تحقیق وتصنیف

اپنی تحریریں اس ای میل پر بھیج سکتے ہیں 
info@pressforpeace.org.uk
پریس فار پیس کے شعبہ تحقیق و تصنیف کے ویب پیج پہ ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ اس صفحے پر تحقیقی مضامین ، مراسلے اور مقالے شائع کئے جاتے ہیں ۔ پریس فار پیس 
کا لکھنے والوں کر آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

ایک معصوم بچے کا قتل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذمہ دار کون ۔۔۔؟

posted May 4, 2014, 4:33 PM by Zafar Iqbal   [ updated May 4, 2014, 4:41 PM ]

 

مغربی میڈیا کی یلغار بھی اس طرح کے واقعات کی ایک
 بڑی وجہ ہے۔ مغربی اور بھارتی ثقافت ہماری رگ پے ہیں اس طرح سرایت کر چکی کہ ہم اپنے مدہب، اسلامی تعلیمات، اپنی روایات اور کلچر کو بھول چکے اور وہ ثقافت ہم پر حاوی ہو چکی ، اس حوالے سے پیمرا اور ٹی وی مالکان کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی ہوں گی۔ ہم میں سے ہر شخص چاہے والدین ہوں، اساتذہ ہوں، اکابرین معاشرہ ہوں یا میڈیا کے نمائندگان، اپنی آنے والی نسلوں کو معاشرے اور ملک کا بہترین اور مفید شہری بنانے کے لئے اپنی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہو گا۔ یہی واحد صورت ہے ، جس سے معاشرتی انتشار کو قابو کیا جا سکتا ہے۔ ہر صبح ہنوز شب گزیدہ ہے۔ لیکن سیاہ بادلوں کے اس پار ابھرتی ہوئی سفیدی امید کو زود نہیں ہونے دیتی ہم سب بہت سی غفلتوں کے مرتکب ہو رہے ہیں جن کی وجہ سے ہماری آنے والی نسلیں بے راہ روی کا شکار ہو چکی ہیں۔ لیکن اس دھرتی کی مٹی زرخیز ہے ، اس میں بہت سا نم باقی ہے اس کی باد نمو ابھی بابجھ نہیں ہوئی ۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر کے اپنی نئی نسل کو صراط مستقیم پر چلانا ہو گا۔ ان کی راہوں میں بکھرے سنگریزوں کو ہٹانا ہو گا۔ تا کہ بہتر منزل کی طرف پیش قدمی ہو سکے۔ اس سے پہلے کہ دست قضا بڑھکر تقدیر کے قاضی کا فیصلہ ہم پر نافد کر کے ہمیں اور راق تاریخ پر بطور نشان عبرت ثبت کر دے۔ اور تلافی مافات کی مہلت نہ ملے۔ آگے بڑھیے اور انعم جیسے انعام کی ناقدری والے ہاتھوں کی پیدائش کی راہوں 
کو مسدور کر دیجیے۔






 

والدین کے بعد معاشرے میں بڑھتی بے چینی اور انتشار کے ذمہ دار اساتذہ ہیں۔ کیونکہ علم روشنی ہے ایسی روشنی جو اپنا راستہ خود تراشتی ہے ، جو قلوب علم کی روشنی سے منور ہوں ، وہاں ظلمتوں کا وجود ناپید ہوتا ہے یہ روشنی سینہ بہ سینہ بڑھتی چلی جاتی ہے ، پورا معاشرہ استادکے گرد گھومتا ہے۔ استاد کی حیثیت ایک جوہری کی سی ہے جس کے ہاتھوں سنگ پارس بنتا ہے اور لوھا سونے کا روپ دھارتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ استاد کو معمار قوم کہا جاتا ہے کیونکہ جب استاد ایک طالب علم کو زیور علم سے آراستہ کرتا ہے تو در حقیقت ایک خاندان میں اپنی عزت و توقیر کا پرچم لہراتا ہے مگر آج بدقسمتی سے تعلیم کا پیشہ یا تو سیاست کی نذر ہو چکا یا محض پیسے کمانے کا ایک ذریعہ بن چکا۔ بچے بھاری بھر کم بیگز کے نیچے دبے ہوئے اسکول پہنچتے ہیں جہاں محض سلیبس کو مکمل کرنے کی دوڑ تک تعلیم محدود ہوتی ہے۔ سلیبس بھی ایسا جو امیر کے بچوں کے لئے الگ، غریب کے بچوں کے لئے الگ، جو صحیح معنوں میں عصری ضرورتوں سے بے نیاز اور اسلامی تعلیمات سے مزین اور جدید وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے کی بناء پر بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کرنے سے قاصر ہے۔ قوم کی بیداری کے لئے عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ یکساں تعلیمی نصاب اولین شرط ہے یہ اساتذہ کرام کی ہی کوششیں تھیں جن کی بدولت علم کی قندیل سے ملت کے مقدر کے وہ ستارے روشن ہوئے جن کو عالمی افق پر قائداعظم ؒ ، علامہ اقبال اور چوہدری رحمت علی کے نام سے جانا گیا مگر آج اساتذہ کرام کے پیشہ وارانہ فرائض کے جذبے سے عاری ہونے اور پیشے پر سیاست کے حاوی ہونے کی وجہ سے تعلیم کے ساتھ تربیت کا وجود کہیں نظر نہیں آتا یہ غفلت آخر کار ایسے سانحات کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ 
معاشرے کا برسراقتدار طبقے پر بھی ایسے حادثات کی پوری ذمہ داری عائد ہوتی ہے آسمانی رفعتوں کو چھونا انہی قوموں کا مقدر ٹھہرتا ہے جن قوموں کے رہنما ذاتی خواہشات کو قوم کی ضروریات پر قربان کر دیتے ہیں ، اور اپنا کاٹھ بلند کرنے کے بجائے قوم کا قد بڑھانے کے جذبے کے ساتھ بلند اخلاق اور اعلیٰ سوچوں کے حامل ہوتے ہیں وہی قومیں ترقی کر سکتی ہیں ، جنہوں نے مثبت اور تعمیری فکر و عمل اختیار کیا بقائے باہمی اور اپنی اقدار سے وابستگی کا منطقی نتیجہ ترقی، خوشحالی اور عزت افزائی ہے ، مگر آج قوم کو ترقی کی راہ پر ڈھالنے کے لئے مثبت پالیسیاں مرتب کرنے کی بجائے ذاتی مفادات اور اقتدار کی ہوس اولین ترجیح بن چکی جب حالات یہ ہوں تو مماران قوم کی شخصیات کی نشوونما اور درپیش چیلنجز 
سے نبرد آزما کرنے کے لئے منصوبہ بندی کون کرے گا۔






                تحریر: راحت فاروق ایڈووکیٹ 
                 rahatfarooq4@gmail.com


یوں تو مادر وطن کی ہر صبح کا سورج اپنے ساتھ 
ہولناکیوں اور دل ہلا دینے والے حادثات و واقعات کے سات طلوع ہونا معمول ہی بن چکا ہے۔ نفسا نفسی اور مشکلات و مسائل سے گھری زندگی کی پریشانیوں سے نبرد آزما عوام اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ ہولناک واقعات و حادثات کی خبروں کو معمول کی خبریں سمجھ کر ہی دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کا خطہ نسبتاً پرامن سمجھا جاتا تھا کہ جو اپنی روایات ، وضع داری اور مخصوص تمدن و ثقافت کی بنیاد پر منفرد پہچان رکھنا اور جرائم کی شرح نہ ہونے نہ برابر تھی مگر حال ہی میں یونیورسٹی کی طالبہ کے قتل نے تمام ذمہ داران معاشرہ کے لیے کئی سوالیہ نشان کھڑے کردیئے اس واقعہ کو رونما ہوئے کئی دن گزر چکے میں دیکھتی رہی کہ شاید کسی جانب سے اپنی مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہونے کا احساس کرتے ہوئے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی جائے، مگر ایسا نہ ہوا آخر کار اس پر قلم اٹھانا پڑا ۔ اگر حقیقت کی نظر سے جائزہ لیا جائے تو ایسے واقعات کے رونما ہونے کے سب سے بڑے ذمہ دار والدین ہیں۔ کیونکہ بچوں کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کے ایک ایک عمل پر نظر رکھنا اور انہیں بہترین تربیت سے آراستہ و پیراستہ کرنا والدین کی اولین ذمہ داری ہے ، یہی وجہ ہے کہ ماں کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ کہا گیا مگر آج بدترین المیہ ہے کہ پرتعیش زندگی کی ہوس نے ہماری ترجیحات کو بدل کر رکھ دیا ، بچوں کو مہنگے ترین اسکولوں میں داخل کروا کر انہیں ٹیوشن سینٹرز اور ٹیوٹرز کے حوالے کر کے والدین خود کو اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش سمجھتے ہیں یہ تجزیہ کرنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی جاتی کہ ہمارا بچہ کیسی صحبت میں اٹھتا بیٹھا ہے۔ پڑھائی میں کتنی دلچسپی لے رہا ہے۔ ٹی وی پر کیسے پروگرامز دیکھ رہا ہے اور یہ سب چیزیں اس کی شخصت پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہیں ایسی ہی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ایک دن ایسے حادثات کی صورت میں سامنے آتا ہے

کروتو علم کی سوداگری کرو

posted May 4, 2014, 4:03 PM by Zafar Iqbal   [ updated May 4, 2014, 4:04 PM ]

 

گو کہ والدین اور اساتذہ کا تال میل اور انکی مشترکہ کاوشوں سے ہی بچے کی بہتر تربیت و تعلیم ممکن ہے لیکن تین سال کا بچہ تو کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے، ایک اچھا استاد اور تعلیمی ماحول ہی اسکی اخلاقی تربیت ، سوچنے اور علم حاصل کرنے کی اہلیت و صلاحیت پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے، سکول میں بچے کی جانب سے کی جانیوالی ہر حرکت کی جگہ فائن تو والدین ادا کر دیتے ہیں لیکن اسی سکول کی جانب سے دیئے جانیوالے علم کے باعث اگر بچہ سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے ہی عاری ہو جائے تو اس کا جرمانہ تو آج تک کسی نے ادا نہیں کیا، داخلہ فارموں میں غیر ضروری سوالات لکھ کر جن بچوں کو پیدا ہوئے ابھی تین سال ہوئے ،دنیا کو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے بھی عاری ہیں، انہیں مذہب، فرقے، نسل، قبیلے کی تفریقوں میں شعوری بنیادوں پر تقسیم اور نفرت اور حقارت کا درس دینے کا سلسلہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ پھر رزلٹ حاصل کرنے کیلئے جماعت چہارم اور پنجم میں ایک ہی کتابیں دو سال پڑھانا چہارم کی کتابیں ہی نصاب سے فارغ کر دینا، ہفتم کی کتابوں سے بھی یہی سلوک محض سکول کا رزلٹ حاصل کرنے کیلئے کیا جانا بچے کی بہتر تعلیم و تربیت کے کس زمرے میں آتا ہے؟ 
اس سب لوٹ مار کے بازار میں حصہ داری تو محکمہ تعلیم اور تعلیمی بورڈ کے حکام کی بھی ہو گی ہی ورنہ سرکاری سطح پر اس کا کوئی نہ کوئی قانون و ضابطہ ضرور طے کیا جا چکا ہوتا، نصاب کا فیصلہ اور یکساں نصاب تعلیم کو رائج کئے جانے کی راہ میں بھی یہی کاروبار رکاوٹ ہے، دوسری طرف جہاں تعلیم بنیادی انسانی حق و ضرورت ہے وہاں سرکاری طور پر تعلیم کے نام پر کیا جانیوالا مذاق تعلیم کو اہم اور منافع بخش کاروبار بنا چکا ہے ۔ جہاں بڑے پیمانے پر حکمران طبقات کے اپنے منافعوں کے حصول کا سلسلہ اسی کاروبار سے منسلک ہے وہاں چھوٹی سطح پر چھوٹے سوداگر بھی تعلیم کی سوداگری میں مصروف اس منافع بخش جنس کو فروخت کرتے ہوئے ایک ایسی نسل کو تعمیر کر رہے ہیں جو معاشرے میں تبدیلی اور ترقی کیلئے حقیقی کردار ادا کرنے کی بجائے حکمرانوں کی ہی مطیع اور فرمانبردار اور سوچنے، تحقیق کرنے کی صلاحیت 
سے عاری ہو۔
( مضمون نگار حارث قدیر ایک ترقی پسندصحافی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور جموں وکشمیرکی انقلابی انجمنوں کے ساتھ وابستہ ہوکرعوامی حقوق کے لیے مصروف عمل ہیں۔
رابطہ  : commrade2006@gmail.com )




