کیا پولیس کے لئے بھی قانون ہے

posted Apr 6, 2014, 2:06 PM by PFP Admin   [ updated Apr 6, 2014, 2:13 PM ]

دلچسپ بات یہ ہے کہ قانون کی رٹ لگانے والوں نے اس کیس میں لاقانونیت کی ایک ایسی مثال قائم کی جو تاریخ میں اس سے قبل نہیں ملتی کہ مستغیث خود ہی تفتیش کر رہا ہے۔ جہاں مدعی ہی منصف ہو وہاں انصاف کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ کس قدر لاقانونیت ہے کہ چوری کے اس کیس میں مستغیث مقدمہ ASIجاوید عباسی خود ہی اس کیس کی تفتیش بھی جاری رکھی ہوئی ہے جو پولیس کی تاریخ میں لاقانونیت کی ایک واضح مثال ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق زیر بحث مقدمہ پولیس کے آمرانہ اختیارات کی ایک بھیانک مثال بنتا دکھائی دیتا ہے۔ کیوں کہ یہ ایک ملزم کا قانونی حق ہے کہ اس کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تفتیش غیر جانبدارانہ اور شفاف بنیادوں پر ہو ۔ یہی بات CRPCاور پولیس رولز میں بھی گارنٹی کی گئی ہے ۔ لیکن حالیہ مقدمہ میں پولیس اہلکار خود ہی شکایت کنندہ ہے، خود ہی تفتیشی جب کہ ملزمان کو تفتیش کا غیر جانبدرانہ ماحول مہیا نہ کرنا غلامی اور جہالت پر مبنی نظام کا شاخسانہ ہے ۔ بالفرض محال اگر کسی شخص نے کوئی جرم کیا بھی ہوا ہو تو اس کے بیوی ، بچوں کو قیدی (Hostage)رکھ کر اصل مجرم کے گرد گھیرا تنگ کرنا تو دہشت گردی کے قانون کے تحت بھی روا نہیں ۔کسی مستغیث مقدمہ کا اپنے کیس میں تفتیشی کے پاس اپنا 161کا بیان قلمبند کروانا بعد ازاں مقدمہ چالان ہونے پر اپنا بیان اور غیر جانبدار شہادت کی بنیاد پر مقدمہ ثابت کرنا تو قانونی طور پر دُرست ہے لیکن اگر کوئی مستغیث خود ہی مقدمہ کی تفتیش کرے تو یقیناًہمارے مروجہ سماجی نظام میں سیاہ کو سفید کرنے کے لیے کلیتاً اختیارات حاصل کر لیتا ہے اور اپنے انتقام اور مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر کے انسانیت اور قانون کو مذاق بنا دیتا ہے۔ 
عالمی انسانی حقوق کے منشور کے دفعہ 5کے تحت کسی شخص کو جسمانی اذیت یا ظالمانہ، انسانیت سوز، یا ذلیل سلوک یا سزا نہیں دی جائے گی۔ دفعہ 9کے تحت کسی شخص کو محض حاکم کی مرضی پر گرفتار، نظر بند یا جلا وطن نہیں کیا جائے گا۔اور دفعہ 10کے تحت ہر ایک شخص کو یکساں طور پر حق حاصل ہے کہ اس کے حقوق و فرائض کے تعین یا اس کے خلاف عائد کردہ جرم کے مقدمے کی سماعت آزاد اور غیر جانبدار عدالت کے کھلے اجلاس میں منصفانہ طریقے سے ہو۔ مگر کیا عالمی اور ملکی قوانین کے مطابق بشیراں بی بی کو زیر حراست رکھا گیا؟ کیا اس مقدمہ میں انصاف کے تقاضے کیے گے۔۔۔۔۔۔؟ بشیراں بی بی کی نادگرہ گناہ کی سزا انصاف دلانے والے اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بھی ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں پریس فار پیس اور جموں کشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ نے اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، آئی جی آزاد کشمیر ،چیف جسٹس آف آزاد کشمیر و اعلیٰ حکام سے اس واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اور واقعہ کی تحقیقات کر کے اس کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
جب لہو بول پڑے اس کے گواہوں کے خلاف 
قاضی شہرہی کچھ اس باب میں ارشا د کرے 
اس کی مٹھی میں بہت روز رہا میرا وجود
میر ے ساحرے سے کہو اب مجھے آزاد کرے۔


