اردو اخبارات کے معروف کالم نگاروں کی کافی بڑی تعداد ایک خاص مکتبہ فکر کے لئے اپنے دلوں میں نرم گوشہ رکھتی ہے اور اس کا اظہار گاہے گاہے کرتی بھی رہتی ہے


جب ایسا کچھ نہیں تو پھر اس مطالبہ کا مطلب کیا ہے کہ ایک ارب سے زاید غیر عرب مسلمان اپنی عید کے دن کا تعین کرنے کیلئے کسی شاہی فرمان کے تابع کر دیے جایئں ؟ اس حال میں کہ یہ غیر عرب مسلمان اپنی کارکردگی اور صلاحیت کے اعتبار سے پیشہ ورانہ مہارت میں ممتاز مقام رکھتے ہوں.

اس عالم عرب کے صوابدیدی اختیار پر مبنی حکم کی پاکستان جیسی سرزمین پر نافذ کرنے کی بات کی جاتی ہے جنکی جغرافیائی سرحدوں کا تعین بھی سیدھی لکیروں کی شکل میں برطانیہ اور فرانس نے کیا ، کیا آپ نہیں جانتے کہ اردن کی سرحدوں کا تعین ایک خاتون نے کس مضحکہ خیز انداز میں کیا تھا ؟ عالم عرب میں اغیار کی سازشوں سے مسلمانوں نے مسلمانوں کو قتل کر کے اپنے اپنے اقتدار کو استوار کیا ہے اور کیا آپ یہ بھی نہیں جانتے کہ پاکستان کے لئے بیس لاکھ سے زاید مسلمان صرف کفر کے ہاتھوں شہید ہوے . اس کے باوجود یہ کہنا کہ عرب ورلڈ کے ساتھ عید منائی جاے چھ معنی دارد ؟ " تم ہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے ؟ .

عرب ورلڈ کا تصور تو بڑا سہانا لگتا ہے پر اس کا دامن اپنے جسد فکری کے ساتھ جگہ جگہ سے تار تار ہے


آپ کو سعودی عرب کے ساتھ عالم عرب کے علاوہ صرف افغانستان جیسا ملک ہی نظر آیا اور آپ دیگر اسلامی ممالک کو نظر انداز کر گئے ؟ افغانستان اپنے فیصلوں میں کس قدر آزاد ہے ؟ کیا آپ کو بھی اس کے متعلق مطلع کرنا پڑے گا 

اب رہی بات سعودی عربیہ کی تو وہاں کس کی مجال ہے کہ حکومت کی منشاہ اور مرضی کے خلاف اپنی راے کا اظہار کرے اور جب تک اس میں شہنشاہیت کا سکھ جما رہے گا اظہار راہے جسے بنیادی حقوق یونہی پا مال ہوتے رہیں گے . شہنشاہیت کی رسموں کی تقلید سے خدا میرے وطن پاکستان کو ہمیشہ محفوظ رکھے اور پرو ر دگار عالم کوئی ایسی سبیل پیدا کرے کہ ہم اپنے مسایل خود ہی حل کرنے کے قابل ہو جاییں ، آمین



عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی پر مبنی اصلاحات کا ایک بڑا پروگرام مڈل ایسٹ کے سنہری محلات اور شاہی ایوانوں کے در و بام پر دستک دے رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ اب ریال اور ڈالر والوں کی ترجیحات بھی وہ نہیں جن کا عھد و پیمان 1914 میں ہوا تھا , تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستان کے با شعور مسلمانوں پر اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے ایک مسترد شدہ آئیڈیا لوجی مسلط کردی جاے .


آپ کو لگتا ہے کہ مفتی منیب الرحمن صاحب کے مستعفی ہونے سے یہ مسلہ حل ہو جاے گا ؟ آپ ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اپنے علم و فہم کی بنا پر کہے کہ کیا واقعی مفتی منیب الرحمن کی ذات واحد ہی اس مسلے کے حل میں رکاوٹ ہے ؟ یا اس کے پس منظر میں در حقیقت دیگر عوامل کار فرما ہیں اور مفتی منیب الرحمن صاحب سے عناد کی وجہ کچھ اور ہے ؟

 اور یہ کہاں کی منطق ہے کے ملک کے نوے فیصد آبادی اور مرکزی حکومت کی طرف سے منتخب شدہ اتھارٹی کے فیصلوں پر چند لوگو ں کی راے کو مصلحت کی نام پر مسلط کر دیا جاے ، اس طرح تو کل ملک کی ا علی عدلیہ کی ساتھ ساتھ دیگر انتظامی اداروں کے اختیارات اور دائرہ کار کی نوعیت بھی محل نزاع بن جاے گی ؟ تو کیا یہ صورت حال دہشت گردی ہی کی ایک زیادہ خطرناک شکل نہیں ؟

اب مجھے یہ بھی کہنے دیجیے کہ اس نظریاتی کش مکش میں آپ کا اختیار کردہ انداز فکر پاکستان کی سالمیت اور نظریاتی اساس کے لئے کس قدر نقصان دہ ہے یہ آپ مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں ،

آپ کا یہ خیال بھی نیا نہیں کہ ہمیں عید یا ماہ رمضان کی رویت کو سعودی عربیہ کے فیصلے کے ماتحت کردینا چاھیئے جس طرح دیگر عالم عرب ، افغانستان اور مغربی ممالک کے مسلمانوں نے کیا ہوا ہے .