بچوں کی بہتات، سرکاری تعلیمی اداروں کے نام پر تعلیمی جیل خانہ جات اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار کے سیاسی بیانات نے نجی تعلیمی اداروں کی بنیادوں کو جواز فراہم کر رکھا ہے، بچوں کے بہتر مستقبل کی خواہش اور سرکاری سطح پر تعلیم کی عدم فراہمی نے تعلیم کو ایک منافع بخش جنس بنا دیا ہے، اب اس آسان اور منافع بخش کاروبار میں مصروف دکانداروں کے مابین ایک مقابلہ بازی بھی زور وشور سے جاری ہے، جس نے دکانداروں کو منافع حاصل کرنے اور گاہکوں کو اپنی جانب مائل کرنے کیلئے مختلف طرح کے نصاب کو تدریس میں شامل کرنے کیساتھ ساتھ مارکیٹنگ کے نئے نئے انداز متعارف کروانے پر بھی مجبور کر دیا ہے۔ منافعے کی ہوس میں نت نئے طریقے اپنائے جا رہے ہیں مثلاً سٹیشنری، یونیفارم سمیت نصاب تک دیگر تمام دکانداروں سے منفرد اور اپنے مخصوص برانڈ متعارف کرانے تک کے عوامل شامل ہیں جنکے منہ مانگے دام مقرر کر کے بے پناہ منافع حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ سب کام بڑی صفائی اور مہارت سے ہوتا ہے، جدید سائنسی تعلیم کے فروغ میں مصروف اور خوشحال نسل پروان چڑھانے کی انفرادی حیثیت کے حامل ان نجی تعلیمی اداروں میں پانچ سے دس ہزار روپے پر مامور انٹرمیڈیٹ یا گریجویٹ معلمات اپنی محنت بیچنے پر مجبور نظر آتی ہیں ، ان معلمات کے ساتھ روا رکھا جانیوالا سلوک ایک الگ ایشو کے طور پر موجود ہے۔ 
اپنے بچے کے حسین مستقبل کے خواب سجائے جب کوئی خاتون یا مرد کسی نجی تعلیمی ادارے کا رخ کرتا ہے تو اسکا بڑی خوش مزاجی سے استقبال کیا جاتا ہے اور اپنی ہی تعریفوں کے علاوہ سابقہ کارکردگیوں کی ایک داستان سناتے ہوئے ایک فارم تھما دیا جاتا ہے جس کے ساتھ ایک ہدایت نامہ بھی منسلک ہوتا ہے، ہدایت نامے پر غور فرمایا جائے تو معلوم پڑتا ہے کہ کرنا سب کچھ والدین اور بچے نے ہی ہے ادارے نے بچے کو کلاس میں بٹھانے اور چھ گھنٹے اس پر نظر رکھنے کے ہزاروں روپے ماہانہ
وصول کرنے ہیں، مثلاً ان ہدایات میں سے چیدہ چیدہ کچھ یوں ہیں کہ بچے کا اخلاق اگر اچھا نہ ہوا (جو بچہ ابھی تین یا ساڑھے تین سال کا ہے) تو ادارہ اسے فائن(جرمانہ) کریگا، بچے کا رزلٹ اچھا نہ آیا تو بھی فائن کیا جائیگا، بچے نے مسلسل تین امتحانات میں رزلٹ اچھا نہ دیا تو اسے سکول سے نکال دیا جائے گا، ادارہ سے والدین ماہانہ رپورٹ لینگے اور اگر بچے کی رپورٹ اچھی نہ ہوئی تو بھی فائن کیا جائیگا، اسی طرح کے اور بہت سارے قوائد و ضوابط ادارے میں ترتیب دیئے گئے ہوتے ہیں جن میں بال، ناخن، یونیفارم وغیرہ وغیرہ بارے ہدایات شامل ہیں، اب جو دعوے اور اعلانات دوران مارکیٹنگ نظر آرہے ہوتے ہیں ان سے یکسر الٹ حالت میں یہ ہدایات والدین کو تھما دی جاتی ہیں، کوئی سوال بھی نہیں کرتا کہ رزلٹ بچے کا گھر سے ہی تیار ہونا ہے تو سکول میں بھاری فیس اور دیگر لوازمات کے ساتھ اسقدر منافع پہنچانا کیونکر مقصود ہے؟ امتحانات میں پاس ہونے کی شرط سے اخلاقی تربیت اور کارکردگی کا انحصار بھی والدین پر ہی ہے تو بچہ کیا پانچ پانچ ہزار پر محنت بیچنے والی ان معلمات کی شکلیں دیکھنے کی اسقدر بھاری فیسیں ادا کریگا۔۔۔۔۔۔؟ 








تحریر:حارث قدیر

کاروبار کرنے کے کچھ بنیادی طریقہ ہائے واردات ہوا کرتے ہیں، کسی بھی بازار، قصبے یا شہر میں کوئی بھی نیا کاروبار کھولنے کیلئے اس مخصوص قطعہ اراضی پر موجود انسانوں کی ضروریات، خریدنے کی صلاحیت، موجود کاروباری اداروں میں ان ضروریات کو پورا کرسکنے کی صلاحیت اور منافعے کو مد نظر رکھ کر اپنی صلاحیتوں اور سرمائے کا تخمینہ لگاتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا مقصود ہوتا ہے کہ کون سا کاروبار شروع کیا جانا چاہیے جس سے کم اخراجات اور محنت سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے، پھر اس کاروبار کو شروع کرنے کیلئے ایک منفرد آئیڈیا ترتیب دیا جاتا ہے کہ لوگوں کو ایک نئی چیز دکھا کر اپنے کاروبار کی طرف مائل کیا جا سکے، لیکن سب سے بنیادی عنصر کسی بھی شے کو خریدنے کی جانب انسانوں کا رجحان، انکی قوت خرید اور مارکیٹ میں اس شے کے زیادہ سے زیادہ فروخت ہو سکنے کی گنجائش ہوا کرتا ہے، باقی سارے لوازمات بھی کامیاب کاروبار کے اہم محرکات میں سے ہیں لیکن انکی حیثیت ثانوی ہوتی ہے، لہٰذا ہمیں مختلف انواع و اقسام کے کاروباری مراکز اپنے منفرد انداز اور الگ الگ مارکیٹنگ پلان کے ساتھ دھندا کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کچھ کاروبارایسے بھی ہوتے ہیں جن کی مارکیٹنگ اور انداز و اطوار سے عام لوگوں پر یہ تاثر بھی جاتا ہے کہ کاروبار کی بجائے فلاحی اور اصلاحی مقاصد ، نیکی و بھلائی کے جذبے سے سرشار ہو کر یہ آسمانی مخلوق خدمات کی انجام دہی سے معاشرے کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہے۔ 
بچہ انسان کا ہو یا جانور کا اسکی پرورش، دیکھ بھال، رزق تلاشنے کا طریقہ کار سکھایا جانا اور اسکی حفاظت کے ممکنہ اقدامات یہ دونوں جاندار اپنی بساط سے بڑھ کر کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں،انسان رزق تلاشنے کے سب سے احسن طریقے کو تعلیم اور ڈگریوں کے حصول سے منسلک کرتا ہے، اب تعلیم پر بات آئے تو عام سرکاری ذرائع ابلاغ، اساتذہ ، دانشور، سیاستدار وغیرہ وغیرہ جدید سائنسی تعلیم کے حصول کو ترقی کا راز گردانتے ہیں، مملکت خداداد پاکستان کے آئین میں تعلیم کو بنیادی حق اور مفت فراہم کرنے کے ہوائی اعلانات بھی موجود ہیں لیکن عملاً اگر کسی سرکار سکول کی حالت کو دیکھ لیا جائے تو شاید اس سے ایک پولیس تھانہ بہتر حالت میں نظر آئیگا، بڑی بڑی مونچھوں والا ڈنڈا بردار سپاہی ننھے منھے قیدیوں پر کتابوں پر لکھے حروف بزور طاقت مسلط کرنے میں مصروف جہد نظر آتا ہے جس سے طالب علم کم نفسیاتی مریض زیادہ پیدا ہوتے ہیں، نصاب بھی ایک بنیادی محرک ہے جو سرکاری سطح پر نونہالوں کو علم سے فیضیاب کرنے سے عاری، حفظ کر کے کاغذ پر اتاری جانیوالی چند ٹیڑھی میڑھی لکیروں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہی وہ بنیادی محرکات ہیں جو ایک فلاحی و اصلاحی نظر آنیوالے بے پناہ منافع بخش کاروبار کے آغاز کا باعث بنتے ہیں۔ جنکی حیثیت کو پھر انہی سرکاری ذرائع سے انسانی ذہنوں پر مسلط کیا جاتا ہے، اچھا مستقبل دینے کی خواہش اور کاروبار کی انفرادی حیثیت کو برقرار رکھنے کی مقابلہ بازی کے حسین امتزاج 
سے نسلوں کی بربادی کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ 

کیا پولیس کے لئے بھی قانون ہے

posted Apr 6, 2014, 2:06 PM by PFP Admin   [ updated Apr 6, 2014, 2:13 PM ]

دلچسپ بات یہ ہے کہ قانون کی رٹ لگانے والوں نے اس کیس میں لاقانونیت کی ایک ایسی مثال قائم کی جو تاریخ میں اس سے قبل نہیں ملتی کہ مستغیث خود ہی تفتیش کر رہا ہے۔ جہاں مدعی ہی منصف ہو وہاں انصاف کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ کس قدر لاقانونیت ہے کہ چوری کے اس کیس میں مستغیث مقدمہ ASIجاوید عباسی خود ہی اس کیس کی تفتیش بھی جاری رکھی ہوئی ہے جو پولیس کی تاریخ میں لاقانونیت کی ایک واضح مثال ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق زیر بحث مقدمہ پولیس کے آمرانہ اختیارات کی ایک بھیانک مثال بنتا دکھائی دیتا ہے۔ کیوں کہ یہ ایک ملزم کا قانونی حق ہے کہ اس کے خلاف لگائے گئے الزامات کی تفتیش غیر جانبدارانہ اور شفاف بنیادوں پر ہو ۔ یہی بات CRPCاور پولیس رولز میں بھی گارنٹی کی گئی ہے ۔ لیکن حالیہ مقدمہ میں پولیس اہلکار خود ہی شکایت کنندہ ہے، خود ہی تفتیشی جب کہ ملزمان کو تفتیش کا غیر جانبدرانہ ماحول مہیا نہ کرنا غلامی اور جہالت پر مبنی نظام کا شاخسانہ ہے ۔ بالفرض محال اگر کسی شخص نے کوئی جرم کیا بھی ہوا ہو تو اس کے بیوی ، بچوں کو قیدی (Hostage)رکھ کر اصل مجرم کے گرد گھیرا تنگ کرنا تو دہشت گردی کے قانون کے تحت بھی روا نہیں ۔کسی مستغیث مقدمہ کا اپنے کیس میں تفتیشی کے پاس اپنا 161کا بیان قلمبند کروانا بعد ازاں مقدمہ چالان ہونے پر اپنا بیان اور غیر جانبدار شہادت کی بنیاد پر مقدمہ ثابت کرنا تو قانونی طور پر دُرست ہے لیکن اگر کوئی مستغیث خود ہی مقدمہ کی تفتیش کرے تو یقیناًہمارے مروجہ سماجی نظام میں سیاہ کو سفید کرنے کے لیے کلیتاً اختیارات حاصل کر لیتا ہے اور اپنے انتقام اور مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر کے انسانیت اور قانون کو مذاق بنا دیتا ہے۔ 
عالمی انسانی حقوق کے منشور کے دفعہ 5کے تحت کسی شخص کو جسمانی اذیت یا ظالمانہ، انسانیت سوز، یا ذلیل سلوک یا سزا نہیں دی جائے گی۔ دفعہ 9کے تحت کسی شخص کو محض حاکم کی مرضی پر گرفتار، نظر بند یا جلا وطن نہیں کیا جائے گا۔اور دفعہ 10کے تحت ہر ایک شخص کو یکساں طور پر حق حاصل ہے کہ اس کے حقوق و فرائض کے تعین یا اس کے خلاف عائد کردہ جرم کے مقدمے کی سماعت آزاد اور غیر جانبدار عدالت کے کھلے اجلاس میں منصفانہ طریقے سے ہو۔ مگر کیا عالمی اور ملکی قوانین کے مطابق بشیراں بی بی کو زیر حراست رکھا گیا؟ کیا اس مقدمہ میں انصاف کے تقاضے کیے گے۔۔۔۔۔۔؟ بشیراں بی بی کی نادگرہ گناہ کی سزا انصاف دلانے والے اداروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بھی ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں پریس فار پیس اور جموں کشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ نے اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، آئی جی آزاد کشمیر ،چیف جسٹس آف آزاد کشمیر و اعلیٰ حکام سے اس واقعہ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اور واقعہ کی تحقیقات کر کے اس کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
جب لہو بول پڑے اس کے گواہوں کے خلاف 
قاضی شہرہی کچھ اس باب میں ارشا د کرے 
اس کی مٹھی میں بہت روز رہا میرا وجود
میر ے ساحرے سے کہو اب مجھے آزاد کرے۔


