ڈاکٹر توقیر گیلانی 

جنوں ملا ، جنوں سے کچھ نہیں بنا

ابھی ہمارے خوں سے کچھ نہیں بنا

قدیم چھت جگہ جگہ سے گر گئی

تو بیچ کے ستوں سے کچھ نہیں بنا !

پہاڑ ایک ایک کر کے کٹ گئے

حسین وادیوں سے کچھ نہیں بنا

ہماری نیتوں میں ہی فتور تھا

ہمارا آیتوں سے کچھ نہیں بنا

وہ بستیوں کو روند کر چلے گئے

سفید پرچموں سے کچھ نہیں بنا

نہیں نہیں یہ کچھ دنوں کی بات ہے

ہمارا کچھ دنوں سے کچھ نہیں بنا

تم آؤ گے تو کچھ نہ کچھ بناؤ گے

یہاں تو مدتوں سے کچھ نہیں بنا

ہمارے حق میں اتنے ہاتھ اٹھ گئے

ہمارے منکروں سے کچھ نہیں بنا

By editor