برطانوی شہری شیرین خان نے ذاتی وسائل سے اسکول کی عمارت تعمیر کروائی ہے

/ مظفرآباد (پی ایف پی نیوز) / امیرالدین مغل

کشمیر کے زلزلے میں تباہ اسکول کا 15سال بعد برطانوی نژاد پاکستانی خاتون شیرین خان نے  افتتاح کیا۔ ذرائع کے مطابق وادی نیلم کے گیٹ وے اور لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقے پنجکوٹ میں 2005 زلزلے میں تباہ ہونے والے اسکول کی عمارت کو 15 برس بعد 28 برس کی پاکستانی نژاد برطانوی خاتون نے ذاتی پیسوں سے تعمیر کروا کر افتتاح کر دیا۔ شیریں خان کیریٹ کِڈز Carrot Kids چیریٹی کے پلیٹ فارم سے سماجی شعبے میں متحرک ہیں۔

گزشتہ روز مظفرآباد کے دور افتادہ گاؤں چیربن پنجکوٹ میں شیریں خان نے پرائمری اسکول کی اس عمارت کا افتتاح کیا جس کی مکمل تعمیر میں انہوں نے خطیر رقم سے معاونت کی تھی۔

اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شیریں خان کا کہنا تھا کہ انکے والدین نے انکو بتایا تھا کہ جب آپ کمانے کے قابل ہو جائیں تودوسرے لوگوں کی مدد کرنی ہوگی۔ ان کے والد نے نصیحت کی تھی کہ وہ اپنے ملک میں لوگوں کی مدد کریں۔ اس لیے اس نے اپنے لوگوں کی مدد کے لیے کام شروع کیا۔


 انہوں نے کہا کہ میری خواہش تھی کہ میں اپنے ملک میں تعلیم اور صحت کے میدان میں کچھ کروں تو اسی جذبے کے تحت مجھے مقامی نوجوانوں نے زلزلے سے متاثرہ اس اسکول کے بچوں کی تصاویر بھیجیں۔ جس میں وہ کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ تو میں نے فیصلہ کیا کہ اپنی ذاتی جمع شدہ رقم اس اسکول کی تعمیر پر خرچ کرو‍ں گی۔

شیریں خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آزاد کشمیر میں مزید اسکول بھی تعمیر کریں گی اور صحت کے شعبہ میں بھی مالی تعاون کریں گی۔  افتتاحی تقریب کے بعد شرین خان نے کلاسوں کا معائنہ کیا اور بچوں میں تحائف تقسیم کیے۔

واضح رہے کہ اس دور افتادہ گاؤں چیربن پنجکوٹ میں تعمیر ہونے والا یہ پرائمری اسکول اس علاقے کے بچوں کے لیے واحد اسکول ہے جہاں انکو بنیادی تعلیم دی جاتی ہے۔ اسکول کے بچے 2005 کے بعد اب تک موسم کی سختیوں کے باوجود تعلیم حاصل تو کر رہے تھے مگر عمارت نہ ہونےکے باعث ان کی تعلیم کا حرج ہو رہا تھا ،مقامی سماجی تنظیم سسٹین ایبل ڈوپلمنٹ آرگنائزیشن کے نے اس سکول کو بنانے میں اپنی خدمات دیں تھی ۔سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن گزشتہ دس سال سے کشمیر بھر میں تعلیم صحت سمیت نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے کوشاں ہے ۔