اس مقدمے کی وجہ سے جہاں بشیراں بی بی جسمانی اور ذہنی طور پر ٹارچر ہوئی وہاں اس کے معصوم بچے گھر میں بلکتے رہے ہیں اور ماں کی غیر موجودگی میں ذہنی کرب میں مبتلا اپنا بچپن گزارنے پر مجبور اپنی ماں کو تلاشتے رہے ۔ اور بد قسمت بشیراں بی بی ذہنی اور جسمانی تشدد کی وجہ سے بشیراں بی بی فالج جیسی مہلک بیماری میں مبتلا زندگی اور موت کی کشمکش میں ڈسٹرکٹ ہستپال میں \"لاش \"بن گئی۔ بالآخراخبارات میں بشیراں بی بی کی قریب المرگ تصاویر شائع ہونے کے بعد اس کے بچوں کو اپنی والدہ کا علم ہوا کہ وہ باغ پولیس کے زیر حراست ہے ۔ جس پر اس کی بڑی بیٹی جس کی عمر تقریبا 18سال اور بیٹا جس کی عمر تقریبا14سال ہے اپنے ممتا کی محبت ڈھونڈتے باغ پہنچے ۔ بچوں کا کہنا ہے کہ پانچ ماہ سے قید ہماری والدہ کسی بھی چوری کی واردات میں ملوث نہیں بلکہ دھیر کوٹ پولیس کے اہلکار جاوید عباسی نے پولیس کے ہمرا ہ 27اکتوبر2013 ؁ء کو ہماری والدہ بشیراں بی بی کوبغیر کسی قانونی دستاویز کے گھر سے اُٹھا یا اور 15دن بعد ہم سے رابطہ کر کے3لاکھ طلب کیے گئے اور پیسے نہ ملنے پر ہمارے پورے خاندان کے خلاف FIRدرج کروا دی جسکی وجہ سے کوئی بھی ہما را شخص ادھر نہیں آیا ۔ گزشتہ دنوں اُس نے فون کیا کہ آپ کی والدہ کو فالج کا ایٹک ہو گیا ہے جس پر میں نے کسی سے ادھارے پیسے لیئے اور باغ آگئی ۔ ہمارے پا س نہ اپنا گھر ہے اور نہ ہی کوئی ذریعہ معا ش اور نہ ہی میرے والد یا کوئی رشتہ دارآج تک آزاد کشمیر آیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میرے والد پر اُس نے چوری کا الزام کیوں لگا یا جسکی وجہ سے پولیس میری والدہ کو گھر سے اُٹھا لی گئی ۔ 
اُنہوں نے بتایا کہ ہمارے والد ٹائل فکسنگ کا کراچی میں کام کر تے ہیں اور وہ آزاد کشمیر کبھی نہیں آئے ۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ جاوید عبا سی نے اُن پر چوری کا پر چہ کیوں درج کیا گیا اور ہمارے والد کا نام نذیر احمد ہے جبکہ پرچہ قاری نذیر احمد کے نام پر درج ہے جسے ہم نہیں جا نتے ۔جب پہلی بار یہ لوگ ہمارے گھر گئے تو جاوید عبا سی نے ہماری والدہ کو ہمارے سامنے تشد د کا نشانہ بنا یا اور ہم پر حملے شروع کر دیئے جس پر والدہ نے کہا کہ میں آ پ کے ساتھ چلنے کیلئے تیار ہوں ۔ آپ میرے بچوں کو کچھ نہ کہیں ۔ جب وہ والدہ کو ساتھ لئے آئے تو 15دن تک ہمیں پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں ۔ پھر ایک دن جاوید عبا سی نے فون کیا کہ وہ ہمارے پاس ہے آپ مجھے 3لاکھ روپے دیں اور اُس کو لے جائیں اور پھر بعد میں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ جاوید عباسی نے ہمارے پورے خاندان کے خلاف FIRدرج کروا رکھی ہے جسکی وجہ سے ہمارے خاندان کا کوئی بھی شخص آزاد کشمیر نہیں جا سکتا تھا ۔ 5ماہ سے ہماری والدہ جیل میں پڑی ہوئی ہے اُس کو ذہنی ٹارچر کیا گیا جسکی وجہ سے وہ فالج اور شوگر جیسے امراض میں مبتلا ہو چکی ہے ۔ آخری اطلاعات کے مطابق بشیراں بی کو ہسپتالال انتظامیہ نے جگہ نہ ہونے اور اس کی مرض کا یہاں علاج ممکن نہ ہونے کا کہ کر ڈسچارج کر دیا اور اس کواوراس کو دیکھنے کے لئے آنے والے بچوں کو ایک بار پھر جاوید عباسی کے حوالے کر دیا گیا ہے وہ اس کو راولپینڈی لے جا کر علاج کروئے اب وہ بشیراں بی اس کے بچوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے ؟اگر ان بچوں کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو اس کا ذمدار کون ہو گا؟

 تحریر؛ محمد شوکت خان تیمور 

انصاف انسانی معاشرے کی ترقی کے لئے بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اس کے حصول کے لئے ملکی وعا لمی سطح پر قوانین بنائے گئے ہیںیہ قوانین معاشرے کے تمام طبقوں کو یکساں انصاف مہیا کرتے ہیں لیکن بشیراں بی کیس میں ہمیں کچھ اور ہی نظر آتا ہے اس کی وجہ ہمارے معاشرے میں وہ اختیارات ہیں جو انصاف کے راستے میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں دور کر نے کے لئے استعمال ہونے چاہئے وہ اپنی ذات کے لئے کئے جاتے ہیں جس کی واضع مثال دھیرکوٹ پولیس کے اہلکارجاوید عباسی نے اپنے گھر سے 8تولے سونے کے زیور چوری کرنے الزام میں ایک مزدور نذیر احمد قوم بھٹی سکنہ کچی آبادی کبیر والا سائیوال پاکستان پر عائد کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کی اور ملزم کی گرفتاری کے لیے ساہیوال پولیس سے مل کر چھاپہ مارا ۔جہاں نذیر احمد گھر پر نہ تھا اور نذیر احمد کے جرم میں اس کی بے گناہ بیوی بشیراں بی بی (عمر55سال) کو اٹھا لیا۔ بشیراں بی بی جو کہ 4بچوں کی ماں ہے اسے اس کے شوہر نذیر احمد کے ساتھ مقدمے میں شامل کر دیا گیا ۔ 
جس کا اس جرم سے قطعی طور پر کوئی واسطہ ہی نہ تھا۔ اور بے گناہ بشیراں بی بی پر فرد جرم عائد کرنے کے بعد زیر دفعہ 419/420اور 467/468تحصیل فوجداری عدالت دھیرکوٹ میں چالان پیش کر دیا۔ بشیراں بی بی 5ماہ سے جھوٹے مقدمے میں جیل کاٹ رہی ہے ۔ پانچ ماہ سے ذہنی اور جسمانی تشدد کی وجہ سے بشیراں بی بی فالج کی مریضہ بن گئی اور اس وقت ڈسٹرکٹ ہسپتال باغ میں زیر علاج ہے۔ مظلوم عورت کی مدد کے کرنے کے لیے دھیرکوٹ کے ہی ایک رہائشی نے بشیراں بی بی رہائی کے لیے آواز بلند کی اور ضمانت دینے کی کوشش کی مگر اس کو بھی اس پولیس اہلکار نے تشد د کا نشانہ بنا کر اپنے راستے سے ہٹا دیا۔ اس کے بعد کسی بھی شخص کی جرت نہ ہو سکی کہ وہ بے گناہ بشیراں بی بی کو رہا کروا سکے۔ اس طرح 5ماہ سے غیر قانونی طور پر قید بشیراں بی بی کو جعلی مقدمے میں پھنسا کر اس معاملے کو قانونی بنانے کی کوشش کی گئی ۔ 

کاش ۔۔۔۔میں بھی رئیوونڈ کا مور ہوتا!

posted Mar 24, 2014, 2:12 PM by PFP Admin   [ updated Mar 25, 2014, 11:14 AM ]

وہاں کے مکینوں کا واحدذریعہ معاش مال مویشی تھے نہ صرف انسان بلکہ مال مویشی بھی بدترین قحط کا شکار ہوئے میں کئی دن تک سوچتی رہی کہ اس موضوع پر لکھا جائے لیکن قارئین کرام! اگر سچ کہوں تو ان دل دہلا دینے والے مناظر کو دیکھ کر حوصلہ ہی نہ ہوا کہ قلم اٹھانے کی جسارت کر سکوں ہر لمحہ یہی سوال دل اور ذہن پر کچوکے لگاتا رہا کہ بحیثیت قوم ہم بے حسی کی اس انتہا پر پہنچ چکے کہ محسوس ہوتا ہے کہ ضمیر نام کی کوئی چیز ہمارے اندر نہیں رہی اور حکمرانوں کے توکیا کہنے؟ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا تعلق سید گرانے سے ہے جو حضور اکرمؐ کی آل میں سے ہیں میں نہیں جانتی کہ ان کی حکمرانی میں سک سک کر جان دینے والے ان معصوم بچوں کا خون ان کی گردن پر ہے وہ اس بوجھ کے ساتھ اپنے حلق سے اتنے بر تکلف کھانے کیسے اتارتے ہیں انہیں نیند کس طرح آتی ہے اور بروز حشر جنؐ کی آل سے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان کے سامنے کیا جواب دیں گے وہ تو بھلا ہو میڈیا کا!۔ جس کی وجہ سے راتوں رات حکمرانوں ، این جی اوز اور مخیر حضرات نے صحرائے تھر کا رخ کیا ورنہ نہ جانے اور کتنی جانیں لقمہ اجل بن جاتیں ابھی یہ سلسلہ کنڑول نہ ہو سکا آج بھی مزید تین اموات ہوئیں یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ قحط مصنوعی طور پر پیدا کیا گیا گندم بروقت حکام کے حوالے کر دی گئی مگر تقسیم نہ ہونے کی وجہ سے اس نقصان کا سامنا کر نا پڑا پھر اس مجرمانہ لاپروائی کے مرتکب ذمہ داران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟؟ جس سے دوسرے لوگ سبق سیکھتے وزیر اعظم پاکستان نے دورہ تھر کے دورا ن پر تکلف ظہرانے سے انکار کرکے تھر کے باسیوں سے اظہار یکجہتی کیا اور سو کر وڑ امداد نقد متاثرین کو مہیا کرنے کا اعلان کیا اگرچہ یہ امداد ان زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتی جو اپنے پیاروں کو کھو کر تھر کے مکینوں کو ملے مگر مشکل اور سخت ترین حالات میں زندگی گزارنے والے تھر کے باسیوں کے لئے زندگی کی سے سے بری خوشی پیٹ بھر کر کھانا مہیا ہونا ہے اس امداد کو شفاف طریقے سے متاثرین تک پہنچا کر کچھ حد تک ان مشکلات میں کمی متوقع ہے لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اب تھر کے علاوہ دوسرے اضلاع جن میں سانگھڑ، عمر کوٹ، میر پور خاص اور بدین بھی اس قحط کی لپیٹ میں آنے کا خدشہ ہے اور پنجاب کے صحرا چولستان میں بھی لاتعداد مویشی قحط کی بھینٹ چڑھ چکے ڈھائی سو قیمتی جانوں کا ضیاع پہلے ہی پوری دنیا میں بری طرح پاکستان کی بدنامی کا باعث بن چکا اب بارڈر ایریاز کے قریب گندم کی سملنگ کو روک کر ایسے تمام علاقے جہاں قحط کی وارننگ ہے وہاں بچاؤ کے اقدامات کیے جانے وقت کی اہم ضرورت ہے ورنہ یہ معصوم جانیں سوال کناں رہیں گی کہ کاش ہم صحرائے تھر یا چولستان میں پیدا ہونے کے بجائے رائیونڈ کے مور ہوتے تو ہماری زندگی اور جان کی قیمت اتنی ارزاں نہ ہوتی۔

عکس خیال

تحریر:۔ راحت فاروق ایڈووکیٹ 
rahatfarooq4@gmail.com 

میں ابھی پورے طور سے ماحول سے آشنائی نہ کر پائی تھی کہ مجھے اپنا دامن ایک طرف سے کھنچتا ہوا محسوس ہوا تو میں نے ہڈیوں کے ڈھانچے پر کھنچی جلد کے ساتھ ایک معصوم بچے کا سراپہ دیکھا جو اپنے چہرے پر معصومیت سے زیادہ بھوک اور پیاس کے اثرات سمیٹے ہوئے تھا ا گرچہ وہ اتنا چھوٹا تھا کہ شاہد اس دنیا میں وہ اپنی زبان سے کوئی بات بھی نہ کر پاتا اور میں اس کی غوں غاں کو اپنی ممتاکے ناطے سمجھ سکتی مگر حقیقت یہ ہے کہ بچے معصوم ہوتے ہیں دنیا سے رحلت کے بعد بھی عالم ارواح سے وہ ہمارے درمیان موجود ہوتے ہیں مگر دنیا کے بڑے زرعی ممالک میں شمار ہونے والا، دودھ کی پیدوار میں پانچواں بڑا اور جملہ اجناس و خوراک میں خود کفیل مادر وطن پاکستان کا23ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلا کم و بیش12لاکھ افراد پر مشتمل آبادی والے ضلع تھر میں ڈھائی سو کے قریب معصوم بچوں نے بھوک و پیاس سے نڈھال ہو کر دانستہ پیدا کردہ قحط کا شکار ہو کر بلک بلک کر ایڑیاں رگڑ کر جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ وزیر اعظم پاکستان کی رہائش گاہ جاتی عمرہ میں ڈیوٹی پر معمور پولیس افسروں کی غفلت کی وجہ سے ایک جنگلی بلا داخل ہوا اور انتہائی قیمتی مور کو کھا گیا جس کے نتیجے میں21پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے گئے اور پولیس فورس کو حکم دیا گیا کہ جنگل میں آپریشن کیا جائے اور مجرم بلے کو زندہ یا مردہ کسی بھی حالت میں گرفتار کر کے دربار میں حاضر کیا جائے ضلع تھر کے قحط میں سک سک کرہم جان دینے والوں نے عالم ارواح سے جب سے یہ منظر دیکھا تو دل میں یہ حسرت پیدا ہوئی ہے کہ کاش ہم صحرائے تھر میں پیدا ہونے کی بجائے رائیونڈ کے مور ہوتے تو 2008سے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر برا جمان سید قائم علی شاہ ان کی کابینہ ، خصوصاََ وزارت صحت اور اس کے تمام ذمہ داران جن کی گردن پر ڈھائی سو معصوم جانوں کا خون ہے وہ آج ان عہدوں پر براجمان نہ ہوتے بلکہ انہیں ان عہدوں سے فارغ کر کے لی گئیں تمام تنخواہیں اور مراعات واپس لے کر ان کی ملکیتی جائیدادوں کو بھی بطور سزا فروخت کر کے تھر میں ایسے اقدامات کیے جاتے کہ آئندہ کوئی ننھی جان بھوک اور پیاس کا شکار ہو کر اس دنیا سے رخصت نہ ہوتی گزشتہ کئی دنوں سے اخبارات دل دہلا دینے والے واقعات اور دلخراش تصویروں سے بھرے پڑے ہیں۔
 کی مرتے لمحے ٹھہری ہوتی آنکھوں میں پوری قوم اور خصوصاََ حکمرانوں سے کئی جن سوال پنہاں ہیں کہ ہم نے اس ملک میں پیدا ہو کر کیا گناہ کیا جس کی انتی بھیانک سزا ملی کہ عوام کے خون پیسے کی کمائی سے پرتعیش زندگی گزارنے والے اور ہرن کے کوفتے اور انواع و اقسام کے انتہائی پر تکلف کھا نوں سے لطف اندوز ہونے والے حکمرانوں کی ناک کے نیچے معصوم بچے بلک بلک کر جان دیتے رہے اور انہوں نے خبر تک نہ لی تین ماہ پہلے سے یہ تنبیہ تھی کہ تھر کے علاقے میں بدترین قحط کا خدشہ ہے مگر انتہائی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی اقدامات نہ کیے گئے اور
گلستان حیات کی شادابی معصوم بچوں کی کلکاریوں ،سووزیاں کی فراستوں سے بے نیاز قہقوں سے سجتی ہے اور اس امر سے بھی انکار نہ ہے کہ بچے بچے ہوتے ہیں وہ گھر گھر نہیں خانہ دیو لگتا ہے۔ جہاں ان ننھے فرشتوں کے آواز ے بلند نہ ہوتے ہوں ہر باشعور قوم اورمعاشرہ اپنے مستقبل کے ان نونہالوں کو سردو گرم تھپیڑوں سے بچا کر پروان چڑھانے کو ترجیح دیتا ہے کہ اقوام عالم میں سر بلند ہو سکے اور جس کسی نے جب بھی اس سے غفلت برتی اسے قعر مذلت کی پہنائیوں سے چھٹکارا نہ ملا۔ دست قضا کبھی انہیں ہم سے جدا بھی کر دے تو وہ اپنی معصومیت کے ساتھ آسمان زندگی پر ٹمٹما کر اپنے ہونے کا احساس دلاتے رہتے ہیں نوخیز کلیوں کے شاخ نہال سے نوچے جانے کا دکھ اور بھی بڑ ھ جاتا ہے اگر ایسا بھوک او رپیاس کے سبب ایسے معاشرہ میں جو دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی قوت ہونے کی دعویدار قسمت کے عطا کر دہ وافر وسائل کے اعتبار سے کسی بھی پہلو سے کم نہ ہواور ایک مسلمہ حقیقت کے طور پر یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے غلے کی ایک بڑی تعداد سمگل ہو کر افغانستان سے پار وسطی ایشائی ریاستوں تک جاتی ہے تو دوسری طرف ہندوستان کی سرحدی ریاستیں(بادر ہے کہ ہندوستان میں صوبے کو ریاست کہتے ہیں) اس سے اپنی ضرورت پوری کرتی ہے۔ تھرمیں برپا قحط کی ہولناکیاں اب کسی سے پوشیدہ نہیں اللہ بھلا کرے نجی ٹی وی والوں اور پریس کا جس نے سب اچھا کا پردہ چاک کیا اور اس انسانی بے حسی کے المیہ کی طرف درمندان قوم کی توجہ دلائی، بروقت اور سرعت رفتاری سے مثبت اقدامات کرنے کی بجائے ایک بار پھر فوٹو سٹیشن اور ٹی وی کوریج نے حکمران طبقے کی بے حسی کو بے نقاب کر کے عوام دوستی کا پول کھولا تو سند ھ کابینہ کے متاثرہ علاقے کے دورہ کے موقعہ پر کیے گئے اقدامات کا احوال روتی آنکھوں کو سیلاب دے گیا ابھی اس صدمے سے نہ سنبھلے تھے کہ بے حسی کے تابوت میں ایک آخری کیل ٹھکا ۔ سکون غارت ہو گیا جب عالم نیم خوابی میں، میں نے خود کو قحط زدہ علاقے میں 
بھوک اور پیاس سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑتے بچوں میں پایا۔
وزیر اعظم پاکستان کی رہائش گاہ جاتی عمرہ میں ڈیوٹی پر معمور پولیس افسروں کی غفلت کی وجہ سے ایک جنگلی بلا داخل ہوا اور انتہائی قیمتی مور کو کھا گیا جس کے نتیجے میں21پولیس اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے گئے اور پولیس فورس کو حکم دیا گیا کہ جنگل میں آپریشن کیا جائے



