حقوق نسواں کی علم بردارتنظیمیں


عورت فاﺅنڈیشن
 1986
ءسے پاکستانی خواتین کی ترقی کے لئے کام کر رہی ہے۔ یہ ادارہ عورتوں کو مختلف شعبوں میں معلومات فراہم کرتا ہے تاکہ وہ معاشرے کی ہر سطح پر اہم فیصلے کرنے میں شامل ہو سکیں۔ اس کے ساتھ سا معاشرے کے اہم طبقات، حکومتی اداروں اور عوامی نمائندوں کو عورتوں کے مسائل کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے تاکہ عورتوں کے حق میں قوانین اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل ہو سکے۔ ادارہ اپنے مقاصد کیلئے تین شعبوں میں سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔ ان میں معلومات کی فراہمی، استعداد کاری اور پیروکاری شامل ہیں۔ یہ سرگرمیاں علاقائی سطح سے لے کر غیرسرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی اداروں اور حکومتی اداروں و پالیسی سازوں تک کی سطح پر کی جاتی ہے تاکہ معاشرہ کا کوئی حصہ محروم نہ رہ سکے اور سب کی شمولیت یقینی ہو۔ عورت فاﺅنڈیشن بلاشبہ اس وقت پاکستان کی حقوق نسواں کے حوالے سے سب سے فعال تنظیم ہے جس کے مختلف منصوبوں سے بے شمار مرد و عورت مستفید ہو رہے ہیں۔ بلدیاتی اداروں میں خواتین کی نمائندگی کے لئے اس کا پروگرام خاطرخواہ اہمیت کا حامل ہے۔
شرکت گاہ

شرکت گاہ 1975ءمیں خواتین کے پہلے عالمی سال کے موقع پر وجود میں آیا۔ اس کا مقصد آگاہی بڑھانا اور ترقیاتی نقطہ نظر سے ایسے منصوبے بنانا ہے جو عوامی پیروی کے کام کو عملی شکل دے سکیں۔ اس وقت شرکت گاہ ایک گروپ سے تنظیم کا روپ دھار چکی ہے جو تین صوبائی دفاتر کے ذریعے پورے پاکستان میں کام کر رہی ہے۔ شرکت گاہ اپنے کام کی مناسبت سے تنظیمی امور اور دیگر تمام سرگرمیوں میں شراکتی طریقہ کار اختیار کرتی ہے۔

شرکت گاہ ایک منصفانہ، متحرک، جمہوری، رواداری کے حامل اور ماحولیاتی طور پر حساس معاشرے کے لئے کام کر رہی ہے جہاں خواتین مکمل طور پر بااختیار ہوں، جہاں سب کیلئے مساوات اور ترقی کے یقینی مواقع موجود ہوں۔ وسائل پائیدار طریقے سے استعمال ہوں۔ امن کا دور دورہ ہو اور ریاست ذمے دار ہو۔ ان سب مقاصد کے حصول کے لئے ادارے نے اپنی توجہ قوانین اور حیثیت، پائیدار ترقی، خواتین کی معاشی خودمختاری، تولیدی حقوق اور تولیدی صحت اور عالمگیریت جیسے موضوعات پر مرکوز کر رکھی ہے۔

ان پروگراموں پر عملدرآمد کیلئے ادارے نے ہمہ جہت طریقہ کار اختیار کیا ہے جس کی بنیاد عوامی پیروکاری، تحقیق کی بنیاد پر استعداد کاری، رابطہ سازی اور مطبوعات وغیرہ پر ہے۔ خواتین سے متعلق مقامی اور ملکی و بین الاقوامی پالیسیوں کے درمیان پائے جانے والے خلا کو پر کرنے کے لئے ادارہ شراکتی طریقہ کار کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ جس میں غیرسرکاری اور علاقائی تنظیمیں متعلقہ علاقوں میں خواتین تک رسائی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ یہ ادارہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر تحقیقات اور دستاویزات کو جمع اور منظم کر کے معلومات کی فراہمی بھی کر رہا ہے۔ ادارہ استعداد کاری کی تربیت بھی مستقل بنیادوں پر غیرسرکاری تنظیموں اور دیگر افراد کیلئے منعقد کرتا ہے۔

