Urdu site‎ > ‎

تحقیق وتصنیف

اپنی تحریریں اس ای میل پر بھیج سکتے ہیں 
info@pressforpeace.org.uk
پریس فار پیس کے شعبہ تحقیق و تصنیف کے ویب پیج پہ ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ اس صفحے پر تحقیقی مضامین ، مراسلے اور مقالے شائع کئے جاتے ہیں ۔ پریس فار پیس 
کا لکھنے والوں کر آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

کرشن چندر بحیثیت افسانہ نگار

posted Sep 10, 2017, 5:00 PM by PFP Admin


ڈاکٹر دلپذیر فتح پور، پونچھ جموںو کشمیر۔

        کرشن چندر کی شخصیت تعارف کی مختاج نہیں انھوں نے اُردو فکشن کے سرمائے میں بیش ہا اضافے کئے۔انکی زبان میں رس اور جادو ہے۔گھلاوٹ، حلاوت اور بیاہے جانے ولی کیفیت ہے ۔انکی تخلیقات میں حسن کی لگن اور تڑپ، موج در موج اور انسان دوستی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔انکی شخصیت ایک بہت ہزار شیوہ ہے۔جس کا بنیادی جوہر اسکی حسن پرستی اور حسن کاری ہے وہ نہ صرف ہندوستاں اور پاکستان میں مشہور ہیں بلکہ مشرق، جرمنی، روس اور دوسرے کئی ممالک میں بھیان کی تصانیف مشہور ہیں درد ہو یا طنز، رومانیت ہو یا حقیقت نگاریان کا قلم ہر مو قع پر ایسی دلکش چال چلتا ہے جو بانکی بھی ہوتی ہے اور انوکھی بھی لیکن جو اسقدر سادہ اور خطرہ ہو تی ہے ۔جیسے صبح کے وقت چیڑیوں کی پرواز۔

 کرشن چندر کا قلم بچپن سے ہی اپنے جوہر دکھانے کیلئے مچل رہا تھا ۔یہ جوہر انکوقدرت نے ہی عطا کیا تھا۔ اس کا ثبوت اُنھوں نے اپنی طالب علمی کے زمانے میں جو مظموں ماسٹر باقی رام پر لکھا تھا، اس سے مل جاتا ہے ۔

 کرشن چندر کا ایک مظمون ۲۱ مارچ ۱۹۳۸؁ء میں علامہ اقبال کی فضات پر ـ دی ٹریپوں میں شائع ہوا قیام لاہور کے دوران کرشن چندر کے افسانوں کا اولین مجموعہ طسلم خیال ۱۹۳۹؁ء میں مکتبہ اُردو لاہور سے شائع ہوا۔ جس میں کل بارہ افسانے ہی اور جس میںان کا اشارہ افسانہ پُر قاں بھی شامل ہے۔کرشن چندر کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ نظارے کے عنوان سے جون ۱۹۴۸؁ء میں میں کتب خانہ ادبی دُنیا لاہور سے شائع ہوا یہ مجموعہ بھی بارہ افسانوں پر مشتعمل ہے جس میںان کا مشہور افسانہ دو فر لانگ لمبی سڑک بھی شامل ہے۔انکے اس مجموعے پر دیباچہ جلال الدین احمد پر ماہانہ ادبہ لاہور نے لکھا جو ستائیس صفحات پر مشتعمل ہے اس میں انھوں نے کر شن چندر کے ضن کی اساسی خصو صیت بیان کی ہے۔

 کل ملاکر کرشن چندر نے تقریباً چوبیس افسانوی مجموعے لکھے ہیں جن میں تقریباً دو سو سے زائد افسانے ہیں جو وقتاً فوقتاً مختلف رسائل واخبارات میں شائع ہوئے ہیں ۔انکے افسانوی مجموعے درج ذیل ہیں،،

طلسم خیال، نظارے، ہوائی قلعے، گھونگٹ میں گوری جلے، زندگی کے موڑ پر، نغمے کی موت، پرانے خدا، ان داتا، ہم وحشی ہیں، ٹوتے ہوئے ستارے، میں غنڈے، اجنتا سے آگے، ایک روپیہ ایک پھول، پولٹیس کی ڈالی، ہائیڈروجن بم کے بعد، دل کی کا دوست نیں، مسکرانے والیاں، سپنوں کا قیدی، مس نینی تال، دبواں پل، گلشن گلشن ڈھونڈاتجھ کو، آدھے گھنٹے کا خدا، الجھی لڑکی کالے بال شامل ہیں

 کرشن چندرکا نام یقینی طور پر پریم چند کے بعد بڑے افسانہ نگاروں میں لیا جا سکتا ہے ۔کرشن چندر کی اہمیت اور اُنھوں نے اُدردو ادب کو جو کچھ دیا اسکو اُدردو کا کوئی بھی سنجیدہ قاری نظر انداز نہیں کر سکتا ۔کرشن چندر ایک سمندر ہیں ۔اُنھوں نے بہت لکھا اور جم کر لکھا۔اُنھوںنے مختلف اسالیب میں لکھا ۔انکی زبان میں ایسا رس اور جادو ہے جو کسی اور افسانہ نگار کو نصیب نہیں ہوا۔انکی زبان کی جذبا ت اور، روحانی ہمدردی حصرت پسندی، بہتر سماج کی آرز مندی اور انسان دوستی ایسے عناصر ہیں جو مل مل کر ایسی کائنات کی تخلیق کرتے ہیںجسکے بہت سے حصے اگر چہ وقت کی چھلنی سے چھن کر نا ہید رار پائیں گے ان سے زیادہ کچھ حصے ایسے بھی ہیں جو موجود رہیں گے۔

 مجموعی طور پر ہمیں انکے افسانوں میں رومان حقیقت کا ایک دلکش اے مزاح باریکی و فراووانی موجود ہ سماج اور معاشی نظٓم قدرت کے دلکش نظاروں کی دلکش منظر کشی، غریب عوام سے ہمدردی، انتہائی ہمدردی کا جذبہ ملتا ہے، اس کے ساتھ میں ہمیں اُن کے افسانوں میں دلکش افر نگاری اور انسانی نغیات کا عمیق ترین معاملہ بھی بردرجہ اتم ملتا ہے۔کرشن چندر نے اپنے افسانوں میں ضن کے بہت سے پہلو برتے ہیں اُنھوں نے مختلف موضوعات پر لکھا اور تکنیک میں بھی طرح طرح کے تجربے کئے ہیں۔

 مجموعی طور پر ہمیئں انکے افسانوں میں رومان حقیقت کا ایک دلکش امتزاج باریکی و فراونی موجودہ سماج اور معاشی نظام قدرت کے دلکش نظاروں کی دلکش منظر کشی غریب عوام سے ہمدردی، انتہائی ہمدردی کا جذبہ ملتاہے۔اسکے ساتھ ساتھ ہمیں اُن کے افسانوں میں دلکش رمیزیہ نگاری اور انسانی نفسیات کا عمیق ترین مطالعہ بھی بدرجہ اتم ملتا ہے۔

کرشن چندر کے افسانوں کی سب سے بڑی خوبہ حقیقت نگاری ہے۔زندگی کی حقیقت کو جسطرح اُنھوں نے سمجھا ویسا ہی اُنھوں نے اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے۔اُنکو اپنے خیالات کے اظہار کے لئے موذوں الفاظ اور موثر انداز ِبیاں با آسانی مل جاتا ہے۔یہ انکے زبان و بیان کی ودرت کی دین ہے۔جو قارتی کے زوق جمال کی تسکین کا باعث بنتی ہے۔اور خود کرشن چندر کی تحریروں میں تازگی شگفتگی رہنمائی دلکشی اور مزرت پیدا کرتی ہے۔ان کا اسلوب غنائی ہے۔انکے تشبیہ و اسقارات انکے اشارے دکھائے اور انکے ساتھ ساتھ ہندی الفاظ کا استعمال ماحول کی مناسبت جمال و جلال جوش و ولولے کا اظہار اور سبک روئی، انکی کہانیوں کے اثر کو بڑھا دیتے ہیں ۔جزئیات نگاری انکے ضن کے لوازمات میں ضرور شامل ہے۔لیکن جزئیات نگاری جب حد سے تجاوز کر جائے تو اسلوب عیب بن جاتی ہے۔

 کرشن چندر کے افسانوں کے افسانوں کی ایک خوبیان کا طنز یہ اور مزاحیہ انداز بیاں بھی ہے، جس کی پس پردہ فرقہ ورایت اور لسانی و صوبائی جگھڑوں کی طرف نہایت لطیف اور واضع اشارہ کرتے ہیں ۔اُنھوں نے سماج کو ہمیشی سے ہی لعن طعن کا نشانہ بنا رکھا ہے، کرشن چندر پریم چند پر جہدبشہ غم و غصہ اور غمیض وغضب کی کیفیت طاری ہو جاتہ ہے۔تب یہ طنز اور نکھر جاتا ہے انکے طنز پر افسانوں میں”دو فرلانگ لمبی سڑک،، ” زندگی کے موڑ پر ـ،،  ” ان داتا، ، “اردو کا نیا قائدہ،، ” مہا لکشمی کا پُل،،  “اجنتا کے آگے،،  “ہم وحشی ہیں،،  ” ایک گرجا ایک خندق،، ” الٹا درخت،، ” قحط اگائو اور بگوان کی آمد،،  وغیرہ خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں ۔

 کرشن چندر کے اکثر افسانوں میں گہری افسانویت اور علامت پائی جاتی ہے جس کا استعمال وہ اپنے افسانوں میں ایسی چابک دستی سے کرتے ہیں کہ افسانوں میں ابہام کی کیفیت پیدا ہونے کے بجائے افسانے کے حسن اور اس کی رنگینی میں اضافہ ہو جاتا ہے اس کے بعد کے افسانے مثلاً نغمے کی موت، فرنگ چڑیا، شعلہ بے درد وغیرہ میں اشاریت علامت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے انھیں اپنے موضوع پر اتنا عبور حاصل تھا کہ دیکھنے میں غیر مربوط ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک مربوط کہانی کی تخلیق کر دیتے ہیں اور تخلیق میں تفصیلات اور جزیات نگاری کے ذریعہ اپنے افسانوں میں دل چسپی برقرار رکھتے ہیں موضوع کے لئے کرشن چندر کو بھٹکنا نہیں پڑتا تھا وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے اورچھوٹے چھوٹے واقعات کو ذہن میں رکھ کر اپنے افسانوں کا موضوع تیار کر لیتے تھے وہ کسی بھی موضوع کو لے کر افسانوں کو خوبصورتی کے ساتھ جنم دیتے تھے۔

 کرشن چندر نے اپنا بچپن، لڑکپن اور جوانی کا ایک حصہ کشمیر کی سر زمین میں گذارا ہے اس وجہ سے ان کیافسانوں میں منظر نگاری کی بڑی اہمیت ہے وہ کشمیر جہاں قدرت ہمیشہ مہربان رہی ہے اور جسے دنا کی جنت قرار دیا گیا ہے انسان وہاں رہے اور اس کی فطری خوبصورتی سے متاثر نہ ہو یہ نہ ممکن ہے۔ فطرت نے کشمیر کو بے پناہ حسن سے مالا مال کیا ہے کرشن چندر بھی وہاں کی جھیل، ابشار کوہسار، خوبصورت عورتیں، شفق کی سرکی، زعفران کے کھیت وغیرہ سے حد درجہ متاثر ہوئے اور انہوں نے اپنے بیشتر افسانوں میں وہاں کے منظر کو جگہ دی ہے وادی ِ کشمیر کے متعلق ان کی منظر نگاری اردو ادب کی جان ہے کرشن چندر کو منظر نگاری میں مہارت ھاصل ہے اور ان کا مشاہدہ منظر نگاری میں بہت تیز ہے اور ان کی باریک بینی کی وجہ سے مکمل نقشہ سامنے آجاتا ہے منظر نگاری میں ان کا کوئی ہمسر نہیں ہےان کی منظر نگاری کو پڑھ کر دل میں فرحت محسوس ہوتی ہے اور روح میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے اور بے اختیار منہ سے کلمئہ تحسین نکل جاتا ہے ۔

 کرشن چندر کے افسانوں کو پڑھنے سے یہ اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے کہ وہ لوگوں کے دماغوں سے زیادہ ان کے دلوں کو ٹٹولنے اور سمجھنے کے عادی ہیں وہ دنا کے ظلم ستم کے خلاف برسرِ پیکار ہونا چاہتے ہیں انہوں نے اپنے افسانوں مین جملہ انسان دشمنوں کے خلاف بغاوت کا علان کیا ہے ان کے افسانوں میں تکنیک کا انوکھا پن چھپا ہوا ہے اکثر افسانوں میں پلاٹ نہیں ہوتا اس فنی تجزیہ میں وہ کامیاب ہوئے وہ ہمیشہ سوچی سمجھی سکیم کے تحت لکھتے تھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے ان کے بیشتر افسانوں کے پلاٹ ان کا دل نہین بلکہ دماغ تیار کرتا ہے ان کے افسانوں کی خوبی یہ ہے کہ وہ زندگی کے احساس اور وجود کو پلاٹ سے زیادہ اہم تصور کرتے ہیں ۔

 کرشن چندر کے قلم میں وہ طاقت تھی کہ جس طرف بھی چلتی موتیوں کی لڑی پرع دیتی تھی” جرا اور جری،،  میں انہوں نے گائوں کے ماحول کو پیش کیا ہے اور وہ بھی خاص کر وادیِ پونچھ کے گائوں کا جہاںانہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گذارا وہ زندگی بھر ان حسین لمحوں کو نہیں بھول پائے جو انہوں نے اس جگہ گذارے اپنے اس رومانی افسانے میں انہوں نے پونچھ کے سچے محبت کرنے والوں کی ایسی کہانی بیان کی ہے جس کا اختتام خوشی پر اور محبت کی کامیابی پر ہوتا ہے چونکہ کرشن چندر نے اپنا لڑکپن اور جوانی کشمیر جنتِ بینظیر میں گذارا تھا اور وہاں کی فضا کی دلکشی، رنگینی اور رعنائی نے ان کے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑے تھے جو آخری دم تک ان کے فن میں رہ کر ابھرتے ہیں اور ان کی تخلیقات کے حسن کو دوبالہ کرتے ہیں                                                                                                                                                                  
http://www.urdulinks.com/urj/?p=1600
            

اردو فکشن میں سماجی مسائل کی عکاسی (جموں کشمیر کے حوالے سے)

posted Sep 10, 2017, 4:45 PM by PFP Admin   [ updated Sep 10, 2017, 4:48 PM ]

محمد سلیمان حجام، ریسرچ اسکالر پنجابی یونی ورسٹی پٹیالہ

  قدیم زمانے میں ادب کوصرف دل بہلانے اور وقت گزارنے کی چیز سمجھا جاتا تھالیکن آج کے زمانے میں ادب زندگی کا ترجمان ہے یعنی انسانی زندگی کے مسائل اس کا لازمی جُز بن گئے ہیں۔ یعنی ادب برائے ادب کے زمرے سے نکل کر ادب برائے زندگی کے مرحلے سے جڑ گیا۔اس کے پسِ منظر میں مختلف وجوہات کارفرما رہی ہیں۔سائنس کی ترقی سے نئے حالات پیدا ہوئے،زندگی کے مختلف شعبہ جات میں تبدیلیاں رونما ہونے لگیں،نئے نئے چلینج سامنے آئے ۔معاشی حالات بدلے۔ اس طرح سے ادب صرف تفن و طبع کا سامان ہی نہیں ہوتاہے بلکہ زندگی کا ترجمان بھی ہوتا ہے۔حیات و کائنات کے ساتھ ساتھ جب لوگوں کی مالی حالت میں سدھار ہوااور سماج میں تبدیلیاں ہوئیں اور انسان اکثر اوقات روزمرہ کے کاموں میں ہی مصروف رہنے لگاتو طویل داستانیں سننے اور سنانے کا وقت بھی انسان کے پاس نہیں رہاپھر داستانوں کی جگہ ناول وجود میںآگیااور ادباء نے  اپنے آس پاس کے سماج سے موضوعات اخذ کرکے ناول کو زندگی سے قریب تر کرنے کی کوشش کی۔ناول نگار ناول میں عام زندگی کی ترجمانی ہونے لگی اور اصلاحی،اخلاقی مقاصدکی غرض سے سماج میںپھیلے  بُرے رسم و رواج ،کوتاہیوں،خامیوںکے اوپر قلم اٹھاتے ہوئے ان پر روشنی ڈالتا ہے۔مثال کے طور پرمولوی نذیر احمد نے اولاد کی تربیت کے لئے ،پریم چند نے مفلوک الحال لوگوں اور جاگیردارانہ نظام اور عصمت اوربیدی نے عورتوں کے مسائل،منٹو نے جنسی مسائل وغیرہ کو اپنا موضوع بنایا۔پھر وقت نے ایک اور کروٹ بدلی او ر وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ انسان کی معاشی حالت بھی بدلنے پر مجبور ہو گئی۔مشینوں کی ایجاد نے جہاں لوگوں کیلئے ترقی کے مواقع فراہم کئے وہیں اس سے سماجی،سیاسی،معاشرتی اور اخلاقی مسائل بھی پیدا کئے۔ایسے حالات کا اثر اردو ادب پر دیکھنے کو ملتا ہے۔چونکہ ادیب سما ج کا ایک حصّہ اور ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو حساس دل اور طبیعت کا مالک ہوتا ہے وہ ان مسائل کو ضبطِ تحریر میں لاتا ہے ۔بدلتے حالات ونظریات  کے پیش نظر اور مغربی ادب کے زیرِ اثر افسانہ وجود میں آیااور بہت جلد کامیابی سے ہمکنار بھی ہوا۔افسانے کے موضوعات اکثر سماج کے سیاسی،معاشرتی اور سماجی مسائل رہے ہیںجن سے کہ انسان دوچار رہا ہے۔افسانے نے انسانوںکے دکھ درد،زندگی کے زیر و بم سبھی کچھ اپنے اندر سمیٹ لیاہے۔گویا افسانے میں بھی سماجی،سیاسی اور معاشی حالات کی بھر پور عکاسی ہونے لگی۔ناول اور افسانہ دونوں فکشن کے زمرے میں آتے ہیں ۔اس مقالے میں ریاست جموں و کشمیر کے اردو ناول اور افسانہ میں پیش کئے گئے سماجی مسائل(دہشت گردی اور عورتوں کے مسائل کے حوالے سے) کا اجمالی جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

