سفر نامہ ازبکستان

 ۱۴ستمبر کی چمکتی صبح جب ہم علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے ازبکستان ائر ویز کی فلائٹ سے تاشقند کے لیے پرواز کر رہے تھے تو ذہن میں شاعر مشرق کا یہ شعر گونج رہا تھا:

اک ولولہ تازہ دیا میں نے دلوں کو                                                                    

لاہور سے تا خاک بخارا و سمر قند                                                             

ہمارا کاررواں اکہتر افراد پر مشتمل تھا جس کے روح رواں اور منتظم معروف صحافی اور کالم نگار جناب جاوید چوہدری صاحب تھے۔اس انتہائی دلچسپ اور معلوماتی سفر میں ہم نے تاریخی ورثہ کے حامل شہروں تاشقند، سمرقند اور بخارا کا دورہ کیا جس کے چند مشاہدات پیش خدمت ہیں۔

ازبکستان وسطی ایشیا کا ایک ملک ہے جو 31 اگست 1991 کو سابق سویت یونین سے آزاد ہوا تھا، تاہم سرکاری طور پر ازبکستان کا یوم ازادی ہر سال یکم  ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ ملک 12 ریجنز یا صوبوں، ایک خودمختار ریاست اور ایک دارلخلافہ پر مشتمل ہے اور اس کا دارالحکومت تاشقند ہے۔ ازبکستان کی سرحدیں پانچ ممالک قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان افغانستان اور ترکمانستان سے ملتی ہیں۔ ازبکستان کی قومی زبان ازبک ہے، جس کی جڑیں ترکی سے ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ علاقوں میں تاجک زبان بھی بولی جاتی ہے جو فارسی کے قریب ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ ازبک زبان کے تقریباً تین ہزار سے زائد الفاظ اردو میں بولے جاتے ہیں۔ اس کا مشاہدہ ہم نے خود بھی کیا، مثلاً نان، سموسہ، مسجد، انار، آپا، حوض، شکر، بہار، ریگستان اور کئی دوسرے الفاظ۔ ازبکستان کے سکولوں میں ذریعہ تعلیم ازبک ہے

۔ سوویت یونین کے دور میں روسی زبان بطور ثانوی زبان پڑھائی جاتی تھی جبکہ آزادی کے بعد سے انگریزی بطور ثانوی زبان پڑھائی جاتی ہے۔ ازبکستان قدیم شہروں کی سرزمین ہے، جن میں سے بخارا تقریباً 2500 سال اور سمرقند تقریباً 2700 سال قدیم شہر ہے۔ یہ شہر اپنی مسجدوں اور بزرگوں کے مزارات کی وجہ سے مشہور ہیں۔ ازبکستان کا علاقہ چین اور بحیرہ روم کے درمیان تجارتی راستے کے طور پر بڑی اہمیت رکھتا تھا، جو کہ انہیں قدیم سلک روٹ سے بھی ملاتا تھا۔ ازبکستان میں دنیا کے سونے کے چوتھے اور تانبے کے دسویں بڑے ذخائر ہیں۔ یہ ملک پٹرولیم کے ذخائر سے مالامال ہے۔ ازبکستان کاٹن پیدا کرنے والا اہم ملک بھی ہے۔ اس کے باوجود ازبکستان کی معیشت کو بہت زیادہ مضبوط نہیں کہا جا سکتا۔ ازبکستان کی کرنسی "سوم" ہے۔ ایک پاکستانی روپیہ کے بدلے 65 سوم اور ایک ڈالر کے بدلے 8050 سوم ملتے ہیں۔ جو کرنسی ہم لے کر گئے تھے، اس حساب سے ہم وہاں پہنچتے ہی کروڑ پتی ہو گئے تھے۔

