مظہراقبال مظہر

مجھے تم در بدر کردینا

میرا دل اپنا گھر کردینا

میں جب بھی نکلوں انجانے سفر پر

اپنی یادوں کو میرا ہم سفرکردینا

گئے لمحوں کی سوغات بن کر

چشمِ نم کو تم معطر کر دینا

کوئی لمحہ خطا کا ، جب ڈسنے لگے

ایک احسان کرنا، درگزر کر دینا