   بلا شبہ مغربی ادب نے عالمی ادب کو کسی نہ کسی طرح متاثر ضرور کیا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہو رہے ادبی تجربات اور مشاہدات سے جموں کشمیر کے ادباء بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔جس عہد میںجموں کشمیر میں اردو فکشن نے آنکھ کھولی اُس وقت ریاست میں ڈوگرہ حکومت کا  شخصی راج تھا۔عوام بھوک، افلاس اور شخصی راج کے ظلم وستم سے تنگ آچکے تھے غرض غلامی اور بیگار کی وجہ سے زندگی اجیرن بن چکی تھی۔ڈوگرہ حکومت کے سخت اصولوں اور لاقانونیت کی وجہ سے سماج میں طرح طرح کے مسائل اُبھر رہے تھے جن سے یہاں کے ادباء بھی بے حد متاثر ہو ئے ۔جس کے خلاف انھوں نے قلمی احتجاج شروع کیا  اور ایسا افسانوی ادب تخلیق کیا جو یہاں کے عوام کے مسائل اور اُمنگوں کی بھر پور ترجمانی کرتا ہے ساتھ ہی ساتھ سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف بھی آواز بلندہونے لگی۔اس سلسلے میں پریم ناتھ پردیسی، پریم ناتھ د راور تیج بہادر بھان کے نام ابتدائی طور پر لئے جا سکتے ہیں۔ان کے عہد میں کشمیر میں شخصی راج (ڈوگرہ حکومت )کے خلاف تحریک آزادی کا آغاز ہوا تھاجس کی سرپرستی شیخ محمد عبداللہ کر رہے تھے۔شروع شروع میں پردیسی ٹیگور کی پیروی کرتے ہوئے بے حد رومانی نثر لکھتے تھے ان کی کہانیوں پر ادب لطیف کا گمان ہوتا تھا ۔لیکن پریم چند کی سماجی حقیقت نگاری ،انگارے کی اشاعت ،استحصالی قوتوں کی بے انصافی اور ریا کاری،ترقی پسند تحریک کے آغاز اور پھر کشمیر کے سیاسی حالات نے پردیسی کو پہلی بار احساس دلایا کہ انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ ضائع کیا ہے ۔وقت کی آہٹ سن کر انھیں اپنی فرض ناشناسی کا اندازہ ہوا جس کا اعتراف وہ خود بھی کرتے ہیں:

’’یہ ایک ایسی تبدیلی تھی جس نے میر ے سامنے نئی راہیں کھول دیں ،بلکہ ہمارے ملک کے سامنے نیا نظریہ رکھا۔مجھے محسوس ہوا کہ اب بھی اگر میںاس نظریہ کا ساتھ نہ دوں تو میری افسانہ نگاری بے کار ہے اور آنے والا مورخ مجھے کن ناموں سے یاد کرے گا۔۔۔۔۔۔مگر عوام کو اپنی کہانیوںسے غلامی ،افلاس اور استحصال کا احساس دلا سکتا ہوں۔‘‘       ۱؎

اسی طرح پریم ناتھ درکے افسانوں میں بھی حقیقت نگاری عیاں ہے ۔بقول  ِاحتشام حسین :

 ’’کشمیر جو بارباران کے افسانوں میں آتا ہے اپنی وہ جنت بدوش عظمتیں لئے ہوئے نہیںآتا ہے جن سے رومانوں کا افسوں جگانے کیلئے فضا تیار ہوتی ہے بلکہ ان میں وہ غم آلود اور نشتر آگیںکسک بھرتا ہے جس سے ہم کشمیر کی حقیقت کے زیادہ قریب ہو جاتے ہیں۔‘‘     ؎؎۲

         پریم ناتھ پردیسی ،پریم ناتھ در اور تیج بہادر بھان ایسے افسانہ نگار تھے جنہوں نے کشمیر کی خوبصورتی کو بالائے طاق رکھ کر کشمیر کے درد  اور یہاں کے اندرونی حالات کے اوپر قلم اٹھایا ۔انھوں نے کشمیر کی افلاس،محرومی، یاس ،استحصال ،ظلم ،عدم تحفظ ،جاگیردارانہ نظام اور شخصی راج کے خلاف لکھنا شروع کیا۔ جب ہم جموںو کشمیر کے حوالے سے اردو فکشن کا مطالعہ کرتے ہیںتو ہمیں اس بات کا علم ہوجاتا ہے کہ جموں کشمیر میں عورت کو ہر عہد میں مصائب اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑا ہے۔کبھی عورت کو قدامت پسندی یا تنگ نظری کی وجہ سے سماج میں دشوار گزار راہوںسے گزرنا پڑا ہے تو کبھی تحریکِ حریت میں بھارتی فو ج اور عسکریت پسندوں کی وجہ سے بھی تکلیفیں جھیلنا پڑی ہیں،کبھی اس کو تنگ نظرئیے کی وجہ سے گھر سے باہر جانے سے،اعلیٰ تعلیم اور ملازمت سے روکا گیا۔جس کی وجہ سے یہ عورت اپنے آپ کو دوسروں پر بوجھ سمجھتی تھی اور اپنے آپ کو بے بس و لاچار اور کمزور سمجھتی تھی اور غلاموں جیسی زندگی بسر کرتی تھی۔پھر تحریکِ حریت  کے دوران بھارتی فوج اور عسکریت پسندوں نے ماں سے بیٹا،بہن سے بھائی اور بیوی سے شوہر چھین لیا۔کسی کی لاش ملی،کسی کی آدھی لاش ملی،کوئی جیل میں سڑھ رہا ہے تو کوئی سِرے سے ہی لا پتہ ہوگیا۔جس کی وجہ سے عورت نفسیاتی طور پر مریض بن گئی۔اس سلسلے میں یہاں کئی افسانے اور ناول دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں عورتوں کے مسائل کی عکاسی بھی کی ہے۔ اس طرح سے یہاں کے ادباء نے اپنی تخلیقات میں عورت کے ساتھ اپنے خیالات اور جذبات کے ذریعے ہمدردی کاا ظہار بھی کیا ہے۔ مثال کے طور پر نعیمہ احمد مہجور نے اپنے ناول ’’دہشت زادی‘‘میں مردوں کی بالا دستی،بھارتی فوج اور عسکریت پسندوں کو نشانہ بناتے ہوئے عورت کی حا لتِ زار کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے کہ ظلم و تشّدد کے اس دور میں ہمیںعورت کے شکست خوردہ مقام سے واقف کرایا ہے ۔اس سلسلے میں ناول کے حرفِ اوّل میں مشہور و معروف نقاد گوپی چند نارنگ یوں رقمطراز ہیں۔

۔۔۔اس میں رسم و رواج میں جکڑی پا بہ زنجیر عورت کا درد بھی ہے اور وادی میں موجودہ سیاسی کشمکش و قومی تاریخ کے قدموں کی چاپ بھی ۔۔۔مجھے یقین ہے کہ اس کتاب کو فقط ایک نیم سوانحی ناول کے طور پر ہی نہیںبلکہ عورت کی پسماندگی کے خلاف ایک پُر سوز احتجاجی دستاویز اور وادی کی انسانیت پسند روحانی میراث’’ریشیت‘‘ کی درد میں ڈوبی فریاد کے طور پر بھی پڑھا جائے گا۔      ؎۳

   ترّنم ریاض تانیثی ادب کی ایک معتبر آواز ہیں۔انھوں نے اپنی تخلیقات میںخواتین کے حقوق کی بحالی ،تانیثی رجحان اور رویوں ،سماج میں ان کا منصب اور انفرادیت کا تعین جیسے موضوعات پر اپنے جذبات و خیالات کا بخوبی اظہار کیا ہے۔ترنم ریاض کے تقریباََ تمام ناولوں اور افسانوں میں عورتوں کے جذبات و احساسات،اس کی محرومیاں ،آہیں ،سسکیاں ،آنسو ،درد و کرب اور گھٹن کے ساتھ ساتھ مردانہ بالادستی کے خلاف بغاوت اور احتجاجی رویہ بھی موجود رہتا ہے۔جس کی واضح مثالیں ہمیں ان کے ناولوں اور افسانوں میں بڑی بے باکی سے ملتی ہیں۔اس سلسلے میںصغیر افراہیم یوں رقمطراز ہیں۔

   انھوں نے پدری سماج میں مردوں کو ہدفِ ملامت بنائے بغیر براہِ راست اُن سماجی قدروں کو تختۂ مشق بنایا ہے جو خواتین کو جکڑبندیوں میں رہنے پر مجبور کرتی ہیں۔           ؎۴

   اسی طرح جان محمد آزاد نے بھی اپنے ناول ’’کشمیر جاگ اُٹھا‘‘ میںمرکزی کردار’مہتاب‘(نسوانی)کے ذریعے عورتوں کی مظلومیت اور محرومیت کی ترجمانی کی ہے۔یہ ناول ڈوگرہ شاہی راج میں عورتوں پر روا رکھے جانے والے مظالم اور جنسی تشّد دکی بھی روئیداد ہے ۔

   ایک اور اہم مسئلہ جواس وقت پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی وباء کی طرح پھیل رہا ہے اور اس میں روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے وہ ہے عصمت دری اور جنسی استحصال۔اس جانب بھی یہاں کے فکشن نگاروں نے اپنی تخلیقات میں واضح اشارے کئے ہیں۔خالد حسین نے اپنے افسانے ’کنوار گندل‘میںبڑی فنکاری سے اس کی عکاسی کی ہے۔افسانے کا ایک کردار حاجی نفس کی آگ میں اندھا ہو کر اپنے چھوٹے بھائی کی بیوہ عورت کو اپنے ہی گھر میں دبوچ لیتا ہے۔جس کا نام گلاں ہوتا ہے وہ بے حرمتی کی آگ میں جلتی رہتی ہے۔اُس کا جسم حاجی کی روز کی خوراک بن جاتا ہے اور گلاں بے بس و لاچارہو کے رہ جاتی ہے۔ اس افسانے ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

   کل سیاہ کالی رات کو تیز آندھی میںجو بجلی گری ،وہ انسانی بجلی ۔۔۔۔حاجی کے روپ میںسیدھی گلاں پر ہی گری تھی جس سے گلاں کا سارا جسم جھلس گیا۔۔۔گلاں جو میاں مِٹھو کی طرح اپنے آپ کو اس گھر کے پنجرے میں محفوظ سمجھتی تھی ،اسے پنجرے میں ہی بِلّی نے دبوچ لیا۔       ؎۵

   اسی طرح عصرِحاضر میںعورتوں اور نوجوان لڑکیوں کی خود کشی میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سماج میں مردوں کی بالادستی،عورتوں پر زیادتی،ظلم و استحصال،جنسی بے راہ روی،پیار محبت کے نام پر دھوکہ ، فریب کاری وغیرہ ہے۔اس جانب شیخ بشیر احمد نے اپنی کہانی’صدمہ‘ میںواضح اشارے کئے ہیں کہ ایک مرد اپنی جنسی ہوس پوری کرنے کے بعد کنارہ کش ہو جاتا ہے لیکن حاملہ دوشیزہ خود کشی کرکے موت کو اپنے گلے لگا لیتی ہے۔اسی طرح کِر ن کاشمیری نے اپنے ناول ’رات اور زلف‘میں منوراما کے نسوانی کردار کے ذریعے محبت کے دلدل میں پھنسی ایک عورت کی بپتا پیش کی ہے وہ محبت کے لئے اپنا سب کچھ چھوڑ کر اپنے عاشق کے ساتھ بھاگ جاتی ہے لیکن اُس کا عاشق اُسے دھوکہ دیتا ہے ،جس کی وجہ سے اُس کی زندگی اجیرن بن جاتی ہے کیونکہ وہ سماج میں اپنا مقام ،عزّت آبرٗو سب کچھ کھو دیتی ہے اُسے حقارت بھری نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔یہاں کے اردو فکشن میںایسی اور بھی بہت ساری مثالیںدیکھنے کو ملتی ہیںجیسے پشکر ناتھ،نور شاہ ،آنند لہروغیرہ نے اپنی اپنی تخلیقات میں پیش کی ہیں۔

   دہشت گردی (Terrorism)ایک ایسا سنگین مسئلہ ہے جو کہ عالمی مسئلہ(Universal Issue) کی صورت اختیار کر چکا ہے ۔اب عالمی سطح پر دہشت گردی جیسے مہلک ترین جرائم سے نمٹنے کے لئے تجاویزاور اقدامات کئے جا رہے ہیں اور دنیائے ادب میں بھی دہشت گردی سے متعلق مضامین اور افسانوی ادب تخلیق کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ دہشت گردی سے اُبھرنے والے مسائل اور نقصانات سے آگاہ ہو جائیںاور اس نحوست سے چھٹکاراپانے میں کامیاب ہو جائیں۔عالمی ادب کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کے اردو ادب /فکشن میں بھی دہشت گردی کے مسائل کی عکاسی کی گئی ہے۔خصوصاََ کشمیری عوام اور کشمیری پنڈتوںکو بیسویں صدی کی آخری تین دہائیوں سے جس پُر آشوب دور کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس سے پنپنے والے مسائل اوربحران کو یہاں کے کئی فکشن نگاروں نے اپنے فکشن کا موضوع بنا کر پیش کیا ہے۔اس سلسلے میں نعیمہ احمد مہجور کا ناول’دہشت زادی ‘ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔انھوں نے اس ناول میں تحریکِ آزادی اور اس سے پیدا ہونے والے بہت سے تاریک گوشوں پرروشنی ڈالی ہے جیسے کہ عسکریت پسند لوگوں کے گھروں میں پناہ لینے کے لئے جاتے ہیںاگر لوگ انھیں پناہ دینے سے انکار کرتے ہیں تو وہ اُن کے عتاب کا شکار ہو جاتے ہیں اور اگر پناہ دیتے بھی ہیں تو پھر ان کو بھارتی فوج کا ظلم و ستم سہنا پڑتا ہے۔اسی طرح عسکریت پسندوں اور ریاستی /بھارتی فوج کے مابین جب تصادم آرائی ہوتی ہے تو مظلوم عوام اور معصوموں کا بھی قتل ِناحق ہوتا ہے اور عوام کو طرح طرح کی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے کریک ڈائون اور تلاشی کاروائیاں ہوتی ہیںجس کی وجہ سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل جاتا ہے۔نعیمہ مہجور نے اس ناول میں تصادم آرائی کے خونیں مناظر کی بھی تصویر کشی کی ہے جیسے ایک بار عسکریت پسندوں نے اسپتال میں پناہ لی اور باہر فوج ان کو تلاش کر رہی تھی اسی دوران گولیاں چلنے کی آواز آئی اور اسپتال میں ہی کراس فائیرنگ شروع ہوئی ۔اسی دوران لیبر روم میں ایک بچے نے بھی جنم لیاجس کا نام طنزیہ کراس فائیر بے بی(Cross Fire Baby) رکھا جاتاہے۔پیش ہے یہ اقتباس:

   ۔۔۔گیٹ کے سامنے والے بنکر سے فوجیوں نے مشین گن سے اندھادھند گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جو او پی ڈی(O.P.D) کے سامنے مریضوں اور تیمار داروں کو لگ رہی ہیں اور وہ ایک ایک کرکے زمین پر گرتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔کراس فائرنگ کی زد میںمریض ہیںیا اُن کے تیماردار جو گِر گِر کر تڑپ رہے ہیں ۔۔۔درجنوں خون میں لت پت ہیں۔۔۔فوجی بے قابو ہو کر رجسٹرار کے دفتر کو تہس نہس کرنے لگے اور اب اسے بارود سے اڑانے کی تیاری میں ہیں کہ ہسپتال کا عملہ ان کو روکنے کے جتن کر رہا ہے۔۔۔۔دفتر خالی ہے اور عسکریت پسند کب کے یہاں سے جا چکے ہیں۔قتل و غارت گری کا ایک اور صفحہ رقم ہو گیا ہے،کشمیر میں اب اتنے واقعات ہو رہے ہیںکہ پچھلا یاد ہی نہیں رہتا ،ہر واقعے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ یہ پہلے سے بھی بدتر تھا۔            ؎۶

   اسی طرح نور شاہ نے بھی اپنے کئی افسانوں میں دہشت گردی اور اس سے متعلقات کو موضوع بنا کر اس سے جنم لینے والے مسائل

کو ابھارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ملی ٹینسی(Miltancy)کے دور میں کشمیر اور کشمیریوں کے لئے بہت سے مسائل پیدا ہوگئے اور کشمیر اور یہاں کی عوام معاشی،معاشرتی ،سیاسی اور سماجی سطح پر پسماندگی کا شکار ہو گئے۔احتجاجی ریلیاں نکالی جاتی ہیں،تعلیمی نظام درہم برہم ہو گیا ،نوجوان جن میں بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی شامل ہیں،بے راہ روی کا شکار ہو کر غلط راستہ اختیار کرتے ہیں۔دہشت گردانہ ماحول کی نظر نہ جانے کتنے معصوم لوگ ہو چکے ہیں ۔اُن کے عزیز و اقرباء اُن کے غم میں تڑپتے ہیں۔نورشاہ اس سلسلے میں تحریر کرتے ہیں۔

   ’’۔۔۔۔اس دوران یہ جنت دھیرے دھیرے آہستہ آہستہ رُک رُک کر ایک نیا روپ اختیار کر گئی۔۔جہنم کا روپ۔۔۔آگ شعلے قتل و غارت ،آبرو ریزی، نا انصافی۔۔۔اور پھر ایک عجیب سی بات ہوئی۔لگاتار بہت سے نو جوان لا پتہ ہو گئے۔بسیار تلاش کے بعد ان کے بارے میں کوئی جانکاری نہ ملی۔پھر ایک ہنگامہ ہوا،لوگ متحرک ہو گئے اور حراستی ہلاکتوں کے خلاف سڑکوں پر آگئے،تلاش شروع ہوئی۔کئی بے نام قبروں کی نشاندہی کی گئی اور کئی مسخ شدہ بے نام لاشیںان قبروں سے بر آمد کی گئیں     ؎۷

   دہشت گردی سے ہی ایک اور اہم مسئلہ جڑا ہوا ہے،وہ ہے بھارت اور پاکستان کے سرحدی علاقوں کے لوگوں کی خوف زدہ زندگی کا مسئلہ جس کی عکاسی خاص طور پرآنند لہر اور خالد حسین نے اپنے افسانوی ادب میں کی ہے۔سرحد کامسئلہ ہمارے ملک کاایک اہم اور بہت ہی حساس مسئلہ ہے جس سے نہ صرف سرحد پر رہنے والے ہی دوچار ہیں بلکہ سرکار،سیاسی رہنما، سرحد کاحفاظتی عملہ اور پورے ملک کی عوام سرحد پر رونما ہونے والے واقعات و حادثات سے بالواسطہ یا بِلا واسطہ متاثر ہوتے ہیں۔ سرحد کے آس پاس والے علاقوں میںجو لوگ رہتے ہیں اُن کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ وہاں ہر روز گولہ باری،کراس فائرنگ،جوابی کاروائیاںہوتی رہتی ہیں۔پھر چاہے وہ ہندوستان کے بارڈر سیکورٹی فورس(BSF) کی طرف سے ہو یا پاکستانی رینجرس (Rangers)کی طرف سے دونوں صورتوں میں سپاہیوں کے ساتھ ساتھ زیادہ تر عام لوگ ہی مارے جاتے ہیں،اُن کے گھر بار،مال مویشی زندگی کے ساتھ ساتھ اسبابِ زندگی بھی کراس فائرنگ کی نظر خاک کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔آنند لہر نے اپنے افسانوی مجموعہ’سرحد کے اُس پار‘ اور ناول ’سرحدوں کے بیچ‘ میں ہند و پاک کے درمیان سرحدی علاقوں کے باسیوں کے مشکلات اور دُکھ درد کو بڑے خوب صورت انداز میں بیان کیا ہے۔آنند لہر کے مطابق سرحدیں انسانی اقدار کو پامال کرتی ہیں۔موصوف نے ایک ناول’ مجھ سے کہا ہوتا‘ عراق کے جنگ کے پسِ منظر میں بھی لکھا ہے۔اس میں انھوں نے جنگ کی تباہ کاریوں اور اس کے بُرے اثرات کے بارے میں انسان کو باور کیا ہے۔اس طرح سے ان کی اکثر تخلیقات میں کشمیری عوام کی کشمکش ،دہشت گردی سے پیدا شدہ مسائل ،سماجی بدحالی کی عکاسی ملتی ہے آنند لہر اپنے افسانے’ سرحد کے اُس پار‘میں سرحد کے سخت حفاظتی عمل کی عکاسی یوں کرتے ہیں۔