ازبکستان نے آزاد ہوتے ہی اپنا ٹائم زون پاکستان کے مطابق مقرر کر لیا تھا۔ اس اعتبار سے ازبکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی گھڑیاں پاکستانی وقت کے عین مطابق ہیں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ Sustainable Development Solutions Network کی حالیہ رپورٹ کے مطابق خوش رہنے کے لحاظ سے ازبکستان دنیا میں 44 ویں نمبر پر ہے، جبکہ پاکستان اس فہرست میں 75 ویں اور بھارت 133 ویں نمبر پر ہے۔ ازبکستان کے لوگ خوبصورت، مہذب، ملنسار، سادہ اور متواضع ہیں۔ صفائی یہاں کا نمایاں وصف ہے۔ ہم نے ہوٹل میں، سڑک پر، ریستوران میں یا عمارات میں کہیں بھی کوڑا کرکٹ نہیں دیکھا۔ یہ لوگ صفائی کو بے انتہا اہمیت دیتے ہیں۔ اگرچہ یہاں کا انفراسٹرکچر بہت عالی شان نہیں ہے، تاہم ہمیں ہر جگہ صفائی ستھرائی کا اعلیٰ معیار نظر آیا۔ روسی دور کی بہت سی عمارتیں اب بھی موجود ہیں۔ البتہ نئی عمارتیں بھی تعمیر ہو رہی ہیں۔ لوگوں کے رویوں کی بات کریں تو اپنے ساتھ پیش آنے والا ایک واقعہ بیان کرتا چلوں۔ تاشقند میں ایک ڈنر کے بعد ہم اپنے گروپ سے بچھڑ گئے۔ ہوٹل میں ڈنر کرتی ہوئی ایک فیملی کو ہماری پریشانی کا اندازہ ہوا تو وہ ہمارے پاس آئے اور انگریزی میں کہا: لگتا ہے آپ اپنے گروپ سے الگ ہو گئے ہیں، ہم آپ کی کیا مدد کر سکتے ہیں؟ ہم نے شکریہ کے ساتھ کہا کہ کوئی بات نہیں، ہم اپنے گروپ کو تلاش کر لیں گے۔

 ہماری ناکام تلاش جاری تھی، اور ہماری مشکل کو انہوں نے بھانپ لیا تھا۔ وہ پھر ہمارے پاس آئے اور ذرا تاکید کے ساتھ مدد کی پیشکش کی اور کہا کہ وہ ہمیں ہمارے ہوٹل تک چھوڑ آئیں گے۔ اس مرتبہ ہم نے ان کی پیشکش قبول کر لی۔ انہوں نے تقریباً 30 منٹ کا اضافی فاصلہ طے کر کے ہمیں ہوٹل تک ڈراپ کیا۔ نہایت خوش اخلاقی سے پیش آئے۔ راستے میں پاکستان کے متعلق گفتگو ہوتی رہی۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ہم برسوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ یہ تاشقند میں ہمارے قیام کا ایک خوش گوار تجربہ تھا۔ ازبکستان کے کھانوں کی بات کریں تو پلاؤ یہاں کا مقبول ترین کھانا ہے۔ کہتے ہیں پلاؤ کا اصلی وطن ازبکستان ہی ہے۔ مقامی زبان میں بھی اسے پلاؤ ہی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کباب کو بھی اسی نام سے جانا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ سلاد، سبزیوں اور فروٹ کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ کھانے سے پہلے سلاد اور فروٹ وافر مقدار میں پیش کیا جاتا ہے۔ کچھ سبزیاں کچی، جبکہ کچھ کو سرکہ میں ڈبو کر سلاد تیار کیے جاتے ہیں۔ ہر کھانے میں وہاں کا مخصوص نان ضرور شامل ہوتا ہے۔  کھانے میں مرچ مصالحے اور آئل کا استعمال بہت ہی کم ہے۔ چکن، مٹن، بیف اور فش بھی کھانے میں پیش کیے جاتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ یہاں تمام سبزیاں اور فصلیں بغیر کھاد کے یعنی آرگینک طریقے سے اگائی جاتی ہیں۔ شاید اسی لیے ہمیں ان کا ذائقہ دیسی سا لگا۔ کھانے میں چاول بھی پیش کیے گئے جو ہمارے موٹے چاول سے مشابہت رکھتے تھے۔ یہاں ہمیں پاکستانی چاول کی خوبصورتی، خوشبو اور ذائقے کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوا۔ کباب بہت عمدہ تیار کیے جاتے ہیں لیکن مرچ مصالحہ کے بغیر۔ قصہ مختصر، کھانے پاکستانی کھانوں کے مقابلے میں قدرے پھیکے لیکن غذائیت کے اعتبار سے صحت بخش ہیں۔ محترم قارئین! ان شاءاللہ آئندہ اقساط میں ازبکستان کی چند مشہور شخصیات اور تاریخی مقامات کی بات کریں گے۔