ادارے کا دستاویزی مرکز، پاکستان میں خواتین کے بارے میں بہترین مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ ان میں خواتین کے حقوق، مسلم دنیا میں خواتین، اور پائیدار ترقی جیسے موضوعات پر خصوصی طور پر مواد موجود ہے۔ یہاں 1975ءسے اب تک اخباری تراشے، پمفلٹ، کانفرنسوں اور ورکشاپوں کی کارروائیاں، سرکاری دستاویزات اور پوری دنیا سے غیرمطبوعہ رپورٹس بھی موجود ہیں۔خصوصی رسالے، معلوماتی مجموعے، غیرسرکاری تنظیموں کی مطبوعات، کتابیں، آڈیو اور وڈیو کیسٹ بھی دستیاب ہیں۔ 

روزن

بچوں اور عورتوں پر تشدد کے خلاف اور ان کی ذہنی اور جذباتی صحت کے فروغ کیلئے کام کرتی ہے۔ روزن کی ٹیم میں شامل افراد مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں جن میں ماہر نفسیات، معالجین، ذہنی امراض، انتظامی امور، تحقیق، اساتذہ و ڈاکٹرز شامل ہیں جو اپنی خدمات پیشہ ورانہ اور رضاکارانہ طور پر فراہم کرتے ہیں۔ ادارہ درج ذیل خدمات فراہم کرتا ہے۔ 1۔ متاثرین کی بحالی کیلئے نفسیاتی مشاورت 2۔ قانونی و طبی امداد تک رسائی 3۔ عوامی شعور کی بیداری کیلئے معلومات فراہم کرنا 4۔ مختلف افراد اور اداروں کو تربیت فراہم کرنا۔


روزن عورتوں کے حوالے سے کئی پروگرامز کا انعقاد کرتا ہے جن میں پہچان نیوزلیٹر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جس کا مقصد صنفی کارکنان اور تربیت کاروں کو صنف کے حوالے سے مختلف معلومات فراہم کرنا ہے۔ جبکہ پہچان ہی کے نام سے ایک نیٹ ورک بھی ملکی سطح پر تشکیل دیا جا چکا ہے۔

روزن کا ہی ایک منصوبہ زیست کے نام سے کام کر رہا ہے۔ زیست عورتوں کی ذہنی و جذباتی صحت کیلئے کام کرتا ہے۔ اس کی سرگرمیوں میں عورتوں پر تشدد کی روک تھام اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل شامل ہیں۔ زیست میں بنیادی طور پر پانچ سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں جن میں آگاہی کی تحریک، نفسیاتی مشاورت، نفسیاتی علاج کی فراہمی، قانونی و طبی امداد تک رسائی، خود آگہی ورکشاپ، تربیتی ورکشاپ اور سپورٹ پروگرام شامل ہیں۔ زیست ان خواتین کو مدد فراہم کرتا ہے جو جذباتی مشکلات کا شکار ہیں یا پھر خواتین کو جو خود یا ان کی کوئی قریبی عزیزہ تشدد کا شکار ہو۔ زیست نے اپنے کام کی بنیاد پر کم عرصے میںکافی مقبولیت حاصل کی ہے اور ان کے پروگرامز کچھ ہی عرصے میں آہستہ آہستہ بڑھتے ہی گئے ہیں۔

اثر ریسورس سینٹر

اثر ریسورس سینٹر 1983ءمیں قائم کیا گیا تھا۔ جس کا بنیادی مقصد سماجی، سیاسی اور نظریاتی مسائل کے حوالے سے کام اور ان موضوعات پر مثبت انداز میں معاشرے میں تبدیلی لانا تھا۔ اثر کا دائرہ کار صرف عورتوں تک محدود نہیں بلکہ وہ معاشرے کے تمام طبقوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے تاکہ معاشرے میں تبدیلی صحیح معنوں میں آ سکے اور کوئی بھی شعبہ اس میں شمولیت سے محروم نہ رہے۔

