کروتو علم کی سوداگری کرو

posted May 4, 2014, 4:03 PM by Zafar Iqbal   [ updated May 4, 2014, 4:04 PM ]
 

گو کہ والدین اور اساتذہ کا تال میل اور انکی مشترکہ کاوشوں سے ہی بچے کی بہتر تربیت و تعلیم ممکن ہے لیکن تین سال کا بچہ تو کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے، ایک اچھا استاد اور تعلیمی ماحول ہی اسکی اخلاقی تربیت ، سوچنے اور علم حاصل کرنے کی اہلیت و صلاحیت پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے، سکول میں بچے کی جانب سے کی جانیوالی ہر حرکت کی جگہ فائن تو والدین ادا کر دیتے ہیں لیکن اسی سکول کی جانب سے دیئے جانیوالے علم کے باعث اگر بچہ سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے ہی عاری ہو جائے تو اس کا جرمانہ تو آج تک کسی نے ادا نہیں کیا، داخلہ فارموں میں غیر ضروری سوالات لکھ کر جن بچوں کو پیدا ہوئے ابھی تین سال ہوئے ،دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے بھی عاری ہیں، انہیں مذہب، فرقے، نسل، قبیلے کی تفریقوں میں شعوری بنیادوں پر تقسیم اور نفرت اور حقارت کا درس دینے کا سلسلہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ پھر رزلٹ حاصل کرنے کیلئے جماعت چہارم اور پنجم میں ایک ہی کتابیں دو سال پڑھانا چہارم کی کتابیں ہی نصاب سے فارغ کر دینا، ہفتم کی کتابوں سے بھی یہی سلوک محض سکول کا رزلٹ حاصل کرنے کیلئے کیا جانا بچے کی بہتر تعلیم و تربیت کے کس زمرے میں آتا ہے؟ 
اس سب لوٹ مار کے بازار میں حصہ داری تو محکمہ تعلیم اور تعلیمی بورڈ کے حکام کی بھی ہو گی ہی ورنہ سرکاری سطح پر اس کا کوئی نہ کوئی قانون و ضابطہ ضرور طے کیا جا چکا ہوتا، نصاب کا فیصلہ اور یکساں نصاب تعلیم کو رائج کئے جانے کی راہ میں بھی یہی کاروبار رکاوٹ ہے، دوسری طرف جہاں تعلیم بنیادی انسانی حق و ضرورت ہے وہاں سرکاری طور پر تعلیم کے نام پر کیا جانیوالا مذاق تعلیم کو اہم اور منافع بخش کاروبار بنا چکا ہے ۔ جہاں بڑے پیمانے پر حکمران طبقات کے اپنے منافعوں کے حصول کا سلسلہ اسی کاروبار سے منسلک ہے وہاں چھوٹی سطح پر چھوٹے سوداگر بھی تعلیم کی سوداگری میں مصروف اس منافع بخش جنس کو فروخت کرتے ہوئے ایک ایسی نسل کو تعمیر کر رہے ہیں جو معاشرے میں تبدیلی اور ترقی کیلئے حقیقی کردار ادا کرنے کی بجائے حکمرانوں کی ہی مطیع اور فرمانبردار اور سوچنے، تحقیق کرنے کی صلاحیت 
سے عاری ہو۔
( مضمون نگار حارث قدیر ایک ترقی پسندصحافی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور جموں وکشمیرکی انقلابی انجمنوں کے ساتھ وابستہ ہوکرعوامی حقوق کے لیے مصروف عمل ہیں۔
رابطہ  : commrade2006@gmail.com )




