پاک بھارت کشیدگی : خطے کے امن کو لاحق خطرات

posted Jan 30, 2013, 4:01 PM by PFP Admin   [ updated Feb 2, 2013, 1:03 AM ]


دہشت گردی سے انسانی خون کے بے دریغ ضیاع کی وجہ ہندوستان پاکستان کے عوام تنازعات کا حل چاہتے ہیں امن کے قیام کے لئے اس عشرہ میں بہت زیادہ کام ہوا ثقافت کھیل تجارت شروع ہونے سے پاک بھارت تعلقات میں بہتری آئی تھی امن کے لئے مسئلہ کشمیر بنیادی اہمیت کا حامل ہے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے روڈ میپ تیار ہو چکا ہے لیکن اس کے عملدرآمد شروع ہوتے ہی انتہا پسند قوتیں اپنا کام دکھا جاتی ہیں پاکستان میں اس سے قبل حکومتیں مسائل کا شکار ہوتی رہیں ایک بھاری مینڈیٹ والی سویلین حکومت کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے بعد میں فوجی حکمران پر ویز مشرف بھی اس ہی فارمولے کے تحت تنازعہ کو حل کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے اس منصوبے پر کام کیا گیا لیکن پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے مسئلہ کا حتمی حل نہ نکل سکا پیپلز پارٹی کی سویلین حکومت نے بھی عوامی رد عمل کے پیش نظر یا انتہا پسندی کی سازش کے ڈر سے اس ہی روڈ میپ پر خاموشی کام کیا لیکن کسی نتیجہ پر پہنچنے سے قبل ہی بھارت کی طرف سے معمولی جھڑپوں کو بہانہ بنا کر رولز آف بزنس کو تبدیل کر کے ماحول کو کشیدہ بنا دیا گیا ہے انڈیا اس خطرے کے پیش نظر کہ2014 میں امریکہ کے افغانستان سے نکلنے پر جنگجو کشمیر کا رخ کر سکتے ہیں کا بہانہ بنا کر کشمیر پر اپنے فوجی قبضے کو برقرار رکھنے کے لئے جوازپیدا کر رہا ہے جس کے پس پردہ انتہا پسند قوتیں سخت گیر عسکری عناصر میڈیا کے ذریعے نفرتوں اور کشیدگی میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں مسئلہ کشمیر کوا لتواءمیں رکھنے سے پورے خطے کا من کو خطرات لاحق ہوجائیں گے امریکہ کے افغانستان کے نکلنے کے بعد کشمیر میں مسلح تحریک شروع ہونے سے دنیا کے امن کو خطرات لاحق ہو جائیں گے اگرچہ امریکہ اور چین نے ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے کو امن کو قائم رکھنے کی اپیل کی ہے لیکن رولز آف بزنس کی بحالی کے لئے بھارت کی طرف سے سخت بیانات رکاوٹ بنے ہوئے ہیں برف پگھلنے کے اقدامات نہیں کئے گئے ہیں البتہ امن کے لئے کام کرنے والی تنظیموں نے کشیدگی کو کم کرنے کے لئے سر جوڑ لئے ہیں جوکہ ایک خوش آئند قدم ہے ۔