اس مقدمے کی وجہ سے جہاں بشیراں بی بی جسمانی اور ذہنی طور پر ٹارچر ہوئی وہاں اس کے معصوم بچے گھر میں بلکتے رہے ہیں اور ماں کی غیر موجودگی میں ذہنی کرب میں مبتلا اپنا بچپن گزارنے پر مجبور اپنی ماں کو تلاشتے رہے ۔ اور بد قسمت بشیراں بی بی ذہنی اور جسمانی تشدد کی وجہ سے بشیراں بی بی فالج جیسی مہلک بیماری میں مبتلا زندگی اور موت کی کشمکش میں ڈسٹرکٹ ہستپال میں \"لاش \"بن گئی۔ بالآخراخبارات میں بشیراں بی بی کی قریب المرگ تصاویر شائع ہونے کے بعد اس کے بچوں کو اپنی والدہ کا علم ہوا کہ وہ باغ پولیس کے زیر حراست ہے ۔ جس پر اس کی بڑی بیٹی جس کی عمر تقریبا 18سال اور بیٹا جس کی عمر تقریبا14سال ہے اپنے ممتا کی محبت ڈھونڈتے باغ پہنچے ۔ بچوں کا کہنا ہے کہ پانچ ماہ سے قید ہماری والدہ کسی بھی چوری کی واردات میں ملوث نہیں بلکہ دھیر کوٹ پولیس کے اہلکار جاوید عباسی نے پولیس کے ہمرا ہ 27اکتوبر2013 ؁ء کو ہماری والدہ بشیراں بی بی کوبغیر کسی قانونی دستاویز کے گھر سے اُٹھا یا اور 15دن بعد ہم سے رابطہ کر کے3لاکھ طلب کیے گئے اور پیسے نہ ملنے پر ہمارے پورے خاندان کے خلاف FIRدرج کروا دی جسکی وجہ سے کوئی بھی ہما را شخص ادھر نہیں آیا ۔ گزشتہ دنوں اُس نے فون کیا کہ آپ کی والدہ کو فالج کا ایٹک ہو گیا ہے جس پر میں نے کسی سے ادھارے پیسے لیئے اور باغ آگئی ۔ ہمارے پا س نہ اپنا گھر ہے اور نہ ہی کوئی ذریعہ معا ش اور نہ ہی میرے والد یا کوئی رشتہ دارآج تک آزاد کشمیر آیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے والد پر اُس نے چوری کا الزام کیوں لگا یا جسکی وجہ سے پولیس میری والدہ کو گھر سے اُٹھا لی گئی ۔ 
اُنہوں نے بتایا کہ ہمارے والد ٹائل فکسنگ کا کراچی میں کام کر تے ہیں اور وہ آزاد کشمیر کبھی نہیں آئے ۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ جاوید عبا سی نے اُن پر چوری کا پر چہ کیوں درج کیا گیا اور ہمارے والد کا نام نذیر احمد ہے جبکہ پرچہ قاری نذیر احمد کے نام پر درج ہے جسے ہم نہیں جا نتے ۔جب پہلی بار یہ لوگ ہمارے گھر گئے تو جاوید عبا سی نے ہماری والدہ کو ہمارے سامنے تشد د کا نشانہ بنا یا اور ہم پر حملے شروع کر دیئے جس پر والدہ نے کہا کہ میں آ پ کے ساتھ چلنے کیلئے تیار ہوں ۔ آپ میرے بچوں کو کچھ نہ کہیں ۔ جب وہ والدہ کو ساتھ لئے آئے تو 15دن تک ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں ۔ پھر ایک دن جاوید عبا سی نے فون کیا کہ وہ ہمارے پاس ہے آپ مجھے 3لاکھ روپے دیں اور اُس کو لے جائیں اور پھر بعد میں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ جاوید عباسی نے ہمارے پورے خاندان کے خلاف FIRدرج کروا رکھی ہے جسکی وجہ سے ہمارے خاندان کا کوئی بھی شخص آزاد کشمیر نہیں جا سکتا تھا ۔ 5ماہ سے ہماری والدہ جیل میں پڑی ہوئی ہے اُس کو ذہنی ٹارچر کیا گیا جسکی وجہ سے وہ فالج اور شوگر جیسے امراض میں مبتلا ہو چکی ہے ۔ آخری اطلاعات کے مطابق بشیراں بی کو ہسپتالال انتظامیہ نے جگہ نہ ہونے اور اس کی مرض کا یہاں علاج ممکن نہ ہونے کا کہ کر ڈسچارج کر دیا اور اس کواوراس کو دیکھنے کے لئے آنے والے بچوں کو ایک بار پھر جاوید عباسی کے حوالے کر دیا گیا ہے وہ اس کو راولپینڈی لے جا کر علاج کروئے اب وہ بشیراں بی اس کے بچوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے ؟اگر ان بچوں کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کا ذمدار کون ہو گا؟

