کہانی کار۔ یاسمین شوکت ، تصاویر – پیر زادہ محمد مشبّر (سال – 1984) 

 مچل رہا ہے رگ زندگی میں خون بہار
الجھ رہے ہیں پرانے غموں سے روح کے تار
 چلو کہ چل کے چراغاں کریں دیار حبیب
 کہ انتظار میں ہیں پرانی محبتوں کے مزار
 محبتیں جو فنا ہوگئی ہیں میرے ندیم۔

یاسمین شوکت


 قارئین کرام! آپ سب جانتے ہیں کہ شمال کی وادیاں ، پہاڑ چشمے اور جھیلیں میری اولین محبتیں ہیں۔ یہاں کے باسیوں کا پیار، مہمان نوازی، سادگی اور روایات میرے لئے ایک عظیم استاد کا درجہ رکھتی ہیں۔ جن سے میں نے زندگی گذارنے کا طریقہ سیکھا۔ اس سلسلہ میں ان واقعات اور محبتوں کا تذکرہ ہوگا جو آج بھی میرے لئے تر و تازہ ہیں جن پر ماہ و سال کی گرد نہیں پڑی۔
یادوں کے دریچوں سے جھانکنے والا پہلا چہرہ ایک بزرگ کا ہے جو وادی کاغان کے اولین ٹرپ کے دوران جھیل سیف الملوک پر حضر راہ بن کر ہمارے سامنے آگئے تھے۔

جھیل سیف الملوک جو پریوں کا مسکن تھا جہاں کا پانی آب حیات تھا ۔ میں اپنے شوہر اور بھائی کے ساتھ ناران سے پیدل جھیل پر پہنچی تھی۔ شام ہوچکی تھی اور سورج بھی پہاڑوں کے پیچھے روپوش ہوچکا تھا ۔ جھیل پر صرف جھیل تھی اور ہم تھے۔ مکمل سکوت اور سناٹا ۔

سردی کی شدت نے چند لمحوں میں خون منجمد کرنا شروع کردیا تھا ۔ ہم نے اپنا سامان اور بائیک ناران سے ذرا آگے جھیل کے راستے میں چھوڑ دیا تھا۔ اور کوئی گرم کپڑا ہمارے پاس نہیں تھا۔ ہم تینوں میں سے صرف میرے شوہر اس سے پہلے بھی جھیل پر آچکے تھے ۔ اور جانتے تھے کہ وہاں ایک چھوٹا سا ریسٹ ہائوس موجود ہے ۔

رات وہاں گذاری جاسکتی ہے۔ لیکن وہ ریسٹ ہاؤس بند تھا اور کوئی چوکیدار یا رکھوالا وہاں موجود نہیں تھا۔ اندھیرا چھانے لگا تھا اور سردی سے دانت بج رہے تھے۔ ہم سکڑے  سمٹے ریسٹ ہائوس کے سامنے کھڑے تھے کہ اچانک ایک طرف سے ایک بزرگ نمودار ہوئے۔

