راولاکوٹ ماسٹر پلان پر عملدرآمد میں تاخیر کی وجوہات کے حوالے سے منعقد ہ سیمینار

پریس فار پیس اور ایکشن ایڈ کے زیر اہتمام راولاکوٹ ماسٹر پلان پر عملدرآمد میں تاخیر کی وجوہات کے حوالے سے منعقد ہ سیمینار میں شریک تمام سیاسی جماعتوں ، سماجی ت، مذہبی و کاروباری تنظیموں کے نمائندگان نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ تعمیر نو پر مامور اداروں کی غفلت کا نوٹس لیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے ۔ سیمینار میں جاری کیے گئے متفقہ اعلامیہ میں مطالبہ کیا راولاکوٹ کے ماسٹر پلان میں عوامی مشاورت کے بغیر کی گئی تبدیلیوں کو واپس لیا جائے اور شہر کی سڑکوں ، سرکاری دفاتر ،تعلیمی اداروں اور واٹر سپلائی کو طے شدہ معیار کے مطابق تعمیر کیا جائے ۔ ایراء اور سیراء سمیت تعمیر نو کے ذمہ دار اداروں کے دائرہ اختیار کا تعین کیا جائے اور اسے وضاحت کے ساتھ عوام آگاہ کیا جائے ۔عالمی برادری کی جانب سے بحالی اور تعمیر نو کے لیے فراہم کیے گئے فنڈز کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے ۔زلزلہ متاثرہ تینوں شہروں کی تعمیر کے سلسلے میں چائنیز کمپنیوں کے ساتھ معاملات جلد از جلد طے کیے جائیں ۔ سوموار کے روز راولاکوٹ کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہونیوالے سیمینا ر میں پراجیکٹ ڈائریکٹر راولاکوٹ سٹی ڈویلپمنٹ پراجیکٹ ، عبدالستار خان ، ڈی آر یو کے محمد مبشر احسن ، انجمن تاجران کے صدر ،افتخار فیروز ، ڈسٹرکٹ بار کونسل کے صدر ، سید حبیب حسین شاہ ،پاکستان پیپلز پارٹی راجہ اعجاز ایڈوکیٹ جماعت اسلامی کے محمد حلیم ، لیبریشن فرنٹ کے سردار قدیر، غازی ملت پریس کلب کے صدر نعیم اسلم ، پرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق چیر مین اظہر نذر سمیت ، تمام سیاسی جماعتوں ، سماجی و کاروباری تنظیموں وکلاء اور صحافیوں کے علاوہ عام شہریوں کے ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پراجیکٹ ڈائریکٹر عبدالستار خان نے بتایا کہ حصول اراضی کے مسائل کی وجہ سے تعمیر نو کا عمل سست روی کا شکار ہے اور ان رکاوٹوں کو دور کیے بغیر مطلوبہ اہداف کا حصول مشکل ہے بعض منصوبوں کے لیے مطلوبہ اراضی کے حصول میں عوامی سطح پر مزاحمت کا سامناکرنا پڑتا ہے ۔ سیمینار کے شرکاء نے مطالبہ ماسٹر پلان میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر عوامی مشاورت سے دور کیا جائے اور عوام کو تعمیر نو کے عمل سے آگاہ رکھنے کے لیے حکومتی ادارے اپنا کردار ادا کریں سیمینار میں شریک عوامی نمائندوں نے الزام عائد کیا کہ عالمی برادری کیجانب سے تعمیر نو کے لیے فراہم کردہ فنڈز ایرا سیرا اور حکومتی اداروں کے افسران کی عیاشیوں پر خرچ ہو رہے ہیں ان فنڈز کاآڈٹ کیا جائے ۔ تعمیر نو کے ادارے فائل ورک سے باہر نکل کر زمین پر کام شروع کریں عوام کو مشاورتی عمل میں شامل کیا جائے تاکہ حصول اراضی سمیت جہاں بھی مشکلات پیش آئیں انہیں عوامی مشاورت سے دور کیا جائے ۔ 

راولاکوٹ میں پریس فار پیس اور ایکشن ایڈ کے مشترکہ سیمینار میں جاری کیا گیا متفقہ اعلامیہ 

آج کا سیمینار اجتماعی طور پر اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ تعمیر نو میں تاخیر کے ذمہ دار افراد اور اداروں کو عوام کے سامنے لایا جائے ۔اور وجوہات کا تعین کیا جائے ۔
آج کا اجتماع اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ راولاکوٹ کے ماسٹر پلان میں عوام کو اعتماد میں لیے بغیر کی گئی تبدیلیوں کو واپس کیا جائے اور ابتدائی منصوبہ بندی کے مطابق اس پر جلد از جلد عمل درآمد شروع کیا جائے ۔
راولاکوٹ میں حصول اراضی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے عوامی مشاورت سے پالیسی طے کی جائے اور عوام کو زمین کے مناسب معاوضہ جات کی ادائیگی کر کے منصوبہ جات کے لیے زمین حاصل کی جائے ۔
یہ اجتماع اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ تعمیر نو کے اداروں ایراء سیرا ، ڈی آر یو اور پی ایم یو کے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کا آڈٹ کیا جائے اور ممکنہ بے ضابطگیوں کا نوٹس لیا جائے ۔
راولاکوٹ کے تعلیمی اداروں کی تباہ شدہ عمارات کی تعمیر میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے اور ان کی تعمیر کا کام جلد از جلد شروع کیا جائے ۔
راولاکوٹ کی سڑکوں کی تعمیر میں ناقص میٹریل کے استعمال کا نوٹس لیا جائے اور سڑکوں کو طے شدہ معیار کے مطابق تعمیر کروایا جائے ۔
آج کا یہ اجتماع اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ چائنیز کمپنیوں کے ساتھ معاملات میں تاخیر کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ان کو انٹر نیشنل معیار کے مطابق شہر کی تعمیر نو کا کام شروع کیا جائے ۔
یہ اجتماع اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ تعمیر نو پر معمور اداروں کے اس بات کا پابند بنایا جائے کہ تعمیر نو کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہی سہ ماہی بنیادوں پر معلومات کے تبادلہ کے سیمینار منعقد کر کے عوام کو تعمیر نو کے حوالے سے معلومات فراہم کی جائیں اور مختلف مراحل میں درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے عوامی آراء اور مشاورت کو مدنظر رکھا جائے ۔
تعمیر نو کے کے عمل کے دوران عالمی برادری ی جانب سے بحالی اور تعمیر نو کی خاطر آنے والے فنڈز کے غبن میں ملوث سرکاری اداروں اور این جی اوز کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو سزا دی جائے ۔
Comments