  اس کے برعکس پاک بھارت انتہا پسند قوتیں خونی کھیل جاری رکھنے کے لئے سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں بھارت کی سیاسی قیادت سخت گیر موقف کے بجائے تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے قیام امن کے لئے تلخی کو نظرانداز کر نا پڑے گا پاکستا ن نے بظاہر ٹھنڈے دل و دماغ سے کام لیا ہے شدت پسندوں کو امن خراب کرنے کی مزید گنجائش نہیں بچتی افغانستان کی33 سالہ خانہ جنگی بڑا سبق ہے جس کے اثرات سے پوری دنیا متاثر ہورہی ہے پاکستان کے کنٹرول والے علاقوں میں30 ہزار لوگ دہشت گردی کی وجہ سے لقمہ اجل بنے ہیں کشمیر کی سول سوسائٹی اس طرح کی مشق کی متحمل نہیں ہو سکتی ہے جنگ کا اختتام بل آخر مذاکرات پر ہی ہوتا ہے امریکہ عالمی طاقت ہونے کے باجود طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے بھارت پاکستان کو ایک دوسرے کے ساتھ گیم کرنے کے بجائے سنجیدگی سے ٹیبل ٹاک کے ذریعے کشمیر کے تنازعہ کو حل کشمیر کے عوام کے رائے کے مطابق کریںلیکن جنگ کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے عوام غیر اعلانیہ جنگ سے تنگ آچکے ہیں طالبائزیشن کالعدم تنظیموں کو دنیا کسی بھی اصول پر قبول نہیں کر رہی ہے دنیا میں امن کے لئے جنگ کو سمیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے پاس صرف واحد راستہ یہی ہے کہ بھارت دو طرفہ تعلقات کی بحالی مذاکرات کی میز پر نہ آنے کی صورت میں یو این او سے رجوع کیا جا سکتا ہے ہندوستان نے صدر پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو جنرل اسمبلی میں اٹھانے پر برہمی کا اظہار کیا گیا تھا بھارت کی طرف سے مذاکرات کی آڑ میں مسئلہ کشمیر کو پس پشت ڈالنے کی کوششیں تعلقات کو خراب کرنے کی وجہ سے صرف ماحول خراب ہو ا ہے بلکہ کشیدگی کی وجہ سے پورے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں اقوام متحدہ بڑی طاقتوں کو ایشیاءکی ایٹمی طاقتوں کے مابین مسئلہ کشمیر کا حل نہایت ضروری ہے عجلت میں کسی بھی غلطی کی وجہ سے جنگ دہشت گردی کا سلسلہ طویل ہو نے سے دنیامیںامن کاخواب ادھورا رہ جائے گا امریکہ کوا فغانستان سے جانے سے قبل مسئلہ کشمیر کے حل کے روڈ میپ پر عمل درآمدکے لئے کردار ادا کرنا ہوگا ۔

 

 


 

 مثبت پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے کنٹرول لائن پر حالیہ دونوں ملکوں کے جانی نقصان کے بعد تنازعہ کے حل کی کوششوں رولز آف بزنس متاثر ہوئے ہیں اعتماد سازی کی فضا متاثر ہوئی ہے بھارت کی انتہا پسند قوتیں کشیدگی میں مزید اضافہ کا باعث بن رہی ہیں سخت گیر فوجی قیادت میڈیا کے ذریعے کشیدگی کو مزید ہوا دی جا رہی ہے جوکہ نہایت خطرناک عمل ہے ہندوستان کی سیاسی قیادت سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے انتہا پسند عسکری عناصر کی ایماءپر امن کے عمل کو دا پر لگارہی ہے وزیراعظم منموہن سنگھ نے سخت الفاطاستعمال کر کے فضا کو مزید مقدر کر دیا ہے جس سے نہ صرف تجارت متاثر ہوئی ہے بلکہ لائن آف کنٹرول کے ذریعے منقسم کشمیر کے دوسو کے قریب لگ بھگ افراد پھنس کر رہ گئے ہیں سخت سرد موسم کی وجہ سے اگرچہ ایل او سی پر امن قائم ہے لیکن اعتماد سازی کے اقدامات کو برے طریقے سے نقصان پہنچا ہے فائرنگ کے حالیہ واقعات میں بھارت کی طرف سے سیز فائر کی خلاف وزری کی گئی ہے پاکستان کا جانی نقصان بھی زیادہ ہوا ہے لیکن اس کے باوجود بھارت کی طرف سے تیسرے فریق سے غیر جانبدار تحقیقات کی تجویز کو مسترد کیا گیا ہے اس کے برعکس پاکستان کا میڈیا سیاسی قیادت یہاں کے انتہا پسندوں کے دبا کے باوجود امن مذاکرات کی ہی بات کر رہے ہیں پاکستان نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی مبینہ فوجیوں کی ہلاکت کی باقاعدہ شکایت اقوام متحدہ کے مبصر مشن میں درج کروائی ہے مبصر مشن نے اپنی تحقیقات شروع کردیں ہیں