   ’’اچھی طرح پہرہ دیتے رہو۔چڑیا بھی ادھر سے اُدھر نہ جانے پائے!کمانڈر نے زور دے کر کہا ’’چڑیا تو کیا چیز ہے ،چیونٹی بھی ادھر سے اُدھر نہ جانے دیں گے حضور۔‘‘          ؎۸

خالد حسین کے افسانوی مجموعے ’ستی سر کا سورج‘ کے پیشِ لفظ میںڈاکٹر قدوس جاوید یوں رقمطراز ہیں:

   ۔۔۔۔ ان افسانوں میںخالد حسین نے خصوصیت کے ساتھ اپنی زمین ستی سر(جموں و کشمیر)پر چھائی ہوئی نفرت،دہشت،کٹر پن،تنگ نظری اور مکر و  فریب کی تاریکیوں کی مختلف زاویوں سے تصویر کشی ہی نہیں کی ہے بلکہ ایک نئے سورج کے طلوع ہونے کا خواب بھی دیکھا ہے ۔تاکہ ستی سر میںپھیلی ہوئی تاریکی کا خاتمہ ہو سکے اور اس زمین کے باسیوں کو  عذاب کے دنوں اور وحشت کی راتوں سے نجات مل سکے۔‘‘   ؎۹

   اسی طرح سے کشمیری لال ذاکر نے بھی اپنے ناول’لال چوک ‘میںدہشت گردانہ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دہشت گرد واقعات یا حملوں میں بیرونِ ریاست کام کرنے والے یا غیر ملکی سیاح اور کشمیری عوام بھی بلی چڑھتے ہیں۔

   ایک اوراہم مسئلہ بھی اسی دہشت گردی سے منصوب کیا جاتا ہے اور وہ ہے کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی ۔جب کشمیر میں تحریکِ حریت کا آغاز ہوا توکشمیری پنڈتوں کی ایک بڑی کثیر تعداد نے وہاں سے نقل مکانی کی۔ پھر چاہے وہ نے اپنی مرضی سے یا عسکریت پسندوں کے ڈر سے یا بھارتی فوج کے ظلم و جبرسے اپنے آبائی وطن کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے لیکن اس کا براہِ راست تعلق کشمیر کے دہشت گردانہ ماحول سے ہے۔کشمیری پنڈتوں کی نقل مکانی کے بعد ان کی حالت نا گفتہ بہہ تھی ،ان کی اس کسمپرسی کی حالت کو بھی یہاں کے فکشن نگاروں  نے موضوع بنایا۔اس سلسلے میں دیپک کنول،دیپک بُدکی اورویریندر پٹواری پیش پیش ہیں۔ منظورہ اختر نے بھی اس قبیل کے کچھ افسانے تحریر کئے ہیں۔۱۹۸۹؁ء کے بعدکشمیر کے حالات بدل گئے۔جنت کی اس وادی میں ہر جگہ گولیوں اور دھماکوں کی گن گرج سنائی دینے لگی ۔ہر طرف چیخ و پکار،افراتفری،تباہی اور بربادی کا سلسلہ جاری رہا۔انسانی خون پانی کی طرح بہنے لگا ،ذہن نے سوچنا چھوڑ دیا،لوگ بے گھر اور بے وطن ہوگئے۔اس دور کی عکاسی یہاں کے فکشن نگاروں کی تخلیقات میں جابجا نظر آتی ہے۔اس سلسلے میں دیپک بدکی اپنے مضمون ’’جموں کشمیر میں اردو افسانہ‘‘ میں لکھتے ہیں۔

   ’’کشمیر میں ۱۹۸۹؁ء کے بعد جو واقعات رونما ہوئے اس نے کشمیریوں کی نفسیات پر گہرے گھائو چھوڑ دئے ادھر کشمیر میں رہنے والوں کی نفسیاتی کشمکش اور محرومی پر نور شاہ،عمر مجید،زاہد مختار اور نگہت نظر نے فکر انگیز افسانے لکھے اورادھر مہاجروں کی دربدری اور بے گھری پر وریندر پٹواری ،دیپک کنول اور راقم التحریر(بدکی)نے کئی افسانے رقم کئے جو ان کے افسانوی مجموعوں افق،  برف کی آگ او ر  چنارکے پنجے میں بالترتیب شامل ہیں‘‘      ؎۱۰

    الغرض موضوع کے لحاظ سے جموں و کشمیر میں اردو فکشن تین واضح اور الگ الگ نقطٔہ نظر کا حامل نظر آتا ہے کچھ فکشن نگار کشمیر کی سیاسی ناپائداری،نا انصافی،رشوت خوری ،بے روز گاری ،دہشت گردی ،کرفیو،ہڑتالوں ،پولیس اور فوجیوں کے ہاتھوں ڈھائے گئے مظالم،عصمت ریزی، لوٹ مارجیسے موضوعات پر لکھ رہے ہیں۔ان میں عمر مجید،نور شاہ،شبنم قیوم،ترنم ریاض،منظورہ اختر،زاہد مختار،نکہت نظر،وحشی سعید ساحل،راجہ نذر بونیاری وغیرہ شامل ہیں۔آنند لہر اور خالد حسین نے سرحد کے قریب رہنے والے باشندوں کی خوفزدہ زندگی اور آئے روز کراس فائیرنگ کا شکار ہونے والوں کی نفسیاتی کشمکش اور ان کے مسائل کو موضوع بنایا ۔جب کہ ویریندر پٹواری ،دیپک کنول ،دیپک بدکی وغیرہ نے کشمیری پنڈتوں کی دربدری اور بے گھری پر افسانے تحریر کئے ہیںاور سوال اٹھایا کہ ان کے لئے آبائی وطن میں رہنا مشکل کیوں ہوا تھا۔ اس طرح سے جموں کشمیر کے فکشن نگاروں نے اردوکے افسانوی ادب میں عورتوں کے مسائل،دہشت گردی،کشمیر کے پیچیدہ حالات،بھوک ،افلاس وغیرہ کو موضوع بناکر بہت سے سماجی مسائل کی عکاسی کی ہے۔اُن کی تخلیقات میں عام انسانوں کا درد و کرب جھلکتا ہے اور وہ ریاستی عوام سے متعلقہ ہر چھوٹے بڑے مسئلے کو اُجاگر کرتے رہتے ہیں۔ جس سے عوام میں ایک قسم کی بیداری بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ ہمارے سماج کے کس حصّے ،کس شعبے میںکون سی خامی پائی جاتی ہے اور ہمیں کون سے تدارک کرنے چاہئے جن سے ان مسائل کا ازالہ ممکن ہو سکتا ہے۔

