• پریس فار پیس- اردو - پہلا صفحہ

    مسئلہ کشمیر پر پاکستان و بھارت کی قیادت کی ذمہ داری

    پاکستان نے حال ہی میں بھارتی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی  ابتر صورت حال کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ، سلامتی کونسل کے صدر ،جدہ میں او آئی سی  کےسیکرٹری جنرل اور جنیوا میں اقوام متحدہ  کے  کمشنر برائے انسانی حقوق کو خطوط لکھے ہیں۔  اور  ان خطوط کے ذریعے دنیا کی توجہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بربریت کی جانب مبذول کروائی ہے۔

    پاکستان نے زور دیا کہ دنیا  بھارتی مقبوضہ کشمیر میں قتل وغارت بندکروانے اور یواین سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر کے تنازعے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔ پاکستان   نے اپنی برسوں پرانی کشمیر پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے یہ عندیہ دیا کہ وہ  جموں وکشمیر کے لوگوں کی اخلاقی،سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا جب تک انہیں حق خود ارادیت کا جائز حق نہیں مل  جاتا۔ جبکہ بھارت اپنی روایتی پالیسی پر کاربند  ہے۔ ایسے کوئی شواہد دکھائی نہیں دے رہے کہ جن سے یہ معلوم ہو بھارت پر ان مطالبات کا اثر ہو گا۔ بھارت کے آئندہ انتخابات سے قبل  وزیراعظم نریندر مودی  کے پاس یہ  بہترین موقع ہے کہ  وہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب دیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں اعتماد سازی کے لیے فوجی آپریشن بند کریں ۔

     اس ضمن میں سابق  وزیر اعظم واجپائی کی بھارتی پالیسی کو بھی نئے انداز سے پرکھنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ پر ُ امن سیاسی اور سفارتی ذرائع سے جموں و کشمیر کے تنازعہ کے حل کے لیے پیشرفت کریں ۔ Holiday Inn Hotels & Resorts حکومت پاکستان نے خطہ میں امن و استحکام کے قیام کے لیے کرتار پور کا باڈر کھول کر اور بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کر کے جو دانشمندانہ قدم اُٹھایا ہے بھارتی حکمران کو نیک نیتی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا مثبت جواب دینا چاہیے اور پہلے قدم کے طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں فوجی آپریشن بند کر کے امن مذاکرات کے لیے فضا کو ساز گار بنانا چاہیے تاکہ تنازعہ کشمیر سمیت دیگر حل طلب مسائل کو باہم بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔

     تنازعہ کشمیر کو طاقت کے استعمال سے حل کرنا ممکن نہیں اگر ایسا ہوتا تو بھارت گزشتہ70 سال میں طاقت اور جبر و استبداد کا ہر حربہ استعمال کر چکا ہے ۔ جموں و   کشمیر میں بھارتی فوج کی طرف سے نہتے کشمیریوں پر چلنے والی ہر گولی خطے کو امن و استحکام سے دور لے جا رہی ہے اور بد امنی اور عدم استحکام کسی صورت  بھی  دونوں ملکوں  کے مفاد میں نہیں ہے ۔

     عکس خیال

    تحریر: راحت فاروق ایڈووکیٹ

    معاشرتی رشتوں، تعلقات اور اداروں کے حوالے سے عالمی سطح پر جو دن منائے جاتے ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ایام کو منائے جانے کی غرض و غایت اور افادیت و اہمیت کیا ہے اور ہماری روزمرہ زندگی سے اس کا کیا تعلق ہے۔یہ امر ایک حقیقت چلی آر ہی ہے کہ ہمارا معاشرہ عقل و شعور سے عاری فہم وفراست سے مبرا بے ڈھنگی بھیڑ چال کا شکار بنتے ہوئے جس مقام پر اب پہنچ چکا ہے اگر بر وقت اس کا تدارک نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف تو کیا کریں گی.

     خاکم بدہن کہیں ہمیں یاد کرنے والی نسلیں ہی باقی نہ رہیں تقصیر معاف 8مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے جو میری دانست میں اس امر کا ثبوت ہے کہ کرہ ارض کے بسنے والے انسان استحصال کی جس مختلف حیثیتوں اور سطحوں پرشکارہے یا کرتا ہے ۔

    ان میں سے ایک جنسی لحاظ سے غاصبانہ اور غیر فطری تفریق و امتیاز ہے جس باعث انسانی آبادی کا ایک معتدبہ حصہ کرہ ارض کو جنت بنانے کے خواب میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔اس دن کا منایا جانا جس کا آغاز 1908میں نیو یارک میں خواتین نے اپنے حقوق کے حصول کیلئے مظاہرے کیے جن میں خواتین کے سیاسی ،معاشی،معاشرتی اور ووٹ کے حقوق کیلئے مطالبات کئے گئے اس کے بعد کوین ہیگن میں سو شلسٹ ویمن کی سیکنڈا نٹرنیشل کانفرنس میں ویمن کے وفود گئے اور تجویز کیا کہ اس دن کو بین الاقوامی سطح پرمنایا جاَئے-

    اسلام نے آج سے چودہ سو سال پہلے عورت کو بیش بہا عزت ،تقدس اور لازوال رحمت کا مقام عطا کیا مگر آج بھی اگر معاشرے میں نظر دوڑائی جائے تو عظمت ورفعت کے درجات پر متمکن یہی بنت حوا انتہائی غیر مخفوظ اور ہرطرف استحصال اور ظلم کا شکار نظر آ تی ہے۔ جو نبی کریمﷺ کے ہر پیروکار کے لئے سوالیہ نشان ہے۔ اور آٹھ مارچ کو اس دن کے منائے جانے کا مقصد بنیادی طور پر افراد معاشرہ کو جھنجوڑنا ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے انحراف کے مرتکب ہو کر اس عظیم مقام کو بھول چکے جو نبی کریم ؐ نے عورت کو عطا کیا تھا۔