یونان: عظیم ثقافتی ورثے کا امیں

posted Mar 24, 2014, 1:55 PM by PFP Admin   [ updated Mar 24, 2014, 2:12 PM ]

یونان کا موجودہ دستور1975میں منظور کیا گیا،اس سے قبل 1967سے 1974تک یہاں فوجی آمریت مسلط رہی۔1986ء میں اس دستور میں مزید ترامیم کی گئیں اور صدر کے اختیارات کا مزید تعین کیاگیا۔اب وہاں کے صدر کے پاس وسیع اختیارات ہیں اور صدر پارلیمنٹ سے پانچ پانچ سال کی دو مدتوں تک منتخب ہوسکتا ہے۔جبکہ وزیراعظم کی مدت انتخاب چار سال ہوتی ہے۔یہاں کی سیاسی پارٹیاں زیادہ تر شخصیتوں کے زیراثر ہوتی ہیں۔مملکت کو تیرہ انتظامی حصوں میں تقسیم کیاہواہے لیکن حکومت کا انتظام زیادہ تر مرکزیت کاہی محتاج ہے۔1974ء تک فوج بھی ملکی سیاسی معاملات میں دخیل رہی ہے لیکن اب ایسا نہیں ہے یا بہت کم ہے۔یونان میں جی ڈی پی کا چھ فیصد دفاع پر خرچ کیاجاتاہے اوریہ اس علاقے کے جملہ ممالک میں دفاع پرسب سے زیادہ خرچ کی جانے والی شرح ہے۔یہاں رومن قانون رائج ہے اور دو بڑی اعلی عدالتیں ہیں،سپریم کورٹ جو سول ،فوجداری اوردیوانی کے مقدمات کی سماعت کرتی ہے اور دوسری کونسل آف اسٹیٹ،جہاں انتظامی تنازعات کے فیصلے کیے جاتے ہیں،اسی کا ذیلی ادارہ کورٹ آف اسٹیٹ ایڈیٹرزبھی ہے جو مالی معاملات کے فیصلے کرتا ہے۔’’اسپیشل سپریم ٹریبیونل‘‘جو مزکورہ تینوں اداروں کے تینوں سربراہوں پر مشتمل ہوتا ہے اوردستوری معاملات،انتخابات اور ریفرنڈم جیسے امور کی نگرانی اور پارلیمنٹ کے جملہ فرائض کی بجاآوری پر نظر رکھتاہے۔
یونان کا نظام تعلیم قدیمی بنیادوں پر استوار ہے اورکافی مشکل بھی ہے،شاید اسی لیے طلبہ و طالبات کواسکول کے علاوہ بھی تعلیمی تفہیم کے لیے اساتذہ کے جانا پڑتا ہے جسے عرف عام میں ٹیوشن ورک کہتے ہیں۔سیاسی نظام کی طرح تعلیمی نظام بھی یہاں کافی حد تک مرکزیت پر مبنی ہے اور شرح خواندگی کافی حد تک امید افزا ہے جو کہ 96%ہے اور جی ڈی پی کا 4.4%تعلیم پر خرچ کیاجاتاہے۔یونیورسٹی کی تعلیم کے بعد عموماََ ملازمتیں مل جاتی ہیں،تین بڑی بڑی یونورسٹیاں ہیں جن کی بڑائی میں انکی قدامت بھی پنہاں ہیں ،گزشتہ کچھ سالوں سے نجی ادارے بھی اپنی جامعات کھولنے پر لگے ہیں لیکن اب ان پر پابندی لگا دی گئی ہے اور یونان کے بیشتر طالبان علم اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے یورپ کے دوسرے ملکوں کا رخ کرتے ہیں۔ثقافتی طور پر یہ ملک ایک شاندار ورثے کا حامل ہے ،بازنطینی دور کی متعدد یادگاریں جن میں بادشاہوں کے مقبرے بھی شامل ہیں یہاں کا عظیم ورثہ ہیں۔لوگ دوردراز سے یہاں ماضی کی عمارات دیکھنے کے لیے آتے ہیں جس کے باعث سیاحت اب یونان میں ایک صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے۔یونان کی آبادی ایک کروڑ سے کچھ زائد ہے اور 0.127%کے حساب سے آبادی میں سالانہ اضافہ ہوتا ہے۔97%آبادی مقامی افراد پر مشتمل ہے جبکہ 7%باہر سے آئے ہوئے لوگ ہیں۔
یونان میں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعدادآباد تھی لیکن 1923کے یونان ترکی معاہدے کے بعد جس میں آبادی کے تبادلے کا معاہدہ بھی شامل تھا یونان میں مسلمانوں کی تعداد کم ہونے لگی،اس معاہدے کے تحت مسلمان ترکی سدھارگئے اور عیسائی یونان میں منتقل ہو گئے۔اب مسلمانوں کی چارسوسال حکومت والے اس ملک میں مسلمانوں کی شرح محض15%رہ گئی ہے۔اس کے باوجود بھی بعض شہروں اور متعدد جزائر میں 40%تک بھی مسلمان آباد ہیں اور ترکی زبان بولتے ہیں اور مقامی رسوم و رواج پر انکے مذہب کے گہرے اثرات ہیں۔1990کے بعد سے یونان میں مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ کثرت سے جاری ہے یہ مسلمان مشرق وسطی،پاکستان،بھارت اور بنگلہ دیش سے یہاں منتقل ہوئے ہیں اور بہت بڑی کمیونٹی بن گئے ہیں۔2006میں مسلمانوں کو مساجد بنانے کی اجازت بھی مل گئی ہے اور اب ایتھنز کے مغرب میں ایک بہت بڑی جگہ پر مشتمل مسلمانوں کا دینی مرکز موجود ہے جہاں مسلمان اپنی دینی تعلیم اور فرائض کی بجاآوری کے لیے جمع ہوتے ہیں- 

یونان چونکہ ایک قدیم ملک ہے اس لیے صدیوں سے یہاں پر ہجرت کا عمل کثرت سے جاری رہاہے۔ترکوں کے بہت سے قبائل یہاں مستقل آباد ہوتے رہے،افریقی غلاموں کے خاندان کے خاندان یہاں صدیوں سے آباد ہیں ان کے علاوہ مسلسل سیاسی انقلابات کے باعث کئی ایشیائی نسلوں کے لوگ بھی اب اس سرزمین کو اپنا وطن کہ کر خوش ہوتے ہیں اور یورپ سے آنے والوں کو تو یہ وطن اپنا کہ کر ہمیشہ گلے لگاتا ہی رہا ہے۔یونان کی آبادی میں مسلمان اقلیت زیادہ تر ترک قبائل سے متعلق ہے باقی بہت بڑی اکثریت یونانی مسیحی چرچ کی پیروکار ہے اگر چہ بہت کم تعداد دوسرے مسیحی فرقوں سے بھی تعلق رکھتی ہے۔تھیٹریہاں کی ہمیشہ سے پہچان رہا ہے،دوسری جنگ عظیم کے بعد جب سے یونان پر معاشی تنزل کے بادل چھائے اسکے بعد 1990ء سے تھیٹر نے جہاں یونان کی تہذیبی زندگی میں اہم کرداراداکیا وہاں یونان کی معاشی زندگی میں بھی اہم سنگ میل کی حیثیت اختیار کر گیا۔یہاں قدرتی وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں اور قابل کاشت رقبہ بھی تیس فیصد سے زائد نہیں ہے اسکی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ یونان میں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں۔سیمنٹ اور کپڑا ہی یہاں کی چیدہ چیدہ پیداوار ہیں جو مقامی ضروریات ہی پورا کرپاتی ہیں۔
29مئی1453کو عثمانی ترکوں نے یہاں قبضہ کیا،اس وقت بازنطینی آخری بادشاہ یہاں حکومت کرتا تھا جو میدان جنگ میں شکست کھا تا ہوا یونانی حدود سے نکل گیااور اس طرح یہ ملک مسلمان سلطانوں کے زیر رسلط آ گیا۔شاید یہ پہلا موقع تھا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی اتنی بڑی تعداد پر مسلمانوں کو حکومت کرنا پڑی۔بعد میں بھی بہت سے یہودی 1492ء کے سقوط غرناطہ کے بعد یہاں آباد ہو گئے تھے۔لیکن یہ مسلمان ترک سلطانوں کی کامیابی ہے کہ انکی حکومت کے دوران یونان جیسے ملک میں جہاں مسلمان،عیسائیوں کے کئی فرقے،قدیم یونانی مذہب کے پیروکار اور یہودیوں کے کئی قبائل آباد تھے اور کثیرالمذہبی ہونے کے ساتھ ساتھ کثیرالملل اس ریاست میں کسی دو مذہب کے ماننے والوں کے درمیان کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا اور ترک حکمرانوں کی نگرانی میں سب لوگ باہمی اشتراک عمل سے زندگی کے فرائض پورے کرتے رہے۔کم و بیش چار سو سال کے شاندارطویل دور حکمرانی کے بعد 1829میں یہاں سے مسلمانوں کے دور کا خاتمہ ہوا۔آج بھی یونان کے کچھ علاقے عثمانی ترکوں کی یادگاروں سے بھرے ہیں لیکن جس طرح اندلس میں مسیحی تعصب نے مسلمانوں کی باقیات کے ساتھ بہت برا سلوک کیا اسی طرح یہاں بھی اسکی نظائر بخوبی دیکھی جا سکتی ہیں۔
ڈاکٹر ساجد خاکوانی
drsajidkhakwani@gmail.com

