اردو

      پریس فار پیس امن ، انسانی حقوق ، ترقی اور ماحولیاتی بہتری کے لئے سرگرم عمل ایک غیر منافع بخش اور غیر جانبدار تنظیم ہے جس کا ہیڈکوارٹر پاکستان کے زٰیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں قائم کیا گیا ہے
ملکی ، غیر ملکی اور عالمی ذرائع ابلاغ میں 
پریس فار پیس کی سرگرمیوں کی کوریج

صحافیوں کے تحفظ کی عالمی کمیٹی نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق رواں برس پاکستان صحافیوں کے لئے سب سے خطرناک ملک رہا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ 2010ء میں وہاں آٹھ صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے 
دوران ہلاک کر دئیے گئےمزید پڑھئے

پریس فار پیس انتہائی کٹھن حالات میں کھی انسانیت کی خدمت کا فریضہ سر انجام دے کربے شمار لوگوں کے لئے مشعل راہ بن چکی ہے۔ خدمت کے اس سفر میں اپنی عملی شرکت سے آ پ بھی ہمارا ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔

پریس فار پیس نے گریس نیشنل پارک کے قیام کے سلسلے میں مقامی کمیونٹی اور حکومتی اداروں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعہ کے حل کے لیے ایڈوکیسی مہم شروع کرنے کا اعلان کر دیا
مزید پڑھئے


پریس فار پیس
۱۵ مئیر اسٹریٹ
ٹنسٹال، اسٹوک آن ٹرینٹ
ایس ٹی سکس ، سکس ڈی ڈی
برطانیہ
www.pressforpeace.org.uk
:پریس فار پیس کی خبریں

محکمہ وائلڈ لائف کے اہلکار وادی نیلم میں پائے جانے والے نایاب کستوری جنگلی ہرن کے تحفظ کے بجائے شکاریوں سے رقم لیکر اس کے شکار میں ان کی معاونت کررہے ہیں
کستوری ہرنوں کے شکار پر بین الاقوامی پابندی ہے۔
پاکستانی کشمیر کے شمالی بالائی علاقوں کے جنگلات میں محکمہ وائلڈ لائف کی سرپرستی میں کستوری ہرن کا شکار 

 زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ماحولیاتی صورتحال انتہائی خراب ہے پوری دنیا اس وقت شدید ما حولیاتی بحران کا شکار ہے اگر ماحولیات پر توجہ نہ دی گئی توکرہ ض پر انسانی زندگی ختم ہو جائیگی۔ خیالات کا اظہار مشہور ماہر ماحولیات آفتاب بخاری نے گزشتہ روز یہاں پریس فارپیس میں لیکچر دیتے ہوئے کیا ۔ماحولیاتی مسائل انتہائی گھمبیر شکل اختیار کر گئے ہیں اور اگر ان پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والے وقتوں میں انسانی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔مزید 

اگر جنگلات کے بے دریغ کٹاﺅ کو نہ روکا گیا تو اس دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں کی زندگیوں کو موت کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ سائنس و ٹیکنولوجی کی ترقی، مشینوں کے استعمال اور جنگلات کے کٹاﺅ کے سبب زمین کے گرد موجود حفاظتی تہہ اوزون میں شگاف پیدا ہو گیا ہے۔ اوزون ہی کی وجہ سے زمین پر سورج کی شعاعیں ترچھی پڑتی ہیں جس سے درجہ حرارت میں اضافہ نہیں ہوتا مگر جب سے امریکا کے قریب اوزون کی تہہ میں شگاف پڑا ہے، زمین کے درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین ماحولیاتی آلودگی سے بچاﺅ کے لیئے زیادہ سے زیادہ درخت اور پودے لگانے پر زور دے رہے ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مالی وسائل کی کمی کے باعث دریاؤں اور جھیلوں کے تحفظ کے منصوبے التواء کا شکار ہیں۔تحفظ ماحولیات ایجنسیEPA))کو حکومت کی عدم توجہی کے وجہ سے فنڈز کی کمی کے علاوہ تحفط ما حول قوانین پر علمدرآمد کے عملے کی کی کا سامنا ہے۔ جس کی وجہ سے شہروں اور قصبوں کا سیوریج اور کوڑا کرکٹ دریاوں میں ڈالا جا رہا ہے۔جبکہ زلزلے میں متاثر ہونے والی دو بڑی شاہراہوں کی تعمیر نو اور کشادگی کے دوران چٹانیں، مٹی اور پتھر بھاری مقدار میں دریاؤں میں پھینکے جا 
رہے ہیں جس سے دریا ؤں میں آلودگی اور آبی حیات کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔مزید پڑھئے


 ہنزہ کے متاثرین کو کیا ملنا ہے اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا کیونکہ ایک تجربہ آزاد کشمیر کے زلزلے کے 
 بعد سرکار کی کارکردگی سے لگایا جاسکتا ہے جہاں آج بھی لوگ مدد کیلئے مارے مارے پھرتے ہیں جبکہ امداد سے لے کر خیراتوں تک بڑی رقم اس طرح سے تقسیم نہیں ہوئی جس طرح کے منصوبوں کی نوید   
سنائی جارہی تھی۔۔
                                 

پریس فار پیس کا دستوری ڈھانچہ:     ہمارا دستور :    حصہ اول      حصہ دوم  حصہ سوم     حصہ چہارم

دنیا ہمیں بھول گئی 
مگر 
ہم ان لمحوں کا کرب کبھی نہیں بھولیں گے 
جب ہم نے
اپنے قلب و جاں کو لگے زخموں کو بھول کر 
اسکولوں کی ڈیسکوں پر گردنیں جھکائے
پھولوں جیسے چہروں ،
گرمکمبلوں میں دبک کر شیر خواروں کو دودھ پلاتی ماؤں ،
ملبے تلے دم توٖڑتے ، سسکتے  بلکتے  بچوں 
اور 
ادھ کھلی آنکھوں سے انسانیت کو پکارتے جوانوں
کی لاشوں کو اپنے کاندھوں پر اٹھایا

ہمارے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ تبصرہ کیجئے
بینک روڈ، مظفرآباد،
جموں و کشمیر
فون : 0092 -5822-445457
فیکس : 0092 -445437 5822
 Info@pressforpeace.org.uk
Subpages (1): [Untitled]