بچوں کی بہتات، سرکاری تعلیمی اداروں کے نام پر تعلیمی جیل خانہ جات اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار کے سیاسی بیانات نے نجی تعلیمی اداروں کی بنیادوں کو جواز فراہم کر رکھا ہے، بچوں کے بہتر مستقبل کی خواہش اور سرکاری سطح پر تعلیم کی عدم فراہمی نے تعلیم کو ایک منافع بخش جنس بنا دیا ہے، اب اس آسان اور منافع بخش کاروبار میں مصروف دکانداروں کے مابین ایک مقابلہ بازی بھی زور وشور سے جاری ہے، جس نے دکانداروں کو منافع حاصل کرنے اور گاہکوں کو اپنی جانب مائل کرنے کیلئے مختلف طرح کے نصاب کو تدریس میں شامل کرنے کیساتھ ساتھ مارکیٹنگ کے نئے نئے انداز متعارف کروانے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔ منافعے کی ہوس میں نت نئے طریقے اپنائے جا رہے ہیں مثلاً سٹیشنری، یونیفارم سمیت نصاب تک دیگر تمام دکانداروں سے منفرد اور اپنے مخصوص برانڈ متعارف کرانے تک کے عوامل شامل ہیں جنکے منہ مانگے دام مقرر کر کے بے پناہ منافع حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ سب کام بڑی صفائی اور مہارت سے ہوتا ہے، جدید سائنسی تعلیم کے فروغ میں مصروف اور خوشحال نسل پروان چڑھانے کی انفرادی حیثیت کے حامل ان نجی تعلیمی اداروں میں پانچ سے دس ہزار روپے پر مامور انٹرمیڈیٹ یا گریجویٹ معلمات اپنی محنت بیچنے پر مجبور نظر آتی ہیں ، ان معلمات کے ساتھ روا رکھا جانیوالا سلوک ایک الگ ایشو کے طور پر موجود ہے۔ 
اپنے بچے کے حسین مستقبل کے خواب سجائے جب کوئی خاتون یا مرد کسی نجی تعلیمی ادارے کا رخ کرتا ہے تو اسکا بڑی خوش مزاجی سے استقبال کیا جاتا ہے اور اپنی ہی تعریفوں کے علاوہ سابقہ کارکردگیوں کی ایک داستان سناتے ہوئے ایک فارم تھما دیا جاتا ہے جس کے ساتھ ایک ہدایت نامہ بھی منسلک ہوتا ہے، ہدایت نامے پر غور فرمایا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ کرنا سب کچھ والدین اور بچے نے ہی ہے ادارے نے بچے کو کلاس میں بٹھانے اور چھ گھنٹے اس پر نظر رکھنے کے ہزاروں روپے ماہانہ
وصول کرنے ہیں، مثلاً ان ہدایات میں سے چیدہ چیدہ کچھ یوں ہیں کہ بچے کا اخلاق اگر اچھا نہ ہوا (جو بچہ ابھی تین یا ساڑھے تین سال کا ہے) تو ادارہ اسے فائن(جرمانہ) کریگا، بچے کا رزلٹ اچھا نہ آیا تو بھی فائن کیا جائیگا، بچے نے مسلسل تین امتحانات میں رزلٹ اچھا نہ دیا تو اسے سکول سے نکال دیا جائے گا، ادارہ سے والدین ماہانہ رپورٹ لینگے اور اگر بچے کی رپورٹ اچھی نہ ہوئی تو بھی فائن کیا جائیگا، اسی طرح کے اور بہت سارے قوائد و ضوابط ادارے میں ترتیب دیئے گئے ہوتے ہیں جن میں بال، ناخن، یونیفارم وغیرہ وغیرہ بارے ہدایات شامل ہیں، اب جو دعوے اور اعلانات دوران مارکیٹنگ نظر آرہے ہوتے ہیں ان سے یکسر الٹ حالت میں یہ ہدایات والدین کو تھما دی جاتی ہیں، کوئی سوال بھی نہیں کرتا کہ رزلٹ بچے کا گھر سے ہی تیار ہونا ہے تو سکول میں بھاری فیس اور دیگر لوازمات کے ساتھ اسقدر منافع پہنچانا کیونکر مقصود ہے؟ امتحانات میں پاس ہونے کی شرط سے اخلاقی تربیت اور کارکردگی کا انحصار بھی والدین پر ہی ہے تو بچہ کیا پانچ پانچ ہزار پر محنت بیچنے والی ان معلمات کی شکلیں دیکھنے کی اسقدر بھاری فیسیں ادا کریگا۔۔۔۔۔۔؟ 