بھارت کی انتہاپسند قوتیں میڈیا سخت گیر عسکری عناصر پاکستان کے خلاف محدود جنگ سرجیکل سٹرائیک کرنے پر زور دے ہیں بھارتی خاتون سیاستدان نے بھارتی آرمی چیف سے10 پاکستانی سر پیش کرنے کی حکم جاری کئے ہیں جس کے پس منظر میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے لوگوں کو سول ڈیفنس کی طرف سے مکانات کے ساتھ بنکر طے خانے بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں پاکستان میں آئندہ دو ماہ میں انتخابات ہوجائیں گئے جبکہ بھارت میں اگلے سال تک نئے انتخابات ہونے جا رہے ہیں بھارت کی سیاسی جماعتیں پاکستان کے خلاف سخت موقف اختیا رکر کے اپنے ووٹ بنک کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

 پاک بھارت جنگ فی الوقت خارج از امکان ہے لیکن قیام امن کے لئے کوششیں متاثر ہوئی ہیں کشمیر کے منقسم خطوںسول سوسائٹی ہندوستان پاکستان کی کسی جنگی مہم جوئی کے حق میں نہیں ہیں عوام کی طرف سے فائرنگ کا سلسلہ دوبارو شروع کرنے کی مخالفت کی جا رہی ہے سوشل میڈیا پر دنوں ممالک سے امن کی خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے ایسا طبقہ جو امن نہیں چاہتا متحرک ہے امن کے قیام اور مذاکرات شروع کرنے کے لئے ہندوستان پاکستان کے وزرائے اعظم کو مکتوب تحریر کیا ہے گذشتہ سال پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں مسلح کالعدم جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے تھے پاکستان نواز کشمیری لیڈرز میر واعظ عمر فارق،سردار عتیق کے بیانات جن میں امریکہ کے افغانستان سے نکلنے کے بعد کشمیر میںطالبان کی آمد کے بیانات امن کے لئے تشویشناک قرار دیا گیا ہے بھارت کو اس طرح کے بیانات سے کشمیر میں فوجیں رکھنے کا مزید جواز مہیا کیا گیا ہے کشمیر کے لوگ کسی قسم کی دہشت گردیانتہاپسندی سے دور چلے گئے ہیں کشمیر میں ایک دوسرے کے سر کاٹنے کی پریکٹس کو ناقابل قبول قرار دیا جا رہا ہے سیاستدانوں میڈیا کے رویے میں سختی پر مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