Source:  Urdu research journal , India

http://www.urdulinks.com/urj/?p=1553


بچوں کی تعلیم و تربیت

posted Sep 10, 2017, 4:31 PM by PFP Admin

علامہ محمد اقبال


علامہ محمد اقبال کا یہ مضمون پہلی بار رسالہ مخزن  جنوری ۱۹۰۲ء میں اور دوسری بار اسی رسالے میں اکتوبر ۱۹۱۷ء کو شائع ہوا۔ ازاں بعد سیّد عبدالواحد معینی نے مقالاتِ اقبال (مئی ۱۹۶۳ء) میں شامل اشاعت کیا۔(ادارہ)
تمام قومی عروج کی جڑ بچوں کی تعلیم ہے۔ اگر طریق تعلیم علمی اصولوں پر مبنی ہو تو تھوڑے ہی عرصے میں تمام تمدنی شکایات کافور ہوجائیں اور دُنیوی زندگی ایک ایسا دل فریب نظّارہ معلوم ہو کہ اُس کے ظاہری حُسن کو مطعون کرنے والے فلسفی بھی اُس کی خوبیوں کے ثناخواں بن جائیں۔
انسان کا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ دنیا کے لیے اس کا وجود زینت کا باعث ہو اور جیساکہ ایک یونانی شاعر کہتا ہے: اس کے ہرفعل میں ایک قسم کی روشنی ہو، جس کی کرنیں اوروں پر پڑکے ان کو دیانت داری اور صلح کاری کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا سبق دیں۔ اس کی ہمدردی کا دائرہ [روز بروز] وسیع ہونا چاہیے، تاکہ اس کے قلب میں وہ وسعت پیدا ہو، جو روح کے آئینے سے تعصبات اور توہمات کے زنگ کو دُور کرکے اُسے مجلّاو مصفّا کردیتی ہے۔
صدہا انسان ایسے ہیں، جو دنیا میں زندگی بسر کرتے ہیں، مگر اپنے اخلاقی تعلقات سے محض جاہل ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی بہائم [جانوروں] کی زندگی ہے، کیوں کہ ان کا ہرفعل خودغرضی اور بے جا خودداری کے اصولوں پر مبنی ہوتا ہے۔ ان کے تاثرات کا دائرہ زیادہ سے زیادہ اپنے خاندان کے افراد تک محدود ہوتا ہے اور وہ اس مبارک تعلق سے غافل ہوتے ہیں جو بحیثیت انسان ہونے کے، ان کو باقی افراد بنی نوع سے ہے۔ حقیقی انسانیت یہ ہے کہ انسان کو اپنے فرائض سے پوری پوری آگاہی ہو اور وہ اپنے آپ کو اس عظیم الشان درخت کی ایک شاخ محسوس کرے، جس کی جڑ تو زمین میں ہے مگر اُس کی شاخیں آسمان کے دامن کو چھوتی ہیں۔ اس قسم کا کامل انسان بننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہرانسانی بچے کی تربیت میں یہ غرض ملحوظ رکھی جائے، کیوں کہ یہ کمال، اخلاقی تعلیم و تربیت ہی کی وساطت سے حاصل ہوسکتا ہے۔ جو لوگ بچوں کی تعلیم و تربیت کے صحیح اور علمی اصول کو مدنظر نہیں رکھتے، وہ اپنی نادانی سے سوسائٹی کے حقوق پر ایک ظالمانہ دست درازی کرتے ہیں، جس کا نتیجہ تمام افراد سوسائٹی کے لیے انتہا درجے کا مضر ہوتا ہے۔
اس مضمون کی تحریر سے ہماری یہ غرض ہے کہ علمی اصولوں کی رُو سے بچپن کا مطالعہ کر کے یہ معلوم کریں کہ بچوں میں کون کون سے قوا کا ظہور پہلے ہوتا ہے اور ان کی تعلیم و تربیت کس طرح ہونی چاہیے۔ ہم ایک ایسا طریق پیش کرنا چاہتے ہیں جو محض خیالی ہی نہیں ہے، بلکہ ایک قابلِ عمل طریق ہے، جس سے بچوں کی تعلیم کے لیے ایسے آسان اور صریح اصول ہاتھ آجاتے ہیں، جن کو معمولی سمجھ کا آدمی سمجھ سکتا ہے اور ان کے نتائج سے مستفید ہوسکتا ہے۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ ناظرین ان سے فائدہ اُٹھائیں گے اور اپنے بچوں کی ابتدائی تعلیم میں ان اصولوں کو ملحوظِ خاطر رکھیں گے کیوں کہ  ؎
خشتِ اوّل چوں نہد معمار کج
تا ثّریا می رود دیوار کج
(اگر معمار، پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھتا ہے تو دیوار، آسمان کی وسعتوں تک ٹیڑھی ہی چلی جائے گی)
سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ کون سے اُمور ہیں جو عالمِ طفلی کے ساتھ مختص ہیں، تاکہ بچوں کی تعلیم و تربیت میں اُن کو ملحوظ رکھا جائے اور ان سے باحسن وجوہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی جائے:
۱- اس ضمن میں پہلی بات جو ہرمطالعہ کرنے والے کو صاف دکھائی دیتی ہے، یہ ہے کہ بچوں میں ایک قسم کی اضطراری حرکت کا میلان ہوتا ہے، جو نہ صرف انسان کے ساتھ ہی خاص ہے بلکہ ہر حیوان میں پائی جاتی ہے۔ دیکھیے بلّی کا بچہ کیا مزے سے خودبخود کھیلتا ہے۔ چھوٹے کتّے کی زنجیر کھول دو تو اضطراری حرکت کی خوشی میں پھولے نہیں سماتا۔
..... انیسویں صدی کے مشہور حکما..... اس اضطراری جوش کو بچے کی نشوونما کے لیے بڑا ضروری جزو خیال کرتے ہیں، کیوں کہ اس حالت ِ اضطرار میں اُس کے اعضا حرکت میں آنے کے لیے کسی بیرونی محرک کے محتاج نہیں ہوتے۔ بچوں میں اعصابی قوت کی ایک زائد مقدار ہوتی ہے، جو کسی نہ کسی راہ سے صرف ہوکر اُن کی خوشی کا موجب ٹھیرتی ہے۔ اگرچہ بسااوقات ان کے ماں باپ کو اس سے تکلیف بھی اُٹھانی پڑتی ہے۔ بعض دفعہ اعصابی قوت کی یہ زائد مقدار رونے چلّانے میں صرف ہوجاتی ہے، بعض دفعہ بے تحاشا ہنسنے اور کھیلنے کود میں۔ پس، جو لوگ بچوں کے رونے سے تنگ آتے ہیں، اُن کو یاد رہے کہ یہ بھی اُن کے جسمانی اور روحانی نمو [ترقی یا بڑھوتری] کے لیے ایک ضروری جزو ہے۔ اس کے علاوہ اس قوت کے صرف ہونے کی اور بھی راہیں ہیں۔ مِن جملہ ان کے ایک یہ ہے کہ بچے کے حواس خود بخود حرکت میں آتے ہیں، جس کی وجہ سے اسے خارجی اشیا کا رفتہ رفتہ علم ہوتا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بچہ ایک متعلّم ہستی نہیں بلکہ سراپا ایک متحرک ہستی ہے، جس کی ہرطفلانہ حرکت سے کوئی نہ کوئی تعلیمی فائدہ اُٹھانا چاہیے، مثلاً اینٹوں کے گھر بنانا ، لڑی میں منکے پرونا، گانا وغیرہ۔ وہ زائد اعصابی قوت جو رونے اور بے جا شور کرنے میں صرف ہوتی ہے، ایک باقاعدہ شور یا راگ میں آسانی سے منتقل ہوسکتی ہے اور وہ قوت جو ضرر رساں اشیا کے چھونے اور دیگر چیزوں کو اِدھر اُدھر پھینکنے میں صرف ہوتی ہے، اینٹوں کے گھر بنانے میں سہولت سے صرف ہوسکتی ہے۔
۲- بچپن کا ایک اور خاصّہ یہ ہے کہ اس عمر میں کسی شے پر مسلسل توجہ نہیں ہوسکتی۔ جس طرح اُس کے جسمانی قوا کو ایک جگہ قرار نہیں ہوسکتا، اسی طرح اُس کے قواے عقلیہ بھی ایک نکتے پر عرصے کے لیے قرار پذیر نہیں رہ سکتے۔ جس طرح ہاتھ نچلے [آرام سے] نہیں رہ سکتے، اسی طرح اُس کی توجہ میں بھی ایک طرح کی بے قراری ہے، جو اُسے ایک مقام پر جمنے نہیں دیتی۔ لہٰذا، ہرطریقِ تعلیم میں اس بات کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ سبق طویل نہ ہوں اور چھوٹے چھوٹے حصوں پر منقسم ہوں، تاکہ پڑھتے وقت بچوں کے مختلف قوا کو تحریک ہو۔ اس کے علاوہ یہ بھی لازم ہے کہ ہرسبق میں ایک خاص مشترک بات ہو، تاکہ ایک خاص مقام پر توجہ لگانے کی عادت بھی ترقی کرتی جائے۔
۳- بچوں کو اشیا کے غور سے دیکھنے اور بالخصوص ان کے چھونے میں لطف آتا ہے۔ تین مہینے کی عمر کا بچہ ہو اور اُس کی توجہ روشنی کی طرف منتقل ہوجائے تو ہاتھ پھیلاتا ہے اور شمع کے شعلے کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ نظر کے فعل سے اُس کی تسلی نہیں ہوتی۔ حسِ لامسہ [چھونے کی حِس] سے بھی مدد طلب کرتا ہے، کیوں کہ اُسے قدرتاً اشیا خارجی کے چھونے میں مزا آتا ہے۔ یہ بات توہرشخص کے تجربے میں آئی ہوگی کہ جب بچے کی نظر دیوار کی کسی تصویر پر جاپڑے تو بے اختیار چلّانے لگتا ہے اور چاہتا ہے کہ تصویر اُتار کر اُس کے ہاتھوں میں دے دی جائے۔ چلّانے سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹے میاں اب چپ ہونے میں نہیں آئیں گے، مگر جب مطلوبہ شے سامنے رکھ دی جائے تو چپ ہو جانا، تو ایک طرف بعض اوقات آپ کی ہنسی بھی نکل جاتی ہے۔ پس، جس شے کے متعلق سبق دو، اس کو بچے کے سامنے رکھو اور جب سبق ختم ہوجائے تو شے مذکور اُس کے ہاتھ میں دے دو۔ مشاہدے سے حسِ بصر [دیکھنے کی صلاحیت] کی تربیت ہوتی ہے۔ چھونے سے قوتِ لمس معتدبہ فروغ پاتی ہے۔ گفتگو اور راگ وغیرہ سے قوتِ سامعہ [سننے کی صلاحیت] ترقی کرتی ہے۔ اس طرح لَمس اور بصر کے متحدہ استعمال سے بچے کو صورتِ شے کا ادراک ہوتا جائے گا۔
۴- بچے کی توجہ صورتِ شے سے زیادہ رنگِ شے کی طرف لگتی ہے۔ جن اشیا کا رنگ شوخ ہو، اُس کا دھیان زیادہ تر اُنھی کی طرف رہتا ہے۔ کسی اعلیٰ درجے کے مصوّر کی بنائی ہوئی تصویر اُس کے سامنے رکھ دو۔ اگر اُس کا رنگ شوخ اور چمکیلا نہیں تو اُسے اس کی پروا بھی نہیں ہوگی۔ برخلاف اس کے اپنی چھوٹی سی کتاب کی رنگین تصویروں پر جان دیتا ہے۔ بول چال میں ملاحظہ کیجیے: لفظ سرخ ، نیلا وغیرہ تو پہلے سیکھ جاتا ہے اور لفظ مربع، تکون وغیرہ کہیں بعد میں جاکر۔ اس سے یہ اصول قائم ہوا کہ بچے کے ابتدائی سبق رنگین اشیا کے متعلق ہونے چاہییں۔
۵- بچے میں بڑوں کی مدد کرنے کا مادّہ خصوصیت سے زیادہ ہوتا ہے۔ ماں ہنستی ہے تو خود بھی بے اختیار ہنس پڑتا ہے۔ باپ کوئی لفظ بولے تو اُس کی آواز کی نقل اُتارے بغیر نہیں رہتا۔ ذرا بڑا ہوجاتا ہے اور کچھ باتیں بھی سیکھ جاتا ہے، تو اپنے ہم جولیوں کو کہتا ہے: ’’آئو بھئی، ہم مولوی بنتے ہیں، تم شاگرد بنو‘‘۔ کبھی بازار کے دکان داروں کی طرح سودا سلف بیچتا ہے۔ کبھی پھر پھر کر اُونچی آواز دیتا ہے کہ: ’’چلے آئو! انار سستے لگا دیے‘‘۔ اس وقت میں بڑا ضروری ہے کہ استاد اپنی مثال بچے کے سامنے پیش کرے، تاکہ اُسے اُس کے ہرفعل کی نقل کرنے کی تحریک ہو۔
۶- قوتِ متخیلہ یا واہمہ بھی بچوں میں بڑی نمایاں ہوتی ہے۔ شام ہوئی اور لگا سِتانے اپنی ماں کو: ’’اماں جان! کئی کہانی تو کہہ دو‘‘۔ ماں چڑیا یا کوّے کی کہانی سناتی ہے تو خوشی کے مارے لوٹ جاتا ہے۔ ذرا بڑا ہوا، اور پڑھنا سیکھ گیا تو ناولوں اور افسانوں کا شوق پیدا ہوتا ہے۔ استاد کو چاہیے کہ قوتِ واہمہ کی نمو [اَن دیکھی چیزوں کو تصور میں لانے کے اضافے] کی طرف بالخصوص خیا ل رکھے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ قوت بے قاعدہ طور پر بڑھ جائے اور اس سے قواے عقلیہ کی ترقی میں نقص پیدا ہو۔ بعض حکما کی راے ہے کہ اس قوت کی تربیت کی اتنی ضرورت نہیں، جس قدر کہ اُسے مناسب حدود کے اندر رکھنے کی ہے۔ بچے کی اس خصوصیت سے بے انتہا تعلیمی فائدہ ہوسکتا ہے۔ اکثر مکتبوں میں لڑکے کاغذ کی کشتیاں دن رات بنایا کرتے ہیں۔ قوتِ واہمہ کے لیے یہ اچھی مشق ہے۔
۷- بچوں میں ہمدردی کی علامات بھی ظاہر ہوتی ہیں، جن سے بچے کی اخلاقی تعلیم میں ایک نمایاں فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔ کسی کو ہنستا دیکھے تو خود بھی ہنستا ہے۔ ماں باپ غمگین نظر آئیں تو خود بھی ویسی ہی صورت بنا لیتا ہے۔ تجربے اور مشق سے یہ جبلّی قوت بڑھتی جاتی ہے۔ ابتدا میں اوروں کے غم سے متاثر ہوتا معلوم ہوتا ہے۔ اُستاد کو چاہیے کہ اُسے ہمدردی کے متعلق عمدہ عمدہ کہانیاں سنائے اور یاد کرائے۔ جس حیوان کے متعلق اسے سبق دینا ہو، اُس کے ساتھ اچھا سلوک کرے، تاکہ بچے کے لیے ایک عمدہ مثال تقلید کرنے کے لیے قائم ہوجائے۔
۸- الفاظ یاد رکھنے کے لیے بچے کا حافظہ حیرت ناک ہے۔ اپنی مادری زبان کی پیچیدگیاں کس آسانی سے سیکھ جاتا ہے اور یاد کرلیتا ہے۔ معلّم کو لازم ہے کہ اپنے شاگردوں کو عمدہ عمدہ اشعار اور نظمیں یاد کرائے اور پڑھے ہوئے سبقوں کے مضامین کی طرف بار بار اشارہ کرے۔
۹- اس عمر میں قوتِ متمیزہ [تمیز اور فرق کرنے کی صلاحیت] کمزور ہوتی ہے۔ اشیا   کے باریک باریک فرق تو معلوم نہیں کرسکتا ، ہاں بڑے ظاہر اور نمایاں اختلافات، مثلاً: اختلافاتِ صُورِ اشیا [مختلف چیزوں کی صورت میں فرق] معلوم کرلیتا ہے۔ لہٰذا ،ابتدا میں ظاہر اختلافات کی طرف اُسے توجہ دلانی چاہیے، مثلاً: دو چیزیں ایک گیند اور ایک پہلودار شے اس کے سامنے رکھ دو اور دونوں کے اختلافات مندرجہ ذیل طور سے بیان کرو:
٭… گیند    پہلودار شے
٭…  ایک ہی سطح ہے    بہت سی سطحیں ہیں
٭…  کوئی گوشہ نہیں ہے    بہت سے گوشے ہیں
٭…  کوئی کنارا نہیں    بہت سے کنارے ہیں
ان نمایاں اور ظاہری اختلافات کا علم دے چکنے کے بعد ، کسی اور شکل کی شے پیش کرو اور علیحدہ علیحدہ گیند اور پہلودار شے سے اس کا مقابلہ کرکے باریک باریک اختلافات واضح کرو۔
۱۰- قواے عقلیہ، مثلاً تصدیق اور استدلال کا کمزور ہونا۔ بچے سے ایسی فہمید [سمجھ]کی توقع نہ رکھو، جو ابھی تجربے اور علم سے بڑھنی ہے۔ ان قوا کے مدارج ترقی کا لحاظ استاد کے لیے نہایت ضروری ہے۔ دو عام اشیا اُس کے سامنے رکھو اور اُن کے بڑے بڑے اختلافات بیان کرو۔ اسی طرح مقابلہ کرتے کرتے تصدیق پیدا کرو۔ مگر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تصدیق بغیر تصورات کے محال ہے، کیوں کہ یہ اصل میں دو تصوّرات کے مقابلہ کرنے سے پیدا ہوتی ہے، جو خود مختلف مدرکات کا مقابلہ کرنے سے پیدا ہوتے ہیں، مثلاً: بہت سے افرادِ نوعِ انسان کا مقابلہ کرنے سے ان میں بعض مشترک اوصاف معلوم ہوتے ہیں، جن کے اشتراک کی وجہ سے ہم ان سب افراد کو ایک مشترک اور [سب کے لیے مناسب] نام دے دیتے ہیں، جو ہر فرد پر صادق آتا ہو۔ پس، معلوم ہوا کہ بچے سے ایسے تصوّرات کے علم کی توقع نہیں رکھنی چاہیے، جس کے ضمنی مدرکات [ذیلی]کا علم ہی اُس کو نہیں ہے۔ ایک برس کے بچے کو کیا علم کہ ’حُب ِ وطن‘ کس جانور کا نام ہے؟ ہمارے بعض معلم، بچے کے ہاتھوں میں ایسی ابتدائی کتابیں رکھ دیتے ہیں، جن کا پہلا باب،   مثلاً: ’خدا کی صفات‘ سے شروع ہوتا ہے۔ مگر انھیں یہ معلوم نہیں کہ خدا ایک ایسا مجرد تصور ہے، جو قواے عقلیہ کی حدِکمال پر پہنچنے اور بہت سا علم حاصل کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے اور صفاتِ شے کا اُس شے سے علیحدہ تصور کرنا ایک ایسا فعل ہے، جو بچے سے کسی صورت میں ممکن ہی نہیں ہے۔ لہٰذا، اس قسم کا علم دینا ممکن ہے کہ بعض وجوہ سے اچھا ہو،مگر علمی اصولوں کی رُو سے بچے کے حافظے پر ایک بے جا اور غیرمفید بوجھ ڈالنے سے زیادہ نہیں ہے۔
۱۱- آخری خاصّہ بچے کا یہ ہے کہ اخلاقی محرکات سے یا تو بچہ متاثر ہی نہیں ہوتا، یا اگر ہوتا ہے تو نہایت اقل [تھوڑے یا معمولی] درجے پر۔ کیوں کہ اس قسم کی تحریکوں سے متاثر ہونا اور اس اثر کو عملی زندگی کے دائرے میں ظاہر کرنا، ایک ایسا امر ہے کہ جو اعلیٰ درجے کی تعلیم و تربیت کا نتیجہ ہے۔ معلّموں کا فرض ہے کہ ابتدا سے ہی بچے میں اخلاقی تحریکوں سے متاثر ہونے کی قابلیت پیدا کرنے کی کوشش کریں، مثلاً: شروع سے ہی اُن کو ہمدردی کرنا سکھائیں اور نیز اس امر کی طرف پوری توجہ دیتے رہیں کہ بچہ اپنے سبق کے متعلق ضروری ترتیب کا لحاظ رکھے، کیوں کہ امن اور   صلح کاری کی عادت انھی چھوٹی چھوٹی باتوں سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ نفسِ ناطقہ قوا کا ایک مجموعہ نہیں ہے، بلکہ یہ اپنی ذات میں ایک واحد غیرمنقسم شے ہے اور اس کی ہر ایک قوت کا نشوونما ہر دوسری قوت کے نشوونما پر منحصر ہے۔ جس طرح جسمانی اعضا تناسب کے اصولوں کے مطابق بڑھتے ہیں، اسی طرح نفسِ ناطقہ کی قوا کا نشوونما بھی انھی اصولوں کے تحت ہے۔ لہٰذا، طریق تعلیم کامل وہی ہوگا، جو نفسِ ناطقہ کے تمام قوا کے لیے یکساں ورزش کا سامان مہیا کرے۔ ادراک، تخیل، تاثر اور مشیت، غرض یہ کہ نفسِ ناطقہ کی ہرقوت تحریک میں آنی چاہیے، کیوں کہ کامل طریقِ تعلیم کا منشا یہ ہے کہ نفسِ ناطقہ کی پوشیدہ قوتیں کمال پذیر ہوں، نہ یہ کہ بہت سی علمی باتیں دماغ میں جمع ہوجائیں۔
مندرجہ بالا سطور سے واضح ہوگیا ہوگا کہ ایک عمدہ اور مضبوط تعلیمی بنیاد رکھنے کے لیے بچے کے نشوونما کا مطالعہ کہاں تک ضروری ہے۔
معلّم حقیقت میں قوم کے محافظ ہیں، کیوں کہ آیندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انھی کی قدرت میں ہے۔ سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور سب کارگزاریوں سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلّموں کی کارگزاری ہے۔ اگرچہ بدقسمتی سے اس ملک میں اس مبارک پیشے کی وہ قدر نہیں جو قدر ہونی چاہیے۔ معلّم کا فرض تمام فرضوں سے زیادہ مشکل اور اہم ہے ،کیوں کہ تمام قسم کی اخلاقی، تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اسی کے ہاتھ میں ہے، اور تمام تر    ملکی ترقی کا سرچشمہ اسی کی محنت ہے۔ پس، تعلیم پیشہ اصحاب کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پیشے کے تقدس اور بزرگی کے لحاظ سے اپنے طریق تعلیم کو اعلیٰ درجے کے علمی اصولوں پر قائم کریں، جس کا نتیجہ یقینا یہ ہوگا کہ اُن کے دم قدم کی بدولت علم کا ایک سچا عشق پیدا ہوجائے گا، جس کی گرمی میں وہ تمدنی اور سیاسی سرسبزی [سیاسی صحت مندی] مخفی ہے جس سے قومیں معراجِ کمال تک پہنچ سکتی ہیں۔
 http://tarjumanulquran.org/site/publication_detail/1030

پاکستانی زراعت کے ستر سال

posted Sep 10, 2017, 4:29 PM by PFP Admin   [ updated Sep 10, 2017, 4:29 PM ]

ڈاکٹر مسعود احمد شاکر


دوکروڑ ۲۳لاکھ ہیکٹر [’ہیکٹر بین الاقوامی یونٹ ہے، جو ہمارے ڈھائی ایکڑ کے برابر ہوتا ہے] پر لہلہاتے کھیت، خوبانی، سیب، انگور، کِنوں، مالٹا، آم اور کھجور کے پھولوں پھلوں سے لدے باغات، دریاے سندھ، اس کے معاون دریائوں اور جھیلوں میں تیرتی انواع و اقسام کی مچھلیاں اور دیگر آبی پرندے، شمالی علاقہ جات، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی چراگاہوں میں چرتے دودھ اور گوشت فراہم کرنے والے کروڑوں مویشی اور فضائوں میں رقصاں لاکھوں رنگ برنگ پرندے___ یہ ۲۲کروڑ آبادی والا دنیا کا چھٹا گنجان آباد ملک پاکستان ہے۔ پاکستان دنیا بھر میں گندم، چاول، کپاس، گنا، پھل اور سبزیاں، دودھ اور گوشت کی پیداوار کے لحاظ سے ساتواں یاآٹھواں بڑا زرعی ملک ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں زراعت کی تاریخ چھے تا سات ہزار سال قبل مسیح سے شروع ہوتی ہے، جب وادیِ سندھ کی قدیم تہذیب مہرگڑھ اور موہنجوڈارو وغیرہ میں آب پاشی، جانوروں کے ذریعے زمین میں ہل چلا کر غلّہ کاشت کرنا شروع ہوا۔ قابلِ کاشت زمین اور دریائوں جھیلوں کا پانی اس خطے کے قدرتی وسائل میں سب سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند کے بعد بھارت چوں کہ ایک بڑی اور گنجان آبادی والا ملک تھا، اس لیے بھارتی قیادت نے زراعت کے فروغ کو اپنی معاشی پالیسیوں میںا وّلین ترجیح قرار دیا۔ لیکن پاکستان میں جس اعلیٰ سطحی بیوروکریسی نے ملک کا نظم و نسق سنبھالا وہ ابتدائی برسوں میں زراعت کی ترقی کے لیے مطلوب زمینی حقائق کا ادراک نہ کرسکی۔
مغربی اور مشرقی پاکستان میں ۹۰ فی صد چھوٹے کاشت کار زراعت میں جدید اور ترقی یافتہ ذرائع استعمال کرنے کے لیے مطلوبہ وسائل سے محروم تھے۔ ملک کے آبی وسائل کی تنظیم نو اور ذخائر کی تعمیر بھی بھاری فنڈز کی متقاضی تھی۔ آزادی کے وقت زراعت گو ملکی جی ڈی پی کا ۵۰ فی صد حصہ فراہم کر رہا تھا، لیکن یہ قلیل مقدار ملک کی معاشی نمو میں کوئی نمایاں کردار ادا کرنے سے قاصر تھی۔
قیامِ پاکستان سے پہلے متحدہ ہندستان میں پنجاب کو برعظیم کی ’فوڈ باسکٹ‘ کہا جاتا تھا۔ مشرقی پنجاب جو تقسیم کے بعد بھارت کے حصے میں آیا، کا زرعی کاشتہ رقبہ گو مغربی پنجاب سے ایک تہائی تھا، لیکن بھارتی حکومت نے ’نہرو پلان‘ کے تحت مفت آب پاشی، سستی کھاد اور بیج، زرعی تعلیم و تحقیق کے لیے وافر فنڈز، زرعی منڈیوں اور دیہی آبادی میں سڑکوں کی تعمیر کے نتیجے میں جلد ہی زرعی پیداوار میں حیرت انگیز کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جب کہ پاکستان میں غریب کاشت کار سحرخیزی اور دن رات خون جما دینے والی سردی اور جسموں کو جھلسا دینے والی گرمی میں کام کرنے کے باوجود نان جَویں اور بنیادی انسانی ضروریات کے حصول میں ناکام رہے۔
قیامِ پاکستان کے وقت پاکستان کی سالانہ غلے کی پیداوار صرف ۸ٌٌٌء۳ ملین ٹن گندم تھی، جب کہ آج الحمدللہ ہم سالانہ ۲۲ملین ٹن گندم، ۵ء۶ ملین ٹن چاول، ۱۲ملین کپاس کی گانٹھیں،   وافر چینی، پھل اور سبزیاں پیدا کر رہے ہیں۔ شعبہ مرغبانی و حیوانات جو زراعت ہی کا ایک سب سیکٹر ہے، ۳۰ ملین ٹن دودھ، ۵۳۰ ملین مرغیاں، ۱۱ء۲ ارب انڈے سالانہ پیدا کرتا ہے، جب کہ ۱۴کروڑ سے زائد گائے، بھینس اور بھیڑبکری ہمارا مستقل اثاثہ ہیں، جو دودھ، گوشت اور چمڑا  فراہم کرتے ہیں۔ شعبہ فصلات، حیوانات کے علاوہ جنگلات اور ماہی پروری بھی زراعت ہی کے سب سیکٹرز ہیں، جو ہماری قومی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ برآمدات کے ذریعے قابلِ قدر زرمبادلہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ زراعت کی دنیا میں کامیابیوں کا یہ سفر کس طرح طے ہوا؟ ہم اس کا ایک مختصر جائزہ پیش کرتے ہیں:
جیساکہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ آزادی کے بعد ابتدائی برسوں میں ہماری حکومتیں زراعت کی ترقی اور آبی وسائل کی تنظیم نو کے لیے کوئی خاطرخواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکیں، لیکن ۱۹۶۰ء کے عشرےاور ایوب خان کے ۱۰ سالہ دورِ حکومت میں زراعت کی ترقی اور مطلوب آبی ذخائر کی تعمیر کے ذریعے نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
پاکستان کے آبی وسائل کا تخمینہ دریاے سندھ اور اس کے معاون دریائوں ، جھیلوں، شمال کے پہاڑی سلسلوں میں موجود گلیشیرز کی صورت تقریباً ۱۴۰ ملین ایکڑ فٹ سالانہ ہے۔ زیرزمین پانی جو تقریباً ۱۰ لاکھ ٹیوب ویل کی مددسے ہمیں آب پاشی کے لیے میسر آتا ہے، ۵۵ ملین ایکڑ فٹ ہے۔ مون سون کی بارشیں جو تین مہینے جاری رہتی ہیں ہمارے آبی ذخائر کو بھرنے کا بڑا ذریعہ ہیں۔ صرف ۱۹ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت جو ۴۰برس گزرنے کے بعد ۳۵ فی صد کم ہوکر صرف ۱۲ ملین ایکڑ فٹ رہ گئی ہے، کی وجہ سے ۳۰ تا ۴۰ ملین ایکڑ فٹ پانی سیلاب کی صورت میں بڑی تباہی کے بعد سمندر میں جاگرتا ہے۔ آب پاشی کے لیے ۱۴۰ ملین ایکڑ فٹ دستیاب پانی کا تقریباً ۴۰فی صد جذب و تبخیر(Seepage & Evaporation) جیسے نقصانات کے بعد صرف ۹۰ ملین ایکڑ فٹ کھیت تک پہنچ پاتا ہے۔ یہ اَمر قابلِ افسوس ہے کہ گذشتہ ۴۰برس میں کوئی بھی نیا ڈیم تعمیر نہیں کرسکے، اگرچہ ہم چشمہ، ورسک، خان پور، منگلا، تربیلا جیسے آبی ذخائر، ۱۸بیراج، ۱۲لنک کینال، ۴۵ آب پاشی نہروں اور ۱۰ہزار ۷۰۰ کھالوں کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام کے حامل ہیں۔
پاکستان چوں کہ دنیا کے گرم اور خشک خطے میں واقع ہے، جہاں زیرزمین پانی بھی زیادہ تر نمکین ہے۔ اس لیے بڑھتی ہوئی آبادی اور کم ہوتے آبی وسائل کے پیش نظر اسے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ دوسری جانب پنجاب اور سندھ میں زرعی آب پاشی کے لیے نصب لاکھوں ٹیوب ویل زمین میں کھارے پانی کی وجہ سے کلر اور سیم و تھور کا باعث بن رہے ہیں۔

