ماحولیاتی آلودگی سرمایہ دارانہ نظام کی ایجاد

ہنزہ میں ہونے والی تباہی کی قبل از وقت نشاندہی کے باوجود کوئی تدارک نہ کیا گیا ہنزہ کے عوام کی مشکلات کے ذمہ دار حکمران ہیں 4 جنوری 2010ءکو دوپہر کے وقت وادی ہنزہ کے عطاءآباد بالا میں ایک خوفناک لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور ایک پورا پہاڑ ٹوٹ کر دریائے ہنزہ میں گرا جو دریا میں لگنے کے بعد سامنے والے پہاڑ سے ٹکرایا اور وسیع تعداد میں ملبہ اچھل کر عطاے آباد پائن کی آبادی پہ آگر جو و عطاءآباد بالا سے نشیب پر ہے جس سے 19 قیمتی جانیں لقمہ اجل بنی 114 گھر تباہ ہوئے اور تقریباً تین سو سے زائد مویشی مٹی اور پانی کی نظر ہوئے۔ عطاءآباد اور گوجال کے ہزاروں مکینوں نے نکل مکانی کی اور محفوظ مقامات کی راہ لی یہ وہی عطاءآباد پائن تھا جس کو 2002ءمیں مقامی آباد کاروں کے پرزور مطالبے پر حکومت پاکستان اور ایک غیر سرکاری تنطیم فوکس پاکستان کے ماہرین نے دورہ کیا تھا اور عطاءآباد کو غیر محفوظ قرار دیا تھا جبکہ عطاءآباد پائن کو محفوظ قرار دیا تھا جہاں ملبے تلے دب کر 19افراد ہلاک ہوئے۔ 2008ءکو اقوامِ متحدہ کے عالمی ماہرین نے اس علاقے کا دورہ کیا اور پاکستانی سرکار کو خبردار کیا تھا کہ باسو گلیشیئرز کے قریب تمام دیہات شدید خطرے سے دوچار ہیں اور یہاں کسی بھی وقت کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے حکومت پاکستان محکمہ موسمیات اور واپڈا اورسرکاری اداروں کو کڑی نگرانی پر مامور کرے تاکہ حادثے کی اطلاعات قبل از حادثہ پہنچائی جائیں۔اس خطرناک حادثے کی پیشنگوئی کے صرف ڈیڑھ سال بعد یہ واقع رونما ہوا اور دریائے ہنزہ سے ڈیڑھ کلومیٹر پہاڑ بند ہو چکا ہے جس نے پانی کے بہاﺅ کو مکمل طور پر روک دیا ہے جو سرکتے ہوئے پہاڑوں کو کمزور کیے جارہا ہے اور جنوری سے اب تک اس جھیل میں ہزاروں فٹ پانی جمع ہو چکا ہے اور گلیشیئرز پگھلنے سے 3.6 فٹ روزانہ کے حساب سے پانی کی سطح بلند ہوتی جارہی ہے۔ اب تک جس کی سطح کئی میٹر بلند ہو چکی ہے یہ علاقہ جس کی بلندی 2454 میٹر بتائی جارہی ہے اپنے مقام کے علاوہ نشیبی علاقوں کیلئے انتہائی بلند آفات بن چکا ہے۔ اس لینڈ سلائڈنگ کے بعد 16 جنوری کو حکومت کی بے حسی پہ گلگت بلتستان پروگریسویوتھ فرنٹ کے نوجوانوں نے پریس کلب اسلام آباد میں مظاہرہ کیا تھا اور آنے والے خطرات کے متعلق حکومت کو آگاہ کیا تھا جس کی قیادت باباجان کررہے تھے۔سرمایہ دارانہ نظام نے جہاں حوس زدہ انداز حکمرانی سے دنیا بھر میں عدم مطابقتیوں کو جنم دیا وہی فطرت کے اصولوں کے خلاف ایک مسلسل لڑائی میں مصروف عمل ہے اور سرمائے کی حوس نے مسلسل مشینوں میں ایندھن کے استعمال نے ماحولیاتی آلودگی اور پلوشن کو اس قدر بڑھا دیا ہے جس کی وجہ سے کئی موسمی تغیرات رونما ہورہے ہیں۔ پاکستان کا محل وقوع ایک ایسے ریجن میں ہے جہاں دنیا کے بلند ترین گلیشیئر پائے جاتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی اور درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے یہ گلیشیئرز پگھل رہے ہیں جس کی وجہ سے اس پہ جمی برف کا پانی پہاڑوں کو کمزور کررہا ہے جو لینڈ سلائڈنگ کا باعث بنتے جارہے ہیں۔عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق وادی ہنزہ میں 210 برفانی وادیاں موجود ہیں جن میں 110 جھیلیں بن چکی ہیں جو برف کے نیچے ہیں جن کو گلیشل لیک کہا جاتا ہے ان تمام وادیوں کا پانی دریائے ہنزہ میں گرتا ہے دریائے ہنزہ دس سو پچاس گلیشیر کے دامن میں بہہ رہا ہے جو 46779 مربع میٹر پہ پھیلے ہوئے ہیں صرف 500گلیشیر 26.3 کلو میٹر لمبا ہے جو 11 مربع میٹر برفانی ذخائر کا مالک ہے۔ ہنزہ وادی شمشان صدیوں سے گلیشیر کے پگھلے ہوئے پانی سے اور لینڈ سلائڈنگ اور زلزلوں سے تباہ ہوتا ہوا آیا ہے۔ 1883ءمیں بھی اس وادی میں اسی طرح کی جھیل بن گئی تھی جس نے اس وقت بھی بڑی تباہی پھیلائی تھی۔ اسی طرح 1897، 1905،1959اور 1977ءکے عشروں میں بھی یہاں کے مکینوں نے کئی قدرتی آفات سیلابوں، زلزلوں اور لینڈ سلائڈنگ کا سامنا کیا اس وقت کئی لوگوں کی اموات ہوئی کیونکہ بچاﺅ کے ذرےعے نہ ہونے کے برابر تھے۔ ہرچند کے وادی ہنزہ نے صدیوں سے اپنا تشخص برقرار رکھا ہوا ہے۔ 1947ءتک ہنزہ کشمیر کی ریاست اور انگریزی سرکار کے انتظامی کنٹرول میں تھا اور ہنزہ کے مکین بدرخشاں کا شہر کشمیر اور لداخ کے راستے تجارت کیا کرتے تھے اسی تجارتی سرگرمیوں نے امیر خاندان کو اس علاقے میں امراءکا مقام دیا۔ ہنزہ اس علاقے کا تجارتی مرکز تھا مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف بغاوت اسی علاقے میں ہوئی تھی۔ 19ویں صدی میں انگریزوں نے روس کے خلاف جنگ کیلئے اسی راستے کا انتخاب کیا تھا، یہ لوگ جو بے حد محنتی اور جفا کش ہیں آج جو شہر گلگت بلتستان میں نظر آتے ہیں اس ترقی میں حکومتوں کی ماداد اور لوگوں کی جفاکشی اور محنت کا زیادہ عمل ہے۔ یہ لوگ صدیوں سے مجبوریوں، محرومیوں اور افلاس سے واقف ہیں جو آج آنے والے طوفان کو دیکھتے ہیں تو ان کو وہ کھیت نظر آتے ہیں جن کو عطاءآباد گوجال آئینہ آباد شیش کات گلمت جیسی باسو اور مدجال کے بوڑھوں، بچیوں اور عورتوں نے پہاڑوں کے درمیان ان چھوٹی چھوٹی کھائیوں کے بیچ خوبصورت کھیتوں کو اپنے خون دل سے سیجا تھا کیونکہ غربت و افلاس کے دور خرابی نے اس نگر کے نوجوانوں کو معاشی بدحالی کے سبب گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے پر مجبور کر دیا تھا اور بوڑھوں، بچیوں اور عورتوں کے علاوہ ان گھروں میں نوجوان کم ہی دکھائی دیتے تھے۔ انہوں نے اپنے کھیتوں، کھیلانوں اور گھروں کو بنانے کیلئے برسوں مشقت کی جو آج پانی کی نظر ہورہے ہیں۔ گو کے گلگت بلتستان میں قانون ساز اسمبلی بھی وجود میں آ چکی ہے لیکن وہاں کی سرکار بھی سب ٹھیک ہے کے نعرے لگارہی ہے۔ لیکن ہنزہ کے متاثرین کو کیا ملنا ہے اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا کیونکہ ایک تجربہ آزاد کشمیر کے زلزلے کے بعد سرکار کی کارکردگی سے لگایا جاسکتا ہے جہاں آج بھی لوگ مدد کیلئے مارے مارے پھرتے ہیں جبکہ امداد سے لے کر خیراتوں تک بڑی رقم اس طرح سے تقسیم نہیں ہوئی جس طرح کے منصوبوں کی نوید سنائی جارہی تھی۔ بہرحال اس وقت تک جھیل سے پانی کا اخراج شروع ہو چکا ہے اور سپیل وے سے پانی سے کٹاﺅ کا عمل جاری ہے۔ اس کے باوجود گلیشیرز سے پانی اس قدر تیزی سے جھیل میں جمع ہورہا ہے کے اخراج کے باوجود جھیل کی بلندی میں 8.5 میٹر اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے تحصیل گوجال کے نشیبی علاقے گلمت اور پھو زیر آب آ گئے ہیں اور کئی مکان پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ سیل وے ٹوٹنے سے نشیبی علاقوں میں کس قدر تباہی آتی ہے یہ ایک خوفناک سوال ہے تربیلا ڈیم میں پانی سٹور ہونے کی گنجائش تو خاصی ہے لیکن اکٹھے پانی کے ریلے کو کس طرح کنٹرول ہوتا ہے اس کا اندازہ ماہرین ہی لگاسکتے ہیں۔ ہنزہ میں اس جھیل کے بننے سے ایک وسیع مالی نقصان ہوا ہے اور ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں ہنزہ کے مکینوں کی برسوں کی محنت پہ پانی پھر چکا ہے حکومت کو چاہئے کہ ماہرین کے مشورے سے متاثرین کو ایسی جگہ منتقل کرے جو محفوظ ہو اور آبادی کو کمیون میں بدلا جائے جہاں سہولتیں دینے میں حکومت کو بھی آسانی ہو۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ لوگ اپنی اپنی زمینوں میں مکان بناتے ہیں جو ایک دوسرے سے کافی دوری پر ہوتے ہیں جن سے کئی دشواریاں پیدا ہوتی ہیں اور سڑک سے کئی دوری پر ہونے کی وجہ سے خاصی مشکلات درپیش آتی ہیں لیکن یہ ساری پلاننگ حکومت نے کرنی ہوتی ہے لیکن جہاں ساری زندگی لیڈر پہلے اقتدار حاصل کرنے اور پھر اقتدار ملنے کے بعد اس کو بچانے کے جتن میں مصروف ہوں تو ایسے ماحول اور طبقاتی تضادات میں کسی منصوبہ بندی کی آس لگانا بھی ایسے ہی ہے جس طرح صحرا میں امید بہار رکھنا۔ہر چند کے انسان ازل ہی سے قدرتی آفات، موسمی تغیرات اور تبدیلیوں سے نبردآزما ہوتا ہوا آیا ہے لیکن اس دور جدید میں جہاں ٹیکنالوجی نے بے شمار ترقی کر لی ہے وہاں اگر یہ ٹیکنالوجی سرمائے کے حصول کے وصیلے کے بجائے انسانی جانوں کے بچاﺅں، ضرورتوں اور سہولتوں کیلئے استعمال کی جائے تو بے شمار تباہیوں اور بربادیوں سے بچایا جاسکتا ہے سرمایہ دارانہ نظام جس بے درردی سے ماحولیات کی تباہی میں مصروف ہے اس نے تباہیوں اور بربادیوں کو حیات کے روبرو ایک وحشی دردندے کے ماند لاکھڑا کردیا ہے انسانی محنت اور استحصالی سے ہر چند کے سرمایہ دار کو اپنی تحشیر کے اسباب ملتے ہیں لیکن بہ حوس جس قدر تیزی سے مشینوں میں ایندھن جلا جلا کر ٹمپریچر کو بڑھائے جارہے ہیں یہ دنیا کی تباہی کے اسباب کو نزدیک لارہے ہیں اور شاید اسی کا نام قیامت ہے جہاں پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑیں گے کیونکہ ماحولیاتی آلودگی نے اوزن کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا ہے دنیا میں جہاں طبقاتی ناہمواریوں اونچ نیچ کا موجب سرمایہ دارانہ نظام ہے وہی ماحولیاتی آلودگی بھی سرمایہ دارانہ نظام کی ایجاد ہے اور ترقی یافتہ ممالک اس تباہی کے زیادہ ذمہ دار ہیں۔کوہ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے جہاں برف کے بڑے ذخائر موجود ہیں جو صدیوں سے جمے ہوئے ان میں شدید تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ ماہرین کی رپورٹ کے مطابق اگر ٹمریچر اس طرح بڑھتا رہا تو ساحل سمندر کراچی سمیت کئی شہر تباہ ہو سکتے ہیں اور کئی میدانی علاقوں کی زرخیز زمین برباد ہو سکتی ہے۔ ہنزہ کے سر پر ابلتی ہوئی 110 جھیلیں مسلسل خطرے کی گھنٹی ہے جو کسی بھی وقت ایک وسیع تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ سرمایہ داریت کے مٹھی بھر افراد نے اپنے منافعوں کی حوس اور طبقاتی نظام کو جاری رکھنے کیلئے ساری دنیا کو تباہی اور بربادی کے دہانے پر لاکھڑا کر دیا ہے اس بربادی اور حوس کا انت ایک انصاف پسند نظام ہی کر سکتا ہے جہاں مشینوں کی ایجاد کا مقصد محض منافع کمانا نہ ہو اس کا مقصد انسانی جانوں کو بچانا اور سہولتیں مہیا کرنا ہو یقینا دنیا کو تباہی، بربادی اور طبقاتی تضادات سے ایک سوشلسٹ نظام ہی بچاسکتا ہے۔
Comments