اثر ریسرچ، ٹریننگ، تعلیمی کورسز، کمیونٹی ورک، دستاویزی فلموں اور تھیٹر کے ذریعے اپنی خدمات فراہم کرتا ہے۔ جبکہ ادارہ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اس نے 148نسائی پریس147 کے حوالے سے پہلی دفعہ ایک الگ اور مکمل پریس قائم کیا۔ اثر اب تک 50 سے زائد مطبوعات شائع کر چکا ہے جو کہ زیادہ تر ان کی کانفرنس اور ورکشاپس کی روداد اور ریسرچ اسٹڈیز کے حوالے سے شائع کی گئی ہیں۔ اثر کے شعبہ تعلیم و تربیت کے زیراہتمام ورکشاپس، کانفرنس اور سرٹیفکیٹ کورسز باقاعدگی سے کئے جاتے ہیں۔ جن میں زیادہ تر عصر حاضر کے موضوعات پر بات کی جاتی ہے۔ جن میں ملکی اور غیرملکی ماہرین، اساتذہ اور اسکالرز شرکت کرتے ہیں۔ ادارہ کے اہم منصوبوں میں سے ایک 148ادارہ برائے نسائی تعلیم147 ہے جو 1997ءسے چھوٹے کورسز کر رہا ہے۔ یہ زیادہ تر عوامی تنظیموں، سرکاری اداروں، عالمی ترقیاتی اداروں اور انسانی حقوق و خواتین کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی خواتین کیلئے مخصوص ہیں۔ یہ کورسز مقامی و بیرونی اساتذہ کی مدد سے منعقد کئے جاتے ہیں جن میں مختلف موضوعات پر بات کی جاتی ہے۔

ماری اسٹوپس سوسائٹی

ماری اسٹوپس سوسائٹی مرد اور عورتوں کی بہتر تولیدی صحت کے حوالے سے سرگرم عمل ہے۔ یہ 1991ءسے پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت جیسے موضوعات پر کام کر رہی ہے۔ اس وقت پاکستان میں ادارے کے 37 پروجیکٹ اور نیٹ ورکس ہیں۔ ادارہ اپنے منصوبوں میں 148شمولیت اور صنف کی آگہی147 کی بنیاد پر کام کرتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ادارہ کی خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ادارہ تین طرح کی خدمات فراہم کرتا ہے۔ جن میں کلینک، کمیونٹی ڈیلیوری ورکرز اور فیلڈ ورک شامل ہے۔ کلینک میں روزانہ کی بنیاد پر مریضوں میں تولیدی صحت اور فیملی پلاننگ پر سروس فراہم کی جاتی ہے جس کی ٹیم ماہرین پر مشتمل ہوتی ہے۔ جبکہ کمیونٹی ڈیلیوری ورکرز کلینک کی اطراف کی آبادیوں میں گھر گھر جا کر تولیدی صحت اور فیملی پلاننگ کے حوالے سے لوگوں کی معلومات بڑھاتے ہیں۔ فیلڈ ورک میں دوردراز علاقوں میں موجود خواتین کو طبی علاج و معالجہ کی سروس فراہم کی جاتی ہے۔ یہ تمام خدمات حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہوتی ہیں۔