ملک یونان قدیم اور جدید تہذیبوں کی حسین آماجگاہ ہے۔یونان کا محل وقوع بلکان کا انتہائی جنوب ہے،یہ سمندروں اور پہاڑوں کی سرزمین ہے۔یہ سمندر اور پہاڑیونان کی معیشیت سمیت اس ملک کی تاریخ و تہذیب میں بھی اہم کردار اداکرتے رہے ہیں۔یونان کم و بیش اکیاون ہزار مربع میل کے رقبے پر پھیلاہواہے اور رقبے کے اعتبار سے یہ ملک برطانیہ کے تقریباََ برابر ہے۔یونان ایک جزیرہ نما کی مانند ہے یعنی اسکے کے تین اطراف میں سمندر ہے اور ایک طرف جہاں خشکی ہے وہاں اس ملک کی سرحدیں یوگوسلاویاجسے اب میکڈونیا کہا جاتاہے اور بلغاریہ اور ترکی سے ملتی ہیں۔سمندر کے کم و بیش دو ہزارچھوٹے بڑے جزائر یونان کے تحت ہیں اور بعض جزائر تو یونان سے دور اور ترکی کے قریب ہیں لیکن ان پر یونان کا ہی قبضہ ہے۔اس ملک کا دارالحکومت ’’ایتھنز‘‘ہے جو تاریخ یورپ میں اپنی الگ ایک تاریخی و تہذیبی شناخت رکھتاہے۔یہ شہراپنے ملک کا سب سے بڑا شہر ہونے کے علاوہ مملکت کی ایک تہائی آبادی کواپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔25مارچ یہاں یوم آزادی کے طور پر منایاجاتاہے۔یونان جغرافیائی طور پر ایسے مقام پر واقع ہے جہاں یورپ افریقہ اور ایشیا کے راستے باہم مل رہے ہیں۔اسی لیے یہ سرزمین ماضی کی تاریخ میں بہت اہم کردار اداکرتی رہی ہے۔بازنطینی حکمرانوں اور عثمانی ترک بادشاہوں نے یونان کے اس محل و وقوع کو اپنی حکومتوں کی وسعت کے لیے خوب خوب استعمال کیااور اس ملک کے ذریعے تینوں براعظموں کے علاقوں پر اپنااقتدارطویل سے طویل تر کیا۔شاید اسی وجہ سے آج کایونان گزشتہ تین ہزارسالوں کی ثقافت کا امین ہے اور اسکی زبان میں صدیوں کی تحقیق اور انسانی خوشبو رچی بسی ہے۔ایک اندازے کے مطابق پانچ سو سال قبل مسیح سے ’’ایتھنز‘‘میں یہی زبان بولی جا رہی ہے جس پر زمانے کے نشیب و فراز نے کم ہی اثرات ڈالے ہیں۔یونانی اپنی اس خصوصیت پر نازاں ہیں اور وہ اپنے آپ کو دنیا کی قدیم ترین ایسی قوم سمجھتے ہیں جس کی تاریخ میں کوئی انقطاع نہیں اور وہ یہ بھی 
سمجھتے ہیں کہ دنیا کی بہترین انسانی وراثت کے حامل وہی ہیں۔



Text Box



مارچ25 قومی دن کے موقع پر خصوصی تحریر 

حفاظتی دعوے ۔۔۔ اور لہو لہو قانون کی راہداریاں

posted Mar 16, 2014, 4:30 PM by PFP Admin   [ updated Mar 16, 2014, 4:35 PM ]


///تحریر :۔ راحت فاروق ایڈووکیٹ /// 


یہ حادثہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ کون لوگ ہیں جو قانونی اداروں کو کمزور کرنے کے درپے ہیں، آج مختلف وجوہات اور تاویلیں پیش کی جا رہی ہیں کہ کچھ گرفتار دہشت گردوں کی عدالت میں پیشی تھی جس بناء پر یہ آپریشن کیا گیا، اسی طرح ایڈیشنل سیشن جج صاحب رفاقت اعوان شہید کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ سابق صدر جنرل مشرف کوایک کیس میں ضمانت پر رہا کئے جانے کی وجہ سے انہیں ٹارگٹ کیا گیا یہ انتہائی تشویشناک صورتحال ہے کہ عدلیہ کو آزادانہ طور پر فیصلہ کرنے کی بھیانک انداز سے سزا دی جائے ، ایسی صورت میں انصاف کی فراہمی ممکن نہیں ہو گی اور معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہو گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس افسوسناک واقع کے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، پوری وکلاء کمیونٹی اس المناک حادثے میں شہید ہونے والوں کے غم میں برابر کی شریک ہے اور عہد کرتی ہے کہ ان کے خون کا ایک قطرہ بھی رائیگاں نہیں جانے دیا جائیگا۔ اللہ تعالیٰ ان شہیدوں کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ 
ایسے رونما ہونے والے واقعات مایوس ہونے کی بجائے قوم کو اتحاد، اتفاق اور فکری لام بندی کے ذریعے اپنی بقاء کی جنگ لڑنے کے لئے متحد ہو کر حالات کا مقابلہ کرنے کا تقاضا کرتے ہیں اور پوری قوم حکومت سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ انصاف کے نقیبوں اور قانون کے سپاہیوں کے تحفظ کے لئے ترجیحی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات کئے جائیں تا کہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہو سکیں۔ 
پاکستانی معاشرہ کو اپنی شناخت اور حیثیت کے حوالے سے جن چیلنجوں کا سامنا ہے اور دانش وران قوم بشمول حکومتی اور اپوزیشن حلقوں کے مختلف توجیہی طبقات فکر کی تجاویز کے غوغا میں دردمندان و صاحب دل احباب جس بے بسی کی قید میں ہیں وہ کسی بھی صاحب الرائے کی نظر سے پوشیدہ نہ ہے۔
غیر محسوس طور پر پوری قوم کو دیوار سے لگانے کی عالمی قوتوں کی سازشوں کے علی الرغم تحریک طالبان پاکستان اور ریاست مملکت خدا داد پاکستان کے ارباب اختیار کے درمیان مذاکراتی عمل کی ڈوبتی ابھرتی ناؤ کے لاچار کرنے والے ہچکولوں کے درمیان 3 مارچ 2014ء کو اسلام آباد کے افق پر طلوع ہونے والا سورج دہشت گردی کے آتش فشاں پر کھڑے، کرپشن، غربت اور بیروز گاری میں گھرے اس ملک کی فضا کو ایک بار پھر سوگوار کر گیا جب محفوظ ترین قرار دیے جانے والے دارالحکومت اسلام آباد کے حساس علاقے ایف ایٹ ضلع کچہری میں قانون کی راہداریاں خون سے رنگین کر دی گئیں اور ابر رحمت کی طرح کالے کوٹ پہنے قانون کے سپاہیوں کو بے دردی سے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ دہشت گردوں کی یہ کارروائی اس قدر ہولناک اور بے رحمانہ تھی کہ آسمان انگشت بدنداں زمین دم بخود اور چشم سنگ بھی اشک بار ہوئے بغیر نہ رہ سکی ، دہشت گرد دندناتے ہوئے آئے اور سینکڑوں سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں معصوم انسانوں کے خون کی کھل کر ہولی کھیل کر یوں رخصت ہوئے جیسے کسی پکنک سے لوٹ کے گئے ہوں ، ریاست کے اہم ترین ستون پر شب خون مارنے والے اسلام آباد کے قلب میں تباہی پھیلا گئے اور اسلام آباد کو محفوظ ترین علاقہ قرار دیئے جانے کے دعوؤں پر اور سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان چھوڑ گئے تحریک طالبان پاکستان اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل بھی اس بدترین واقعہ کے بعد سوالیہ نشان بن گیا۔ اس ہولناک واقعہ میں 11 افراد شہید ہوئے اور 25 زخمی ہیں۔ سیکیورٹی کے دعوے کرنیوالوں کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے خون سے رنگین دیواریں اور گوشت کے لوتھڑے کافی ہیں، جو ان سے سوال پوچھ رہے ہیں کہ کالے کوٹ پہنے قدم قدم پر لازوال قربانیاں دے کر مادر وطن کو جمہوریت کا تحفہ دینے والی یہ کمیونٹی جو قانون کی حکمرانی کے لئے کوشاں ہے، جو عوام کے حقوق کے تحفظ کو ممکن بنانے کی ضامن ہے کا کیا قصور تھا کہ انہیں خون میں نہلا دیا گیا، جام شہادت نوش کرنیوالے شہداء کے لواحقین پر کیا گزری ہو گی جنہوں نے اپنے پیاروں کو خون میں لت پت دیکھا اور بے دردی سے ان کو ٹکڑے ٹکڑے ہوتے دیکھا۔ اس ماؤں کے دکھ کا درماں کون کرے گا۔ جنہوں نے اپنے جگر گوشوں کو صبح مسکراہٹوں کے ساتھ رخصت کیا ہو گا، آنکھوں میں ڈھیر ساری امیدوں کے ساتھ کہ شام کو واپس ملیں گے مگر شام ان کے لئے ہولناکیوں اور وحشتوں کی خبر لائی، اس شام کا ڈوبتا سورج ان کی زندگی کے چراغوں کو گل کرتے ہوئے غروب ہوا ۔ 

نگارش قلم ( لولی پاپ )

posted Mar 16, 2014, 4:22 PM by PFP Admin   [ updated Mar 16, 2014, 4:23 PM ]

تحریر: سیّد عمران حمید گیلانی ///

جھوٹے زمینوں کے کیسز میں ا لجھانے کا کیا رواج ابھی تک ہمارے معاشرے میں قائم نہیں۔۔۔۔۔؟ یہاں تو آج بھی دفاتر کے اندر پٹواری بادشاہ یا کلرک کا راج قائم ہے اور ہوتو وہی ہے جو یہ چاہیں گے متاثرین ہوں یا حقدار وہ لاکھ کوشش و سعی کر لیں ان کا کام اس وقت تک نہیں بن پاتا جب تک دفاتر کے اندر براجمان ان مگر مچھوں کی خدمت خاطر نہ کر لیں اور بھاری نذر نیاز اور نذرانوں سے ان کو رام نہ کر لیں۔۔۔۔! ورنہ وہی ہو گا جو آج سے قبل ہوتا رہا ہے کل آنا ،آج صاحب مصروف ہیں یا دفتر حاضر نہیں ۔آپ فکر نہ کریں کام ہو جائے گا یہ لولی پاپ کا کون سا روپ ہے؟ا سی طرح واپڈا،برقیات، ٹیلی فون و مواصلات سمیت دیگر محکمہ جات میں کیا بیچارے عوام بوگس بلات ماہانہ بھرنے پر مجبور نہیں ہیں ؟ کسی شکوہ شکایت کی افسران کو آگاہی ممکن بنائی جائے تو کوئی بات نہیں کرتا اور بالفرض کوئی بات کرنے کا احسان کر بھی لے تو کیا افسران کی جانب سے متاثرین کو لولی پاپ کے بنڈل نہیں ملتے، ہم کسی سے نفرت کر رہے ہوں یا پھر پیار،کسی غمی کی رسم میں شریک ہوں یا خوشی و پر مسرت لمحات کے مقامات پھر بھی لولی پاپ دے اور لولی پاپ لے رہے ہوتے ہیں 
قارئین اب آپ ہی انصاف کیجئے کیا میرے یہ ٹوٹے پھوٹے اور بے ترتیب الفاظ میرے مقصد و مدعا کی غمازی نہیں کرتے؟؟؟ بولئے نہ کہیں آپ بھی تو لولی پاپ دینے کے چکروں میں نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

البتہ کبھی آئینہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں تو انہیں اپنے نقش و نگار پر بڑھاپے کی پر چھائیں اور مایوسیوں اور نا میدیوں کے سائے ضرور گردش کرتے دکھائی دیتے ہیں ساری زندگی جوانی ،جوش اور طاقت صرف کرنے کے بعد بھی نہ وہ بدلے اور نہ ہی ان کا پریوار بدلا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! بدلے تو بس اس کار خانہ اور فیکٹری کے نصیب بدلے پہلے ایک فیکٹری تھی تو اب چار ہیں پہلے ایک کار تھی تو ابھی لش پش کرتی قیمتی گاڑیوں کی اک لمبی قطار اس کی منتظر ہے ان بیچارے محنت کشوں کے نصیب میں تو وہی محرومیوں اور بے چارگیوں میں پرورش پانے والے ادھورے سپنے اور ارمان ہیں جو کبھی پورے نہیں ہوتے اور موت کا فرشتہ پہنچ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
کیا آپ نے سر بازار راہ گیروں کو نہیں دیکھا جو اس دیدہ دلیری سے دوسروں کو لولی پاپ چٹا رہے ہوتے ہیں جیسے شہد کی مکھیاں چھتے میں شہد پر مر مٹی ہوں ،ٹرانسپورٹ پر سفر کرتے ہوئے سواریوں سے من مانے کرایہ جات وصول کرنا،بازاروں میں سستی اشیاء غلط بیانیوں کی وجہ سے مہنگے داموں فروخت ہونا، انصاف کے کٹہروں میں انصاف کرنے والوں کا سائیلین کو لارے لپے لگانا، 
قانون کے رکھوالوں کا پیسے لیکر ظالم کا ساتھ دینا اور مظلوموں کو محض جھوٹی تسلیاں دینا یا الٹا ان پر مقدمات قائم کرنے کی روش اختیار کرنا یہ بھی تو آخر لولی پاپ کی قسمیں اور بہروپ ہی تو ہیں اور انہیں کیا نام دیں ۔۔۔۔۔!
لولی پاپ بچوں کی وہ من پسند و مرغوب ٹافی ہے جو نہ صرف ان کے من کو بھاتی ہے بلکہ وہ بڑے مزے لے لے کر اسے چوستے ہیں ۔ یہ تو ہوئی بچوں کی کیفیت مگر حقیقت یہ ہے کہ اس وقت من حیث القوم ہم سب لولی پاپ ایک دوسرے کو دے اور لے رہے ہوتے ہیں آپ بھی حیرت کے سمندر میں یقیناًاس وقت غوطہ زن ہو رہے ہونگے کہ میں یہ کیا عجیب انکشاف حقیقت کر رہا ہوں کہیں میں بھی تو آپ کو لولی پاپ نہیں دے رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!
ہماری سوسائٹی میں اس وقت ہر وہ فرد جو کسی میل میلاپ میں کوشاں رہتا ہے وہ اپنے سامنے والے کو لولی پاپ اس ماہرانہ انداز سے دیتا ہے جیسے ماں اپنے پیارے اور لاڈلے بچے کو خوراک کے نوالے منہ میں ڈال رہی ہو ہمارے حکمرانوں کو ذرا ملاحظہ فرمائیں جب عوام کے سامنے حاضر ہوتے ہیں تو عوام کی نفسیات اور تقاضوں کو بھانپتے ہوئے بر ملا انہیں یوں لالی پاپ دیتے ہیں جیسے کوئی ماہر فنکار سٹیج پر کھڑا ہو کر عوام کو اپنے لطائف،چٹکلوں اور مزے دار باتوں سے محظوظ کر رہا ہو بھلا ہمارے حکمران و سیاستدان بھی کیا کسی فنکار سے کم ہیں ؟ بیچارے عوام کو لولی پاپ دینا ہو یا گولی کسی ماہر جرنیل کی طرح عوام کو لولی پاپ چوستے چھوڑ کر یوں غائب ہو جاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ، اسمبلی کے اندر حکومت کے اراکین اپوزیشن کو اور اپوزیشن حکومت کو لولی پاپ کے طفیل ہی اپنا وقت ایوان میں پاس کرتے ہیں، صحت عامہ کے مراکز میں ڈاکٹر طبی سہولیات کی عدم دستیابی پر مریض کو اور تعلیمی اداروں میں اساتذہ نصاب پر دسترس نہ رکھنے پر اپنے شاگردوں کو لولی پاپ کے سہارے ہی تو اپنی ظاہری آن بان اور شان کو قائم و دائم رکھنے میں کوشاں نظر آتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے نان کے حصول کو بھی تو کنفرم کرنا ہوتا ہے ورنہ ان کے اہل خانہ بھوکے ،ننگے ہی مر جائیں ، کارخانوں اور فیکٹریوں میں مالکان اپنے زیر اثر کام کرنے والے مزدورں کو سنہرے مستقبل کے سہانے سپنے سجا کر یوں لولی پاپ دیتے ہیں کہ بیچارے غریب محنت کش ان حسین سپنوں کو سچ کرنے میں یوں جت جاتے ہیں کہ انہیں وہ منزل دور دور تک دکھائی نہیں دیتی

