے اندر دونوں ججوں کی تقرری ہو گئی۔اس کے بعد ایک روزمیری ملاقات( مرحوم) سردار محمد ابراہیم خان صاحب کے ساتھ ہوئی انہوں نے مجھے گلے لگایا مبارک دی لیکن ساتھ مجھے تنبیہ کی کہ دوبارہ ایساحکم نہ کرنا منسٹری والے بڑے سازشی ہوتے ہیں یہ آپ کو اورسسٹم کو برباد کر دیں گے ۔ پھر انہوں نے مشتاق گورمانی سابق وزیر امور کشمیر کے کئی واقعات سنائے۔حالیہ اوپریشن سے سردار محمد ابراہیم خان(مرحوم ) کی بات کی صداقت عیاں ہوگئی فرق اتنا ہے کہ اس سازش میں حکومت آزادکشمیربھی شامل تھی وگرنہ اس نے جانا تھا کیونکہ حکومت پاکستان کا جو ائنٹ سیکرٹیری آزادکشمیر میں پاکستان کے اقتدار اعلیٰ کی علامت ہے ۔ حالات اب اس نتیجہ پر پہنچ گئے ہیں کہ آزادکشمیر کاپاکستان کے اندر آئینی مقام کا تعین کر دیا جائے تاکہ آزادکشمیر کے حوالے سے امور چلانے کے لئے آزادکشمیر کے لوگوں کو بھی شامل کیا جائیں اور یہ سارے لوگ مقامی ، اور قومی اسمبلیوں ،عدالتوں اور اداروں کے پاس جواب دہ ہوں وگرنہ۔آج جن حقوق کا مطالبہ کیا جارہاہے آئندہ کی نسل ان کے حصول کے لئے مزاحمت ،مخاصمت اور پھر تشدد پر اتر آئیگی اس کا جتنی جلد ادراک کیا جائے بہترہے۔ 

کونسل اگراپنے بنائے ہو ئے یا ا یڈاپٹ کئے ہوئے
 قانون کو منسوخ کرنا چاہتی ہے اس میں صدرآزادکشمیر کو ایڈوائس نہ ماننے کا کوئی اختیار نہیں کیونکہ صدر آزادکشمیر حکومت آزادکشمیر کے معاملات میں وزیراعظم آزادکشمیر اورآزاد جموں وکشمیرکونسل کے معاملات میں کشمیر کونسل کی ایڈوائس کے پابند ہیں۔
آزادکشمیر میں مجموعی طورپر کشمیر کونسل کے خلاف نہ صرف تحفضات بلکہ نفرت پائی جاتی ہے جو ایک ایسا ادارہ ہے جس نے آزادکشمیر کی خودمختاری اور آزادکشمیر کے محاصلات کو پامال کر دیا ہے۔ یہ ادارہ کسی کے پاس جواب دہ نہیں ہے اور اس کے چلانے اور اس کے اندر بیورو کریسی کی تقرری میں آزادکشمیر کے نمائندوں کا کوئی رول نہیں ہے وزیراعظم پاکستان،منسٹر انچارج کشمیر کونسل اور ان کے ماتحت بیوروکریسی شطربے مہار ہیں۔ میری ہی نہیں بلکہ ہر ایک زی شعورشہری کی یہ پختہ رائے ہے کہ اگر یہ سارے کام حکومت پاکستان نے کشمیر کونسل کے نام پر کرتے ہیں تو یہ ذمداری حکومت پاکستان براہ رست سنبھال لے اور ان کی پالیسی اور فیصلہ سازی میں آزادکشمیرکے نمائندوں کو شامل کرے جو بالآخر پارلیمنٹ آف پاکستان اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس جواب دہ ہونگے۔اس میں مجرمانہ کردار آزادکشمیر کے شارٹکٹ کے ذریعہ حکومت حاصل کرنے والے سیاست دانوں بالخصوص مسلم کانفرس کی قیادت کا ہے جواپنے اقتدار کے لئے کشمیرکی آزادی کے نام پر آزادکشمیرکو غلام رکھنے پر کمربستہ ہے اورشروع سے ہی الیکشن کے خلاف تھی تا کہ مظفرآباد ،مری،اور اسلام آبادکے گھٹ جوڑ سے اقتدار کے مزے لوٹے۔ موجودہ بحران میں بھی جب اس شطربے مہار کی کرپشن بے نقاب ہو چکی ہے۔ہے سوائے راجہ فاروق حیدر خان کے ساری قیادت خاموش اور لاتعلق ہے بولنے کے موقعہ پر اگر کوئی نہ بولے تو یہ مجرمانہ غفلت ہے ۔میں حیران ہوں کے 
سردارخالد ابراہیم جیسا باکردار لیڈر کیوں خاموش ہے۔