ماری اسٹوپس اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ تولیدی صحت پر کام کرتے ہوئے مردوں پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تولیدی صحت صرف اور صرف عورتوں کا مسئلہ ہے اگرچہ یہ دونوں کا مسئلہ ہے۔ بالغ افراد پر مشتمل گروپ کو یوتھ ایڈوکیسی نیٹ ورک (YAN) کے ذریعے آگاہ کیا جاتا ہے۔ صنف اور صحت کے موضوعات پر ادارے نے کئی تحقیقی جائزے بھی مرتب کئے ہیں۔ ادارے نے مکران، بلوچستان میں حکومتی اداروں کے ساتھ کام کرتے ہوئے مکران کے تمام ناظم، نائب ناظمین اور خواتین کونسلرز کو صنف کے موضوع پر دو سے تین دن کی ٹریننگ بھی فراہم کی اور انہیں خاص طور پر 148صنف اور تولیدی صحت کے مسائل147 سے آگاہ کیا گیا۔ ادارے کی تمام کاوشوں کا مرکز 148عورتوں اور مردوں کی بہتر تولیدی صحت147 ہے۔ جس میں صنف پر خاص کام کیا جاتا ہے تاکہ کوئی بھی حصہ اس سے محروم نہ رہ سکے۔ 

انٹر ایجنسی جینڈر اینڈ ڈویلپمنٹ گروپ

یہ گروپ پاکستان میں نہ صرف صنفی برابری کے لئے کام کر رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ، ڈونرز اور پاکستانی ترقیاتی بنکوں میں صنفی امور سے متعلق پالیسیوں اور پروگراموں کے فروغ کے لئے بھی کوشاں ہے جس میں 28 ادارے شامل ہیں۔ یہ 1985ءمیں قائم ہوا۔ اس کے ارکان معلومات اور تجربات کا باہمی تبادلہ کرتے ہیں اور مختلف منصوبوں میں ایک دوسرے 

کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں تاکہ امداد دینے والے ملکی اور غیرملکی اداروں کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ ہو سکے۔

اسلام آباد ویمن ویلفیئر ایجنسی

اسلام آباد ویمن ویلفیئر ایجنسی کا قیام 1991ءمیں ہوا۔ ادارہ کا مقصد تشدد سے پاک معاشرہ کا قیام ہے۔ ادارہ عورتوں اور بچوں پر تشدد خصوصاً جنسی تشدد کے خلاف کام کرتا ہے۔ ادارہ نفسیاتی اور قانونی معاونت مفت کرتا ہے جس کا بنیادی مقصد عورتوں اور بچوں میں شخصی اعتماد بحال کرنا ہے تاکہ وہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔

مستقل بنیادوں پر معاشرے میں تبدیلی لانے کے لئے ادارہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں عورتوں کے مسائل پر مستقل مضامین و رپورٹ شائع کرتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ آگہی ہو سکے۔ ادارہ اپنی خدمات مندرجہ ذیل پانچ حصوں میں ادا کر رہا ہے۔

1۔ امید۔ مشاورت اور مفت قانونی امداد

2۔ آگاہی۔ پیرالیگل ٹریننگ کے ذریعے آگہی

3۔ ہمراز۔ عورتوں کے لئے ہیلپ لائن سینٹر

4۔ آواز۔ تحقیق، مطبوعات اور میڈیا کے ذریعے تشہیر

5۔ آغاز۔ خودانحصاری کا منصوبہ

ان تمام سرگرمیوں کا مقصد زیادہ سے زیادہ معلومات کی فراہمی اور ممکنہ طور پر ایک ہی پلیٹ فارم سے جنسی تشدد اور تشدد کی شکار عورتوں کو خدمات فراہم کرنا ہے۔

بیداری

بیداری رضاکاروں پر مشتمل غیرسرکاری تنظیم ہے جو خواتین کے مسائل پر کام کرتی ہے۔ خاص طور سے تشدد، زنا، جنسی زیادتی اور ہراساں کرنے کے مسائل پر اس کی توجہ زیادہ ہے۔ خواتین کو ان مسائل سے مقابلے کرنے کے لئے یہ نفسیاتی مشاورت بھی مہیا کرتی ہے تاکہ وہ خواتین اپنی مدد آپ کے تحت خودمختار ہو سکیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ اس کے ساتھ یہ کوشش بھی کرتی ہے کہ خواتین کو ایسا ماحول مہیا کیا جائے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا بہتر استعمال کر سکیں۔

