ظالم حکمرانوں کے تازیانے کب تک غریب عوام سہتے رہیں گئے ؟

posted Mar 4, 2013, 10:53 AM by PFP Admin   [ updated Mar 4, 2013, 10:55 AM ]
کسی کو کچھ پتا نہیں کہ کیا ہورہا ہے اور کب کیا ہو جائے،بیس کیمپ کے ظالم اور کرپٹ حکمران،سیاستدان،ادارے اور ان میں بیٹھے بد دیانت افراد قومی خزانے کو شیر مادر سمجھ کر لوٹ رہے ہیں ،اداروں کو لوٹ کھسوٹ کر ملک کی معاشی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں مفاد پرستی کے اس گھن چکر میں یہ بد دیانت ،چور لٹیرے ایسے مگن ہیں کہ ان کو کسی کی پروا نہیں جس جمہوریت کا دعویٰ لیکر وہ عوام سے ووٹ لینے ان کے پاس گئے تھے اور عوام نے ان کی خود فریبی کے باوجود انہیں اپنا منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجا تھا آج وہی حکمران،سیاستدان،بیوروکریٹ،اقتدار ملنے کے بعد یوں مست ہوگئے ہیں کہ انہیں کسی کی بھی پروا نہیں بس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عوام کی تقدیر کیا خاک بدلتی ان کی اپنی تقدیر نے بدلنا شروع کر دیا ان کی اپنی تجوریوں کے پیٹ پھولنا شروع ہوگئے غریب عوام کو یہ کیا سہولیات مہیا کرتے ساری سہولیات اور عیاشیوں کے راستوں نے ان کے محلوں اور کوٹھیوں کا بسیرا کر لیا وہ یہ بھول ہی گئے کہ عوام نام کی کوئی چیز بھی باقی ہے انہیں تو بس ایک ہی لفظ ازبر ہے وہ ہے ،، جمہوریت،،انہیں یہ نہیں پتا کہ یہ کس سے آتی ہے اور کیوں آتی ہے اس چیز کا احساس انہیں کہاں اور نہ ہی انہیں کبھی اس کیلئے فرصت ملی ہے یا انہیں ضرورت ہے۔ملک میں بسنے والے غریبوں،مزدوروں،کسانوں،اور عام فرد کے مقدر میں تو بس یہ لکھ دیا گیا ہے کہ وہ نام نہاد جمہوریت کے نام نہاد حکمرانوں کے غیر جمہوری فیصلوں کومن و عن تسلیم کرتے رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! پتا نہیں ہمارے ملک کے عوام کو کب عقل آئی گئی کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے ان بے حس اور ظالم حکمرانوں کا احتساب کریں گئے اور ووٹ کے ذریعے مثبت تبدیلی لائیں گئے پتا نہیں وہ وقت کب آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
؟ جمہوری نظام حکومت میں تو عوام اور خواص ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا نہ بندا نواز کے مصداق سمجھے جاتے ہیں جمہوری حکومتیں اپنے عوام کی فلاح و بہبود کیلئے نت نئے منصوبے اور پروگرامات ترتیب دیتی ہیں جہاں عوام کو زیادہ سے زیادہ اجتماعی ثمرات میسر آتے ہیں ،لوگ بلا خوف وخطر ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے ہوئے نہیں کتراتے انہیں بنیادی حقوق روٹی ،کپڑا مکان،صحت،تعلیم کے مواقع برابری کی سطح پر میسر آتے ہیں،جمہوری حکومتوں کے عوام تو خوشحال اور علاقے سرسبز و شاداب دکھائی دیتے ہیں،لوگوں کو ہر طرح کی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنایا جاتا ہے ان کی جان مال ،عزت،آبرو سلامت رہتی ہے مگر ہمارے خطے میں حکمرانوں کو جمہوریت کا لفظ شاہد ورثہ میں ملا ہے یا پھر انہوں نے اسے کسی سے مستعار لیا ہے تب ہی وہ اس کے مطلب و مقصد سے نہ صرف نابلد و ناآشنا ہیں بلکہ اس کی گردان کرتے نہ ان کی زبان گنگ ہوتی ہے نہ ہی ان کو ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے وہ ایسے سینہ پھیلا کر عوامی مجلسوں ،میڈیا کے سامنے بالخصوص ٹاک شوز 
(Talk shows) میں خود کو بڑے فخریہ انداز میں عوامی خدمتگار کے طور پر پیش کرتے ہیں حکمرانوں کی لوٹ کھسوٹ،کرپشن اور بد عنوانی کے قصے عام ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں اور بالفرض اگر کسی سے احتساب کا عمل شروع بھی کیا جائے تو عوام کے یہ خدمت گار بڑی ڈھٹائی سے برملا یہ کہہ دیتے ہیں کہ پورے ملک میں کرپشن ہو رہی ہے اور اگر ہم نے اپنا حصہ وصول کر لیا تو کون سی بڑی بات ہے حکمرانوں کے اس طرز عمل پر ہی ماتم کیا جاتا تو اور بات تھی اب ایسے واقعات بھی تیزی سے سامنے آ رہے ہیں جہاں ہمارے پڑھے لکھے نوجوان روز گار نہ ملنے پر مجبورا غیر قانونی و غیر اخلاقی ہتکھنڈے اختیار کر رہے ہین اور جب یہ مجبور و لاچار قانون کی گرفت میں آتے ہیں تو اس کا ذمہ دار بھی حکمرانوں اور ان کے ناروا سلوک اور بے بنیاد قواعد و ضوابط کو ٹھہراتے ہیں ملک میں بے بسی اور لاچاری کی ایک انجانی سی لہر ہے جو لوگوں کے دلوں میں بسیرا کئے ہوئے ہے 

*تحریر: سیّد عمران حمید گیلانی


حکومت کی طرف سے غریب عوام پر آٹے کی قیمتوں میں اضافہ،بجلی کی لوڈ شیڈنگ،پٹرولیم مصنوعات میں آئے روز اضافہ،غربت ،بیروز گاری،مہنگائی میں کئی سو گنا اضافہ قابل مذمت ہے حکمرانوں کی عیاشیوں اور شاہانہ انداز نے ملک کے غریب اور متوسط طبقات کا جینا دوبھر کر دیا لوگوں نے اخراجات پورے نہ ہونے پر خود سوزی، بچوں کی خرید و فروخت جیسے اقدامات اٹھانے شروع کر دیے ملک کے تمام بڑے ادارے،تعلیمی ادارے ،فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے دیوالیہ ہونے لگے ترقیاتی فنڈز نہ ہونے سے خطے میں تعمیراتی کام بھی ٹھپ،پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی حکومت نے اپنے دوسالہ دور اقتدار میں ہی عوام کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی اور تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ غریب عوام کے منہ سے نوالہ چھینے کے مترادف ہے روٹی کپڑا مکان کے راگ الاپنے والوں خطے میں بسنے والے غریب،بے بس اور مظلوم عوام کیلئے روٹی کپڑا مکان کا حصول ایک خوفناک خواب بنا کر رکھ دیا ہے ہر گزرنے والا دن درد ناک اور ہر آنے والا دن عوام کیلئے بھیانک اور خوفناک ثابت ہورہا ہے ، جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کو شاہد خود معلوم نہیں کہ دراصل جمہوریت کی حقیقت کیا ہے؟ 
Comments