 بخارا کا آفتاب

ٹورسٹ ہمہ تن گوش تھے۔ تاریخ کے ادھ کھلے دریچے سے بخارا کا بارہ سو سال پرانا منظر دکھائی دینے لگا۔ چشم تصور نے دیکھا کہ سولہ سال کا یتیم نوجوان اپنی والدہ محترمہ اور بھائی کے ساتھ حج کے سفر پر روانہ ہوتا ہے۔ علم کی پیاس اس قدر تھی کہ والدہ کی اجازت سے حج کے بعد مکہ مکرمہ ہی میں قیام کا ارادہ کر لیا۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بہت بڑے اساتذہ کی صحبت اختیار کی۔ حدیث رسول پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے لیے دل میں بے پناہ محبت تھی۔ نوجوان کی یہ محبت رنگ لائی۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم آرام فرما رہے ہیں اور آپ ان کے سرہانے کھڑے ہو کر پنکھا جھل رہے ہیں اور مکھی اور دوسرے موذی جانوروں کو آپ سے دور کر رہے ہیں۔ تعبیر پوچھی تو بتایا گیا کہ آپ رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی احادیث پاک کی عظیم خدمت انجام دیں گے اور جھوٹے لوگوں نے جو احادیث خود گھڑ لی ہیں، آپ صحیح احادیث کو ان سے چھانٹ کر علیحدہ کر دیں گے۔ نوجوان کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی۔ پھر تاریخ کے اوراق میں حدیث کی وہ شہرہ آفاق کتاب ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئی جسے ہم صحیح بخاری کے نام سے جانتے ہیں، اور جسے قرآن پاک کے بعد صحیح ترین کتاب ہونے کا لقب ملا۔ احادیث کا یہ لافانی مجموعہ مرتب کرنے والے ابو عبداللّٰہ محمد بن اسماعیل تھے جنہیں ہم امام بخاری رحمۃ اللّٰہ علیہ کہتے ہیں۔ ہم امام بخاری کی قبر پر کھڑے تھے۔ گائیڈ ہمیں پر شکوہ امام بخاری کمپلیکس کے بارے میں بتا رہا تھا، جو تقریباً دو سو کنال رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور سمرقند سے تقریباً پچیس کلومیٹر باہر خرتنگ نامی گاؤں میں واقع ہے۔

 حکومت ازبکستان نے اس کمپلیکس کی تعمیر نو اور آرائش پر خصوصی توجہ دی ہے۔ زندہ قومیں اپنے تاریخی ورثہ کی ایسے ہی حفاظت کرتی ہیں۔ ازبکستان کی سیاحت امام بخاری کی قبر پر حاضری دیے بغیر نامکمل ہے۔ میری آنکھیں نم تھیں۔ میں نے دیکھا، میرے ساتھی بھی چپکے چپکے اپنی آنکھیں پونچھ رہے تھے۔ میں سوچ رہا تھا میرے آقا، میرے پیارے نبی سے محبت کرنے والے بھی امر ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ ہستیاں ہیں جن کی بے لوث محنت، مشقت اور علمی کاوشوں سے دین کی نعمت ہم تک منتقل ہوئی۔ شاید میرے ساتھی بھی یہی سوچ رہے تھے۔ میرا ذہن ایک بار پھر بارہ سو سال پیچھے چلا گیا۔ امام بخاری کے والد اسماعیل بن ابراہیم نہایت پاکباز اور رزق حلال کا اہتمام کرنے والے شخص تھے۔ وہ بھی ایک عظیم محدث تھے۔ ان کے ایک شاگرد کہتے ہیں کہ میں امام بخاری کے والد کی وفات کے وقت حاضر تھا۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ میں اپنے کمائے ہوئے مال میں سے ایک درہم بھی مشتبہ چھوڑ کر نہیں جا رہا ہوں۔ بیٹا بھی ایسا ہی بانصیب۔ یہ فخر کم ہی لوگوں کو حاصل ہوا ہے کہ باپ بھی محدث ہو اور بیٹا بھی محدث بلکہ سید المحدثین۔ امام بخاری کے والد ماجد ان کے بچپن ہی میں فوت ہو گئے تھے۔ کہتے ہیں کہ بچپن ہی میں امام بخاری کی بینائی جاتی رہی۔ والدہ ماجدہ جو پہلے ہی بیوگی کے صدمے سے دوچار تھیں، اس سانحے سے اور غمگین ہو گئیں۔ وہ دن رات روتیں اور دعا کرتیں۔ ایک رات عشاء کے بعد روتے اور دعا کرتے ہوئے انہیں مصلے پر نیند آ گئی۔

 خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام تشریف لائے اور انہیں بشارت دی کہ تمہارے رونے اور دعا کرنے سے اللّہ نے تمہارے بچے کی بینائی ٹھیک کر دی ہے۔ صبح ہوئی تو امام بخاری کی بینائی واپس آ چکی تھی۔ آپ کے ہم عصر حاشد بن اسماعیل کہتے ہیں کہ امام بخاری بصرہ میں پندرہ دن ہمارے ساتھ درس میں بیٹھتے رہے اور کچھ نہ لکھتے۔ ایک دن میں نے آپ کو نہ لکھنے پر ملامت کی تو بولے کہ جو کچھ تم نے لکھا ہے لاؤ اور اسے مجھ سے زبانی سن لو۔ امام بخاری اس دوران میں پندرہ ہزار سے زیادہ احادیث یاد کر چکے تھے، جن کو انہوں نے اس درستگی کے ساتھ سنایا کہ دوسروں نے بھی بہت سے مقامات پر اپنی تصحیح کی۔ کہتے ہیں انہیں ستر ہزار سے زیادہ احادیث مکمل حوالوں اور روایات کے ساتھ یاد تھیں۔ ایک مرتبہ بغداد کے محدثین نے آپ کا امتحان لینے کی ترکیب سوچی۔ بڑے مجمع میں امتحان لینے کا فیصلہ ہوا۔ سارا شہر یہ منظر دیکھنے کے لیے امڈ آیا۔ آپ کے سامنے دس آدمیوں نے ایک سو احادیث روایات ادل بدل کر کے پڑھیں لیکن آپ ہر حدیث کے بارے میں یہی کہتے رہے کہ میں اس حدیث کو نہیں جانتا۔ لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں کہ امام کو احادیث کے بارے میں علم نہیں۔ امام کھڑے ہوئے اور ایک ایک کر کے سب کی احادیث کو ترتیب کے ساتھ بالکل درست کر کے پڑھ کر سنا دیا۔ امام بخاری کے اس خداداد حافظہ اور مہارت پر اہل بغداد حیرت زدہ ہو گئے اور تسلیم کر لیا کہ فن حدیث میں آپ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ 

