ڈاکٹر عتیق الرحمن
ڈائریکٹر، کشمیر انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس، آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی

عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیاں عجیب دورخی اور  مخمصے کا شکار ہیں۔ جن ممالک کے زیر اثر یہ ادارے پروان چڑھے ہیں، ان کیلئے ان اداروں کی پالیسیوں میں ہر قسم کی گنجائش موجود ہے، لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں سے جو کوئی ان کے چنگل میں پھنس گیا، اسے یہ  ناکام نظریات اور واہیات پالیسیوں  کی تجربہ گاہ بنا لیتے ہیں۔
موجودہ سٹیٹ بنک ترمیمی ایکٹ کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ قیمتوں کے استحکام ر سٹیٹ بنک کا پہلا مرکزی مقصد قرار دیتا ہے، جسے انفلیشن ٹارگٹنگ کہا جاتا ہے۔ انفلیشن ٹارگٹنگ 1990 کے آغاز میں نیوزی لینڈ سے شروع ہوئی اور دنیا کے کئی ممالک نے اس کو اڈاپٹ کیا۔ اس وقت دنیا کے اکثر ممالک کی مرکزی بنکوں کا تحریری منشور انفلیشن ٹارگٹنگ ہی ہے۔ لیکن عملا دنیا کے اکثر بااثر ممالک  انفلیشن ٹارگٹنگ کو ترک کر چکے ہیں۔
انفلیشن ٹارگٹنگ فریم ورک کا مرکزی خیال یہ ہے کہ مرکزی بنک کا سب سے بنیادی مقصد قیمتوں کے استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ اس مقصد کیلئے مرکزی بنک کے پاس بنیادی ہتھیار شرح سود ہے۔ مقبول عام معاشی نظریہ کے مطابق اگر شرح سود بڑھا دی جائے تو لوگ خریداری کم کردیں گے، جس سے ملک میں مجموعی ڈیمانڈ میں کمی ہوگی، اور آخرکار مہنگائی میں کمی ہوگی۔ چنانچہ اگر قیمتیں  مہنگائی کے ٹارگٹ  لیول سے کم ہوں تو شرح سود کم کر کے اس ٹارگٹ کی طرف واپس جانا ہوگا، اور اھر مہنگائی ٹارگٹ لیول سے زیادہ ہو تو شرح سود میں اضافہ  کر کے مہنگائی کم کی جائے گی تاکہ وہ ٹارگٹ لیول کے قریب آسکے۔
 انفلیشن ٹارگٹنگ فریم ورک کے نظریہ پربہت سارے  تحفطات کا اظہار کیا جاسکتا ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ فریم ورک جس بنیاد پر کھڑا ہے، وہ درست نہیں۔ انفلیشن ٹارگٹنگ فریم ورک کی بنیاد اس مفروضہ پر ہے کہ شرح سود بڑھانے سے مہنگائی میں کمی ہوگی، ارو شرح سود کم کرنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ لیکن عالمی تجربہ یہ بتاتا ہے کہ یہ مفروضہ بالکل غلط ثابت ہوا ہے۔ مثلا، امریکہ میں 2007 سے پہلے اوسط شرح سود 2.5 سے 3.5 فیصد تک تھی، جبکہ اوسط افراط زر بھی 3 فیصد کے لگ بھگ تھی۔ 2007 کے عالمی بحران کے دوران شرح سود کو صفر کر دیا گیا، اور بحران کے خاتمے کے بعد بھی 2018 تک شرح سود 0.5 فیصد سے کم رہی۔  انفلیشن ٹارگٹنگ  کے نظریہ کے مطابق اس عمل کے نتیجے میں امریکہ میں افراط زر کی شرح بڑھ جانی چاہئے،  لیکن وہاں  2007 کے بعد افراط زر کی اوسط 2 فیصد کے لگ بھگ رہی، جو پہلے کی نسبت بہت کم تھی۔ اسی طرح کسی بھی دوسرے یورپی ملک کا ڈیٹا لے لیں۔ اگر آپ شرح سود میں کمی کے بعد افراط زر کی شرح دیکھیں گے، تو وہ آپ کو پہلے کی نسبت کم ملے گی۔ برازیل نے 2017 سے2019 تک کے تین سالوں میں شرح سود کو 14 فیصد سے 2 فیصد تک کم کر دیا۔ انفلیشن ٹارگٹنگ  کے نظریہ کے مطابق اتنی بڑی کمی سے مہنگائی کا طوفان آجانا چاہئے، لیکن ان تین سالوں کے دوران برازیل میں افراط زار میں تسلسل سے کمی ہوئی۔