زمین:ایک امانت

posted Mar 16, 2014, 3:48 PM by PFP Admin   [ updated Mar 16, 2014, 4:10 PM ]

(22اپریل عالمی یوم الارض کے حوالے سے خصوصی تحریر)
ڈاکٹر ساجد خاکوانی///

یورپی سیکولرازم کی زمین دشمنی یہیں ختم نہیں ہو جاتی بلکہ منافقت اور کذب و فساد کے مرقع ’’سیکولرازم‘‘نے اپنی اس کارستانی پرپردہ ڈالنے کے لیے انتہائی چابک دستی سے ’’آلودگی‘‘کو ایک معاشی ہتھیار بناکر اس کاسارا نزلہ ایشیاپر اتارنے کی کوشش کی ہے۔حالانکہ کہ ایشیا کی زمین آج بھی یورپ اور امریکہ کی زمین سے زیادہ صاف اور صحت بخش ہے۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ غیرفطری نظریہ زندگی کے باعث یورپ اور امریکہ میں صدیوں سے دو رویے بالکل متضاد سمت میں رواں دواں ہیں،ایک طرف توآبادی میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے اور عمارتوں اور سڑکوں کے بھرے ہوئے شہروں میں کوئی بچہ خال خال نظر آتاہے تو دوسری طرف کارخانوں میں بے پناہ اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے حتی کہ جو ہفتہ بھر میں کہیں ایک چیز تیار ہواکرتی تھی تو صنعتی انقلاب کی بدولت اب گھنٹوں میں ایسی سینکڑوں چیزیں تیار ہو جاتی ہیں۔ان مصنوعات کی کھپت توآبادی کے ہاں ہی ممکن تھی جو کہ امریکہ و یورپ میں ناپید ہے،آبادی میں کمی کے ہوشربا اعداوشمار کے باعث اب اس تہذیب کے سرخیلوں نے ایشیائی باشندوں کے لیے اپنی شہریت کے دروازے کھول رکھے ہیں۔چنانچہ آلودگی کو ختم کرنے کی بجائے اس تہذیب کا سارا زور اس بات پر صرف ہو رہاہے کہ ایشیائی اقوام8 میں آلودگی کا شور مچاکر انہیں مجبور کیاجائے کہ کارخانے مت لگاؤ،نتیجۃ ان ملکوں کی بڑھتی ہوئی آبادی امریکہ اور یورپ کی مصنوعات خریدے گی جس کے باعث ملٹی نیشل کلچر کو بڑھوتری میسر آئے گی اور دولت کا بہاؤمشرق سے مغرب کی طرف ہی رہے گا۔اس پروپیگنڈے کے تحت ایشیائی عوام کا خون نچوڑنے والے کبھی کبھی انہیں بے وقوف بنانے کے لیے آٹے میں نمک کے برابر ایسی امداد پھینک دیتے ہیں جس کا مقصد آلودگی کے شعور کو بیدار کرنا ہوتا ہے اور پس پردہ مقصد معاشی جنگ میں اپنے ہتھیارکو مزید تیزکرنا تاکہ مجبوروبے کس اقوام کی رگوں سے زیادہ تیزی کے ساتھ عرق حیات کشیدکیاجاسکے۔انسانیت کے یہ دعوے دار دراصل انسانیت کے سب سے بڑے مجرم ہیں اور ان کی تہذیب نے ہمیشہ آزادی کے نام پر غلامی،تعلیم کے نام پر تہذیبی تسلط،امن کے نام پرسردجنگ اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے نام پر باقی ماندہ دنیاؤں پر اپنا سیاسی تسلط قائم کرنے کی کوشش کر کے اﷲ تعالی کی اس زمین پر اپنے فرعونی و نمرودی نظام کے خونین پنجے گاڑھنے کو کوشش کی ہے۔چائلڈ لیبر،آزادی نسواں،ویمن امپاورمنٹ ،انٹرفیتھ ڈائلاگ ،تعلیم بالغاں،ہیومن رائٹس ،ڈیموکریسی اورنہ جانے کتنے ہی خوبصورت بنے ہوئے مکڑی کے جال ہیں جو دراصل معاشی جنگ کے زہریلے ہتھیارہیں جن کی مدد سے انسانوں کی قاتل اورٍ انسانیت دشمن ’’یورپی سیکولر تہذیب‘‘نے اس زمین کو ظلم نانصافی اور معاشی عدم مساوات سے بھر دیاہے۔

اﷲ تعالی نے اپنی قدرت کا عظیم شاہکار تخلیق کیااور پھر اسے انسان کے قابل بنایااور انسان کو یہ عزو شرف عطا کیاکہ اسے اپنا خلیفہ یا نائب بناکر یہ کرہ ارض اس کے حوالے کیاتاکہ وہ اس زمین کے مالک کے مطابق کی رضاکے مطابق اس زمین پر اپنا حق حکمرانی استعمال کر سکے۔اﷲتعالی نے قرآن میں بتایا کہ وَ اِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلآءِکَۃِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃًَ (۲:۳۰) ترجمہ:’’ پھریادکرو وہ وقت جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ‘‘۔اﷲ تعالی نے جسے خلیفہ بناکر اس زمین کا نظا م اس کے حوالے کیا ،تاریخ شاہد ہے کہ اس نے اپنے آقا کی نشست سنبھال لی اور وقت نے دیکھاکہ انسان ہی اپنے جیسے انسانوں کا خدا بن بیٹھااور اس نے فرعون اور نمرود اور ابو جہل کے روپ دھار لیے۔ان انسانی کرداروں کے باعث زمین فسادسے بھر گئی۔اﷲ تعالی نے انبیاء علیھم السلام کو بھیجا تاکہ انسانوں کو انسانوں کی خدائی سے نجات دلا کر تو ایک اور سچے معبود کے تابع کر دیا جائے۔زمین کے فراعین نے انبیاء علیھم السلام اور انکے ماننے والوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیااور ایک معرکہ کارزار آج تک جاری ہے۔اس زمین کے اصل وارث وہی لوگ ہیں جو اس زمین کے مالک کے بھیجے ہوئے سامان ہدایت کے حامل ہیں لیکن یہ عجائبات عالم میں سے ہے کہ غاصبین نے اس زمین کو اپنی تصرف گاہ بنارکھاہے اور اس کے خزانوں کو اپنی ملکیت سمجھنے لگے ہیں۔ماضی کی یہ جہالت آج سیکولرازم کے نام سے انسانیت کی گردنوں پر مسلط ہے اورتہذیب اورسود کی بیڑیوں سے اس سیکولرازم نے کل انسانیت کو غلامی کی زنجیریں پہنا کر اﷲ تعالی کی اس زمین کو ظلم و ستم سے بھر دیاہے لیکن بہت جلد یہ زمین اپنے حقیقی وارثوں کی طرف پلٹنے والی ہے جب یہاں کا نظم و نسق انبیاء علیھم السلام کی پیروکاروں کے پاس پلٹ آئے گا،انشاء اﷲ تعالی۔

زمین کا اندرون بے حد گرم ہے،سائنسدانوں کا خیال ہے کہ زمین ایک زمانے میں سورج کا حصہ تھی،علیحدگی کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ زمین کا بیرون تو ٹھنڈا پڑ گیالیکن اندرون اب بھی بے انتہا حدت کا حامل ہے۔بعض اوقات زمین کے اندرون سے گرمی کے باعث ابلتاہوااور کھولتاہوا مادہ جسے ’’لاوہ‘‘کہتے ہیں باہر نکل پڑتاہے،یہ بہتاہوابے حد گرمائش کا حامل اپنے راستے میں آنے والی چیزکو جلا دیتاہے اور بعض اوقات اسی لاوے کے باعث زلزلے بھی آتے ہیں کیونکہ لاوے کی گرمائش زمین کی اندرونی سطح میں بہت زیادہ ردوبدل کر ڈالتی ہے۔اسی حدت ارضی کے باعث زمین کی تہوں میں اﷲ تعالی نے انسانوں کے لیے بے شمار قیمتی ذخائر دفن کررکھے ہیں،تیل،گیس اور معدنیات کا انبوہ کثیراسی گرمائش کا مرہون منت ہے جس کی وجہ سے زمین کے پیٹ میں بہت تیزی سے کیمیائی عملات وقوع پزیرہوتے ہیں اور انسان کے لیے انعامات خداوندی تیارہوتے رہتے ہیں۔اﷲ تعالی کی شان ہے کہ زمین کی بالائی سطح پر جہاں برفانی تودے اپنی برودت کی شدت پر قائم ہیں انہیں کی تہوں میں آگ کی تپش سے دھاتیں پگھلتی چلی جارہی ہیں۔
زمین پر سات براعظم ہیں جن میں ایشیا سب سے بڑاہے،افریقہ،شمالی و جنوبی امریکہ،یورپ،آسٹریلیااور انٹارکٹاشامل ہیں۔زمین کے دو سرے جنہیں قطب شمالی اورقطب جنوبی کہتے ہیں،یہ دونوں خطے انتہائی بلندی اور انتہائی پستی پر واقع ہیں۔زمین جب سورج کے گرد اپنا چکر مکمل کرتی ہے تو نصف سال تک یہ زمینی قطب 22ڈگری کے جھکاؤ کے باعث سورج کے سامنے رہتے ہیں جبکہ بقیہ نصف سال سورج سے دور ہٹ جاتے ہیں چنانچہ کہاجاتا ہے کہ یہاں چھ ماہ دن اور چھ ماہ رات رہتی ہے،تب نماز اور روزہ وغیرہ کے احکامات یہاں کس طرح مرتب ہو سکتے ہیں یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے۔بہرحال یہاں درجہ حرارت بعض اوقات-50ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی گرجاتاہے اور لوگ برف کے گھروں میں اقامت پزیر رہتے ہیں کیونکہ برف کا درجہ حرارت صفرٖگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور یہ گھروندے باہر کی نسبت گرم ہوتے ہیں۔تاہم یہاں زندگی اس طرح ممکن نہیں ہے جیسے زمین کے وسطی علاقوں میں تہذیب و تمدن اپنی پوری قوت سے تاریخی سفر طے کرتے ہیں اس کے باوجود بھی یہاں کی مخلوقات اپنے خالق کے قائم کردہ اصول ہائے حیات کے مطابق زندگی کے ایام پورے کرتی ہیں۔پوری زمین میں دریاؤں کا بہاؤ شمال سے جنوب کی طرف رہتا ہے اور یہ اﷲ تعالی کا قائم کردہ نظام ہے جس کے بارے میں قرآن مجید نے کئی جگہ بتایا کہ کس طرح اﷲتعالی سمندروں سے بادل اٹھا کر پہاڑوں پر برساتاہے اور پھر وہ پانی بہتاہوا باردیگر سمندروں میں آن گرتاہے۔زمین کی سطح،زمین کی فضا اور زمین کااندروں خدائی رازوں سے بھرپور ہیں،کہیں کہیں تو انسان کی رسائی ہو چکی ہے اور بے شمار مقامات و وقوعات ایسے ہیں کہ انسان ابھی تک ان کے مشاہدے کے بعد انگشت بدنداں ہے ۔
یورپ میں صنعتی انقلاب کے بعد سے جہاں سیکولر تہذیب نے انسان کے اخلاق اور معیشیت کی تباہی پھیردی ہے وہاں صاف شفاف زمین کو بھی اس یورپی انقلاب نے بے پناہ نقصان پہنچایاہے اور یورپی کارخانوں نے زمین کی آلودگی میں بے پناہ اضافہ کر کے اسے گندگی کااڈھیر بنانے کی بھونڈی کوشش کی ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ آلودگی اس زمین کے سینے پر سب سے بڑی ایسی قاتل بن گئی ہے جوہمہ وقت انسانی جانوں کے درپے ہے،دنیابھرکے 100ملین سے زائد افرادآلودگی کے باعث ملیریااورایچ آئی وی کا شکارہیں،ایک بلین سے زائد افراد پینے کے صاف پانی جیسی نعمت سے محروم ہیں،14بلین پونڈ سے زیادہ وزن کا حامل پلاسٹک کافضلہ ہر سال سمندروں میں پھینک دیاجاتاہے اورصرف میکسیکو کی خلیج میں چلنے والے جہازسالانہ 1.5میٹرک ٹن نائٹروجنی آلودگی کاباعث بن رہے ہیں جس کے باعث ایک ملین سے زائد سمندری حیات کوموت کا آسیب نگل جاتاہے،کارخانوں کے قریب رہنے والے انسانوں کو پھیپھڑے کے کینسرمیں مبتلا ہونے کے امکانات 20%تک زیادہ ہوتے ہیں اور یہ بہت زیادہ خطرناک حد تک کی شرح ہے،امریکہ جیسے ملک کی 46%جھیلیں آلودگی کے سبب آبی حیات اور انسانی تیراکی وسیاحت کے قابل نہیں رہیں،ہرسال امریکہ کے قدرتی صاف شفاف اور صحت بخش پانیوں میں 1.2ٹریلین گیلن زیریلا مواد ڈال دیاجاتاہے جس کے باعث وہاں کے بچے پانچ سال سے بھی کم عمروں میں آلودگی کے باعث بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔اسی حقیقت کو وحی الہی نے سینکڑوں برس پہلے بتادیاتھا کہ ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ(۳۰:۴۱)‘‘ترجمہ:’’خشکی میں اور دریاؤں میں فساد برپاہوگیاہے لوگوں کی اپنے ہاتھ کی کمائی سے تاکہ(اﷲتعالی) مزہ چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال کا شاید کہ وہ باز آجائیں‘‘۔پس اﷲ تعالی نے تو ایک بہت عمدہ اور بہترین زمین جو انسانی تقاضوں کے لیے ایک بہترین جائے قرار تھی ،نسل آدم کو عطا کی تھی لیکن انسان نے اپنے ہی ہاتھوں ایک غیر فطری،سیکولر نظام کے تحت اس کی شفافیت کت تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔


 

اﷲ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایاَ و ہُوَ الَّذِیْٓ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقُِّ (۶:۷۳)ترجمہ:’’وہی (اﷲ تعالی) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیداکیا‘‘،یعنی زمین وآسمان کی تخلیق محض کھیل تماشے کے طورپرنہیں ہوئی بلکہ یہ ایک نہایت سنجیدہ کام ہے جو حکمت کی بنیادپر کیاگیاہے اور اس کے اندر ایک بہت بڑا مقصد پنہاں ہے۔ایک اور جگہ قرآن مجید نے تخلیق ارض کے بارے میں فرمایا اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہ‘ حَثِیْثًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرَاتٍ بِاَمْرِہٖ اِلاَّ لَہُ الْخَلْقَ وَ الْاَمْرُ تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ(۷:۵۴) ترجمہ’’درحقیقت تمہارارب اﷲ تعالی ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا،پھراپنے تخت پرجلوہ فرماہوا جورات کو دن پر ڈھانک دیتاہے اور پھر دن کورات کے پیچھے دوڑاتا چلاآتاہے ،جس نے سورج چانداورتارے پیداکیے سب اسی کے فرمان کے تابع ہیں خبردار رہو کہ اسی کا خلق ہے اور اسی کا امر ہے ،بڑا بابرکت ہے اﷲتعالی جوسارے جہانوں کا مالک و پروردگار ہے۔‘‘زمین کے انتظامات کے بارے میں ایک اور مقام پر اس طرح ارشاد ہوتا ہے وَ ہُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْہَا رَوَاسِیَ وَ اَنْہٰرًا وَ مِنْ کُلِّ الثَّمٰرٰتِ جَعَلَ فِیْہَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّہَارَ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لٰاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ(۱۳:۳) وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰی بِمَآءٍ وَّاحِدٍوَّ نُفَضِّلُ بَعْضَہَا عَلٰی بَعْضٍ فِی الْاُکُلِ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لٰاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ(۱۳:۴) ترجمہ’’ار وہی اﷲتعالی ہے جس نے زمین پھیلا رکھی ہے اس میں پہاڑ وں کے کھنٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریابہادیے ہیں ،اسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیداکیے ہیں اور وہی دن پررات طاری کرتاہے ،ان ساری چیزوں میں بڑی نشانیاں ہیں جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں،اور دیکھو زمین میں الگ الگ خطے پائے جاتے ہیں جوایک دوسرے سے متصل واقع ہیں،انگور کے باغات ہیں،کھیتیاں ہیں ،کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دہرے ہیں ،سب کو ایک ہی پانی سے سیراب کرتاہے مگرمزے میں ہم کسی کو بہتر بنادیتے ہیں اور کسی کو کم تر ،ان سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ ‘‘
انسانی اندازے کے مطابق آج سے 4.54بلین سال پہلے اﷲ تعالی نے زمین کووجود بخشا،زمین انڈے کی ہیئت کی مانندایک نیم بیضوی گول شکل کاایک گولا سا ہے۔خلا سے دیکھنے میں یہ ایک سبزرنگ کی گیند نظر آتی ہے جس کے گرد بعض اوقات ایک سفیدچادر سی لپٹی ہوتی ہے جو پانی سے بھرے بادل ہوتے ہیں اور دوہی مقامات سے روشنی پھوٹتی نظر آتی ہے ایک مکہ مکرمہ اور دوسرا مدینہ منورہ۔اﷲ تعالی نے زمین کو نظام شمسی کاایک سیارہ بنایاہے اور اسے اپنی قدرت کاملہ سے سورج کے زہریلے اثرات سے محفوظ بناکراس میں زندگی کو ممکن کیاہے۔زمین سورج کے گرد چکر لگاتی ہے اوراس دوران اپنے مدار کے گرد بھی گھومتی رہتی ہے،اپنے مدار کے گرد ایک چکر کو ایک دن کہاجاتا ہے اورسورج کے گردایک چکر365دن 5گھنٹے اور48منٹ میں پورا کرتی ہے،اس مدت کو ایک شمسی سال کہاجاتاہے۔زمین اپنے مدار کے گردکم و بیش 30کلومیٹر فی سیکنڈ کے حساب سے گھومتی ہے،یہ اتنی تیز رفتار ہے کہ اس رفتار سے چلنے والے کسی جسم پر قرار ممکن نہیں لیکن اﷲ تعالی نے زمین کے اندر کشش ثقل نامی ایک ایسی قوت رکھ دی ہے کہ زمین اپنی موجودات کو اپنے ساتھ چمٹائے رکھتی ہے۔چاند زمین کے گرد گھومنے والا اکلوتا سیارہ ہے جو زمین کے گرد اپنا ایک چکر انتیس سے تیس دنوں میں مکمل کر لیتاہے۔چاند کی گردش زمین پر بھی اثرانداز ہوتی ہے خاص طور پر سمندر مدوجزریا جوار بھاٹا سورج اور چاند کی مشترکہ گردش کا نتیجہ ہوتاہے۔
زمین کے کم و بیش اکہتر(71%)پر پانیوں کے سمندر واقع ہیں جبکہ باقی ماندہ پرخشک سرزمین ہے جبکہ خشکیوں کے درمیان جہاں دریابہتے ہیں وہاں سمندروں کے درمیان بھی جا بجا خشکی کے جزائر واقع ہیں۔اﷲ تعالی نے ایک خاص اندازے کے مطابق زمین کو بائیس ڈگری تک سورج کی طرف ٹیڑھاکر کے رکھاہے جس کے باعث زمین کے پانیوں اور خشکی کے درمیان توازن برقراررہتاہے۔اگر زمین ایک ڈگری کم ٹیڑھی ہوتی تو زمین کے سارے پانی کے ذخائرجم کر برف بن جاتے اور زندگی کے امکانات معدوم ہو جاتے اور اسی طرح اگر زمین ایک ڈگری زیادہ سورج کی طرف جھکی ہوئی ہوتی، جبکہ ایک ڈگری بہت چھوٹی سی مقدار ہوتی ہے،تو زمین کے سارے برفانی تودے حدت شمسی سے پگھل کر پانی بن جاتے اور زمین پر ایک انچ بھی خشکی کاباقی نہ پچتااور زندگی کے امکانات ایک بار پھر معدوم ہو جاتے ،پس یہ اﷲ تعالی کی قدرت کاملہ ہے کہ جہاں زمین کو خارجی اثرات بدسے بچایا وہاں داخلی طور پر بھی اس کی تخلیق اس طرح فرمائی کہ کل مخلوقات حیاتیہ اپنا عرصہ حیات بخوبی مکمل کر سکیں

عکس خیال

posted Mar 16, 2014, 3:27 PM by PFP Admin   [ updated Mar 16, 2014, 3:46 PM ]

تحریر: راحت فاروق ایڈووکیٹ///معاشرتی رویوں کی آگ میں جھلسنے والی مظلوم  عورت کئی بار مرتی اور سانسوں کی گنتی پوری کرنے کیلئے دوبارہ زندہ ہونے پر مجبور ہوتی ہے اور اپنے ان مسائل کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کو ترجیح دیتی ہے
المیہ یہ ہے کہ کل آبادی کا 52% خواتین پر مشتمل ہے جبکہ 5%سے بھی کم عورتیں زمین پر مالکانہ حقوق رکھتی ہیں عورت فاؤنڈیشن کی جانب سے 2012کی عورتوں کے خلاف تشدد رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں گھریلو تشدد کے 25.5%واقعات اور تیزاب پھیکنے کے 26.51%واقعات درج ہوئے جوسر اقتدار طبقات اور عورتوں کے حقوق کی تنظیموں کیلئے لمحہ فکریہ اور سوالیہ نشان ہیں۔محض قانون سازی مسئلے کا حل نہیں بلکہ سماجی سطح پر پائے جانے والے تصورات اور رویوں کی اصلاح ضروری ہے انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریوں کا احساس ضروری ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ اہم فیصلہ ساز اداروں میں کلیدی عہدوں پر خواتین کو تعینات کیا جائے جو خواتین اسمبلی میں موجود ہیں یا دیگر کلیدی عہدوں پر تعینات ہیں ۔عملی طور پر ان کی موجودگی اور اس کے ثمرات کا نظر آنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آزاد ریاست جموں وکشمیر میں اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں میں آبادی کے تناسب سے اضافہ کیا جانا چاہیے۔اس کے علاوہ ہر محکمہ میں خواتین کا کوٹہ مخصوص کیا جائے یہ المیہ ہے کہ کشمیر کونسل جیسے اہم ادا رے میں اور ریاست کے اہم ستون اعلیٰ عدلیہ میں خواتین کی نمائندگی موجود ہی نہیں اسی طرح علیحدہ پولیس اسٹیشنز کا قیام انتہائی ضروری ہے۔
خواتین کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ان کے وراثتی حقوق کے شعور سے آگاہی دی جائے اور قرآن پاک کے اس متعین کردہ حق کو ہر حال میں ممکن بنایا جائے۔ اگرچہ عشق رسول کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں مگر ان پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے اگر اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین کے حقوق دیے جائیں تو معاشرہ عروج کی بلندیوں پر اورامن کا گہوارہ بن سکتا ہے دوسری طرف خواتین کو بھی اپنے حقوق کاشعور اور فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔آج ہمارے انحطاط پذیر معاشرے کو اخلاقی پستی سے باہر لانے کیلئے محمد بن قاسم اور محمود غزنو ی جیسے بہادر اورجری انسانوں کو وجود بخشنے اور تربیت کرنے والی ماؤں کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اس دن کو محض رسم کے بجائے دعوت عمل قرار دے اس کے مقاصد کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔
۔ان تمام تعلیمات پر عمل پیرا نہ ہونے کی وجہ سےہی ہم اخلاقی انحطاط اور زوال کا شکار ہیں تاریخ گواہ ہے کہ جس معاشرے میں بھی عورت بے توقیر ہوئی اس کی حق تلفی کی گئی وہ معاشرہ برسوں میں نہیں دنوں میں انحطاط پذیر ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آج عالمی سطح پر 
i) universal declaration of Human Rights 1946.
ii) Convention on the elimination of All form of discrimination against women 1979.
iii) Int. Court for crimes against women 1976
موجود ہیں۔اسی طرح پاکستان کا آئین 1973کا آرٹیکل Equality of citizen 25سے متعلق ہے پاکستان میں خواتین کو تیزاب سے جلانے والے بھیانک جرم کے مرتکب افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات میں تبدیلی کی گئی۔ ایسے مجرم کو دس لاکھ جرمانہ اور 14سال قید کی سزا دی جائے گی۔ ونی، سوارہ، جبری یا قرآن سے شادی اور خواتین کو املاک میں حق وراثت سے محروم رکھنے پر دس لاکھ جرمانہ ہو گا اوریہ جرائم ناقابل ضمانت ہوں گے۔ کام کی جگہوں پر ہراساں کرنے کا قانون 2010ء میں نافذ ہوا ۔اسی طرح آزاد کشمیر میں 
i) Family court Act 1993
ii) Dissolution of Marraige Act 1939.
iii) Acid Thowing Act
iv) Domestic violance Act
v) AJK establishment of a commission on th status of women ordinance 2013.
vi) protection against Harrasment of women at work places Act 2014.
موجو د ہیں۔ مگر ان تمام قوانین کے باوجود خواتین کے مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ان کے حقوق کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی۔ اس طرح استحصال کا شکار ایک گھریلو عورت جو صبح سے شام تک اپنے اعمال حسنہ سے اپنے گھر کی کائنات کی کوری تصویروں میں نقش بھارتی اوراپنا آرام و سکون تیاگ کر گھر کو امن کا گہوارہ بناتی ہے۔ یا ورکنگ ویمن جو اپنے کندھوں پر دوہری ذمہ داری اٹھائے اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے ۔اس کے حقوق ہر صورت بری طرح پاما ل ہو رہے ہیں ۔عورت کسی بھی جگہ محفوظ نہیں ۔اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے صرف 2013اور جنوری 2014میں 3567 فیملی مقدمات آزاد کشمیر میں دائر ہوئے جن میں سے 1710مقدمات ابھی زیر کار ہیں لا تعداد مقدمات پولیس کے پاس درج ہیں۔ اور پولیس کے رویے اور عدالتی پیچیدگیوں کی وجہ سے کئی دلخراش واقعات کو رپورٹ ہی نہیں کروایا جاتا اور 
خواتین کا عالمی دن ۔۔۔
 ایک رسم یا دعوت عمل 
معاشرتی رشتوں، تعلقات اور اداروں کے حوالے سے عالمی سطح پر جو دن منائے جاتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ایام کو منائے جانے کی غرض و غایت اور افادیت و اہمیت کیا ہے اور ہماری روزمرہ زندگی سے اس کا کیا تعلق ہے۔یہ امر ایک حقیقت چلی آر ہی ہے کہ ہمارا معاشرہ عقل و شعور سے عاری فہم وفراست سے مبرا بے ڈھنگی بھیڑ چال کا شکار بنتے ہوئے جس مقام پر اب پہنچ چکا ہے اگر بر وقت اس کا تدارک نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف تو کیا کریں گی خاکم بدہن کہیں ہمیں یاد کرنے والی نسلیں ہی باقی نہ رہیں تقصیر معاف 8مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے جو میری دانست میں اس امر کا ثبوت ہے کہ کرہ ارض کے بسنے والے انسان استحصال کی جس مختلف حیثیتوں اور سطحوں پرشکارہے یا کرتا ہے ۔ان میں سے ایک جنسی لحاظ سے غاصبانہ اور غیر فطری تفریق و امتیاز ہے جس باعث انسانی آبادی کا ایک معتدبہ حصہ کرہ ارض کو جنت بنانے کے خواب میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔اس دن کا منایا جانا جس کا آغاز 1908میں نیو یارک میں خواتین نے اپنے حقوق کے حصول کیلئے مظاہرے کیے جن میں خواتین کے سیاسی ،معاشی،معاشرتی اور ووٹ کے حقوق کیلئے مطالبات کئے گئے اس کے بعد کوین ہیگن میں سو شلسٹ ویمن کی سیکنڈا نٹرنیشل کانفرنس میں ویمن کے وفود گئے اور تجویز کیا کہ اس دن کو بین الاقوامی سطح پر منایا جائے جس کے نتیجے میں خواتین کے حقوق کو اجاگر کرنے کیلئے عالمی سطح پریہ دن منایا گیا ۔اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے عورت کو بیش بہا عزت ،تقدس اور لازوال رحمت کا مقام عطا کیا مگر آج بھی اگر معاشرے میں نظر دوڑائی جائے تو عظمت ورفعت کے درجات پر متمکن یہی بنت حوا انتہائی غیر مخفوظ اور ہرطرف استحصال اور ظلم کا شکار نظر آ تی ہے۔ جو نبی کریمﷺ کے ہر پیروکار کے لئے سوالیہ نشان ہے۔ اور آٹھ مارچ کو اس دن کے منائے جانے کا مقصد بنیادی طور پر افراد معاشرہ کو جھنجوڑنا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے انحراف کے مرتکب ہو کر اس عظیم مقام کو بھول چکے جو نبی کریم ؐ نے عورت کو عطا کیا تھا۔ اگرچہ ہماری رہنمائی کیلئے قرآن کریم موجود ہے اور عورت کی عزت اور اہمیت اور مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے۔ کہ قر آن پاک کی 114سورہ میں سے کسی کا نام ’’الرجل‘‘نہیں مگر تخلیق کے عظیم عمل میں قدرت کی شریک کار عورت کو اس عظیم درجہ پر متمکن کیا گیا کہ قرآن پاک کی سورۃ کو سورۃ النساء کانام دے کر وراثت اور زندگی گزارنے کے تمام اصول و ضوابط کے ساتھ ساتھ عورتوں کے حقوق کا تعین کر دیاگیا ۔اس کے بعد رسول کریمؐ کی بحیثیت والد اور بحیثیت شوہر زندگی ہمارے لیے بہترین مشعل راہ ہے اور خطبہ حجۃ الوداع دنیا کا ’’فرسٹ چارٹر آف ہیومن رائٹس‘‘ کی صورت میں بہترین رہنمائی موجود ہے ۔

