تحریر: سید طاہرحسین نقوی

خدمت انسانی کے سفر میں بے شمار نوجوانوں مرد وخواتین اور طلبہ و طالبات نے بطور رضا کار پریس فار پیس کے قافلے میں شمولیت اختیار کی – ان میں دربار عالیہ بنی حافظ ہٹیاں بالا سے منسلک شفیق بزرگ صاحبزادہ  محمد عالم سر فہرست تھے جنھوں نے اپنی بے پایاں محبت ، شفقت اور مالی وسائل سے پریس فار پیس کے کارکنوں اور رضاکاروں کی سرپرستی کی اور بے شمار ضرورت مندوں اور بے سہاروں کی پشتیبانی کی – انھوں نے فروری دو ہزار دس میں وفات پائی۔ادارہ پریس فار پیس ان کے درجات کے بلندی کے لئے دعاگو ہے۔
طاہر حسین نقوی

  فروری  کا نصف گزرا تھا. سن دو ہزار دس اور آج کی تاریخ تھی. جب خانوادہ بنی حافظ، گلستان جمال کے  شجر سایہ دار و  بہار آفریں…..عالم و زاہد…..شیخ الشیوخ،متشرع، صوفی باصفا، حضرت حافظ عبدالقدوس رحمۃ اللہ علیہ المعروف بہ مولوی باجی کے فرزند ارجمند صاحبزادہ محمد عالم صاحب کے سانحہ ارتحال کی خبر سنی.اچھی طرح یاد ہے کہ دل تھام لیا تھا.صاحبزادہ محمد عالم صاحب انتہائی نفیس, خوش رو، ملنسار، وجیہ اور جاذب نظر شخصیت کے مالک  تھے. بلند اخلاق، باذوق، مطالعہ کے شائق کلام اقبال.،غالب.،سعدی شیرازی اور حافظ شیرازی کے اشعار اور مفاہیم بیان کرتے تو ذوق مند سامع عش عش کر اٹھتے.گفتگو میں سلاست، مخاطب کے مزاج کے مطابق کلام اور محفل پر چھا جانے والی مرنجاں مرنج شخصیت کا پیکر تھے.

رب العزت نے رفیقہ حیات کے ملن کا ایسا نصیبا مرحمت فرمایا تھا کہ اس خانوادہ کے اس شجر سے واقفیت رکھنے والے انہیں قدرت کے خاص فضل اور  عطا کا  انعام سمجھتے تھے.صاحبزادہ عالم کی اہلیہ محترمہ مخدومہ ضلعی صدر مقام ہٹیاں بالا کے ڈگری کالج کی منتظم اعلیٰ تھیں. قابل و فائق معلمہ،بہترین منتظمہ طالبات کے لئے نمونہ ۔سٹاف کے لئے مہرباں۔ خاندان کے لئے مشیر اعلیٰ،اور تعلیم و تدریس سے وابستگان کیلئے ماہر تعلیم،عزیزوں کے لئے شفیقہ اور سرپرست.،اولاد  کے لیے تعلیم و تربیت کا قابل تقلید گہوارہ. اور ایک مثالی و عزت مند رفیقہ حیات. صحن چمن میں چار صاحبزادگان کی گلکاریاں اور بچپن کی اٹکھیلیاں سمے کو زعفران زار بنا رہی تھیں.

ایسے شب و روز اور ماہ و سال میں صاحبزادہ محمد عالم صاحب رحمہ کی زندگی بہاروں کا مسکن اور خوشیوں کا مرقع تھی.صوفیانہ ماحول اور روحانی معطر فضائیں اس سب پر مستزاد.۔قدرت زندگی کی معراج پر امتحان لیتی ہے………کہ دیکھا جائے…… کون پورا اترتا ہے؟اور صابر و شاکر کیسے خود کو بارگاہ الوہیت میں پیش کرتا ہے….؟

صاحبزادہ محمد عالم صاحب کی اس قابل فخر اور رنگا رنگ زندگی میں ایسا لمحہ آن پہنچا کہ ان سے ان کی زندگی کی اہم ترین متاع…..ان کی رفیقہ حیات واصل الی الحق ہو گئیں..خاندان،اولاد،ادارہ، متعلقین اعزہ و اقارب اور طالبات کے ساتھ صاحبزادہ صاحب کن المناک مرحلوں سے گزرے ہوں گے؟عقل سلیم واضح کر دیتی ہے. ہمیں اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ ہماری ان سطور کا حاصل صاحبزادہ محمد عالم صاحب کی شخصیت کا حسین تذکرہ ہے.

لیکن کسی اجلی شخصیت کا ذکر خیر ان کی زندگی کے ”حاصل کل” سے خالی نہیں رکھا جا سکتا. درآنحالیکہ قابل فخر رفیقہ سفر سے عین عالم شباب میں دائمی جدائی کا اندوہناک صدمہ جھیلا ہو، اور کمال معیار کے ساتھ جھیلا ہو. اس جانکاہ صدمہ سے گزرتے ہوئے اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت عین انہی خطوط پر کی جو کہ مرحومہ و مغفورہ کی بلند ترین خواہشات اور پاکیزہ تمناؤں کے مطابق تھیں. 

صاحبزادہ محمد عالم صاحب مرحوم اپنی ذات میں تو تنہائیوں کے وسیب سے جدا نہیں ہوئے لیکن جہاں اپنی اولاد کے لئے شفیق باپ ثابت ہوئے. وہاں ان کے لئے مادر مہرباں بھی قرار پائے اور خوب در خوب. جب کہ اپنی باغ و بہار شخصیت سے کسی محفل پر اداسی کی چھایا بھی نہیں پڑنے دیں. سفید لباس، واسکٹ اور  کوٹ زیب تن کئے دور سے پہچانے جاتے.

مطالعہ کے وقت نظری چشمہ اور دھوپ میں خوبصورت عینک کے ساتھ آپ کی شخصیت کی جاذبیت دو چند دکھائی دیا کرتی تھی.وفا کی عجب مثال کہ عقد ثانی کا تصور بھی نہیں کیا اور حیات بقیہ کو خاندان.،معاشرت اور صاحبزادگان کی زندگیوں کی نذر کر دیا. آج مرحوم کے بیٹے صاحبزادہ ذوالفقار عالم صاحب کے شناختی و سماجی صفحہ  پر  ان کی تصویر دیکھی تو ماضی کی یادوں کے دریچے وا  ہو گئے۔موصوف ایک طلسماتی اور حلیم شخصیت کے حامل تھے.

ان کی زندگی میں بہترین کارکردگیاں  تسلسل میں رہیں.گفتگو کی باریکیاں، ہمہ یاراں بذلہ سنجیاں،معاملہ فہمی میں درجہ اولیں، لکھت پڑھت میں ادیبانہ اوصاف،شاعری مختصر کی، لیکن دستیاب مخطوطات میں سوز  و گداز میں ڈوبی ہوئی. لوگوں کے لئے نفع بخش… جس کا راقم الحروف گواہ ہے کہ….کوئی بھی حکومتی  دور ہو…کوئی بھی محکمہ/ادارہ ہو…… وہ لوگوں کے کام ذاتی دلچسپی اور اپنے وسائل اور تعلق و تعارف سے کروایا کرتے تھے.

 صاحبزادہ محمد عالم صاحب غفرلہ کے صاحبزادگان میں….صاحبزادہ آفتاب عالم۔صاحبزادہ ذوالفقار عالم۔صاحبزادہ اعجاز عالم۔اور صاحبزادہ معراج عالم  اعلیٰ تعلیم یافتہ اور  باوقار روزگار کے ساتھ ذاتی ،سماجی اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے ساتھ معاشرہ کے اہم اجزاء کے طور پر اپنی اجلی شناخت  رکھتے ہیں. 

جو فضل و رحمت الٰہی بھی ہے اور اس خانوادہ کا وصف بھی. اور مادر مہرباں کی تمناؤں کو عملی جامہ پہنانے میں ان کے عظیم والد بزرگوار صاحبزادہ محمد عالم صاحب کی شبانہ روز کاوشوں کا ثمر بھی. 

 وہ جدوجہد کرنے والی اور بلند فکر و نظر کی حامل شخصیت تھے.صاحبزادہ محمد عالم صاحب مرحوم و مغفور اپنے کردار اور حسن اخلاق کے ساتھ ہمیشہ  یادوں میں محفوظ رہیں گے۔

ہم صاحبزادہ محمد عالم صاحب نوراللہ مرقدہ کی بلندی درجات کے لئے دست بہ دعا ہیں اور ان کے صاحبزادگان  کیلئے اخلاص و محبت کے ساتھ نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں. 

زمانہ جنہیں بھلا نہ پائے گا  مدتوں

موت نے آغوش میں لئے نگینے کیا کیا!