پاکستان میں مانیٹری پالیسی کی تاریخ بھی ایسا ہی بتاتی ہے۔ پی پی پی کے دور حکومت میں شرح سود  12 فیصد سے زائد رہی، اور افراط زر بھی 10 فیصد سے زائد رہا۔ ن لیگ کے دور حکومت میں پالیسی ریٹ کو کم کر کے 5.75 فیصد پر لایا گیا۔ انفلیشن ٹارگٹنگ  نظریہ کے مطابق اس عمل سے مہنگائی بڑھ جانی چاہئے، لیکن ن لیگ کے پورے دورحکومت میں افراط زر کم رہا۔ اس کے بعد جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو شرح سود کو دوبارہ بڑھا دیا گیا، اس اقدام سے مہنگائی میں کمی ہونی چاہئے تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انفلیشن ٹارگٹنگ فریم ورک ایک غلط مفروضہ پر کھڑا  ہے۔
اسی لئے دینا نے عملا انفلیشن ٹارگٹنگ  کو ترک کردیا ہے۔ آج اگر آپ بنک آف انگلینڈ  کا قانونی مینڈیٹ دیکھیں تو وہ اسی انفلیشن ٹارگٹنگ پر مبنی ہے اور ان کے ہاں افراط زر کا ٹارگٹ 2 فیصد ہے۔ اس وقت وہاں عملا افراط زر 0.4 فیصد ہے،  جبکہ 2019 میں افراط زر 1.8 فیصد کے لگ بھگ تھی اور شرح سود 0.7 فیصد تھی۔ شرح سود میں کمی کے باوجود افراط زر کا کم ہونا ایک طرف  انفلیشن ٹارگٹنگ  کے مفروضہ کو غلط ثابت کرتا ہے۔ دوسری طرف مہنگائی کے ٹارگٹ لیول سے کم ہونے کی صورت میں بنک آف انگلینڈ کو ٹارگٹ پر واپس آنے کو کوشش کرنی چاہئے تھی، لیکن وہ اسے بھول کر مالیاتی توسیع کے نظریہ پر عمل  پیرا ہیں۔ یہی صورت حال امریکہ ، یورپین یونین اور دیگر ممالک کی ہے۔ نیوزی لینڈ جو انفلیشن ٹارگٹنگ کا بانی ہے، وہاں بھی   انفلیشن ٹارگٹنگ کے اصول کے برعکس شرح سود میں کمی کی گئی اور اسے 1.5 فیصد سے 0.25 فیصد تک کم کیا گیا۔ لیکن اس ڈرامائی کمی کے باوجود وہاں مہنگائی کی شرح میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔
عالمی مالیاتی اداروں کی دوسری دورخی مرکزی بنک سے قرض لینے کی پالیسی میں دکھائی دیتی ہے۔  مرکزی بنک سے قرض لینے کا سادہ سا مطلب ہے کرنسی پرنٹ کر کے استعمال کرنا۔ عالمی مالیاتی ادارے تیسری دنیا کے ممالک کو اس تبلیغ میں لگے رہتے ہیں کہ خبردار مرکزی بنک سے قرض نہ لیجئے ورنہ تباہ کن افراط زر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن  یہ ادارے جن ممالک کے زیر اثر ہیں، وہاں کرنسی پرنٹنگ ایک معمول کی بات ہے۔ انگلینڈ کا بجٹ  2012 سے مسلسل خسارے  میں رہا ہے، اور 2020 میں انگلینڈکی حکومت  نے اعلان کیا کہ وہ تمام ایسے افراد جن کو کرونا کی وجہ سے بیروزگاری کا سامنا ہے، ان کی آمدن کا 80 فیصد حکومت ادا کرے گی۔ سوال یہ ہے کہ دہائی بھر سے خسارے میں چلنے والی حکومت کو کرونا جیسے مالیاتی بحران کے دوران اتنے اضافی وسائل کہاں سے میسر آگئے کہ لاکھوں لوگوں کو اتنی بڑی رقوم ادا کرے؟ انہوں نے اپنے مرکزی بنک یعنی بنک آف انگلینڈ کا استعمال کیا، اور لوگوں کو سہولت دی۔ لیکن وہاں کوئی طوفان مہنگائی نہیں آیا۔  پاکستان کی مالیاتی تاریخ بھی یہ بتاتی ہے کہ مرکزی بنک کے قرض نے مہنگائی میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا۔  ن لیگ کے دور میں سرکاری قرض میں سٹیٹ بنک کے قرضوں کا تناسب 32  فیصد تھا جو آج صفر ہوچکا ہے۔ اگر مرکزی بنک کے قرض کا افراط زر سے تعلق اتنا گہرا ہوتا تو مہنگائی ن لیگ کے دور میں زیادہ ہونی چاہئے تھی، لیکن صورت حال  اس کے بالکل برعکس ہے۔
مرکزی بنک سے قرض لینا ہی ترقی یافتہ ممالک کا کرونا کے خالف سب سے موثر ہتھیار رہا ہے۔ ان ممالک نے اپنے نارمل بجٹ کے 50 سے 80 فیصد تک کے کرونا  ریلیف پیکیج دئے۔ بحران کے زمانے میں سرکار کا ریونیو معمول سے بہت کم ہوتا ہے، تو ایسے میں ان کے پاس اتنے وسائل کہاں سے آگئے کہ سیکڑوں ارب ڈالر کے پیکیج دیں؟ ان سب حکومتوں نے اپنے اپنے مرکزی بنکوں کو استعمال کیا اور ان سے قرض لے کر عوام کو سہولت دی۔ عالمی مالیاتی ادارے یہ سب مشاہدہ کر رہے ہیں اور جانتے ہیں کہ مرکزی بنک کی طرف سے اس امداد کے سبب کہیں بھی مہنگائی کا جن بے قابو نہیں ہوا۔ لیکن یہی ادارےپاکستان جیسے  مجبور ممالک کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ مرکزی بنک سے قرض لینے پر پابندی عائد کردیں۔
مجوزہ سٹیٹ بنک ترمیمی ایکٹ  میں  ایک تجویز یہ ہے کہ انفلیشن ٹارگٹنگ کو مرکزی بنک کا بنیادی مقصد قرار دیا جائے، اور میں کئی مثالوں سے یہ بتا چکا ہوں کہ انفلیشن ٹارگٹنگ فریم ورک دراصل  دنیا بھر میں  ناکام ہو چکا ہے۔ اس ناکام نظریہ کو پاکستان کے اپر کیوں مسلط کیا جارہا ہے؟ اس ترمیمی ایکٹ کا ایک دوسرا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ حکومت مرکزی بنک سے براہ راست قرض نہیں لے گی۔ تو سوال یہ ہے کہ جب دنیا کی تمام حکومتیں مرکزی بنک کی مدد سے اتنے بڑے بڑے امدادی پیکیج دے رہی ہیں تو پاکستان پر ایسا کرنے کی پابندی کیوں لگائی جارہی ہے؟
سٹیٹ بنک ترمیمی ایکٹ پاکستان کو ان ہتھیاروں سے محروم کرنے جارہا ہے، جن کو استعمال کرتے ہوئے دنیا نے کرونا کے مالیاتی بحران سے کامیابی سے مقابلہ کیا۔ حکومت کو ضرورت کے وقت قرض سٹیٹ بنک سے براہ راست لینے کی بجائے کمرشل بنکوں کے توسط سے لینے ہوں گے، اور کمرشل بنک بیٹھے بٹھائے ہزاروں ارب کا ریونیو سالانہ حاصل کر سکیں گے۔  اس ایکٹ کی مثال یہ ہے کہ گویا شکاری سے اس کے ہتھیار چھین لیے جائیں، یا معلم سے اس کا قلم کتاب لے لیا جائے۔ حکومت جن چیزوں کی مدد سے اپنی معاشی حالت کو سدھار سکتی ہے، وہ اس ترمیم کے منظور ہونے پر پرائے ہو جائیں گے۔

By editor