 پانی کی فی کس کم ہوتی ہوئی صورتِ حال کا ایک جائزہ پیش کیا گیا ہے:

سال دستیاب فی کس پانی (مکعب میٹر)
۱۹۴۷ء میں ۴۵۰۰ مکعب میٹر
۱۹۵۵ء میں ۲۴۹۰  مکعب میٹر
۱۹۹۰ء میں ۱۶۷۲  مکعب میٹر
۲۰۱۵ء میں ۱۰۰۰ مکعب میٹر
اور ۲۰۲۵ء  میں ۸۳۷  مکعب میٹر
نوٹ: یاد رہے کہ دنیا بھر میں فی کس ۱۰۰۰ مکعب میٹر سالانہ سے کم دستیاب پانی والے ممالک / علاقوں کو خشک سالی/قحط کا شکار گردانا جاتا ہے۔

ایک وسیع ترین نہری نظام کے باوجود پاکستان کے ۲۲ء۳ ملین ہیکٹر زیرکاشت رقبے میں سے صرف ۱۴ء۵۶ ملین ہیکٹر رقبہ ہی نہری پانی سے سیراب ہوپاتا ہے۔ زراعت اور دیگر ضروریات کے لیے وافر پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مزید آبی ذخائر کی تعمیر اور آب پاشی کے لیے سپرنکلر (Sprinkler) اور ڈرپ (Drip) جیسے مستعد اور کفایت شعار آب پاشی نظام اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ۱۹۶۰ء کے عشرے میں زراعت کی ترقی اور آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے سندھ طاس معاہدے کے تحت منگلا اور تربیلا جیسے بڑے ڈیم تعمیر کیے گئے۔ ان منصوبہ جات کے لیے ورلڈبنک اور دیگر مالیاتی اداروں و دوست ممالک نے کثیرفنڈز فراہم کیے۔ لیکن یہ بات باعث ِ تشویش ہے کہ پاکستان ایوبی دور کے اِن تعمیرشدہ آبی ذخائر کے بعد مزید آبی ذخائر کی تعمیر میں کوئی کارکردگی نہیں دکھاسکا، جب کہ بھارت مسلسل بیسیوں ڈیم تعمیرکرچکا ہے۔ آبی ذخائر کی تعمیر کے علاوہ زراعت کے دیگر شعبے بھی ماضی اور آج کی حکومتوں کی عدم دل چسپی کا شکار ہیں۔
حسب ذیل جدول کے مطابق قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک مختلف اَدوار میں زراعت اور آبی وسائل کے لیے فراہم کردہ فنڈز کا میزانیہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ شعبۂ زراعت مسلسل نظرانداز ہورہا ہے:

 قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک زراعت کے لیے مختص فنڈز (فی صد)
۶۰-۱۹۵۵ء …زراعت  ۴۶ء ۹  فی صد اور پانی ۹۵ء ۱۹ فی صد
۶۵-۱۹۶۰ء… زراعت  ۸ء۵۷ فی صد  اور پانی ۴۳ء۴ فی صد
۷۰-۱۹۶۵ء…زراعت ۱۰ء۴۵ فی صد اور پانی ۳۴ء۲ فی صد
۷۸-۱۹۷۰ء…زراعت ۸ء۵۹ فی صد  اور پانی ۱۷ء۱  فی صد
۸۳-۱۹۷۸ء…زراعت ۹ء۶۹ فی صد  اور پانی ۱۰ء۲۹ فی صد
۸۸-۱۹۸۳ء…زراعت ۷ء۱۳ فی صد اور پانی ۹ء۰۸ فی صد
۹۳-۱۹۸۸ء…زراعت ۴ء۴۵ فی صد اور پانی ۸ء۱۱ فی صد
۹۸-۱۹۹۳ء…زراعت ۰ء۷۵ فی صد  اور پانی ۷ء۳۹ فی صد
۱۱-۲۰۰۱ء…زراعت ۱ء۴۲ فی صد اور پانی ۱۶ء۷ فی صد
۱۳-۲۰۱۲ء…زراعت ۲ء۲ فی صد اور پانی ۱۳ء۰ فی صد

اُوپر دیے گئے اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ صرف ۱۹۶۰ء کے عشرے میں زراعت کے لیے قابلِ ذکر رقوم فراہم کی گئیں جو تربیلا، منگلا ڈیم بنانے اور زراعت کو ترقی دینے میں معاون ہوئیں۔ بعد میں تسلسل سے مختص شدہ رقوم میں بالترتیب کمی ہوتی گئی۔ مختلف ادوار میں جی ڈی پی کا ۳۰، ۴۰ فی صد فراہم کرنے والا شعبہ بمشکل ۸، ۱۰ فی صد فنڈز حاصل کرتا رہا ہے۔
زراعت میں سالانہ شرحِ نمو (Annual Growth Rate) ایک ایسا پیمانہ ہے، جس سے ہم زراعت کی ترقی ماپ سکتے ہیں۔ حقائق کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ سواے ۱۹۶۰ء کے عشرے اور ۱۹۸۰ء کے عشرے میں زراعت کی سالانہ شرح نمو اطمینان بخش نہیں رہی ہے۔
۱۹۶۰ء ہی کے عشرے میں میکسیکو کے رہایشی نوبل انعام یافتہ نارمن بورلاگ کی قیادت میں زرعی سائنس دانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے دنیا میں سبز انقلاب برپا کیا۔ یہ بات ہمارے لیے قابلِ فخر ہے کہ فیصل آباد پاکستان کے دو زرعی سائنس دان ڈاکٹر ایس اے قریشی اور ڈاکٹر منظوراحمد باجوہ بھی اس تاریخی معرکے میںشریک تھے۔ اس ٹیم نے گندم کی بیماریوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اور تقریباً دگنا پیداواری صلاحیت کی حامل اقسام دریافت کیں اور یوں دنیا کو بھوک اور قحط کے خطرے سے نجات دلانے میں معاونت کی۔
درج بالا جائزے سے یہ بات عیاں ہے کہ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت ملکی جی ڈی پی کا ۵۰ فی صد فراہم کرنے والا شعبہ آج صنعت اور سروسز سیکٹر کے ساتھ تیسرا بڑا شعبہ ہے، جو ۲۴ فی صد جی ڈی پی اور روزگار کے ۵۰ فی صد مواقع فراہم کرتا ہے۔ ملکی برآمدات کا ۶۶ فی صد زرعی شعبے سے حاصل ہوتا ہے۔ کپاس، چاول، پھل، سبزیاں، چمڑے کی مصنوعات ہماری بڑی بڑی زرعی برآمدات ہیں، جب کہ خوردنی تیل اور چائے درآمد کرنے پر ہمارا بڑا زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔
زراعت میں نئے آبی وسائل /ذخائر کی تعمیر، جدید مشینری کا استعمال اور کیمیائی کھادوں و کیمیائی ادویات کا محفوظ استعمال اور گلوبل وارمنگ مستقبل میں قومی زراعت کے بڑے بڑے چیلنج ہیں۔   اگر ہم ان سے بہ احسن عہدہ برآ ہوسکے تو ان شاء اللہ ہم نہ صرف قومی ضروریات پوری کریں گے، بلکہ اپنی برآمدات بڑھا کر کثیرزرمبادلہ بھی کمائیں گے اور اللہ کی مخلوق کو خوراک بھی فراہم کر رہے ہوں گے۔
 

source:  http://tarjumanulquran.org/site/publication_detail/1111


ڈاکٹر رتھ فاؤ ۔۔۔ ایک عظیم خاتون

posted Sep 10, 2017, 4:13 PM by PFP Admin

“ہم میں سے کوئی بھی کسی جنگ کو تونہیں روک سکتا، مگر ہم میں سے اکثر روحانی اور جسمانی ایذا میں کمی کے لئے مدد تو دے سکتے ہیں” یہ سادہ مگر پر جذبہ ایثار سے بھرا جملہ ڈاکٹر رتھ پفاو نے کہا تھا۔ ڈاکٹر رتھ پفاو ایک جرمن پری وش خاتون تھیں۔ جنہیں پاکستان کی سرکار نے انتھک جذبہ ایثار اور خدمت انسانیت کے اعتراف میں پاکستانی شہریت عطا کیا تھا۔ آپ ۱۹۲۹ میں ایک مسیحی خاندا ن میں پیدا ہوئیں ۔ آپ کی چار بہنیں اور ایک اکلوتا بھائی تھا۔ جب دوسری جنگ عظیم میں بموں اور میزائلوں نے آسمان سے آگ کے گولے برسائے تب آ پ کاگھر بھی شعلوں کی زد میں آکر جل گیا۔ اس کارزار کشت و خون کے بعد مشرقی جرمنی پر سوویت یونین کے قبضے کے نتیجے میںآپ گھروالوں سمیت مغربی جرمنی کی طرف کوچ کر چلی۔ ۱۹۵۰ کے دروان مینز یونیورسٹی سے علوم ادویہ سے فیض پاتی رہی۔ اس دوران آپ کی ایک ولندیزی خاتون کے ساتھ علیک سلیگ ہوئی ، اور آہستہ آہستہ میل جول بڑھنے لگی۔ وہ ولندیزی مسیحی خاتون نازی کی حراستی کیمپ کی متاثرہ اور زندہ بچ نکلنے والی نیک اختر تھی اور اپنی زندگی کی باقی ماندہ لمحات محبت اور معافی کی تبلیغ کے لئے وقف کر چکی تھی۔ یہ میل جول ڈاکٹر رتھ پفاو کے لئے متاثرکن اور زندگی بدل ڈالنے والے تجربے میں بدل گئی۔ ڈاکٹر رتھ پفاؤ کی دلنشیں صورت ، جھیل سی آنکھوں اور سادہ دلی کے نزدیک کوئی کہاں ٹھہر سکتا تھا ان کی اپنے ایک ہم جماعت کے ساتھ رومانوی رغبت بھی رہی۔جو ان کے اندر فلسفے اور کلاسیکی ادب کی جانب رجحان بڑھانے کا سبب بنی۔علوم ادویہ کے امتحانات سے فراغت کے بعد آپ ماربرگ چلی گئی۔ جہاں آپ نے طبی مطالعہ شروع کیا۔ ۱۹۵۷ کے دوران پیرس میں آپ ایک کیتھولک مسیحی سلسلے ڈوٹر آف دی ہارٹ آف میری سے جڑ گئیں۔ آپ کہا کرتی تھیں کہ جب آپ کو ایسے نیک کام کے لئے بلاوا آئے ، تو انکار کیسے کر سکتے ہیں، تو آپ کے لئے اس میں ا نتخاب کا کوئی راستہ کیسے بچ جاتا ہے کہ جب خدا نے خود اپنے لئے آپ کا انتخاب کرلیا ہو۔ اس سلسلے نے آپ کو بعد ازاں جنوبی ہندوستان کی طرف بھیجا ۔ ۱۹۶۰ میں جب آپ نے رخت سفر باندھ لیا تو ویزے کے کاغذات میں کوئی سقم درپیش آیا اور کراچی میں پھنس گئی۔ آپ اپنے مریضوں کی بازیابی کی خاطر پاکستان اور افغانستان میں متعدد مقامات گھوم چکی تھیں جنہیں اپنے گھروالوں نے دھتکاردیا تھا یا پھر کال کوٹھریوں ، تنگ کمروں میں تاحیات پابند کردیا تھا ۔جب آپ کی عمر اکتیس سال کو پہنچی تو پاکستان میں لیپروسی (کوڑھ) کی وبا کے خلاف لڑنے کا اتفاق ہوا اور اسی دوران ہی آپ نے عزم مصمم کرلیاکہ ان کی باقی ماندہ درخشاں حیات پاکستان میں کوڑھ کے مریضوں کی خدمت کے لئے وقف کردیں گی۔یہ اس پیمان وفا نے آپ کے پیروں میں وفا داری کی مضبوط ایسی بیڑیاں ڈال دی کہ موت بھی ان بیڑیوں کو اتارنے میں ناکام رہی اور پاک سرزمین کے دل میں ان کی جسد خاکی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گھر کر گئی۔اتفاقا کراچی سٹی ریلوے سٹیشن ، آئی آئی چندریگر روڈ کے نزدیک آپ پہنچی تووہاں موجود کوڑھ کے مریضوں کی ناگفتہ بہ حالت زار دیکھ کر انہوں نے من میں ٹھان لیا کہ انہی کی دیکھ بھال ہی ان کی ضمیر کی وہ پکار تھی جس کے تعقب میں وہ اس کم سنی میں دیار یار و خرمن کو وداع کرکے اس کشت نا آشنا میں وارد ہوئی تھیں۔ یہی کہیں کسی جھگی میں بسرام کرکے انہوں کوڑھ کے مریضوں کا علاج معالجہ اور دیکھ بھال شروع کیا۔ ڈاکٹر آئی کے گل کی لیپروسی کلینک خرید کر میری ایڈیلیڈ لیپروسی سنٹرکے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جوبعد میں ٹی بی پرقابو پانے اور نابینائی سے بچاو جیسے اہم پروگراموں کی آماجگاہ بھی رہا۔ جہاں کراچی اور پاکستان کے دیگر علاقوں کے علاوہ افغانستان سے بھی مریض ان سے مستفید ہوتے تھے۔ ۱ن کے اس جذبہ نیکی کے اعتراف میں انہیں ۱۹۷۹ میں وفاقی مشیر برائے لیپروسی ملحقہ وزارت صحت وسماجی بہبود تعینات کردی گئی۔ ڈاکٹر پفاؤ کے پاوں ان علاقوں سے بھی ناآشنا نہیں تھے جہاں لیپروسی کے مریض تو درکنار عام لوگوں کے لئے صحت کی سہولیات معدوم تھیں۔ انہوں نے ان مریضوں کے علاج معالجے اور بہبود کے لئے جرمنی سے بھی عطیات مانگ کر روالپنڈی اور کراچی کے ہسپتالوں کے ساتھ مل کر خرچتی رہی۔ان کی پاکستان کے لئے پے پائیاں خدمات کی معترف یہاں سرکار نے انیس سو اسی کے وسط میں انہیں پاکستانی شہریت سے عطا کیا۔ یہ انہی کی جہد مسلسل اور انتھک لگن کا نتیجہ تھا کہ عالمی ادارہ صحت نے وطن عزیز پاکستان کو ایشیا ء کے اس سب سے پہلے ملک کے طور پر مانا جس نے کوڑھ کی بیماری پر مکمل قابو پالیا۔ ایک معروف صحافتی جریدے کے مطابق یہاں کوڑھ کی مریضوں کی تعداد انیس سو اسی کے دوران کی انیس ہزار تین سو اٹھانوے سے کم ہوکر حالیہ سالوں میں پانچ سو کے قریب رہ گئی ہے۔ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح ڈاکٹر رتھ پفاو نے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں لیپروسی اور ٹی بی کے مریضوں تک علاج ومعالجے کی مفت سہولیات پہنچائی۔ ان کی خدمات بلاتفریق ہر ضرورت منداور مستحق انسان تک پہنچتی رہی۔ انہوں نے اپنی حیات میں سکردو اور نواحی علاقوں کا بھی کئی بار دورے کئے۔ پاکستانی ماحول میں پلے بڑھے اور یہاں کی ذہنیت کے حامل ایک شخص نے ان سے ان کے دور شباب میں سوال کیا کہ ایک غیر ملکی ، غیر مسلم عورت ایک پرائے ملک میں اکیلی رہ رہی ہے آپ کس حد تک خود کو یہاں محفوظ سمجھتی ہیں، اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں کوڑھ کے مریضوں کے درمیان رہتی ہوں تو کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ کوڑھ کے مریضوں کے پاس آکر مجھے تنگ کرے۔ آپ ایک ایسی نڈر اور جانفشان خاتون تھیں کہ جب آغاخان ہسپتال میں اپنی زندگی کے آخری ایام میں طبیعت زیادہ بگڑجانے پر ڈاکٹروں نے مصنوعی سانسیں دینے کے لئے وینٹیلیٹر دیا تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ اسے کسی قسم کی مشینی اور مصنوعی مدد سے کوئی دلچسپی نہیں اور تادم مرگ قدرتی زندگی گزارنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کی خواہشات میں سے چنداں اور عجیب خواہشات یہ تھیں کہ مرنے کے بعد اس کو عروسی خلعت میں دفن کیا جائے اور ان کی میت کو لیپروسی سنٹر لے جائی جائے۔ یہ عظیم خاتون اپنی ضعیفی اور لاغر پنی کی وجہ سے گردوں اور دل کے امراض میں مبتلا گزشتہ کئی سالوں سے زیر علاج تھیں۔ میت کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کی گئی۔ پاکستانی پرچم ان کی موت کے غم میں سرنگوں رہا۔ ڈاکٹر رتھ پفاو کی میت وہ مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی سرکاری اعزاز پانے والی میت تھی۔انہیں سبز ہلالی پرچم میں ڈھانپ کر دفن کی گئی۔ پاکستان کے تینوں مسلح افواج کے دستوں نے ۱۹ توپوں کی سلامی دی۔ وزیر اعظم پاکستان اور صدرمملکت نے ان کی وفات کے حوالے سے خصوصی پیغامات بھی جاری کئے اور تدفین کی کاروائی کو خصوصی طور پر قومی ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر بھی کیاگیا۔ اور یہ پری وش ، عظمت و ایثار کی پیکر اور عروس البلد کراچی کی تاریخی گورا قبرستان میں سپرد خاک ہوگئی۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں تعلیمی مدارس ، طلبہ تنظیموں، سماجی خدمات اورفلاح انسانیت کے اداروں نے مختلف تقریبات ترتیب دے کر ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ سکردو میں سلیم فاونڈیشن اور بلتستان یوتھ الائنس کی طرف سے ان کی یاد میں شمع روشن کی گئی اور مختلف تقریبات کا اہتمام کیا۔ جس میں مقررین نے ان کی انسان دوستی اور جذبہ ایثار کو دل کھول کر داد دی اور انہیں پاکستان کے دیگر ماہرین، پیشہ ور شخصیات اور خاص کر خواتین کے لئے ایک مثال لا فانی قرایدیا۔ یقیناًانہیں غیر معمولی پذیرائی دے کر حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کا برملا اعتراف کیا ہے اور اس عظیم خاتون کی ذات ایسی ہی داد و تحسین اور شان وشوکت کی مستحق تھی ۔ ڈاکٹر رتھ پفاو نے مشن عیسیٰ ؑ مسیح پر کاربند رہ کر مسیحائی کا حق ادا کیا اور خود کو ایک سچی پیروکار مسیح اور سب سے بڑھ کر ایک عظیم انسان کے طور پرثابت کرگئی۔ ڈاکٹر رتھ پفاو منوں مٹی تلے جاکر بھی اہل شعور اور انسان دوست افراد کے دلوں میں ایک جذبہ تازہ، ایک شمع روشن اور ایک دمسیحا ئی تاثیرکے طور پر رہتی دنیا تک امر رہے گی۔

http://urdu.pamirtimes.net/2017/08/25/drruthpfau/ 

روہنگیا بحران: تاریخ اور حقائق

posted Sep 10, 2017, 3:36 PM by PFP Admin


تحقیق و تحریر: جلال الدین مغل

اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 25 اگست کے بعد سے میانمار سے روہنگیا پناہ گزینوں کی بنگلہ دیش ہجرت کے سلسلے میں تیزی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک لاکھ پچاس ہزار کے قریب روہنگیا میانمار کی شمال مغربی ریاست رخائن میں جاری تشدد کی وجہ سے بھاگنے پر مجبور ہوئے ہیں۔اس بحران کا آغاز اس وقت ہوا جب روہنگیا جنگجوؤں نے پولیس چوکیوں پر حملے کر کے متعدد پولیس اہلکاروں کو مار ڈالا۔ اس کے بعد میانمار کی فوج نے روہنگیا کے خلاف آپریشن شروع کر دیا۔روہنگیا خواتین، بچوں اور مردوں کا کوئی ملک نہیں ہے یعنی ان کے پاس کسی بھی ملک کی شہریت نہیں۔ اگرچہ یہ ميانمار میں ہیں لیکن انہیں میانمار کا شہری تسلیم کرنے کے بجائے صرف غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر مانا جاتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب روہنگیا افرادکی متعدد اجتماعی قبریں ملی ہیں۔2015ء میں جب غیرقانونی تارکین کے خلاف کچھ سختی کی گئی تو کشتیوں پر سوار سینکڑوں روہنگیا کئی دنوں تک سمندر میں پھنسے رہے۔