بیداری خواتین کی تنظیموں میں کام کرنے والی ان منفرد تنظیموں میں سے ایک ہے جو رضاکارانہ طور پر چلائی جاتی ہیں۔ جہاں پر دیگر ماہرین اپنی خدمات رضاکارانہ طور پر فراہم کرتے ہیں جن میں خواتین کی آگہی میں اضافہ کرنا، بحران کی حالت میں مدد فراہم کرنا، شخصی کردارسازی میں مدد کرنا، کمیونٹی کی سطح پر نیٹ ورک بنانا اور دوسری تنظیموں کے ساتھ تعاون کرنا شامل ہیں۔ 

آشا

جنسی ہراس اور تشدد کے موضوع پر اگرچہ کئی عوامی تنظیمیں انفرادی حیثیت میں کافی عرصہ سے کام کر رہی ہیں تاہم ان کا دائرہ کار کچھ وجوہات کی بنا پر محدود تھا۔ ان وجوہ کو سامنے رکھتے ہوئے پالیسی اور قانون کی سطح پر تبدیلی لانے کے عزم کے تحت یکساں خیالات کی حامل چند عوامی تنظیموں نے ایک نیٹ ورک تشکیل دیا جس کا نام 148آشا147 رکھا گیا ہے۔ اس نیٹ ورک میں ایکشن ایڈ، بیداری، اسلام ویمن ویلفیئر ایجنسی، ورکنگ ویمن ایسوسی ایشن، ورکنگ ویمن آرگنائزیشن، وکلاءبرائے انسانی حقوق و قانونی امداد، پاکستان انسٹیٹیوٹ برائے لیبر، تعلیم اور ریسرچ اور Conscience Promoters شامل ہیں۔ آشا نے پہلے مرحلے میں مشاورتی ورکشاپس کے ذریعے خواتین کو جنسی ہراساں کرنے کے بارے میں تحقیق کی اور ایک ابتدائی رپورٹ تیار کی جس میں مختلف سفارشات بھی شامل تھیں۔ اس کے تحت ایک ضابطہ اخلاق برائے 148صنفی انصاف147 بھی ترتیب دیا گیا۔ اس ضابطہ اخلاق کا عملی طور پر کئی سرکاری، غیرسرکاری اور نجی اداروں میں نفاذ کیا جا چکا ہے۔

وار

وار ایک غیرسرکاری اور رضاکارانہ تنظیم ہے۔ جس کا بنیادی مقصد جنسی تشدد کے خلاف آواز اٹھانا اور ایک باعزت اور باشعور معاشرے کی تشکیل میں مدد دینا ہے۔ پچھلے کئی برسوں سے بڑھتے ہوئے جنسی تشدد کے جرائم، لوگوں کی بے بسی، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی عملی بے بسی اور بے حسی کو دیکھتے ہوئے وار جیسی تنظیم کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جا رہا تھا۔ ان ہی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے یکساں خیالات کے حامل افراد نے 1989ءمیں کراچی میں اس کی بنیاد رکھی۔ جبکہ بعد میں لاہور میں بھی ایک آفس قائم کیا گیا۔ وار کے مقاصد درج ذیل ہیں۔

٭ معاشرے میں جنسی جرائم کے بارے میں عوامی شعور کو بیدار کرنا

٭ جنسی تشدد کا شکار ہونے والے افراد کی طبی، نفسیاتی، قانونی، سماجی اور انسانی مدد کرنا

٭ اخبارات، پولیس، حکومت اور معاشرے کے دوسرے طبقوں سے رابطہ قائم کرتے ہوئے اس مسئلہ کی روک تھام کے سلسلے میں ان کی مدد حاصل کرنا

٭ جنسی تشدد سے متعلقہ قوانین کی کمزوریوں کی نشاندہی کر کے ان میں مناسب تبدیلیاں تجویز کرنا

ان مقاصد کے حصول کیلئے وار مستقل طور پر تشدد، جنسی تشدد، قانونی امداد، نفسیاتی امراض اور تدارک جیسے موضوعات پر ورکشاپس، سیمینارز اور تعارفی پروگرامز کا انعقاد کرتا ہے۔ جبکہ خواتین کے خلاف تشدد کے بارے میں تحقیق کر کے ان کو عام لوگوں تک بھی پہنچاتا ہے۔ تاکہ موضوع کے بارے میں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ معلومات ہوں اور اس طرح کے واقعات دیکھنے یا پتہ چلنے پر متاثرہ افراد کی رہنمائی و مدد ہو سکے۔

چرچ ورلڈ سروس۔ پاکستان/افغانستان

چرچ ورلڈ سروس پاکستان اور افغانستان میں 1954ءسے ترقیاتی اور ہنگامی صورتحال پر کام کر رہی ہے جو سات دفاتر سے پورے پاکستان میں خدمات انجام دیتی ہے اور اس کا مرکزی دفتر امریکہ میں ہے۔ فی الوقت یہ ادارہ 300 سے زائد عوامی تنظیموں اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ اس کے کام کا بنیادی مقصد تعلیم، صحت اور زرعی شعبے کی بہتری، کمیونٹی کی سطح پر معاشی ترقی اور ہنگامی صورتحال میں بحالی کا کام کرنا ہے۔ جبکہ عوامی شعبے کی استعداد کاری کیلئے ادارہ مالی، تکنیکی اور اطلاعاتی خدمات بھی انجام دیتا ہے۔

صنف کے موضوع پر کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ یہ ادارہ براہ راست کام کرتا ہے اور دیگر عوامی تنظیموں کے ذریعے صنف کے موضوع پر تربیتی پورگرام بھی منعقد کرتا ہے۔ جن میں صنف سے متعلق مختلف موضوعات پر بات چیت کی جاتی ہے۔

ورکنگ ویمن آرگنائزیشن

ورکنگ ویمن آرگنائزیشن 1988ءمیں لاہور میں قائم ہوئی۔ اس کا بنیادی مقصد ملازمت پیشہ خواتین کے کام کی شناخت پیدا کرنا، ان کے کام کی تشہیر کرنا اور اس کے علاوہ ان کے مشکل مسائل میں مدد کرنا شامل تھا۔ ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے نے اپنی کام کی بنیاد اس طرح رکھی جہاں سے کہ سروس کی فراہمی سے رویوں میں تبدیلی تک کے کام کئے جاتے ہیں تاکہ معاشرے میں تبدیلی کا اثر دیرپا ہو سکے۔ ان خواتین کیلئے ادارے نے سیمینار، ورکشاپ اور کانفرنس بھی منعقد کیں۔ جبکہ ملازمت پیشہ مردوں کے رویوں میں تبدیلی کے لئے ادارے نے رابطہ کاری کی جو کہ انفرادی سے اجتماعی کاوشوں تک پھیلی ہیں۔ دوسری طرف ادارے نے ریسرچ کے ذریعے ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل اور ان کی ترقی میں شمولیت جیسے موضوعات پر کافی کام کیا۔

ادارے نے اپنے کام سے معاشرے میں تبدیلی کیلئے سہ ماہی نیوزلیٹر بھی نکالا ہے۔ جس میں ملازمت پیشہ خواتین کے مختلف مسائل پر سیرحاصل مضامین چھاپے جاتے ہیں۔

ادارے نے 148صنفی تفریق اور اس کے عوامل سے آگہی147 پر ایک رہنما کتابچہ بھی بنایا ہے جس کا مقصد اپنی مدد آپ کے تحت ان موضوعات پر معلومات بڑھانا ہے تاکہ صنفی تفریق کے مسائل کم ہو سکیں۔ ان ہی امور پر نچلی سطح پر عملدرآمد کیلئے پنجاب کے 5 اضلاع میں 10 خواتین پر مشتمل گروپ رضاکارانہ کام کر رہے ہیں۔
Comments