اول تواس کلیہ کا پورا مفہوم حقایق پر مبنی نہیں کیونکہ مغربی ممالک کے تمام مسلمان سعودی عربیہ کے ساتھ عید منانے کے کسی ضابطہ کے پابند نہیں یہ الگ بات ہے کہ اس مرتبہ عید ایک ہی دن منائی گی .

عرب ورلڈ کا تصور تو بڑا سہانا لگتا ہے پر اس کا دامن اپنے جسد فکری کے ساتھ جگہ جگہ سے تار تار ہے اور کیا صومالیہ جو اسی عرب ورلڈ کا ایک حصه ہےاس کی خانہ جنگی اورمعاشی تنگ دستی عالم عرب کی نا قابل بیان کار کردگی کا منہ بولتا ثبوت نہیں ہے ؟ اور پھر اس پورے کے پورے عرب ورلڈ کے بیس سے زاید ممالک پر مشتمل بتیس کروڑ کی آبادی میں کونسا سا ادارہ یا شخصیت ایسی ہے جس نے بین الاقوامی سطح پر کسی قابل فخر کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہو ؟

رویت ہلال کمیٹی اورسعودی وزارت پٹرولیم

تحریر: منصور حیدر راجہ

رویت ہلال کے حوالے سے ہو نے والے تقاضے کے پس منظر میں 25 اگست 2012 کومعاصر روزنامہ جنگ میں مشہور صحافی جناب سلیم صافی کا کالم" میری خوشیوں کے قاتل ،، شائع ہوا  - اس بارے میں اصل صورت حال پر مبنی نقطہ نظر پیش خدمت ہے

جناب محترم سلیم صافی صاحب

جس قدر دکھ اور درد آپ کو پاکستان میں " عید الفطر ،، کے موقع پر رویت ہلال کے تنازع کے سلسلے میں اخذ ہونے والے نتیجے میں ہوا ہے ، یقینا یہ آپ کی اسلام پسندی اور جز بہ حب الوطنی کا ثبوت ہے . ان احساسات کے ساتھ ساتھ یہ صورت حال ہر درد مند پاکستانی کے لیے وجہ ندامت بھی ہے . میں نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی مسلمان یہ چاہتا ہو کہ پاکستان میں عید الفطر جیسے پر مسرت موقع پر ایک سے زاید "عیدیں ،، منائی جائیں مگر اس حقیقت کے باوجود اس عید کے چاند کو پاکستان میں ہمیشہ گرہن لگ جاتا ہے اور مسلمانوں میں افتراق و انتشار کے جراثیم کو مزید پنپنے کا موقع مل جاتا ہے .

اس حد تک تو آپکی تشویش اور کرب کی کیفیت بجا اور قابل تحسین ہے مگر اس پس منظر میں اس مشکل اور پیچیدہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے آپ کی تجویز کردہ سفارشات اس پوری صورت حال کےتناظر میں ، اطمینان بخش اور زمینی حقایق کے مطابق نہیں.

 اس طرح میڈیا میں اپنے تجزیے کو درست نکات پر درست طریقے سے مناسب الفاظ میں پورے مفہوم کے ساتھ دانستہ ادا نہ کر کے آپ بالواسطہ اپنی خوشیوں کے قتل میں شریک ہیں ، اس بارے میں ذرا خود ہی سوچیے ؟

اردو اخبارات کے معروف کالم نگاروں کی کافی بڑی تعداد ایک خاص مکتبہ فکر کے لئے اپنے دلوں میں نرم گوشہ رکھتی ہے اور اس کا اظہار گاہے گاہے کرتی بھی رہتی ہے اور اسی خاص جماعت میں آپ کا شمار بھی ہوتا ہے . اس کے باوجود آپ نے دہشت گردی کے حوالے سے ہمیشہ بڑے جاندار اور بے باک قسم کے کالم لکھے مگر جب بات رویت ہلال کی آئی تو آپ اسے بریلوی . دیوبندی کا کوئی روایتی مناقشہ یا تنازع قرار دیکر در پردہ خود ایک فریق کے دیرینہ موقف کے ہمنوا بن گے -

مفتی منیب الرحمن صاحب کے متعلق آپ نے لکھا ہے کہ انھیں ایک ڈکٹیٹر نے یہ عہدہ دیا ہے اور انھیں اب وفاقی وزیر مذہبی امور سید خورشید شاہ کا تعاون حاصل ہے ، آپ کا خیال کیا یہ ہے کہ ڈکٹیٹر کے دور حکومت میں '' رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ کا تقرر سعودی وزارت پٹرولیم کرتی ؟ اسی طرح ہر حکومت کے دور میں وزارت مذہبی امور کا رویت ہلال کمیٹی سے اشتراک کار کے حوالے سے بھی باہمی تایید و تعاون کا ایک طویل سلسلہ جاری و ساری ہے . اس بے معنی سے تکے کی بنا پر چیرمین رویت ہلال کمیٹی کی صلاحیت اور قابلیت پر حرف گری کرنا قرین انصاف نہیں

میں سمجھتا ہوں کہ رویت ہلال کے معاملے میں ایک خاص مکتبہ فکر نے مفتی منیب الرحمن صاحب کو اپنا ہدف بنا کر میڈیا پر جو واویلا مچا رکھا ہے کون نہیں جانتا کہ اس کے پس پردہ مقاصد کیا ہیں ؟ مگر ان روایتی ہتھکنڈوں کا دور اب ختم ہو رہا ہے , اس حقیقت کو جتنا جلدی ممکن ہو ذہن نشیں کر لینا چاھیئے ،