بیگم تنویر لطیف ممتاز ماہرتعلیم ، دانشور اور مصنفہ ہیں۔ آپ پریس فار پیس کی سرپرستِ اعلی ہیں۔ متعدد قومی ، ادبی اور سماجی اداروں نے ان کی شاندار خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوۓ اعزازات اور انعامات سے نواز ا ہے – اس کے علاوہ ان کا شمار آزاد کشمیر کی ان معدودے چند خواتین میں ہوتا ہے جن کو محترمہ ثریا خورشید ، ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ اور الطاف حسن قریشی جیسی قومی شخصیات کی رفاقت حا صل رہی ہے

بیگم تنویر لطیف کے حالات زندگی

‎ بیگم تنویرلطییف (تمغہ امتیاز) 1944 میں ایک معروف علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد پروفیسر عبدالصمد ایک کتاب ”پاک کشمیر“ کے مصنف تھے۔ جن کی پیدائش 1916اور وفات 1993 کی ہے۔ بیگم تنویر لطیف کی والدہ محترمہ معروف سماجی کارکن اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خاتون تھیں جو انجمن خواتین مظفرآباد کی سرگرم کارکن رہی ہیں۔ بیگم تنویر لطیف کے شوہر محترم چوہدری لطیف آزاد کشمیر کے سینئر بیورو کریٹ رہے ہیں، بحیثیت سرکاری ملازم وہ دیانت داری ، فرض شناسی اور انسان دوستی کی علامت رہے اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ چوہدری لطیف آزاد کشمیر کے سینئر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ہیں ان کا شمار نامور قانون دانوں میں ہوتا ہے ۔

‎بیگم تنویر لطیف کی خدمات

محترمہ تنویر لطیف کی تعلیمی میدان میں خدمات ناقابل فراموش ہیں، انہوں نے آزاد کشمیر میں تعلیم کو عام کرنے اورتعلیمی نصاب بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے – تعلیمی نصاب میں کشمیری تاریخ و روایات کی شمولیت اور اسے قومی وملی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی خشت اوّل بھی انہوں نےہی رکھی اور پہلی بار ان کی سربراہی میں کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ نے مقامی نصاب تیار کیا۔ ‎محترمہ تنویر لطیف کئی اداروں کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔

وہ محکمہ تعلیم میں کئی کلیدی عہدوں پر فائز رہی ہیں۔ ‎محکمہ تعلیم آزاد کشمیر میں محترمہ تنویر لطیف بطور معلمہ، صدر معلمہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر،ڈپٹی ڈائریکٹر، اور ڈائریکٹر جنرل رہ چکی ہیں جہاں انھوں نے اداروں کو نئی جہتوں سے آشنا کیا – وہ متعدد ریاستی اداروں کی سربراہ بھی رہی ہیں:

بانی ڈائریکٹر جنرل نظامت تحقیق و ترقی نصاب

‎بانی چیئرپرسن آزاد جموں وکشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ

‎بانی ایس او ایس ویلج مظفرآباد آزاد کشمیر

‎ڈائرکٹر یو ایس ایڈ رائز پراجیکٹ

بیگم تنویر لطیف کی ادبی سر گرمیاں

بیگم تنویر لطیف ملک کے موقر اخبارات اور جرائد میں لکھتی ہیں اور اپنے منفرد اسلوب اور دل نشین انداز تحریر کے باعث علمی و ادبی حلقوں اور قارئین میں نمایاں مقام کی حامل ہیں – وہ تسلسل کے ساتھ ملک کی ممتاز ادبی شخصیات کی میزبانی اور قومی اور ادبی تقریبات کا اہتمام کرتی رہی ہیں تاکہ نئی نسل کو آبا اور اسلاف کے کارناموں سے آگا ہی ملے -‎محترمہ تنویر لطیف ایک مصنفہ بھی ہیں ان کی معروف کتاب “کشمیر کی سرفروش خواتین “اپنی نوعیت کی منفرد کا وش ہے ۔ ایک ‎مصنفہ، کالم نگار، اور سماجی کارکن کی حیثیت سے بیگم تنویر لطیف تحریک آزادی کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے متعدد ٹی وی اور ریڈیو پروگرامات کی میزبان اور مہمان بھی رہ چکی ہے۔

بیگم تنویر لطیف کے اعزازات

متعدد قومی ، ادبی اور سماجی اداروں نے ان کی شاندار خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوۓ اعزازات اور انعامات سے نواز ا ہے – اس کے علاوہ ان کا شمار آزاد کشمیر کی ان معدودے چند خواتین میں ہوتا ہے جن کو محترمہ ثریا خورشید ، ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ ، الطاف حسن قریشی جیسی قومی شخصیات کی رفاقت حا صل رہی ہے –

‎محترمہ تنویر لطیف آزاد کشمیر کی واحد خاتون ہیں جنہیں حکومت پاکستان نے ان کی گراں قدر قومی اور تعلیمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرے ہوۓ تمغہ امتیاز سے نوازا ہے۔

پریس فار پیس کی سرپرستی

بیگم تنویر لطیف نے پریس فار پیس کے آغاز سے لے کر اب تک اس ادارے کی نہ صرف فکری رہنمائی اور آبیاری کی ہے بلکہ بے شمارسرگرمیوں میں بذات ِ خود حصہ لیا ہے۔ آپ متعدد سرگرمیوں اور منصوبوں کی مالی معاونت بھی کرتی چلی آئی ہیں – وہ پریس فار پیس کے عہدے داران اور رضا کاروں کی اخلاقی تربیت کے لئے بھی خصوصی سیشن کا انعقاد کرتی ہیں

وہ اپنی پر خلوص مادرانہ شفقت اور محبت کے ساتھ پریس فار پیس سے وابستہ رضا کاروں کے لیے خدمت خلق، احترام انسانیت اور بے سہاروں کی سرپرستی کا ایک روشن مینار ہیں جس سے بے شمار رضا کاروں نے علمی اور فکری فیض حاصل کیا ہے ۔ پریس فار پیس کو اس بات پر فخر ہےکہ خدمت انسانی کے لئے کو شاں اس ادارے کو محترمہ تنویر لطیف جیسے گوہر تاباں کی سرپرستی اور رہنمائی حاصل ہے

(یہ تعارف مدیر معاون زبیرالدین عارفی نے ترتیب دیا ہے

تحریری و تخلیقی کام


اے جے کے ٹی وی کا پیش کردہ ملی نغمہ "پاک خطہ گُل” جسے بیگم تنویر لطیف نے لکھااور اس کی ابتدائی کمپوزیشن بھی انہوں نے کی

بیگم تنویر لطیف کی سماجی سرگرمیاں