 کشمیر میں لوگوں کی یہی رائے ہے کہ یہاں گولیاں نہیں چلنی چائیں امن کے عمل کو آگے بڑھایا جائے ہندوستان پاکستان کی سیاسی قیادت کو انتہا پسندوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کے بجائے تنازعات کو حل کر نے کی طرف پیش رفت کی جائے جنگ مسائل کا حل نہیں ہے پاکستان نے عالمی برادری کے لئے دہشت گردی کی جنگ میں فرنٹ لائن کااتحادی ہونے کی وجہ سے مسئلہ کشمیر کے حل کو مشروط کر کے دیرینہ مسئلہ کو حل کیا جا سکتا تھا پاکستان نے قیمتی موقع ضائع کر کے کشمیریوں کو مایوس کیا ہے کشمیریوں کی اکثریت کا جھکا پاکستان کی طرف تھا لیکن واضح کشمیر پالیسی نہ ہونے بار بار یوٹرن لینے کی وجہ سے کشمیر کی رائے عامہ تبدیل ہو چکی ہے اب وہ مزید کسی پراکسی وار کے حق میں نہیں ہیں کشمیر میں بیرونی جہادی عناصر کے لئے فضا سازگا ر نہیں رہی ان کے ساتھ ہمیشہ دھوکہ ہوتا رہاہے قبائلیوں کی کشمیر میں آمد ہو یا اپریشن جبرالٹر یا پھر شملہ معاہدہ کے تحت کشمیریوں کو حق خوداردیت سے محروم کرنے کی کوشش1989 کشمیر میں آزادی کے لئے قوم پرستوں کو استعمال کر کے بعد میں جہاد کے نام پر مذہب کے نام پر جہاد شروع ہو ا مشرف کی کشمیر پالیسی پر یوٹرن لینے کے بعد پاکستان نواز حلقے دھرے کے دھرے رہ گئے افغانستان میں امریکہ کی آمد کے بعد کشمیر میں غیراعلانیہ سیز فائر تو ہوا عالمی برادری کے دبا پر مذکرات کا عمل شروع ہوا لیکن کسی بھی مرحلہ پر کشمیری رہنماں کو مذاکرات میں شامل نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے کشمیریوں کے تحفظات میں مزید اضافہ ہوا سید علی گیلانی جیسے مذہبی پاکستان نواز لیڈر نے پاکستان کی کشمیر پالیسی پر مایوسی کا اظہار کیا جس کے نتیجے میں کشمیریوں نے مستقبل قریب میں بندوق اٹھانے کے امکان کو خارج از امکان قرار دے رہے ہیں ۔

               خواجہ  فیاض حسین

 کنٹرول لائن پر جھڑپوں کے بعد مذاکرات کا عمل التوا کا شکار ہو گیا ہے ہنددوستان پاکستان کی انتہا پسند قوتیں باہمی تعلقات میں سرد مہری کا باعث بن رہی ہیں بھارتی عسکری حکام سیاسی قیادت کے سخت موقف کی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ایل او سی پر کشمیر کے اندر جاری مسلح تحریک کی وجہ سے2003 کے سیز فائر کے باوجود چھوٹے فائرنگ کے واقعات کو معمول کا حصہ ہوتے ہیں متعدد مرتبہ حالیہ فائرنگ کے واقعات سے زیادہ جانی نقصان ہوتا رہا ہے امن کے لئے ان واقعات کو نظرانداز کیا جاتا رہا نچلی سطح پر فلیگ میٹنگ کر کے تحفظات کو دور کر کے سیز فائر کو قائم رکھنے کا فیصلہ کیا جاتا رہاہے کنٹرول لائن پر بھارتی فوج اپنے قبضہ والے علاقوں میں سخت ترین حفاظتی اقدامات کر رکھے ہیں541 کلومیٹر لمبی باڑ لگانے کے باوجود شدت پسندوں کی کاروائیوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے 

حالیہ فائرنگ کے واقعات کے بعد بھارتی فوجی قیادت کی طرف سے دھمکیوں کے بعد بھارتی میڈیا بھرپور طریقے بھارتی فوجیوں کی ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے حالانکہ ہندوستان میں مسلح شورش کے دوران سر کاٹنے کی پریکٹس کوئی نئی بات نہیں ہے ایک گمنام ایس ایم ایس کے ذریعے بھارتی فوجیوں کے سرکاٹنے کی خبر نے بھارتی میڈیا کو کوئی دوسرا یشو نہ ہونے کی وجہ سے کنٹرول لائن کی جھڑپوں کو اچھال کر دونوں ملکوں کو جنگ کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے حکومت کو جوابی کاروائی کے لئے اکسایا جا ریا ہے بھارت نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کے فوجیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا ہے بھارت جوابی کاروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے حالانکہ انڈیا کی دس لاکھ فوج کشمیر میں جنگی جرائم میں ملوث ہے لاکھوں کشمیریوں کے قتل عام سے بھارتی فوج کے ہاتھ خون میں رنگے ہوئے ہیں پاکستان کی طرف سے بھارت کے الزام کو مستردکرتے ہوئے مبصر مشن سے تحقیقات کرنے کی پیش کش ہے جس کو بھارت نے مسترد کر کے امن کے عمل کو کھٹائی میں ڈال دیا ہے۔