امام بخاری نے تحصیل علم اور احادیث جمع کرنے کے لیے کئی ملکوں کا سفر کیا۔ سولہ سال بعد آپ اپنے علمی سفر مکمل کر کے بخارا لوٹے۔ ایک مرتبہ حاکم بخارا نے آپ سے درخواست کی کہ آپ دربار شاہی میں تشریف لا کر مجھے اور میرے شہزادوں کو صحیح بخاری اور تاریخ کا درس دیا کریں۔ آپ نے کہلا بھیجا کہ میں دربار میں جا کر خوشامدیوں کی فہرست میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا۔ حاکم نے دوباہ کہلوایا کہ پھر شہزادوں کے لیے کوئی وقت مخصوص کر دیں۔ آپ نے جواب دیا کہ میراث نبوت میں کسی امیر غریب کا فرق نہیں۔ اس پر حاکم بخارا آپ کی مخالفت پر اتر آیا اور امن و امان کے بہانے امام کو بخارا سے نکل جانے کا حکم دیا۔ آپ رنجیدہ ہو کر سمرقند چلے آئے۔ ایک ماہ بھی نہیں گزرا تھا کہ حاکم بخارا کے خلاف بغاوت ہوئی۔ اسے گدھے پر پھرایا گیا اور قید میں ڈال دیا گیا۔ اس کے ساتھی بھی نہایت ذلیل و رسوا ہوئے۔ امام بخاری نے اپنی زندگی کے آخری ایام سمرقند کے نواحی گاؤں خرتنگ میں بسر کیے۔ آپ کی وفات باسٹھ سال کی عمر میں عید الفطر کے دن خرتنگ میں ہوئی۔ اس طرح بخارا کا آفتاب سمرقند کی زمین میں اتر گیا۔ جب آپ کا جسد خاکی قبر میں رکھا گیا تو قبر سے مشک کی طرح خوشبو پھوٹی۔ جاوید چوہدری صاحب داستان مکمل کر چکے تھے۔ ہم نے آنکھیں کھولیں اور 2018 میں واپس آ گئے۔ ہم سب نے امام بخاری کی قبر پر فاتحہ خوانی کی اور واپس روانہ ہو گئے، لیکن ہم اپنے دل خرتنگ میں چھوڑ آئے تھے۔

 ایک بار دیکھا ہے، دوسری بار دیکھنے کی ہوس ہے

ہائی سپیڈ ٹرین 250 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگ رہی تھی۔ ہم نے کھڑکی کے پردے اوپر کی طرف سرکا دیے اور باہر کے مناظر سے لطف اندوز ہونے لگے۔ دائیں بائیں کی چیزیں اتنی تیزی سے پیچھے کی طرف دوڑ رہی تھیں کہ انہیں کیمرے کی گرفت میں لانا خاصا مشکل تھا۔ تا حد نگاہ پھیلے ہوئے میدان، کہیں کہیں چٹیل پہاڑ، ان مناظر کے بیچ میں وسیع کھیت، پھلوں کے باغ، سبزہ زار اور ان میں چرتے ہوئے جانور بھی دکھائی دیتے۔ بدلتے ہوئے مناظر سفر کا مزہ دوبالا کر رہے تھے۔ ساتھیوں کی خوش گپیاں بھی جاری تھیں۔ ٹریک میں کہیں خم آ جاتا یا آبادی سے گزر ہوتا تو ٹرین کی رفتار کم ہو جاتی۔ روانگی سے کچھ دیر بعد چائے، کافی اور سنیکس سے مسافروں کی تواضع کی گئی۔ اس پر آسائش ٹرین کا نام "افراسیاب" رکھا گیا ہے۔ افراسیاب دراصل سمرقند کا پرانا نام ہے۔ تاشقند سے سمرقند تک 344 کلومیٹر طویل جدید ٹریک کی تکمیل 2015 میں ہوئی جبکہ سمرقند سے بخارا تک 256 کلومیٹر طویل ٹریک کی توسیع کا کام 2016 میں مکمل ہو گیا۔ ہم تاشقند سے روانہ ہوئے تھے اور ہماری منزل بخارا تھی۔ تقریباً 600 کلومیٹر کا سفر تین گھنٹے پچاس منٹ میں طے ہو گیا۔

 قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہم نے تین مرتبہ افراسیاب سے سفر کیا، ہر بار ٹرین ٹھیک وقت پر پہنچی اور روانہ ہوئی۔ یہ ازبکستان ریلوے کے حسن انتظام کا واضح ثبوت ہے۔ بخارا ایک افسانوی شہر ہے۔ ڈھائی ہزار سال پرانے اس شہر میں قدم قدم پر علماء، اساتذہ، بزرگوں، بادشاہوں، جنگوں اور فاتحین کی داستانیں بکھری پڑی ہیں۔ دنیا کی تاریخ بخارا کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ بخارا ازبکستان کا چھٹا بڑا شہر اور صوبہ بخارا کا صدر مقام ہے۔ اس کی آبادی پونے تین لاکھ ہے۔ یہ شہر ایرانی تہذیب کا اہم ترین مرکز تھا۔ بخارا کا قدیم مرکز یعنی اولڈ بخارا یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ 850 عیسوی میں بخارا دولت سامانیہ کا دارالحکومت بنا۔ 1220 عیسوی میں یہ شہر چنگیز خان کی تباہ کاریوں کا نشانہ بنا۔ یہاں 158 فٹ بلند عالی شان کلیان مینار ہے۔ اس مینار سے اذان دی جاتی تھی اور بادشاہ کے فرمان پڑھ کر سنائے جاتے تھے۔ اسے موت کا مینار بھی کہا جاتا تھا کہ بیسویں صدی سے کچھ پہلے تک مجرموں کو سزائے موت دینے کے لیے اس مینار سے گرا دیا جاتا تھا۔ کہتے ہیں چنگیز خان بخارا کو تباہ و برباد اور آبادی کو قتل کرتے ہوئے جب کلیان مینار پر پہنچا تو اس کا شکوہ دیکھ کر حیرت زدہ ہو گیا۔ وہ اس مینار کے جاہ و جلال سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے اپنے جنگجووں کو کلیان مینار کو چھوڑ دینے کا حکم دیا اور وہاں سے واپس چلا آیا۔ 1865 عیسوی میں سلطنت روس کے ہاتھوں شکست کے بعد بخارا اور سمرقند سمیت بہت سے علاقے روس کے قبضے میں چلے گئے۔ 1917 کے انقلاب روس کے بعد 1920 عیسوی میں مقامی امیر محمد عالم خان کے خلاف بغاوت ہوئی اور اسی سال اشتراکیوں نے بخارا پر قبضہ کر لیا، جو 1991 میں ازبکستان کی آزادی تک برقرار رہا۔ ہم نے بخارا کا عظیم الشان ارک قلعہ بھی دیکھا جہاں سے محمد عالم خان نے آخری لڑائی لڑی۔ یہ قلعہ 

پانچویں صدی عیسوی میں تعمیر ہوا، جو تقریباً اسی کنال کے رقبے پر محیط ہے۔ قلعے کی دیواریں 52 سے 66 فٹ تک اونچی ہیں۔  شام ہو چکی تھی. قلعے کی چھت سے ڈوبتے ہوئے سورج کا نظارہ ماضی کی داستان کے پس منظر میں ایک عجیب کیفیت طاری کر رہا تھا۔ قلعے کے عین سامنے سڑک کے پار بولو حوض مسجد ہے، جو 1712 عیسوی میں تعمیر ہوئی۔ اسے چالیس ستونوں والی  مسجد بھی کہا جاتا ہے۔ مسجد کے عین سامنے ایک حوض ہے۔ مسجد کے برآمدے میں بیس ستون نصب ہیں۔دور سے دیکھنے پر ان ستونوں کا عکس پانی میں نظر آتا تو چالیس ستون دکھائی دیتے۔ اس طرح اس کا نام چالیس ستونوں والی مسجد پڑ گیا۔ بخارا ایک مردم خیز شہر تھا۔ امام بخاری اسی شہر میں پیدا ہوئے، جن کا تذکرہ ہم گزشتہ کالم میں کر چکے ہیں۔ ہم نے امام بخاری کی جائے پیدائش دیکھی۔ سلسلہ نقشبندیہ کے بانی بہاء الدین نقشبند رحمتہ اللہ علیہ بھی بخارا کی سرزمین کا درخشندہ ستارہ ہیں۔ آپ 1317 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ آپ کا پورا نام محمد بہاء الدین اویس البخاری تھا۔ آپ کو شاہ نقشبند کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کی ولادت سے پہلے ہی وہاں سے گزرتے ہوئے ایک بزرگ شیخ محمد بابا السماسی نے فرمایا تھا کہ مجھے یہاں سے ایک مرد خدا کی خوشبو آتی ہے۔ ابتدائی طور پر آپ نے بابا السماسی کی صحبت اختیار کی جو اس وقت وسطی ایشیا کے بڑے محدث مانے جاتے تھے۔ بابا السماسی کی وفات کے بعد آپ نے شیخ امیر کلال کی صحبت اختیار کی اور ان سے روحانی فیض حاصل کیا۔ بہاء الدین نقشبند فرماتے ہیں کہ انہوں نے بے خودی کے عالم میں اپنے روحانی مربی عبد الخالق غجدوانی کو دیکھا تو انہوں نے تین نصیحتیں کیں۔ پہلی یہ کہ استقامت سے شریعت کی راہ پر چلنا، کبھی اس سے قدم باہر نہ نکالنا۔ دوسری عزیمت اور سنت پر عمل کرنا اور تیسری یہ کہ بدعت سے دور رہنا۔ 

بہاءالدین نقشبند کا قول مشہور ہے کہ "دل با یار، دست با کار" یعنی دل اللّہ کی یاد میں مصروف رہے اور ہاتھ اپنے کام میں۔ آپ کے مزار پر پہنچے تو دل عقیدت سے لبریز تھا۔ وقفے وقفے سے کوئی خوش الحان قاری سحر انگیز آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کرتا اور سننے والے اس کی تاثیر میں ڈوب جاتے۔ اس کے بعد دعا کی جاتی۔ یوں یہ سلسلہ ہر وقت جاری رہتا ہے۔ دنیائے اسلام کے عظیم مفکر اور فلسفی بو علی سینا بھی بخارا کے رہنے والے تھے۔ آپ 980 عیسوی میں فارس کے ایک چھوٹے سے گاؤں افشنہ میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں ان کے والدین بخارا منتقل ہو گئے تھے۔ بخارا کے سلطان نوح بن منصور ایک بیماری میں مبتلا ہو گئے۔ کسی حکیم کی دوائی کارگر ثابت نہیں ہو رہی تھی۔ بو علی سینا اس وقت اٹھارہ سال کے تھے۔ انہوں نے سلطان نوح بن منصور کا علاج کیا جس سے وہ صحتیاب ہو گئے۔ سلطان نے خوش ہو کر انہیں اپنی لائبریری سے استفادہ کرنے کی اجازت دے دی۔ بو علی سینا کا حافظہ بہت تیز تھا۔ انہوں نے لائبریری چھان ماری اور بہت سی معلومات اکٹھی کر لیں۔ انہیں بجا طور پر جدید میڈیکل سائنس کا بانی کہا جاتا ہے۔ بو علی سینا نے تحصیل علم کے شوق میں خوارزم، جرجان، رے، ہمدان اور اصفہان کا سفر کیا۔ ان کا انتقال ہمدان میں ہوا۔ ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہوں نے ساڑھے چار سو کتابیں لکھیں، جن میں سے 250 ہی دستیاب ہیں۔ بعض محققین کے خیال میں انہوں نے ننانوے کتابیں تصنیف کیں۔ 

فلسفہ اور طب کے علاوہ ابن سینا نے فلکیات، کیمیاء، جغرافیہ، ارضیات، منطق، ریاضی، طبیعیات اور شاعری میں بھی قابل قدر کام کیا۔ ان کی کتاب "طبی قوانین" کے بہت سے ابواب 1650 تک مغرب کی یونیورسٹیوں میں معیاری کتب کے طور پر پڑھائے جاتے رہے۔ یہ کتاب 1973 میں نیویارک میں دوباہ شائع کی گئی۔ ازبکستان کے چھے روزہ دورے میں تاشقند ہو، بخارا کا تاریخی ورثہ ہو، سمرقند میں نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی حضرت قسام ابن عباس کی قبر کے احاطے میں تعمیر شدہ شاہ زندہ کمپلیکس ہو یا حضرت دانیال علیہ السلام کی 18 میٹر لمبی قبر، ہر قدم پر ہمارے لیے حیرت کے باب کھلتے چلے گئے۔ ہم اپنے آپ کو کسی طلسماتی داستان کا کردار تصور کرنے لگے تھے۔ غرض اس دورے نے صدیوں پر محیط اپنی وراثت، ثقافت اور تاریخ سے ہمارا ٹوٹا ہوا رشتہ پھر سے جوڑ دیا۔ ہم وہاں سے لوٹ آئے تھے، لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ "ایک بار دیکھا ہے، دوسری بار دیکھنے کی ہوس ہے۔”