تحریر:حارث قدیر

کاروبار کرنے کے کچھ بنیادی طریقہ ہائے واردات ہوا کرتے ہیں، کسی بھی بازار، قصبے یا شہر میں کوئی بھی نیا کاروبار کھولنے کیلئے اس مخصوص قطعہ اراضی پر موجود انسانوں کی ضروریات، خریدنے کی صلاحیت، موجود کاروباری اداروں میں ان ضروریات کو پورا کرسکنے کی صلاحیت اور منافعے کو مد نظر رکھ کر اپنی صلاحیتوں اور سرمائے کا تخمینہ لگاتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا مقصود ہوتا ہے کہ کون سا کاروبار شروع کیا جانا چاہیے جس سے کم اخراجات اور محنت سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے، پھر اس کاروبار کو شروع کرنے کیلئے ایک منفرد آئیڈیا ترتیب دیا جاتا ہے کہ لوگوں کو ایک نئی چیز دکھا کر اپنے کاروبار کی طرف مائل کیا جا سکے، لیکن سب سے بنیادی عنصر کسی بھی شے کو خریدنے کی جانب انسانوں کا رجحان، انکی قوت خرید اور مارکیٹ میں اس شے کے زیادہ سے زیادہ فروخت ہو سکنے کی گنجائش ہوا کرتا ہے، باقی سارے لوازمات بھی کامیاب کاروبار کے اہم محرکات میں سے ہیں لیکن انکی حیثیت ثانوی ہوتی ہے، لہٰذا ہمیں مختلف انواع و اقسام کے کاروباری مراکز اپنے منفرد انداز اور الگ الگ مارکیٹنگ پلان کے ساتھ دھندا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کچھ کاروبارایسے بھی ہوتے ہیں جن کی مارکیٹنگ اور انداز و اطوار سے عام لوگوں پر یہ تاثر بھی جاتا ہے کہ کاروبار کی بجائے فلاحی اور اصلاحی مقاصد ، نیکی و بھلائی کے جذبے سے سرشار ہو کر یہ آسمانی مخلوق خدمات کی انجام دہی سے معاشرے کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ 
بچہ انسان کا ہو یا جانور کا اسکی پرورش، دیکھ بھال، رزق تلاشنے کا طریقہ کار سکھایا جانا اور اسکی حفاظت کے ممکنہ اقدامات یہ دونوں جاندار اپنی بساط سے بڑھ کر کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں،انسان رزق تلاشنے کے سب سے احسن طریقے کو تعلیم اور ڈگریوں کے حصول سے منسلک کرتا ہے، اب تعلیم پر بات آئے تو عام سرکاری ذرائع ابلاغ، اساتذہ ، دانشور، سیاستدار وغیرہ وغیرہ جدید سائنسی تعلیم کے حصول کو ترقی کا راز گردانتے ہیں، مملکت خداداد پاکستان کے آئین میں تعلیم کو بنیادی حق اور مفت فراہم کرنے کے ہوائی اعلانات بھی موجود ہیں لیکن عملاً اگر کسی سرکار سکول کی حالت کو دیکھ لیا جائے تو شاید اس سے ایک پولیس تھانہ بہتر حالت میں نظر آئیگا، بڑی بڑی مونچھوں والا ڈنڈا بردار سپاہی ننھے منھے قیدیوں پر کتابوں پر لکھے حروف بزور طاقت مسلط کرنے میں مصروف جہد نظر آتا ہے جس سے طالب علم کم نفسیاتی مریض زیادہ پیدا ہوتے ہیں، نصاب بھی ایک بنیادی محرک ہے جو سرکاری سطح پر نونہالوں کو علم سے فیضیاب کرنے سے عاری، حفظ کر کے کاغذ پر اتاری جانیوالی چند ٹیڑھی میڑھی لکیروں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہی وہ بنیادی محرکات ہیں جو ایک فلاحی و اصلاحی نظر آنیوالے بے پناہ منافع بخش کاروبار کے آغاز کا باعث بنتے ہیں۔ جنکی حیثیت کو پھر انہی سرکاری ذرائع سے انسانی ذہنوں پر مسلط کیا جاتا ہے، اچھا مستقبل دینے کی خواہش اور کاروبار کی انفرادی حیثیت کو برقرار رکھنے کی مقابلہ بازی کے حسین امتزاج 
سے نسلوں کی بربادی کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ 

Comments