روہنگیا کون ہیں؟
اقوام متحدہ کے مطابق بدھ اکثریتی میانمار(سابق برما) کی شمال مغربی ریاست رخائن میں رہنے والی نسلی اقلیت روہنگیا دیناکے سب سے پسے ہوئے اور تشدد کا شکار طبقات میں سے ایک ہے۔جنوب مشرقی ایشیائی ملک میانمار کی آبادی کی اکثریت بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق میانمار میں روہنگیا نسل سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد گیارہ لاکھ کے لگ بھگ ہے جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے جبکہ دیگر مذاہب میں برہمن اور عیسائی بھی شامل ہیں۔

اُن لوگوں کی زبان ’روہنگیا‘ یا ’روئنگا‘ کہلاتی ہے اورمیانمار بھر میں عام طور پر بولی جانے والی دیگرزبانوں سے یکسر مختلف ہے۔ روہنگیا قبیلہ میانمار میں سرکاری طور پر تسلیم شدہ دیگر 135 نسلی گروپوں میں شامل نہیں۔ اُنہیں 1982 سےمیانمار میں شہریت کے حق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ یوں ایک طرح سے یہ قبیلہ زمین کے ایک ٹکڑے پر قابض ہونے کے باوجود ملکیت کے حق اور شہریت سے محروم اور عملاً بے وطنی کا شکار ہے۔

شناخت کا بحران
روہنگیاوں کی متنازعہ شناخت کے باعث حکومت نے انھیں شہریت دینے سے انکار کر دیا ہے ۔میانمار کی حکومت نے روہنگیا نسل کے لوگوں کو مستقل قومی رجسٹریشن کارڈ کے بجائے عارضی رجسٹریشن کارڈ جاری کیے ہیں جس کے باعث ان کی اکثریت جائیداد اور ووٹ کے حق سے محروم ہے۔روہنگیا میانمار کے غریب ترین قبائل میں سے ایک ہے اور وہ زیادہ تر گھیٹو یا جھگی طرز کے کیمپوں میں گزارہ کر رہے ہیں جہاں اُنہیں زندگی کی بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں۔ انھیں وسیع پیمانے پر نسلی و مذہبی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

لاکھوں کی تعداد میں بغیر دستاویزات والے روہنگیا بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں جو دہائیوں پہلے میانمار چھوڑ کر وہاں آئے تھے۔ ریاست رخائن میں 2012 سےنسلی بنیادوں پر تشدد جاری ہے۔اس تشدد میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں گئی ہیں اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگ بےگھر ہوئے ہیں۔ شناختی اور سفری دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے یہ لوگ نہ تو اپنی مرضی سے کہیں آ جا سکتے ہیں اور نہ ہی اپنی مرضی سے کام کر سکتے ہیں۔ جن گھروں اور جھونپڑیوں میں یہ رہتے ہیں، ان پر بھی ان کے مالکانہ حقوق نہیں ہیں اور یہ جھونپڑیاں ان سے کسی بھی وقت خالی کروائی جاسکتی ہیں۔ انصاف کے حصول کے لئے عدالت یا کسی سرکاری ادارے تک رسائی ہے اور نہ شنوائی۔

روہنگیا کہاں سے آئے؟
روہنگیا نسل کا دعویٰ ہے کہ وہ عرب تاجروں کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور بارہویں صدی سے اسی علاقے میں آباد ہیں تاہم میانمار میں عمومی رائے یہی ہے کہ وہ بنیادی طور پر غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجر ہیں۔ جو تقسیم برما پر انگریز راج کے دوران ہندوستانی علاقوں سے برما میں منتقل ہوئے اور یہ سلسلہ تقسیم برصغیر کے بعد بھی جاری رہا ۔میانمار میں روہنگیا افراد کو ایک نسلی گروپ کے طور پر تسلیم نہ کرنے کی ایک وجہ 1982ء کا وہ قانون بھی ہے، جس کے مطابق شہریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی نسلی گروپ کو یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ 1823ء سے قبل بھی میانمار میں ہی تھا۔

روہنگیا کا مسئلہ کیا
یہ عالمی طور پر تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ روہنگیا مسلمان میانمارمیں بہت مشکل وقت گزار رہے ہیں۔ 1984 میں میانمار کی برطانیہ سے آزادی سے لے کر اب تک کی حکومتوں نے روہنگیا لوگوں مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان میں مذید گھمبیرتا پیدا کی ہے۔اس تنازعہ کی ابتدا خالصتاً ایک نسلی تنازعہ کے طور پر ہوئی مگر بتدریج اسے ایک مذہبی تنازعہ کی شکل دے دی گئی۔ اب یہ تنازعہ روہنگیا قبیلے کی شناخت اور شہریت کے حصول کے مسئلے کے بجائےایک مسلمان اقلیت اور اکثریتی مذہب (بدھ مت) کے پیروکاروں کے درمیان مذہبی تصادم کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اس پہلو کی وجہ سے عالمی تناظر میں بھی یہ قضیّہ انسانی حقوق کی فہرست سے نکل کر مذاہب کے درمیان کشمکش کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ چنانچہ اس صورتِ حال نے تنازع کے حل کی کوششوں کے پورے منظر نامے کو تبدیل کردیا ہے۔

روہنگیا پاکستان میں
پاکستان کے ساحلی علاقوں خصوصاً کراچی میں برمی روہنگیا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے۔ غیر ملکیوں کی رجسٹریشن کے قومی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق لگ بھگ پانچ لاکھ روہنگیا کراچی میں بن قاسم اور اورنگی کے علاقوں میں آباد ہیں۔ ان میں سے کچھ تو تقسیم کے وقت سے کراچی میں مقیم ہیں جبکہ ایک بڑی تعداد اسی کی دہائی میں یہاں منتقل ہوئی۔

سابق آمر جنرل ضیاء نے بنگالی اور روہنگیاوں کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔ افغان جنگ کے دوران متعدد روہنگیاوں کو تربیت اور اسلحہ دے کر افغانستان بھیجا گیا جبکہ ان کے بچوں کو مختلف دینی مدارس میں داخل کروایا گیا۔ لگ بھگ پینتیس سالوں سے کراچی میں آباد روہنگیا کمیونٹی اگرچہ بلدیاتی، صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں ووٹ ڈالتی ہے تاہم ان میں اسے غالب اکثریت کے پاس پاکستان کو قومی شناختی کارڈ یا کوئی دیگر شناختی دستاویز موجود نہیں۔شناختی دستاویزات نہ ہونے کے باعث روہینگیا کراچی پولیس کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں کا بھی آسان شکار ہیں۔ شناخت کے بحران سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے روہنگیا نوجوان اکثر و بیشتر شدت پسند تنظیم اور مذہبی گروہوں کے ساتھ اپنی شناخت جوڑ لیتے ہیں۔

حل کیا ہے

بظاہر آنگ سان سو چی کی سربراہی میں ایک جمہوری حکومت قائم ہونے کے باوجود میانمار کے سیاسی نظام میں فوج کو فیصلہ کن بالادستی حاصل ہے۔ سیاسی اور انتظامی امور پر مکمل کنٹرول کے باعث فوج فی الحال اندرونی اور بیرونی دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتی اس لئے پڑوسی ممالک کے لئے میانمار پر سفارتی دباوڈالنا ممکن نہیں لگ رہا اور نہ ہی فوج کسی بیرونی ادارے کو ملک کے اندر شورش زدہ علاقوں تک رسائی دینے کو تیار ہے ۔تاہم چین واحد ملک ہے، جواگر چاہے تومیانمار کی پالیسیوں پربڑی حد تک اثرانداز ہوسکتا ہے۔

پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے طرز پرچین میانمار، بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان بھی ایک راہداری منصوبے پر کام کر رہا ہے۔ صرف چین ہی نہیں، میانمار، بھارت اور بنگلہ دیش کے مفادات بھی براہ راست اس منصوبے کے ساتھ منسلک ہیں۔ چین میانمار میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے امن کا قیام انتہائی ضروری ہے۔چین بھارت اور بنگلہ دیش کی خاموش سفارت کاری میں اس پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

میانمار کی حکومت کو سیاسی دباو کے زریعے یہ باور کروانا ہو گا کہ اتنی بڑی تعداد میں انسانوں کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنا میانمارکے وجود کے لئے کسی بھی طور پر مفید نہیں ہو گا۔ اور روہنگیا قیادت کو بھی اس بات کا ادراک رکھنا چاہیے کہ مکمل شہریت کے بنیادی حق سے انہیں کسی صورت محروم نہیں کیا جا سکتا مگر اس حق کے حصول کے لئے کسی قسم کے تشدد کا راستہ اختیار کرنا ایک کمزور قبیلے کے لئے مذید خطرات کا باعث بن سکتا ہے لہذا نہیں اپنے حق کے حصول کے لئے پر امن اور سیاسی راستے اختیار کرنےکے ساتھ ساتھ بین الاقومی برادری کے سامنے اپنا مقدمہ موثر انداز میں پیش کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں پڑوسی مسلمان ممالک خصوصاً بنگلہ دیش اور پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا کمیونٹی بہتر طور پر سفارت کاری کر سکتی ہے۔

حرف آخر: ریاستی اور نسل پرستانہ تشدد کے باعث ہزاروں کی تعداد میں روہنگیا مسلمان کو اپنے کیمپوں سے نکل کر نکل مکانی کرنا پڑی۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد محفوظ اور روشن مستقبل کا خواب آنکھوں میں سجائے انسانی سمگلروں کے مکروہ دھندے کا نشانہ بنے اور سمندر میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔ انہیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ کوئی بھی پڑوسی ملک بشمول مسلمان ممالک انہیں پناہ دینے کو تیار نہیں۔ بنگلہ دیش نے عارضی طور پر انہیں پناہ دینا شروع کی ہے مگر امکانات کم ہیں کہ یہ سلسلہ تا دیر چلے۔ گذشتہ ایک ماہ سے سوشل میڈیا میں روہنگیا مسلمانوں پرغیرانسانی مظالم کی جو کہانیاں تصاویر اور ویڈیو سامنے آئی ہیں ان میں سے اکثر غیر حقیقی اور مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔ میانمار میں قائم اسلامی ممالک کے سفارت خانوں سمیت کسی بھی             آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔


ایک معصوم بچے کا قتل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذمہ دار کون ۔۔۔؟

posted May 4, 2014, 4:33 PM by Zafar Iqbal   [ updated May 4, 2014, 4:41 PM ]

 

مغربی میڈیا کی یلغار بھی اس طرح کے واقعات کی ایک
 بڑی وجہ ہے۔ مغربی اور بھارتی ثقافت ہماری رگ پے ہیں اس طرح سرایت کر چکی کہ ہم اپنے مدہب، اسلامی تعلیمات، اپنی روایات اور کلچر کو بھول چکے اور وہ ثقافت ہم پر حاوی ہو چکی ، اس حوالے سے پیمرا اور ٹی وی مالکان کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی۔ ہم میں سے ہر شخص چاہے والدین ہوں، اساتذہ ہوں، اکابرین معاشرہ ہوں یا میڈیا کے نمائندگان، اپنی آنے والی نسلوں کو معاشرے اور ملک کا بہترین اور مفید شہری بنانے کے لئے اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہو گا۔ یہی واحد صورت ہے ، جس سے معاشرتی انتشار کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ ہر صبح ہنوز شب گزیدہ ہے۔ لیکن سیاہ بادلوں کے اس پار ابھرتی ہوئی سفیدی امید کو زود نہیں ہونے دیتی ہم سب بہت سی غفلتوں کے مرتکب ہو رہے ہیں جن کی وجہ سے ہماری آنے والی نسلیں بے راہ روی کا شکار ہو چکی ہیں۔ لیکن اس دھرتی کی مٹی زرخیز ہے ، اس میں بہت سا نم باقی ہے اس کی باد نمو ابھی بابجھ نہیں ہوئی ۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اپنی نئی نسل کو صراط مستقیم پر چلانا ہو گا۔ ان کی راہوں میں بکھرے سنگریزوں کو ہٹانا ہو گا۔ تا کہ بہتر منزل کی طرف پیش قدمی ہو سکے۔ اس سے پہلے کہ دست قضا بڑھکر تقدیر کے قاضی کا فیصلہ ہم پر نافد کر کے ہمیں اور راق تاریخ پر بطور نشان عبرت ثبت کر دے۔ اور تلافی مافات کی مہلت نہ ملے۔ آگے بڑھیے اور انعم جیسے انعام کی ناقدری والے ہاتھوں کی پیدائش کی راہوں 
کو مسدور کر دیجیے۔






 

والدین کے بعد معاشرے میں بڑھتی بے چینی اور انتشار کے ذمہ دار اساتذہ ہیں۔ کیونکہ علم روشنی ہے ایسی روشنی جو اپنا راستہ خود تراشتی ہے ، جو قلوب علم کی روشنی سے منور ہوں ، وہاں ظلمتوں کا وجود ناپید ہوتا ہے یہ روشنی سینہ بہ سینہ بڑھتی چلی جاتی ہے ، پورا معاشرہ استادکے گرد گھومتا ہے۔ استاد کی حیثیت ایک جوہری کی سی ہے جس کے ہاتھوں سنگ پارس بنتا ہے اور لوھا سونے کا روپ دھارتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ استاد کو معمار قوم کہا جاتا ہے کیونکہ جب استاد ایک طالب علم کو زیور علم سے آراستہ کرتا ہے تو در حقیقت ایک خاندان میں اپنی عزت و توقیر کا پرچم لہراتا ہے مگر آج بدقسمتی سے تعلیم کا پیشہ یا تو سیاست کی نذر ہو چکا یا محض پیسے کمانے کا ایک ذریعہ بن چکا۔ بچے بھاری بھر کم بیگز کے نیچے دبے ہوئے اسکول پہنچتے ہیں جہاں محض سلیبس کو مکمل کرنے کی دوڑ تک تعلیم محدود ہوتی ہے۔ سلیبس بھی ایسا جو امیر کے بچوں کے لئے الگ، غریب کے بچوں کے لئے الگ، جو صحیح معنوں میں عصری ضرورتوں سے بے نیاز اور اسلامی تعلیمات سے مزین اور جدید وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کی بناء پر بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کرنے سے قاصر ہے۔ قوم کی بیداری کے لئے عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ یکساں تعلیمی نصاب اولین شرط ہے یہ اساتذہ کرام کی ہی کوششیں تھیں جن کی بدولت علم کی قندیل سے ملت کے مقدر کے وہ ستارے روشن ہوئے جن کو عالمی افق پر قائداعظم ؒ ، علامہ اقبال اور چوہدری رحمت علی کے نام سے جانا گیا مگر آج اساتذہ کرام کے پیشہ وارانہ فرائض کے جذبے سے عاری ہونے اور پیشے پر سیاست کے حاوی ہونے کی وجہ سے تعلیم کے ساتھ تربیت کا وجود کہیں نظر نہیں آتا یہ غفلت آخر کار ایسے سانحات کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ 
معاشرے کا برسراقتدار طبقے پر بھی ایسے حادثات کی پوری ذمہ داری عائد ہوتی ہے آسمانی رفعتوں کو چھونا انہی قوموں کا مقدر ٹھہرتا ہے جن قوموں کے رہنما ذاتی خواہشات کو قوم کی ضروریات پر قربان کر دیتے ہیں ، اور اپنا کاٹھ بلند کرنے کے بجائے قوم کا قد بڑھانے کے جذبے کے ساتھ بلند اخلاق اور اعلیٰ سوچوں کے حامل ہوتے ہیں وہی قومیں ترقی کر سکتی ہیں ، جنہوں نے مثبت اور تعمیری فکر و عمل اختیار کیا بقائے باہمی اور اپنی اقدار سے وابستگی کا منطقی نتیجہ ترقی، خوشحالی اور عزت افزائی ہے ، مگر آج قوم کو ترقی کی راہ پر ڈھالنے کے لئے مثبت پالیسیاں مرتب کرنے کی بجائے ذاتی مفادات اور اقتدار کی ہوس اولین ترجیح بن چکی جب حالات یہ ہوں تو مماران قوم کی شخصیات کی نشوونما اور درپیش چیلنجز 
سے نبرد آزما کرنے کے لئے منصوبہ بندی کون کرے گا۔