 پاکستان کی توجہ عالمی دہشت گردی کی جنگ میںاتحادی ہونے کی وجہ سے مغربی سرحدوں پر توجہ مبذول ہوئی مشرقی سرحد ایل او سی پر عالمی برادری کی تنازعہ کشمیر کے حل کی یقین دھانی پر سیز فائر کیا گیا دونوں طرف کے کشمیریوں کو آپس میں مل بیٹھنے کے لئے آمدرفت کا سلسلہ شروع کیا گیا منقسم علاقے میں تجارت شروع کی گئی امن کے قیام اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کے حل کے لئے کوششیں جاری رہیں دس سال گزرنے کے باوجود اٹھنے بیٹھنے کے علاہ کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آسکی پاکستان کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ ملک بھی قرار دیا گیا ہے مذاکرات کی آڑ میں بھارتی فوج نے وقت کو غنیمت سمجھتے ہوئے کنٹرول لائن پر اپنی دفاعی پوزیشن کو دراندازی کا بہانہ بنا کر مضبوط کرتی رہی کشمیر میں جاری مسلح تحریک کو امریکہ کے افغانستان میں آنے کے بعد مسلح کاروائیوں کو دہشت گردی سے منسلک کرنے کے پیش نظر محدود کر دیا گیا تھا جبکہ بیرونی مسلح تنظیموں پر امریکہ کے دبا پر کالعدم قرار دیا گیا کشمیر کے اندر مجموعی طور پر امن قائم ہوا اس کے باوجود ہندوستان نے پنی فوجیں کشمیر میں مسلح کاروائیوں کے خوف سے کم نہیں کی وادی شہری علاقوں سے فوجی دستوں کو لائن آف کنٹرول پر تعینات کیا گیا عالمی حالات کے پیش نظر شدت پسندوں نے اپنی کاروائیوں کو محدو رکھا گیا ہے۔

          امریکہ کے افغانستان کے انخلاءکے بعد مسئلہ کشمیر کو جوں کا توں چھوڑنے کی وجہ سے مشرقی سرحدوں پر کشیدگی میں قبل از وقت اضافہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان تنازعہ امن کے لئے خطرناک بن سکتا ہے دونوں طرف کی انتہا پسند قوتیں جنگ جن کا کاروبار ہے دیرینہ مسئلہ کی حل کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں کنٹرول لائن پر گردنیں کاٹنے کے واقعات جلتی پر تیل کا کام کر رہے ہیں۔

          بھارت کشمیر میںجاری تحریک کو دہشت گردی سے جوڑنے میں ناکام رہا اس حل طلب مسئلے کی اقوام متحدہ میں قرادادیں موجود ہیں پاکستان بھارت کی سیاسی قیادت مسئلہ کو حل کرنے میں سنجید ہ دکھائی دیتے ہیں انتہا پسند اپنا کاروبار جاری رکھنے کے لئے رکاوٹیں ڈال کر سیاسی قیادت کو مذاکرات سے بھگانے کی سازشیں کی جا رہی ہیںہندوستان تیسرے فریق کے بجائے دونوں فریق مل بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کی بات سامنے آئی ہے لیکن اس طریق کار سے کشمیریوں کے تحفظات کھل کر سامنے آئے ہیں جن کا موقف ہے کہ کشمیر یوں کو مذاکراتی عمل میں شامل کیا جائے ۔


 کشیدگی کی وجہ سے پورے خطے کے امن کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں