پاکستان صحافیوں کے لئے سب سے خطرناک ملک

صحافیوں کے تحفظ کی عالمی کمیٹی نے ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق رواں برس پاکستان صحافیوں کے لئے سب سے خطرناک ملک رہا ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ 2010ء میں وہاں آٹھ صحافی اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوئے۔
146دی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس146 نے یہ رپورٹ بدھ کو جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اس سال دنیا بھر میں 42 صحافی اپنے کام کے دوران ہلاک ہوئے، یہ ہلاکتیں 20 ممالک میں ہوئی ہیں۔
یہ تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں کم ہے، جب 72 صحافی ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم کمیٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ رواں برس دیگر 28 صحافی بھی ہلاک ہوئے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کی ہلاکتیں فرائض کی انجام دہی کے دوران ہوئیں یا نہیں۔ اس مقصد کے لئے تفتیش جاری ہے۔
کمیٹی کے سربراہ جوئل سائمن کا کہنا ہے کہ یہ تعداد بھی بہت زیادہ ہے اور اس سے صحافیوں کو درپیش تشدد کے واقعات کی عکاسی ہوتی ہے، جو قابل قبول نہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہلاک ہونے والے آٹھ میں سے چھ صحافی خودکش حملوں کا نشانہ بنے۔ وہاں 20 صحافی زخمی ہوئے۔
جوئل سائمن نے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں کی ہلاکتیں وہاں بڑھتے ہوئے تشدد کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا، 146کئی سالوں سے پاکستان میں صحافیوں کو یا تو شدت پسند قتل کر دیتے ہیں، یا حکومتی ایجنسیاں انہیں اغوا کر لیتی ہیں۔ لیکن وہاں خود کش حملوں میں اضافے سے، سب سے بڑا خطرہ خبر تک پہنچنا ہی بن گیا ہے۔146
پاکستان میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی زیادہ تعداد دہشت گردی کی کارروائیوں کا نشانہ بنی
دراصل دنیا بھر میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی مجموعی تعداد کا بیشتر خودکش حملوں یا کراس فائر کی زد میں ہی آیا۔ یوں اس طرح کے واقعات میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد گزشتہ برس سے زائد قرار دی گئی ہے۔ صحافی ایسے حملوں کا نشانہ پاکستان، افغانستان، صومالیہ اور تھائی لینڈ میں بنے۔ عام طور پر صحافیوں کی ہلاکتوں کی اہم وجہ قتل کو قرار دیا جاتا ہے۔
146دی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس146 نے کہا ہے کہ رواں برس صحافیوں کے لئے پاکستان کے بعد عراق سب سے زیادہ خطرناک رہا ہے۔ اس کے بعد ہنڈوراس اور میکسیکو کا نمبر ہے۔
سائمن کا کہنا ہے کہ صحافیوں کے خلاف تشدد میں اضافے کی وجہ ان واقعات کی تفتیش میں حکومتوں کناکامی بھی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کے قتل کے 90 فیصد معاملات حل نہیں ہو پاتے۔
Comments