                تحریر: راحت فاروق ایڈووکیٹ 
                 rahatfarooq4@gmail.com


یوں تو مادر وطن کی ہر صبح کا سورج اپنے ساتھ 
ہولناکیوں اور دل ہلا دینے والے حادثات و واقعات کے سات طلوع ہونا معمول ہی بن چکا ہے۔ نفسا نفسی اور مشکلات و مسائل سے گھری زندگی کی پریشانیوں سے نبرد آزما عوام اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ ہولناک واقعات و حادثات کی خبروں کو معمول کی خبریں سمجھ کر ہی دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کا خطہ نسبتاً پرامن سمجھا جاتا تھا کہ جو اپنی روایات ، وضع داری اور مخصوص تمدن و ثقافت کی بنیاد پر منفرد پہچان رکھنا اور جرائم کی شرح نہ ہونے نہ برابر تھی مگر حال ہی میں یونیورسٹی کی طالبہ کے قتل نے تمام ذمہ داران معاشرہ کے لیے کئی سوالیہ نشان کھڑے کردیئے اس واقعہ کو رونما ہوئے کئی دن گزر چکے میں دیکھتی رہی کہ شاید کسی جانب سے اپنی مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہونے کا احساس کرتے ہوئے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی جائے، مگر ایسا نہ ہوا آخر کار اس پر قلم اٹھانا پڑا ۔ اگر حقیقت کی نظر سے جائزہ لیا جائے تو ایسے واقعات کے رونما ہونے کے سب سے بڑے ذمہ دار والدین ہیں۔ کیونکہ بچوں کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے ایک ایک عمل پر نظر رکھنا اور انہیں بہترین تربیت سے آراستہ و پیراستہ کرنا والدین کی اولین ذمہ داری ہے ، یہی وجہ ہے کہ ماں کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ کہا گیا مگر آج بدترین المیہ ہے کہ پرتعیش زندگی کی ہوس نے ہماری ترجیحات کو بدل کر رکھ دیا ، بچوں کو مہنگے ترین اسکولوں میں داخل کروا کر انہیں ٹیوشن سینٹرز اور ٹیوٹرز کے حوالے کر کے والدین خود کو اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش سمجھتے ہیں یہ تجزیہ کرنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی جاتی کہ ہمارا بچہ کیسی صحبت میں اٹھتا بیٹھا ہے۔ پڑھائی میں کتنی دلچسپی لے رہا ہے۔ ٹی وی پر کیسے پروگرامز دیکھ رہا ہے اور یہ سب چیزیں اس کی شخصت پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہیں ایسی ہی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ایک دن ایسے حادثات کی صورت میں سامنے آتا ہے

کروتو علم کی سوداگری کرو

posted May 4, 2014, 4:03 PM by Zafar Iqbal   [ updated May 4, 2014, 4:04 PM ]

 

گو کہ والدین اور اساتذہ کا تال میل اور انکی مشترکہ کاوشوں سے ہی بچے کی بہتر تربیت و تعلیم ممکن ہے لیکن تین سال کا بچہ تو کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے، ایک اچھا استاد اور تعلیمی ماحول ہی اسکی اخلاقی تربیت ، سوچنے اور علم حاصل کرنے کی اہلیت و صلاحیت پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے، سکول میں بچے کی جانب سے کی جانیوالی ہر حرکت کی جگہ فائن تو والدین ادا کر دیتے ہیں لیکن اسی سکول کی جانب سے دیئے جانیوالے علم کے باعث اگر بچہ سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے ہی عاری ہو جائے تو اس کا جرمانہ تو آج تک کسی نے ادا نہیں کیا، داخلہ فارموں میں غیر ضروری سوالات لکھ کر جن بچوں کو پیدا ہوئے ابھی تین سال ہوئے ،دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے بھی عاری ہیں، انہیں مذہب، فرقے، نسل، قبیلے کی تفریقوں میں شعوری بنیادوں پر تقسیم اور نفرت اور حقارت کا درس دینے کا سلسلہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ پھر رزلٹ حاصل کرنے کیلئے جماعت چہارم اور پنجم میں ایک ہی کتابیں دو سال پڑھانا چہارم کی کتابیں ہی نصاب سے فارغ کر دینا، ہفتم کی کتابوں سے بھی یہی سلوک محض سکول کا رزلٹ حاصل کرنے کیلئے کیا جانا بچے کی بہتر تعلیم و تربیت کے کس زمرے میں آتا ہے؟ 
اس سب لوٹ مار کے بازار میں حصہ داری تو محکمہ تعلیم اور تعلیمی بورڈ کے حکام کی بھی ہو گی ہی ورنہ سرکاری سطح پر اس کا کوئی نہ کوئی قانون و ضابطہ ضرور طے کیا جا چکا ہوتا، نصاب کا فیصلہ اور یکساں نصاب تعلیم کو رائج کئے جانے کی راہ میں بھی یہی کاروبار رکاوٹ ہے، دوسری طرف جہاں تعلیم بنیادی انسانی حق و ضرورت ہے وہاں سرکاری طور پر تعلیم کے نام پر کیا جانیوالا مذاق تعلیم کو اہم اور منافع بخش کاروبار بنا چکا ہے ۔ جہاں بڑے پیمانے پر حکمران طبقات کے اپنے منافعوں کے حصول کا سلسلہ اسی کاروبار سے منسلک ہے وہاں چھوٹی سطح پر چھوٹے سوداگر بھی تعلیم کی سوداگری میں مصروف اس منافع بخش جنس کو فروخت کرتے ہوئے ایک ایسی نسل کو تعمیر کر رہے ہیں جو معاشرے میں تبدیلی اور ترقی کیلئے حقیقی کردار ادا کرنے کی بجائے حکمرانوں کی ہی مطیع اور فرمانبردار اور سوچنے، تحقیق کرنے کی صلاحیت 
سے عاری ہو۔
( مضمون نگار حارث قدیر ایک ترقی پسندصحافی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور جموں وکشمیرکی انقلابی انجمنوں کے ساتھ وابستہ ہوکرعوامی حقوق کے لیے مصروف عمل ہیں۔
رابطہ  : commrade2006@gmail.com )




بچوں کی بہتات، سرکاری تعلیمی اداروں کے نام پر تعلیمی جیل خانہ جات اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار کے سیاسی بیانات نے نجی تعلیمی اداروں کی بنیادوں کو جواز فراہم کر رکھا ہے، بچوں کے بہتر مستقبل کی خواہش اور سرکاری سطح پر تعلیم کی عدم فراہمی نے تعلیم کو ایک منافع بخش جنس بنا دیا ہے، اب اس آسان اور منافع بخش کاروبار میں مصروف دکانداروں کے مابین ایک مقابلہ بازی بھی زور وشور سے جاری ہے، جس نے دکانداروں کو منافع حاصل کرنے اور گاہکوں کو اپنی جانب مائل کرنے کیلئے مختلف طرح کے نصاب کو تدریس میں شامل کرنے کیساتھ ساتھ مارکیٹنگ کے نئے نئے انداز متعارف کروانے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔ منافعے کی ہوس میں نت نئے طریقے اپنائے جا رہے ہیں مثلاً سٹیشنری، یونیفارم سمیت نصاب تک دیگر تمام دکانداروں سے منفرد اور اپنے مخصوص برانڈ متعارف کرانے تک کے عوامل شامل ہیں جنکے منہ مانگے دام مقرر کر کے بے پناہ منافع حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ سب کام بڑی صفائی اور مہارت سے ہوتا ہے، جدید سائنسی تعلیم کے فروغ میں مصروف اور خوشحال نسل پروان چڑھانے کی انفرادی حیثیت کے حامل ان نجی تعلیمی اداروں میں پانچ سے دس ہزار روپے پر مامور انٹرمیڈیٹ یا گریجویٹ معلمات اپنی محنت بیچنے پر مجبور نظر آتی ہیں ، ان معلمات کے ساتھ روا رکھا جانیوالا سلوک ایک الگ ایشو کے طور پر موجود ہے۔ 
اپنے بچے کے حسین مستقبل کے خواب سجائے جب کوئی خاتون یا مرد کسی نجی تعلیمی ادارے کا رخ کرتا ہے تو اسکا بڑی خوش مزاجی سے استقبال کیا جاتا ہے اور اپنی ہی تعریفوں کے علاوہ سابقہ کارکردگیوں کی ایک داستان سناتے ہوئے ایک فارم تھما دیا جاتا ہے جس کے ساتھ ایک ہدایت نامہ بھی منسلک ہوتا ہے، ہدایت نامے پر غور فرمایا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ کرنا سب کچھ والدین اور بچے نے ہی ہے ادارے نے بچے کو کلاس میں بٹھانے اور چھ گھنٹے اس پر نظر رکھنے کے ہزاروں روپے ماہانہ
وصول کرنے ہیں، مثلاً ان ہدایات میں سے چیدہ چیدہ کچھ یوں ہیں کہ بچے کا اخلاق اگر اچھا نہ ہوا (جو بچہ ابھی تین یا ساڑھے تین سال کا ہے) تو ادارہ اسے فائن(جرمانہ) کریگا، بچے کا رزلٹ اچھا نہ آیا تو بھی فائن کیا جائیگا، بچے نے مسلسل تین امتحانات میں رزلٹ اچھا نہ دیا تو اسے سکول سے نکال دیا جائے گا، ادارہ سے والدین ماہانہ رپورٹ لینگے اور اگر بچے کی رپورٹ اچھی نہ ہوئی تو بھی فائن کیا جائیگا، اسی طرح کے اور بہت سارے قوائد و ضوابط ادارے میں ترتیب دیئے گئے ہوتے ہیں جن میں بال، ناخن، یونیفارم وغیرہ وغیرہ بارے ہدایات شامل ہیں، اب جو دعوے اور اعلانات دوران مارکیٹنگ نظر آرہے ہوتے ہیں ان سے یکسر الٹ حالت میں یہ ہدایات والدین کو تھما دی جاتی ہیں، کوئی سوال بھی نہیں کرتا کہ رزلٹ بچے کا گھر سے ہی تیار ہونا ہے تو سکول میں بھاری فیس اور دیگر لوازمات کے ساتھ اسقدر منافع پہنچانا کیونکر مقصود ہے؟ امتحانات میں پاس ہونے کی شرط سے اخلاقی تربیت اور کارکردگی کا انحصار بھی والدین پر ہی ہے تو بچہ کیا پانچ پانچ ہزار پر محنت بیچنے والی ان معلمات کی شکلیں دیکھنے کی اسقدر بھاری فیسیں ادا کریگا۔۔۔۔۔۔؟ 








تحریر:حارث قدیر

کاروبار کرنے کے کچھ بنیادی طریقہ ہائے واردات ہوا کرتے ہیں، کسی بھی بازار، قصبے یا شہر میں کوئی بھی نیا کاروبار کھولنے کیلئے اس مخصوص قطعہ اراضی پر موجود انسانوں کی ضروریات، خریدنے کی صلاحیت، موجود کاروباری اداروں میں ان ضروریات کو پورا کرسکنے کی صلاحیت اور منافعے کو مد نظر رکھ کر اپنی صلاحیتوں اور سرمائے کا تخمینہ لگاتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا مقصود ہوتا ہے کہ کون سا کاروبار شروع کیا جانا چاہیے جس سے کم اخراجات اور محنت سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے، پھر اس کاروبار کو شروع کرنے کیلئے ایک منفرد آئیڈیا ترتیب دیا جاتا ہے کہ لوگوں کو ایک نئی چیز دکھا کر اپنے کاروبار کی طرف مائل کیا جا سکے، لیکن سب سے بنیادی عنصر کسی بھی شے کو خریدنے کی جانب انسانوں کا رجحان، انکی قوت خرید اور مارکیٹ میں اس شے کے زیادہ سے زیادہ فروخت ہو سکنے کی گنجائش ہوا کرتا ہے، باقی سارے لوازمات بھی کامیاب کاروبار کے اہم محرکات میں سے ہیں لیکن انکی حیثیت ثانوی ہوتی ہے، لہٰذا ہمیں مختلف انواع و اقسام کے کاروباری مراکز اپنے منفرد انداز اور الگ الگ مارکیٹنگ پلان کے ساتھ دھندا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کچھ کاروبارایسے بھی ہوتے ہیں جن کی مارکیٹنگ اور انداز و اطوار سے عام لوگوں پر یہ تاثر بھی جاتا ہے کہ کاروبار کی بجائے فلاحی اور اصلاحی مقاصد ، نیکی و بھلائی کے جذبے سے سرشار ہو کر یہ آسمانی مخلوق خدمات کی انجام دہی سے معاشرے کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ 
بچہ انسان کا ہو یا جانور کا اسکی پرورش، دیکھ بھال، رزق تلاشنے کا طریقہ کار سکھایا جانا اور اسکی حفاظت کے ممکنہ اقدامات یہ دونوں جاندار اپنی بساط سے بڑھ کر کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں،انسان رزق تلاشنے کے سب سے احسن طریقے کو تعلیم اور ڈگریوں کے حصول سے منسلک کرتا ہے، اب تعلیم پر بات آئے تو عام سرکاری ذرائع ابلاغ، اساتذہ ، دانشور، سیاستدار وغیرہ وغیرہ جدید سائنسی تعلیم کے حصول کو ترقی کا راز گردانتے ہیں، مملکت خداداد پاکستان کے آئین میں تعلیم کو بنیادی حق اور مفت فراہم کرنے کے ہوائی اعلانات بھی موجود ہیں لیکن عملاً اگر کسی سرکار سکول کی حالت کو دیکھ لیا جائے تو شاید اس سے ایک پولیس تھانہ بہتر حالت میں نظر آئیگا، بڑی بڑی مونچھوں والا ڈنڈا بردار سپاہی ننھے منھے قیدیوں پر کتابوں پر لکھے حروف بزور طاقت مسلط کرنے میں مصروف جہد نظر آتا ہے جس سے طالب علم کم نفسیاتی مریض زیادہ پیدا ہوتے ہیں، نصاب بھی ایک بنیادی محرک ہے جو سرکاری سطح پر نونہالوں کو علم سے فیضیاب کرنے سے عاری، حفظ کر کے کاغذ پر اتاری جانیوالی چند ٹیڑھی میڑھی لکیروں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہی وہ بنیادی محرکات ہیں جو ایک فلاحی و اصلاحی نظر آنیوالے بے پناہ منافع بخش کاروبار کے آغاز کا باعث بنتے ہیں۔ جنکی حیثیت کو پھر انہی سرکاری ذرائع سے انسانی ذہنوں پر مسلط کیا جاتا ہے، اچھا مستقبل دینے کی خواہش اور کاروبار کی انفرادی حیثیت کو برقرار رکھنے کی مقابلہ بازی کے حسین امتزاج 
سے نسلوں کی بربادی کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ 

کیا پولیس کے لئے بھی قانون ہے

posted Apr 6, 2014, 2:06 PM by PFP Admin   [ updated Apr 6, 2014, 2:13 PM ]

دلچسپ بات یہ ہے کہ قانون کی رٹ لگانے والوں نے اس کیس میں لاقانونیت کی ایک ایسی مثال قائم کی جو تاریخ میں اس سے قبل نہیں ملتی کہ مستغیث خود ہی تفتیش کر رہا ہے۔ جہاں مدعی ہی منصف ہو وہاں انصاف کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ کس قدر لاقانونیت ہے کہ چوری کے اس کیس میں مستغیث مقدمہ ASIجاوید عباسی خود ہی اس کیس کی تفتیش بھی جاری رکھی ہوئی ہے جو پولیس کی تاریخ میں لاقانونیت کی ایک واضح مثال ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق زیر بحث مقدمہ پولیس کے آمرانہ اختیارات کی ایک بھیانک مثال بنتا دکھائی دیتا ہے۔ کیوں کہ یہ ایک ملزم کا قانونی حق ہے کہ اس کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تفتیش غیر جانبدارانہ اور شفاف بنیادوں پر ہو ۔ یہی بات CRPCاور پولیس رولز میں بھی گارنٹی کی گئی ہے ۔ لیکن حالیہ مقدمہ میں پولیس اہلکار خود ہی شکایت کنندہ ہے، خود ہی تفتیشی جب کہ ملزمان کو تفتیش کا غیر جانبدرانہ ماحول مہیا نہ کرنا غلامی اور جہالت پر مبنی نظام کا شاخسانہ ہے ۔ بالفرض محال اگر کسی شخص نے کوئی جرم کیا بھی ہوا ہو تو اس کے بیوی ، بچوں کو قیدی (Hostage)رکھ کر اصل مجرم کے گرد گھیرا تنگ کرنا تو دہشت گردی کے قانون کے تحت بھی روا نہیں ۔کسی مستغیث مقدمہ کا اپنے کیس میں تفتیشی کے پاس اپنا 161کا بیان قلمبند کروانا بعد ازاں مقدمہ چالان ہونے پر اپنا بیان اور غیر جانبدار شہادت کی بنیاد پر مقدمہ ثابت کرنا تو قانونی طور پر دُرست ہے لیکن اگر کوئی مستغیث خود ہی مقدمہ کی تفتیش کرے تو یقیناًہمارے مروجہ سماجی نظام میں سیاہ کو سفید کرنے کے لیے کلیتاً اختیارات حاصل کر لیتا ہے اور اپنے انتقام اور مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر کے انسانیت اور قانون کو مذاق بنا دیتا ہے۔ 
عالمی انسانی حقوق کے منشور کے دفعہ 5کے تحت کسی شخص کو جسمانی اذیت یا ظالمانہ، انسانیت سوز، یا ذلیل سلوک یا سزا نہیں دی جائے گی۔ دفعہ 9کے تحت کسی شخص کو محض حاکم کی مرضی پر گرفتار، نظر بند یا جلا وطن نہیں کیا جائے گا۔اور دفعہ 10کے تحت ہر ایک شخص کو یکساں طور پر حق حاصل ہے کہ اس کے حقوق و فرائض کے تعین یا اس کے خلاف عائد کردہ جرم کے مقدمے کی سماعت آزاد اور غیر جانبدار عدالت کے کھلے اجلاس میں منصفانہ طریقے سے ہو۔ مگر کیا عالمی اور ملکی قوانین کے مطابق بشیراں بی بی کو زیر حراست رکھا گیا؟ کیا اس مقدمہ میں انصاف کے تقاضے کیے گے۔۔۔۔۔۔؟ بشیراں بی بی کی نادگرہ گناہ کی سزا انصاف دلانے والے اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بھی ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں پریس فار پیس اور جموں کشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ نے اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، آئی جی آزاد کشمیر ،چیف جسٹس آف آزاد کشمیر و اعلیٰ حکام سے اس واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اور واقعہ کی تحقیقات کر کے اس کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
جب لہو بول پڑے اس کے گواہوں کے خلاف 
قاضی شہرہی کچھ اس باب میں ارشا د کرے 
اس کی مٹھی میں بہت روز رہا میرا وجود
میر ے ساحرے سے کہو اب مجھے آزاد کرے۔