    مزید پڑھیں

     

     

     

     


    پریس فار پیس کمیونٹی اسکول، وادی نیلم آزادکشمیر میں قائم پہلا تعلیمی ادارہ ہے ۔ اس اسکول میں زیرِتعلیم  بچوں کی

    تعلیمی سرگرمیوں،  کا احوال جاننے کے لیے یہاں کلِک کیجیے 


    پریس فار پیس آزادکشمیر کے ڈایرکٹرراجہ وسیم خان عالمی امن کے قیام  کے لیے کام کرنے والی تنظیم پیس ڈایریکٹ کو پریس فار پیس کی  تنظیمی سرگرمیوں کی تفصیلات سے آگاہ کررہے ہیں۔ 

    Posted Dec 28, 2018, 12:39 PM by PFP Admin
  • سی پیک اور کشمیر کا مسئلہ

    کشمیر میں شدید سردی  اور مودی  حکومت کی جارحانہ ،  پالیسی کے تسلسل کے باوجود مزاحمتی  تحریک جاری  ہے۔ دوسری جانب حکومت پاکستان کشمیریوں کے خلاف ہونے والے جبر و بربریت کے خلاف معمول کی ڈپلومٹک کوششوں کے ساتھ ساتھ سی پیک منصوبے پر تیزی  سے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ 

    برفباری اور موسم کی خرابی کے ساتھ ساتھ بھارتی  افواج کی حد درجہ سیکورٹی کی موجودگی میں کشمیر یوں کی  موجودہ مزاحمتی  تحریک سو فیصد مقامی  سمجھی جارہی ہے۔ ہے۔یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکومت کے سامنے عالمی اداروں کی قرار دادوں اور مطالبوں کا کوئی وزن محسوس نہیں ہو رہا ہے۔

    Holiday Inn Express Hotels & Resorts

     اوآئی سی نے بھارت سے مطالبہ  توکیا ہے کہ کشمیریوں کا قتل عام بند کیا جائے۔ مگر اس  حوالے سے کشمیر میں بھارتی دہشت گردی رکوانے کے لیے کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت سے عاری دکھائی  دیتی ہے۔ امریکا افغانستان میں امن کے لیے اور وہاں سے اپنی رہی سہی عزت بچا کر نکلنے کا راستہ تلاش کررہا ہے پہلی مرتبہ باضابطہ درخواست کرکے طالبان سے مذاکرات کی بات کی اور مذاکرات بھی ہورہے ہیں۔





      جب تک سی پیک ہے پاکستان کی ضرورت چین کو ہے۔ اگر سی پیک کے منصوبوں سے پاکستان کو فائدے ہوئے تب بھی اور نقصان ہو تب بھی چین کی ضرورت تو سی پیک رہے گا لہٰذا پاکستان چین کو بھی عالمی قوت کے طور پر استعمال کرسکتا ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ جرأت مند قیادت کا ہے۔ IHG_YourRate یہ خیال کیا جارہا تھا کہ عمران خان مغرب اور عالمی برادری کے سامنے جرأت کے ساتھ پاکستان کا موقف رکھیں گے لیکن ابھی تک ان کی حکومت اپنی سمت متعین نہیں کرسکی ہے معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہر روز نیا بحران آرہا ہے اور حکومت ڈالر، سرمایہ کاری، قرضوں کے حصول، آئی ایم ایف اور انڈے مرغی میں الجھی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کامسئلہ تو پاکستانی حکمرانوں کی کمزوری کی وجہ سے بھی خراب ہوا ہے ورنہ ماضی میں کئی مواقع ملے اور اس طرح کی صورتحال تھی بلکہ بھارت اس سے زیادہ دباؤ کا شکار تھا اور پاکستان امریکا اور پوری عالمی برادری کا چہیتا تھا لیکن ہمارے حکمراں کشمیر میں استصواب کی تاریخ نہیں متعین کراسکے۔

    امریکا افغانستان کا مسئلہ حل کرانا چاہتا ہے اور چین سی پیک کے سارے منصوبے کو پرامن رکھنا چاہتا ہے تاکہ اس کی  اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے ثمرات اسے ملیں۔ ایسے  موقع پر کشمیری قوم بھارت کے سامنے تو بے بس نظر آرہی ہے مگردانشمندانہ اقدامات کے ذریعے چین کا دباؤ استعمال کرکے اقوام متحدہ کے ذریعے کشمیر میں استصواب کے لیے فضا سازگار کرواسکتی ہے۔ اس کے لیے مستقبل  شناس  قیادت کی ضرورت ہے۔سارا مسئلہ قیادت کا ہے، کشمیری اپنی جانیں قربان کرکے پاکستان سے یکجہتی اور الحاق کے حق میں فیصلے دیے جارہے ہیں اور یہاں سے ڈھیلی ڈھالی کوششیں ہورہی ہیں -  ترکی ایغور مسلمانوں کے لیے زبردست مارچ کر رہا ہے تو پاکستان کشمیریوں کے لیے سرکاری سطح پر ایسا کیوں نہیں کرسکتا۔ جتنا زور ڈیم فنڈ کے لیے دیا گیا ہے اتنا اگر کشمیر کے لیے دیا جاتا فضا سازگار کی جاتی تو کشمیر آزاد ہوچکا ہوتا اور پانی کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا۔



     

    Posted Dec 28, 2018, 2:02 PM by PFP Admin
Showing posts 1 - 2 of 38. View more »



























Subpages (27): View All