 یہ ادارہ کسی کے پاس جواب دہ نہیں ہے اور اس کے چلانے اور اس کے اندر بیورو کریسی کی تقرری میں آزادکشمیر کے نمائندوں کا کوئی رول نہیں ہے وزیراعظم پاکستان،منسٹر انچارج کشمیر کونسل اور ان کے ماتحت بیوروکریسی شطربے مہار ہیں۔


احتساب بیورو  بنام کشمیر کونسل
جسٹس (ر) سید منظور حسین گیلانی


آزادکشمیر کی سیاسی،قانونی ، او انتظامی حلقوں میں کئی روز سے کشمیر کونسل کے خلاف آزاکشمیر کے احتساب بیورو کی انکوائری پر بحث وتمحیث ہو رہی ہے۔سال1 200 ؁میں احتساب بیوروکا ادارہ وجود میں آیا اور آزادکشمیر اسمبلی کے بنائے ہوئے قانون کے تحت بیوروکے چیرمین کی تقرر وزیراعظم پاکستان چیرمین کشمیرکونسل( جو ایک فرضی نام ہے اصل میں حکومت پاکستان ہے) کی ایڈوائس پر ہوتی رہی۔

آزادکشمیر اسمبلی کا بنایا ہوا یہی قانون آزاد کشمیر کونسل نے سال2005 ؁میں ایڈاپٹ کر لیا جبکہ سال2008 ؁میں آزادکشمیر اسمبلی نے اس قانون میں ترمیم کر کے چیرمین کشمیر کونسل کی ایڈوائس پر چیرمین احتساب بیوروکی تقرری کے بجائے اس کی تقرری کا اختیار صدرآزادجموں وکشمیر کو دے دیا۔اس ترمیمی ایکٹ کو کشمیر کونسل نے ایڈاپٹ نہیں کیا۔ترمیمی قانون کے تحت پہلے محمد یونس طاہر سابق جج ہائی کورٹ اور ان کی برطرفی کے بعد جسٹس محمدسعید اکرم جج سپریم کورٹ(جو اس وقت جج نہیں تھے)کی بطور چیرمین تقرری ہوئی ۔ان کے جج بننے کے بعد شریعت کورٹ کے جج سید مظہر شاہ صاحب کو اضافی چارج دے دیا گیا۔مظہر حسین کلیم شاہ نے کونسل کے خلاف سنگین کرپشن اور بد عنوانی کی شکایات پر انکوائری شروع کردی جس پر کونسل سیکرٹریٹ میں اعتراض ہے کہ جس ترمیمی قانون کے تحت ان کی تقررہ کی گی ہے وہ چونکہ کونسل نے ایڈاپٹ نہیں کیا ہے اس لئے کونسل احتساب بیورو کے موجودہ سیٹ اپ کے حدوداختیار میں نہیں آتی۔کونسل کے اس قانو نی عذر میں وزن ہے۔کہ جس قانون کے تحت موجودہ چےئر مین کی تقرری کی گئی ہے وہ آزادکشمیر اسمبلی کا قانون ہے جس کا اطلاق کشمیر کونسل پر نہیں ہوتا۔اگر یہ تقرری آزادکشمیرکے آئین یا کونسل کے ایڈاپٹ کئے گئے قانون جس کے تحت چےئرمین کشمیر کونسل کی ایڈوائس پر تقرری ہوتی تھی کی گئی ہوتی تو کونسل یقیناً بیور کے دائرہ اختیار میں آتی تھی۔ کونسل کے ایڈاپٹ کئے ہوئے قانون میں ترمیم ہونے کے باوجود بھی کچھ دفعات ایسی ہیں جن کے ابہام کی وجہ سے موجودہ چئیرمین نے اختیاراستعمال کیا ہے۔ اس سے جان چھوڑانے کے لئے چند دن قبل کشمیر کونسل کے چےئرمین نے صدر آزادکشمیر کو2005میں ایڈاپٹ کئے ہوئے قانون کو بذریعہ آرڈی نینس منسوخ کرنے کی ایڈوائس بھیجی جو اب وجہ تنازرعہ بنی ہے۔