اس مقدمے کی وجہ سے جہاں بشیراں بی بی جسمانی اور ذہنی طور پر ٹارچر ہوئی وہاں اس کے معصوم بچے گھر میں بلکتے رہے ہیں اور ماں کی غیر موجودگی میں ذہنی کرب میں مبتلا اپنا بچپن گزارنے پر مجبور اپنی ماں کو تلاشتے رہے ۔ اور بد قسمت بشیراں بی بی ذہنی اور جسمانی تشدد کی وجہ سے بشیراں بی بی فالج جیسی مہلک بیماری میں مبتلا زندگی اور موت کی کشمکش میں ڈسٹرکٹ ہستپال میں \"لاش \"بن گئی۔ بالآخراخبارات میں بشیراں بی بی کی قریب المرگ تصاویر شائع ہونے کے بعد اس کے بچوں کو اپنی والدہ کا علم ہوا کہ وہ باغ پولیس کے زیر حراست ہے ۔ جس پر اس کی بڑی بیٹی جس کی عمر تقریبا 18سال اور بیٹا جس کی عمر تقریبا14سال ہے اپنے ممتا کی محبت ڈھونڈتے باغ پہنچے ۔ بچوں کا کہنا ہے کہ پانچ ماہ سے قید ہماری والدہ کسی بھی چوری کی واردات میں ملوث نہیں بلکہ دھیر کوٹ پولیس کے اہلکار جاوید عباسی نے پولیس کے ہمرا ہ 27اکتوبر2013 ؁ء کو ہماری والدہ بشیراں بی بی کوبغیر کسی قانونی دستاویز کے گھر سے اُٹھا یا اور 15دن بعد ہم سے رابطہ کر کے3لاکھ طلب کیے گئے اور پیسے نہ ملنے پر ہمارے پورے خاندان کے خلاف FIRدرج کروا دی جسکی وجہ سے کوئی بھی ہما را شخص ادھر نہیں آیا ۔ گزشتہ دنوں اُس نے فون کیا کہ آپ کی والدہ کو فالج کا ایٹک ہو گیا ہے جس پر میں نے کسی سے ادھارے پیسے لیئے اور باغ آگئی ۔ ہمارے پا س نہ اپنا گھر ہے اور نہ ہی کوئی ذریعہ معا ش اور نہ ہی میرے والد یا کوئی رشتہ دارآج تک آزاد کشمیر آیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے والد پر اُس نے چوری کا الزام کیوں لگا یا جسکی وجہ سے پولیس میری والدہ کو گھر سے اُٹھا لی گئی ۔ 
اُنہوں نے بتایا کہ ہمارے والد ٹائل فکسنگ کا کراچی میں کام کر تے ہیں اور وہ آزاد کشمیر کبھی نہیں آئے ۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ جاوید عبا سی نے اُن پر چوری کا پر چہ کیوں درج کیا گیا اور ہمارے والد کا نام نذیر احمد ہے جبکہ پرچہ قاری نذیر احمد کے نام پر درج ہے جسے ہم نہیں جا نتے ۔جب پہلی بار یہ لوگ ہمارے گھر گئے تو جاوید عبا سی نے ہماری والدہ کو ہمارے سامنے تشد د کا نشانہ بنا یا اور ہم پر حملے شروع کر دیئے جس پر والدہ نے کہا کہ میں آ پ کے ساتھ چلنے کیلئے تیار ہوں ۔ آپ میرے بچوں کو کچھ نہ کہیں ۔ جب وہ والدہ کو ساتھ لئے آئے تو 15دن تک ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں ۔ پھر ایک دن جاوید عبا سی نے فون کیا کہ وہ ہمارے پاس ہے آپ مجھے 3لاکھ روپے دیں اور اُس کو لے جائیں اور پھر بعد میں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ جاوید عباسی نے ہمارے پورے خاندان کے خلاف FIRدرج کروا رکھی ہے جسکی وجہ سے ہمارے خاندان کا کوئی بھی شخص آزاد کشمیر نہیں جا سکتا تھا ۔ 5ماہ سے ہماری والدہ جیل میں پڑی ہوئی ہے اُس کو ذہنی ٹارچر کیا گیا جسکی وجہ سے وہ فالج اور شوگر جیسے امراض میں مبتلا ہو چکی ہے ۔ آخری اطلاعات کے مطابق بشیراں بی کو ہسپتالال انتظامیہ نے جگہ نہ ہونے اور اس کی مرض کا یہاں علاج ممکن نہ ہونے کا کہ کر ڈسچارج کر دیا اور اس کواوراس کو دیکھنے کے لئے آنے والے بچوں کو ایک بار پھر جاوید عباسی کے حوالے کر دیا گیا ہے وہ اس کو راولپینڈی لے جا کر علاج کروئے اب وہ بشیراں بی اس کے بچوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے ؟اگر ان بچوں کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کا ذمدار کون ہو گا؟

 تحریر؛ محمد شوکت خان تیمور 

انصاف انسانی معاشرے کی ترقی کے لئے بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اس کے حصول کے لئے ملکی وعا لمی سطح پر قوانین بنائے گئے ہیںیہ قوانین معاشرے کے تمام طبقوں کو یکساں انصاف مہیا کرتے ہیں لیکن بشیراں بی کیس میں ہمیں کچھ اور ہی نظر آتا ہے اس کی وجہ ہمارے معاشرے میں وہ اختیارات ہیں جو انصاف کے راستے میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں دور کر نے کے لئے استعمال ہونے چاہئے وہ اپنی ذات کے لئے کئے جاتے ہیں جس کی واضع مثال دھیرکوٹ پولیس کے اہلکارجاوید عباسی نے اپنے گھر سے 8تولے سونے کے زیور چوری کرنے الزام میں ایک مزدور نذیر احمد قوم بھٹی سکنہ کچی آبادی کبیر والا سائیوال پاکستان پر عائد کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی اور ملزم کی گرفتاری کے لیے ساہیوال پولیس سے مل کر چھاپہ مارا ۔جہاں نذیر احمد گھر پر نہ تھا اور نذیر احمد کے جرم میں اس کی بے گناہ بیوی بشیراں بی بی (عمر55سال) کو اٹھا لیا۔ بشیراں بی بی جو کہ 4بچوں کی ماں ہے اسے اس کے شوہر نذیر احمد کے ساتھ مقدمے میں شامل کر دیا گیا ۔ 
جس کا اس جرم سے قطعی طور پر کوئی واسطہ ہی نہ تھا۔ اور بے گناہ بشیراں بی بی پر فرد جرم عائد کرنے کے بعد زیر دفعہ 419/420اور 467/468تحصیل فوجداری عدالت دھیرکوٹ میں چالان پیش کر دیا۔ بشیراں بی بی 5ماہ سے جھوٹے مقدمے میں جیل کاٹ رہی ہے ۔ پانچ ماہ سے ذہنی اور جسمانی تشدد کی وجہ سے بشیراں بی بی فالج کی مریضہ بن گئی اور اس وقت ڈسٹرکٹ ہسپتال باغ میں زیر علاج ہے۔ مظلوم عورت کی مدد کے کرنے کے لیے دھیرکوٹ کے ہی ایک رہائشی نے بشیراں بی بی رہائی کے لیے آواز بلند کی اور ضمانت دینے کی کوشش کی مگر اس کو بھی اس پولیس اہلکار نے تشد د کا نشانہ بنا کر اپنے راستے سے ہٹا دیا۔ اس کے بعد کسی بھی شخص کی جرت نہ ہو سکی کہ وہ بے گناہ بشیراں بی بی کو رہا کروا سکے۔ اس طرح 5ماہ سے غیر قانونی طور پر قید بشیراں بی بی کو جعلی مقدمے میں پھنسا کر اس معاملے کو قانونی بنانے کی کوشش کی گئی ۔ 

کاش ۔۔۔۔میں بھی رئیوونڈ کا مور ہوتا!

posted Mar 24, 2014, 2:12 PM by PFP Admin   [ updated Mar 25, 2014, 11:14 AM ]

وہاں کے مکینوں کا واحدذریعہ معاش مال مویشی تھے نہ صرف انسان بلکہ مال مویشی بھی بدترین قحط کا شکار ہوئے میں کئی دن تک سوچتی رہی کہ اس موضوع پر لکھا جائے لیکن قارئین کرام! اگر سچ کہوں تو ان دل دہلا دینے والے مناظر کو دیکھ کر حوصلہ ہی نہ ہوا کہ قلم اٹھانے کی جسارت کر سکوں ہر لمحہ یہی سوال دل اور ذہن پر کچوکے لگاتا رہا کہ بحیثیت قوم ہم بے حسی کی اس انتہا پر پہنچ چکے کہ محسوس ہوتا ہے کہ ضمیر نام کی کوئی چیز ہمارے اندر نہیں رہی اور حکمرانوں کے توکیا کہنے؟ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا تعلق سید گرانے سے ہے جو حضور اکرمؐ کی آل میں سے ہیں میں نہیں جانتی کہ ان کی حکمرانی میں سک سک کر جان دینے والے ان معصوم بچوں کا خون ان کی گردن پر ہے وہ اس بوجھ کے ساتھ اپنے حلق سے اتنے بر تکلف کھانے کیسے اتارتے ہیں انہیں نیند کس طرح آتی ہے اور بروز حشر جنؐ کی آل سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کے سامنے کیا جواب دیں گے وہ تو بھلا ہو میڈیا کا!۔ جس کی وجہ سے راتوں رات حکمرانوں ، این جی اوز اور مخیر حضرات نے صحرائے تھر کا رخ کیا ورنہ نہ جانے اور کتنی جانیں لقمہ اجل بن جاتیں ابھی یہ سلسلہ کنڑول نہ ہو سکا آج بھی مزید تین اموات ہوئیں یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ قحط مصنوعی طور پر پیدا کیا گیا گندم بروقت حکام کے حوالے کر دی گئی مگر تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے اس نقصان کا سامنا کر نا پڑا پھر اس مجرمانہ لاپروائی کے مرتکب ذمہ داران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟؟ جس سے دوسرے لوگ سبق سیکھتے وزیر اعظم پاکستان نے دورہ تھر کے دورا ن پر تکلف ظہرانے سے انکار کرکے تھر کے باسیوں سے اظہار یکجہتی کیا اور سو کر وڑ امداد نقد متاثرین کو مہیا کرنے کا اعلان کیا اگرچہ یہ امداد ان زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتی جو اپنے پیاروں کو کھو کر تھر کے مکینوں کو ملے مگر مشکل اور سخت ترین حالات میں زندگی گزارنے والے تھر کے باسیوں کے لئے زندگی کی سے سے بری خوشی پیٹ بھر کر کھانا مہیا ہونا ہے اس امداد کو شفاف طریقے سے متاثرین تک پہنچا کر کچھ حد تک ان مشکلات میں کمی متوقع ہے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اب تھر کے علاوہ دوسرے اضلاع جن میں سانگھڑ، عمر کوٹ، میر پور خاص اور بدین بھی اس قحط کی لپیٹ میں آنے کا خدشہ ہے اور پنجاب کے صحرا چولستان میں بھی لاتعداد مویشی قحط کی بھینٹ چڑھ چکے ڈھائی سو قیمتی جانوں کا ضیاع پہلے ہی پوری دنیا میں بری طرح پاکستان کی بدنامی کا باعث بن چکا اب بارڈر ایریاز کے قریب گندم کی سملنگ کو روک کر ایسے تمام علاقے جہاں قحط کی وارننگ ہے وہاں بچاؤ کے اقدامات کیے جانے وقت کی اہم ضرورت ہے ورنہ یہ معصوم جانیں سوال کناں رہیں گی کہ کاش ہم صحرائے تھر یا چولستان میں پیدا ہونے کے بجائے رائیونڈ کے مور ہوتے تو ہماری زندگی اور جان کی قیمت اتنی ارزاں نہ ہوتی۔

عکس خیال

تحریر:۔ راحت فاروق ایڈووکیٹ 
rahatfarooq4@gmail.com 

میں ابھی پورے طور سے ماحول سے آشنائی نہ کر پائی تھی کہ مجھے اپنا دامن ایک طرف سے کھنچتا ہوا محسوس ہوا تو میں نے ہڈیوں کے ڈھانچے پر کھنچی جلد کے ساتھ ایک معصوم بچے کا سراپہ دیکھا جو اپنے چہرے پر معصومیت سے زیادہ بھوک اور پیاس کے اثرات سمیٹے ہوئے تھا ا گرچہ وہ اتنا چھوٹا تھا کہ شاہد اس دنیا میں وہ اپنی زبان سے کوئی بات بھی نہ کر پاتا اور میں اس کی غوں غاں کو اپنی ممتاکے ناطے سمجھ سکتی مگر حقیقت یہ ہے کہ بچے معصوم ہوتے ہیں دنیا سے رحلت کے بعد بھی عالم ارواح سے وہ ہمارے درمیان موجود ہوتے ہیں مگر دنیا کے بڑے زرعی ممالک میں شمار ہونے والا، دودھ کی پیدوار میں پانچواں بڑا اور جملہ اجناس و خوراک میں خود کفیل مادر وطن پاکستان کا23ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلا کم و بیش12لاکھ افراد پر مشتمل آبادی والے ضلع تھر میں ڈھائی سو کے قریب معصوم بچوں نے بھوک و پیاس سے نڈھال ہو کر دانستہ پیدا کردہ قحط کا شکار ہو کر بلک بلک کر ایڑیاں رگڑ کر جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ وزیر اعظم پاکستان کی رہائش گاہ جاتی عمرہ میں ڈیوٹی پر معمور پولیس افسروں کی غفلت کی وجہ سے ایک جنگلی بلا داخل ہوا اور انتہائی قیمتی مور کو کھا گیا جس کے نتیجے میں21پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے گئے اور پولیس فورس کو حکم دیا گیا کہ جنگل میں آپریشن کیا جائے اور مجرم بلے کو زندہ یا مردہ کسی بھی حالت میں گرفتار کر کے دربار میں حاضر کیا جائے ضلع تھر کے قحط میں سک سک کرہم جان دینے والوں نے عالم ارواح سے جب سے یہ منظر دیکھا تو دل میں یہ حسرت پیدا ہوئی ہے کہ کاش ہم صحرائے تھر میں پیدا ہونے کی بجائے رائیونڈ کے مور ہوتے تو 2008سے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر برا جمان سید قائم علی شاہ ان کی کابینہ ، خصوصاََ وزارت صحت اور اس کے تمام ذمہ داران جن کی گردن پر ڈھائی سو معصوم جانوں کا خون ہے وہ آج ان عہدوں پر براجمان نہ ہوتے بلکہ انہیں ان عہدوں سے فارغ کر کے لی گئیں تمام تنخواہیں اور مراعات واپس لے کر ان کی ملکیتی جائیدادوں کو بھی بطور سزا فروخت کر کے تھر میں ایسے اقدامات کیے جاتے کہ آئندہ کوئی ننھی جان بھوک اور پیاس کا شکار ہو کر اس دنیا سے رخصت نہ ہوتی گزشتہ کئی دنوں سے اخبارات دل دہلا دینے والے واقعات اور دلخراش تصویروں سے بھرے پڑے ہیں۔
 کی مرتے لمحے ٹھہری ہوتی آنکھوں میں پوری قوم اور خصوصاََ حکمرانوں سے کئی جن سوال پنہاں ہیں کہ ہم نے اس ملک میں پیدا ہو کر کیا گناہ کیا جس کی انتی بھیانک سزا ملی کہ عوام کے خون پیسے کی کمائی سے پرتعیش زندگی گزارنے والے اور ہرن کے کوفتے اور انواع و اقسام کے انتہائی پر تکلف کھا نوں سے لطف اندوز ہونے والے حکمرانوں کی ناک کے نیچے معصوم بچے بلک بلک کر جان دیتے رہے اور انہوں نے خبر تک نہ لی تین ماہ پہلے سے یہ تنبیہ تھی کہ تھر کے علاقے میں بدترین قحط کا خدشہ ہے مگر انتہائی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی اقدامات نہ کیے گئے اور
گلستان حیات کی شادابی معصوم بچوں کی کلکاریوں ،سووزیاں کی فراستوں سے بے نیاز قہقوں سے سجتی ہے اور اس امر سے بھی انکار نہ ہے کہ بچے بچے ہوتے ہیں وہ گھر گھر نہیں خانہ دیو لگتا ہے۔ جہاں ان ننھے فرشتوں کے آواز ے بلند نہ ہوتے ہوں ہر باشعور قوم اورمعاشرہ اپنے مستقبل کے ان نونہالوں کو سردو گرم تھپیڑوں سے بچا کر پروان چڑھانے کو ترجیح دیتا ہے کہ اقوام عالم میں سر بلند ہو سکے اور جس کسی نے جب بھی اس سے غفلت برتی اسے قعر مذلت کی پہنائیوں سے چھٹکارا نہ ملا۔ دست قضا کبھی انہیں ہم سے جدا بھی کر دے تو وہ اپنی معصومیت کے ساتھ آسمان زندگی پر ٹمٹما کر اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہتے ہیں نوخیز کلیوں کے شاخ نہال سے نوچے جانے کا دکھ اور بھی بڑ ھ جاتا ہے اگر ایسا بھوک او رپیاس کے سبب ایسے معاشرہ میں جو دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت ہونے کی دعویدار قسمت کے عطا کر دہ وافر وسائل کے اعتبار سے کسی بھی پہلو سے کم نہ ہواور ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے غلے کی ایک بڑی تعداد سمگل ہو کر افغانستان سے پار وسطی ایشائی ریاستوں تک جاتی ہے تو دوسری طرف ہندوستان کی سرحدی ریاستیں(بادر ہے کہ ہندوستان میں صوبے کو ریاست کہتے ہیں) اس سے اپنی ضرورت پوری کرتی ہے۔ تھرمیں برپا قحط کی ہولناکیاں اب کسی سے پوشیدہ نہیں اللہ بھلا کرے نجی ٹی وی والوں اور پریس کا جس نے سب اچھا کا پردہ چاک کیا اور اس انسانی بے حسی کے المیہ کی طرف درمندان قوم کی توجہ دلائی، بروقت اور سرعت رفتاری سے مثبت اقدامات کرنے کی بجائے ایک بار پھر فوٹو سٹیشن اور ٹی وی کوریج نے حکمران طبقے کی بے حسی کو بے نقاب کر کے عوام دوستی کا پول کھولا تو سند ھ کابینہ کے متاثرہ علاقے کے دورہ کے موقعہ پر کیے گئے اقدامات کا احوال روتی آنکھوں کو سیلاب دے گیا ابھی اس صدمے سے نہ سنبھلے تھے کہ بے حسی کے تابوت میں ایک آخری کیل ٹھکا ۔ سکون غارت ہو گیا جب عالم نیم خوابی میں، میں نے خود کو قحط زدہ علاقے میں 
بھوک اور پیاس سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑتے بچوں میں پایا۔
وزیر اعظم پاکستان کی رہائش گاہ جاتی عمرہ میں ڈیوٹی پر معمور پولیس افسروں کی غفلت کی وجہ سے ایک جنگلی بلا داخل ہوا اور انتہائی قیمتی مور کو کھا گیا جس کے نتیجے میں21پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے گئے اور پولیس فورس کو حکم دیا گیا کہ جنگل میں آپریشن کیا جائے



1-10 of 46