 تحریر؛ محمد شوکت خان تیمور 

انصاف انسانی معاشرے کی ترقی کے لئے بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اس کے حصول کے لئے ملکی وعا لمی سطح پر قوانین بنائے گئے ہیںیہ قوانین معاشرے کے تمام طبقوں کو یکساں انصاف مہیا کرتے ہیں لیکن بشیراں بی کیس میں ہمیں کچھ اور ہی نظر آتا ہے اس کی وجہ ہمارے معاشرے میں وہ اختیارات ہیں جو انصاف کے راستے میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں دور کر نے کے لئے استعمال ہونے چاہئے وہ اپنی ذات کے لئے کئے جاتے ہیں جس کی واضع مثال دھیرکوٹ پولیس کے اہلکارجاوید عباسی نے اپنے گھر سے 8تولے سونے کے زیور چوری کرنے الزام میں ایک مزدور نذیر احمد قوم بھٹی سکنہ کچی آبادی کبیر والا سائیوال پاکستان پر عائد کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی اور ملزم کی گرفتاری کے لیے ساہیوال پولیس سے مل کر چھاپہ مارا ۔جہاں نذیر احمد گھر پر نہ تھا اور نذیر احمد کے جرم میں اس کی بے گناہ بیوی بشیراں بی بی (عمر55سال) کو اٹھا لیا۔ بشیراں بی بی جو کہ 4بچوں کی ماں ہے اسے اس کے شوہر نذیر احمد کے ساتھ مقدمے میں شامل کر دیا گیا ۔ 
جس کا اس جرم سے قطعی طور پر کوئی واسطہ ہی نہ تھا۔ اور بے گناہ بشیراں بی بی پر فرد جرم عائد کرنے کے بعد زیر دفعہ 419/420اور 467/468تحصیل فوجداری عدالت دھیرکوٹ میں چالان پیش کر دیا۔ بشیراں بی بی 5ماہ سے جھوٹے مقدمے میں جیل کاٹ رہی ہے ۔ پانچ ماہ سے ذہنی اور جسمانی تشدد کی وجہ سے بشیراں بی بی فالج کی مریضہ بن گئی اور اس وقت ڈسٹرکٹ ہسپتال باغ میں زیر علاج ہے۔ مظلوم عورت کی مدد کے کرنے کے لیے دھیرکوٹ کے ہی ایک رہائشی نے بشیراں بی بی رہائی کے لیے آواز بلند کی اور ضمانت دینے کی کوشش کی مگر اس کو بھی اس پولیس اہلکار نے تشد د کا نشانہ بنا کر اپنے راستے سے ہٹا دیا۔ اس کے بعد کسی بھی شخص کی جرت نہ ہو سکی کہ وہ بے گناہ بشیراں بی بی کو رہا کروا سکے۔ اس طرح 5ماہ سے غیر قانونی طور پر قید بشیراں بی بی کو جعلی مقدمے میں پھنسا کر اس معاملے کو قانونی بنانے کی کوشش کی گئی ۔ 
Comments