پاکستان کے آمدہ الیکشن۔۔۔تھرڈ آپشن

posted Mar 21, 2013, 3:27 PM by PFP Admin   [ updated Mar 21, 2013, 3:32 PM ]

پاکستان تحریک انصاف نے اپنے انٹرا پارٹی انتخابات کامیابی سے مکمل کرکے موروثیت کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے۔پشاور میں ایک اور کامیاب جلسہ منعقد کرکے ان ناقدین کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ جو یہ سمجھتے تھے کہ سونامی ماند پڑسکتی ہے ۔23 مارچ کا جلسہ تحریک انصاف کو صحیح معنوں میں ایک متبادل تیسری سیاسی قوت کے طورپر منظر عام پر لے آئیگا۔

پاکستانی عوام کے پاس آزادی ہے جس کو چاہیں ووٹ دیں مگر میری ذاتی رائے میں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی میں کوئی فرق نہیں ہے جو لوگ ابھی بھی ان روائتی سیاسی جماعتوں کوووٹ دینے کے حق میں ہیں جو گزشتہ دو دہائیوں سے بھی زائد اقتدار میں ہیں اور جن کی پالیسیوں کی بدولت پاکستان ان حالات تک پہنچ چکا ہے کہ بقا کے لالے پڑے ہوئے ہیں ان کی مثال کچھ ایسے ہی ہے کہ

میرکیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

آمدہ انتخابات میں بہت سے فیکٹرز تحریک انصاف کے حق میں جاتے ہیں۔ پہلا یہ کہ عوام اس بار تبدیلی چاہتے ہیں اور دوسرا یہ کہ تحریک انصاف کو کبھی اقتدار کا موقع نہیں ملا۔یہ آزمائی ہوئی جماعت نہیں ہے۔ لہذا عوام سمجھتے ہیں کہ اب کی بار کسی نئے کو موقع ملناچاہیے ۔انہی فیکٹرز کو لیکر اگر تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان انتخابی مہم کے دوران عوام خاص طورپر نوجوانوں کی بڑی تعداد کو راغب کرکے پولنگ بوتھ تک لے جانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو حیران کن نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

اس مرحلے میں یہ کہنا کون سی جماعت سادہ یا غالب اکثریت حاصل کرے گی قبل ازوقت ہوگا۔ مگر اگر انتخابات ممکنہ دہشت گردی سے متاثر نہ ہوئے اورالیکشن کمیشن صاف وشفاف انتخابات منعقد کرانے میں کامیاب ہوگیا تو ایسے نتائج سامنے آسکتے ہیں جو سیاسی پنڈتوں کے تجزیوں کو الٹ کر رکھ دیں۔ پاکستان تحریک انصاف کتنا ہی کامیاب ہوتی ہے یا ناکام یہ تو بعد کی بات ہے مگر نوجوانوں کی دھماکہ خیز انٹری نے بڑے بڑے جغادری سیاست دانوں کی گردنوں میں پڑے سریے نکال دیئے ہیں۔

آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پاکستان کا آئینی حصہ نہیں ہیں مگر ان خطوں کے اندر رہنے والے عام پاکستانی انتخابات میں گہری دلچسپی لیتے ہیں کیونکہ پاکستانی سیاسی جماعتوں کی پالیسیاں اور حکومتی طرز عمل ان کے سیاسی عمل اور گورننس پر اثر انداز ہوتا ہے۔اسی حوالے سے گزشتہ دنوں مسلم لیگ (ن) نے اپنے انتخابی منشور کا اعلان کرتے ہوئے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کی محرومیوں کو اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنایا ہے اس پر کتنا عمل ہوتا ہے یہ توآنے والا وقت ہی بتائے گا مگر پاکستان کی بڑی سیاسی جماعت کی طرف سے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے حقوق کی بات کرنا نہایت ہی خوش آئند امر ہے۔ بلاشبہ اس کا کریڈٹ مسلم لیگ(ن) آزاد کشمیر کی قیادت کو جاتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف اور دوسری سیاسی جماعتیں بھی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام کو حق حکمرانی بحال کرنے کے حوالے سے اپنے منشور کا حصہ بنائیں گی ۔یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔!

ابھی تک عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نوجوانوں کی مقبول ترین جماعت سمجھی جارہی ہے۔عمران خان اپنی سولہ سالہ محنت، مستقل مزاجی اور فائٹنگ سپرٹ کی وجہ سے پاکستانی سیاست کا ایسا فیکٹر بن چکے ہیں جو روایتی سیاسی جماعتوں کے گلے کی ہڈی بن چکے ہیں۔عمران خان اور تحریک انصاف کی اسی یلغارکو مد نظر رکھتے ہوئے مولانا فضل الرحمن جو پاکستانی سیاست کی وہ مچھلی ہیں جو صرف اقتدار کے پانیوں میں رہنا پسند کرتی ہے نے بھی نواز شریف کواتحاد کے لیے رام کردیا ہے۔

شریف برادران اور مولانا گزشتہ کافی عرصے سے کبھی بھی ایک دوسرے کے لیے پسندیدہ چوائس نہیں رہے مگر سیاست میں نہ تو کوئی دائمی دوست ہوتا ہے اور نہ ہی دائمی دشمن بس مفادات ہی دائمی ہوتے ہیں یہ دیکھتے ہوئے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں کسی اتحاد کے بغیر تحریک انصاف کا راستہ روکنا مشکل ہے،نواز شریف اور مولانا حلیف بن گئے۔

دوسری طرف جماعت اسلامی ہے جس کے لیے سمجھا جارہا تھا کہ اس بار کسی روائتی سیاسی اتحاد اور status queکی جماعت مسلم لیگ (ن) یا اس کی طرف سے کسی اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی۔دکھائی دیتا ہے کہ وہ بھی اتحاد کے پیروں تلے پناہ لے گی۔ گو کہ ابھی تک جماعت اسلامی اورمسلم لیگ(ن) میں کوئی باقاعدہ اتحاد تو نہیں ہوا اور نہ ہی سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا کوئی فارمولہ طے پایا ہے۔ مگر آثارو قرائین بتاتے ہیں کہ مستقبل قریب میں ان دونوں کے درمیان یا پھر کسی وسیع تر سیاسی اتحاد کی شکل میں کوئی قابل قبول فارمولہ طے پاجائے گا۔

گر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے درمیان کوئی اتحاد یا سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا کوئی فارمولہ طے پاجاتا ہے تو غالب امکان ہے کہ خیبر پختونخوا میں دونوں مل کر حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتے ہیں۔ اور صوبہ پنجاب میں بھی نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ واقفان حال بتاتے ہیں کہ جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا کی تنظیم تحریک انصاف سے اتحاد کے حق میں ہے بلکہ پنجاب کی تنظیم مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اتحاد کا نہیں ہے۔

جماعت اسلامی گزشتہ انتخابات کے بائیکاٹ اور مولانا فضل الرحمن کی وعدہ خلافیوں کے بعد اس بار بہت محتاط ہے اور سیاسی شطرنج کی بساط پر اپنے پتے پوری طرح سے سامنے نہیں لارہی۔ مگر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل جماعت اسلامی کی قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستانی نوجوانوں میں تبدیلی کی امنگ کی بدولت اس بار پاکستانی سیاست کا رخ بدلنے کا وقت ہے


 لہذا اگر وہ اپنا وزن تبدیلی کے حق میں ڈال دیں تواس کے دور رس نتائج برآمد ہونگے مگراس کے برعکس اگر اس بار پھر جماعت اسلامی کسی روائتی اتحاد کا حصہ بنی تواس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا ہوگا۔ ایسی صورت حال میں ہم اتنا ہی کہیں گے کہ۔

نادان سجدے میں گرگئے جب وقت قیام آیا

//جاوید حیات

پاکستان میں انتخابات کا باقاعدہ طبل جنگ بجنا باقی ہے مگر غیر اعلانیہ طورپر سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ پاکستان کے آمدہ الیکشن کئی اعتبار سے منفرد ہیں اوران کے دور رس نتائج برآمد ہونگے۔یہی انفرادیت تو ہے کہ پہلی بار کوئی جمہوری حکومت اپنی مدت مکمل کرے گی اور انتخابات کے بعد نئی حکومت کو اقتدار منتقل کرے گی۔ گزشتہ پانچ سالوں میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے جمہوریت بہترین انتقام ہے کے اقوال زریں پر عمل کرتے ہوئے عوام سے ایسا انتقام لیا ہے کہ پاکستانی عوام گزشتہ ادوار کی بری طرز حکمرانی اور کرپشن کو تقریباً بھول ہی چکے ہیں۔اسی تسلسل میں پاکستان مسلم لیگ(ن) نے مکمل ساجھے داری نبھائی ہے۔پاکستان کے ساٹھ فیصد علاقے پر حکمرانی کے باوجود تمام الزامات وفاقی حکومت پر دھرے جاتے ہیں مگر گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے میں مسلم لیگ نے قدرے بہتر طرز حکمرانی کا مظاہرہ کیا مگر اس کی بڑی وجہ عمران فوبیا ہے۔ عمران خان کے تیس اکتوبر2011ء کے جلسے نے شریف برادران کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ میاں برادران خواب غفلت سے جاگے اور اپنی صفیں درست کرتے ہوئے ان تمام سیاستدانوں کے لئے اپنی جماعت کے دروازے کھول دیئے جو گزشتہ پانچ سالوں سے شجر ممنوعہ سمجھے جاتے تھے۔سوائے چوہدری برادران اور شیخ رشید کے ، مشرف کا ساتھ دینے والے تقریباً تمام سیاستدان اس بس پر سوار ہوچکے ہیں جوان کے خیال میں اقتدار کے ایوانوں تک جاتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران خان کی بدولت نوجوانوں اور ان سیاسی کارکنوں کو بھی وہ اہمیت ملنا شروع ہوئی جس کو وہ ترسے ہوئے تھے۔ لیپ ٹاپ سکیم سے لیکر ترقیاتی سکیموں اور نوکریوں کے پیکج گزشتہ ایک سال ہی میں متعین کئے گئے مگر یہ حقیقت ہے کہ میاں برادران نے زبردست کم بیک کیا ہے۔ اس بار الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی بدولت صورتحال بدلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس مرحلے پر کوئی حتمی رائے دینا مناسب نہ ہوگا کیونکہ نتائج کا انحصار کئی عوامل پر ہے جن میں سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم،ملکی اور بین الاقوامی قوتوں کا کردار، نگران حکومتوں کا قیام اور ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد پیدا ہونے والی صورت ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر آنے والے انتخابات میں ان دو کروڑ نوجوان ووٹروں کا کردار 
فیصلہ کن ہوگا جو پہلی بار ووٹ دینے کے اہل ہوئے ہیں۔



1-10 of 40