کشن گنگا ڈیم تنازعہ پر پاکستان کی قومی شکست۔۔۔۔۔ وجوہات کا تعین ضروری ہے

posted Feb 24, 2013, 10:17 AM by PFP Admin   [ updated Feb 24, 2013, 10:17 AM ]

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معائدہ کی پے درپے خلاف ورزیوں اور پاکستان پر آئے روز کی آبی جارحیت کے آثار آج ہی سے نمودارہونا شروع ہو گئے ہیں اور آنے والے چند سالوں میں ان 30 ڈیموں کی تعمیر کے بعد مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر میں داخل ہونے والے دریاﺅں میں پانی کا بہاﺅ خطرناک حد تک کم ہو جائے گا جس سے نہ صرف زراعت بلکہ ماحولیات اور پن بجلی کے منصوبوں پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے ۔

ضروری امر یہ ہے کہ پاکستان کے اداروں اور حکومت کو ان تمام منصوبوں پر ابتداءہی سے نظر رکھنی چاہئے تھی اور منصوبوں کے شروع ہوتے ہی عالمی عدالت سے رجوع کرنا چاہئے تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے بالآخر پاکستان کو1860 میگاواٹ بجلی سے ہاتھ دھونا پڑے۔ بین الاقوامی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ بھارت دریائے چناب پر بڑے ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے اور اس مقصد کیلئے سندھ طاس معاہدے میں بھی تبدیلی کا خواہش مند ہے۔ جس کیلئے وہ اوچھے اور گھٹیا ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ ہماری عوام بھارت کی جانب سے ہونے والی ان تمام زیادتیوں پر نوحہ کناں ہے۔لیکن پاکستانی حکومت کو شاید یہ احساس تک نہیں کہ بھارت کی جانب سے ہمارے پانی پر ناجائز قبضے کے باعث پاکستان کے کسانوں کا حق مارا جا رہا ہے۔ بھارت کی جانب سے ان گنت ڈیم بنانے کی وجہ سے مستقبل قریب میں نہ صرف پاکستان کی لاکھوں ایکڑ زرخیز زمین پر اگائی جانے والی فصلیں سیراب ہونے سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوجائیں گی، بلکہ پانی سے بجلی پیدا کرنے کے ایسے تمام منصوبے جو پاکستان کے لئے نہایت اہم ہیں، ہمارے ہاتھوں سے نکل جائیں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کے مقدمہ ہارنے کی تمام تر وجوہات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور قومی نوعیت کے اس مسئلہ میں غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف ملکی قوانین کے تحت غداری کا مقدمہ درج کیا جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لاکر سرعام سزائیں دیکر عبرت کا نشان بنایا جائے ۔ مقدمہ کو از سر نو عالمی عدالت انصاف میں بھرپور تیاری کے ساتھ پیش کیا جائے اور عالمی عدالت انصاف سے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی جائے تاکہ اور تمام تر سائنسی و زمینی حقائق کو دوبارہ عدالت کے سامنے رکھا جائے تاکہ باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد کوئی قابل قبول فیصلہ سامنے آ سکے۔ اگر آج پاکستانی حکومت ایک بار پھر غفلت کا مظاہرہ کرے گی تو مستقبل میں اس کا خمیازہ ہماری نسلوں کو بھگتنا پڑے گا ۔

نوٹ: مضمون میں شامل اعداد و شمار انتہائی احتیاط کے ساتھ مرتب کئے گئے ہیں تاہم سو فیصد حتمی نہیں ہو سکتے۔

(مضمون نگار مظفر آباد سے تعلق رکھنے والے فری لانس صحافی اور کالم نگار ہیں اور انسانی ترقی ،ماحولیات کے تحفظ کے لئے کام کرنے والے ادارے ”پریس فار پیس سے وابستہ ہیں۔ادارہ کا مضمون نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری ہیں

ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے اپنے اس فیصلے میں انصاف کے تمام تقاضے پورے نہیں کئے گئے بلکہ اس فیصلے میں زمینی اور سائنسی حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے اور محض بھارت کی جانب سے مقدمہ کی بھرپور انداز میں پیروی کی وجہ سے فیصلہ بھارت کے حق میں دیا گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے مقدمہ کی پیروی پر معمور افسران اور وکلاءنے عدالت میں اپنا مقدمہ انتہائی کمزور موقف کے ساتھ لڑا ہے اور روائتی سستی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے عدالت کو تمام مطلوبہ ثبوت اور کوائف بروقت فراہم نہیں کئے جا سکے۔ دوسری جانب ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کے اس فیصلے کے پاکستان اور آزاد کشمیر میں ماحولیات، جنگلات، جنگلی حیات ،زراعت اور ہائیڈرل پاور پروڈکشن کے شعبوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے اور وادی نیلم سمیت آزاد کشمیر کے متعدد علاقے بنجر ہو جائیں گے جبکہ پنجاب میں بھی زراعت کے شعبہ کو پانی کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ نیلم جہلم پاور پراجیکٹ سمیت آزاد کشمیر میںپن بجلی کے تمام مجوزہ منصوبوں کی پیداواری صلاحیت بری طرح متاثر ہو گی۔

بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی دریاﺅں کے پانی سے گیارہ لاکھ ایکڑ سے زائد زمین سیراب کی جارہی ہے جبکہ کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کےلئے دریائے نیلم کا رخ موڑے جانے سے آزاد کشمیر میں زیر تعمیر نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بری طرح متاثر ہوجائے گا۔اس کے برعکس اگر پاکستان بھارت کے خلاف بروقت آواز اٹھاتا اور مقدمہ کی پیروی میںلاپرواہی کا مظاہرہ نہ کیا جاتا تو آج حالات قدرے مختلف ہوتے۔

پاکستان کی وزارت پانی و بجلی کے مطابق بھارت مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی دریاﺅں کے پانی سے 1800 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے اور اس مقصد کیلئے دریائے جہلم، چناب اور سندھ پر چھوٹے بڑے 30ڈیم تعمیر کئے جا رہے ہیں۔ دریائے چناب پر دہل ہستی ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے 390میگاواٹ، دریائے چناب پر بگلیہار ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سے 450 میگاواٹ، جبکہ سلال ون اینڈ ٹو پروجیکٹ سے 690 میگاواٹ، دریائے پونچھ پر ہرنائی ہائیڈرو پروجیکٹ سے 37.5 میگاواٹ، دریائے جہلم پر سمبال ہائیڈرو پروجیکٹ سے 22میگاواٹ، لوئے جہلم سے 480 میگاواٹ اور دریائے سندھ پر سندھ ہائیڈرو پروجیکٹ سے105میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے زیر کار ہیں

تحریر: جلال الدین مغل

عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق عالمی عدالت انصاف نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشن گنگا پاور پراجیکٹ پر پاکستان کے تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے بھارت کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے ۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق بھارت اب دریائے نیلم(کشن گنگا) پر مقبوضہ کشمیر کے شمال مشرقی علاقہ گریز کے ضلع بانڈی پورہ میں کشن گنگاڈیم کی تعمیر کا کام جاری رکھ سکتا ہے۔ اس مقصد کے لئے بھارت کو دریائے نیلم کا رخ موڑنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔بہر حال اس کے متعلق مبصرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے میں کئی شرطیں بھی شامل ہیں۔بھارت کی جانب سے دریائے نیلم(کشن گنگا ) پر زیرِ تعمیر 330 میگاواٹ صلاحیت والے پن بجلی پروجیکٹ پر پاکستان نے اعتراض کیا تھا اور اس نے اس کے متعلق” ہیگ “میں واقع ثالثی کی عالمی عدالت میں 2009ءمیں شکایت درج کی تھی۔پاکستان کو خدشہ ہے کہ یہ پراجیکٹ آزاد کشمیر میں زیرِتعمیر نیلم جہلم پراجیکٹ کو متاثر کرے گا، جبکہ بھارت کا اصرار ہے کہ کشن گنگا پروجیکٹ سے پن بجلی کے پاکستانی منصوبوں پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

پاکستان میں بہنے والے تمام بڑے دریا بھارت اور مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں سے گزر کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور اسی بناءپر گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت نے ان دریاﺅں کے پانی پر اپنی اجارہ داری قائم رکھتے ہوئے پاکستان کی زراعت کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ نہ صرف افسوس بلکہ حیرت کی بات یہ ہے کے پاکستان میں آج تک برسر اقتدار آنے والی ہر حکومت نے اس بارے میں ہمیشہ غیرذمہ دارانہ رویہ اپنایا ہے۔ اور حال ہی میں بھارت کی جانب سے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر کے معاملے پر بھی پاکستانی حکومت نے عالمی عدالت میں جواب داخل کرنے میں تاخیر کی جس کی وجہ سے بھارت کو مزید چھ ماہ کا وقت مل گیا تھا ۔پاکستان کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں دائر مقدمہ کی پیروی پر معمور افراد نے دانستہ طور پر اس قدر لاپرواہی کا مظاہرہ کیا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان کو بادی النظر میں دریائے نیلم کے پانی سے محروم کر دیا گیا ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت کی سمجھ میں نہ آنے والی اس سست روی کے باعث پاکستان کو کشن گنگا ڈیم کے مقدمے میں ناکامی ہوئی ہے، جبکہ دوسری جانب بھارت نے حال ہی میں اس منصوبے کے تحت زیر زمین سرنگ کی تعمیر کا کام بھی شروع کر دیا گیا ہے، جس سے عالمی عدالت میں پاکستان کا مقدمہ اور بھی کمزور ہو گیا تھا
Comments