وہ بنظر غور ہمارا جائزہ لے رہے تھے اور بار بار ان کی نظر مجھ پر آکر رک جاتی۔ آخر گفتگو کا آغاز ہوا۔
بزرگ:آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟
بھائی: جی اسلام آباد سے۔
بزرگ: اچھا اچھا ۔۔۔۔کسی عزت دار گھرانے کے معلوم ہوتے ہو۔
بھائی: شکریہ۔۔۔یہاں ٹہھرنے کی کوئی جگہ ہوگی؟
 بزرگ : ریسٹ ہائوس تو بند ہے، چوکیدار لکڑی اکھٹی کرنے گیا ہوا ہے۔ آج واپس نہیں آئے گا (پھر ذرہ توقف سے) آپ کے ساتھ یہ لڑکی کون ہے؟
بھائی: میری بہن ہے۔
بزرگ: جب ایسے ٹائم آرہے تھے تو بہن کو ساتھ کیوں لائے؟
 بھائی: میں نہیں لایا ، اس کا شوہر لایا ہے
 بزرگ: شادی شدہ تو نہیں لگتی ۔بہت کم عمر ہے( پھر مجھ سے مخاطب ہوکر) کیوں بیٹی ! یہ سچ ہے؟ کوئی مسئلہ تو نہیں؟
 میں: نہیں انکل کوئی مسئلہ نہیں۔۔۔پلیز کوئی ٹہھرنے کی جگہ ہے تو بتائیے۔اب اس وقت واپس کیسے جائیں گے۔
 بزرگ: تھوڑے فاصلے پر میرا جھونپڑا ہے آجاؤ ۔۔اور کوئی جگہ نہیں۔یہاں تو سردی سے مرجاؤ گے۔
 ڈرتے کانپتے ان کے ساتھ چلے۔ کچھ دور لکڑیوں اور سرکنڈوں سے بنا ہوا ایک جھونپڑا موجود تھا۔

جس کی کل کائنات ایک جھلنگا چارپائی اور میلا کچیلا بستر تھا۔ میں اور بھائی سخت پریشان تھے اور میرے شوہر ہمیں تسلی دینے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔اس پروگرام کے خالق وہی تھے۔

ان کی خطرات سے کھیلنے کی عادت اور بغیر مناسب تیاری کے چل پڑنے کی روش کی وجہ سے ہم اس صورتحال سے دوچار ہوئے تھے۔

خیر بزرگ نے ہمیں ایک میلی سی دری پر بٹھا دیا۔ اور خود آگ جلائی۔ بولے میرے پاس تھوڑا سا آٹا ہے۔ اور بکری کا دودھ ابھی دھویا ہے۔ روٹی پکا دیتا ہوں اور چائے بھی مل جائے گی۔ رات یہاں رہو صبح جو دل چاہے کرنا۔  ہم حیرت سے گنگ تھے۔

خیر روٹی پکی ، چائے بنی، ہمیں پیش کی گئی۔ بزرگ نے کچھ نہیں کھایا۔یہ سامان شاید ان کے اپنے کھانے کیلئے تھا جو مہمان کو پیش کردیا گیا تھا۔ ہم چولہے کے قریب بیٹھے تھے چائے پی چکے تو شب بسری کا سامان درست کیا گیا۔

ایک دو میلی کچیلی گدڑیاں کونے کھدروں سے نکالی گئیں اور ہمیں  اوڑھنے کیلئے دے دی گئیں۔اس انتظام کے بعد بزرگ باہر کی طرف بڑھے اور بولے” یہ سامنے میرے مال مویشی کا باڑہ ہے۔ میں وہاں ہوں ۔ جھونپڑے کے دروازے پر لکڑیاں اور سرکنڈے رکھ دوں گا تاکہ کوئی جانور اندر نہ جاسکے۔ رات میں باہر ہر گز نہ نکلنا”۔

ہم نے پوچھا کہ وہ رات کو بستر اور لحاف کے بغیر کیسے رہیں گے؟ بولے۔۔۔ہم پہاڑوں کے باسی ہیں ، ہر طرح کے حالات میں جی لیتے ہیں۔ آپ بڑے شہروں کے رہنے والے ہیں۔ مشکل تو آپ کیلئے ہے لیکن اس وقت میرے پاس آپ کی خدمت کیلئے اور کچھ نہیں” ۔

رات بھر ہم بے چین رہے۔ نیند نہ آسکی ۔اس لئے نہیں کہ بستر میلا تھا لحاف میں بو تھی یا سردی تنگ کر رہی تھی۔ بلکہ اس لئے کہ ہماری وجہ سے ایک بزرگ کو سردی میں مویشیوں کے ساتھ رہنا پڑا۔

سوچا کہ صبح جانے سے پہلے ان کو کچھ رقم دیں گے ،یوں مفت میں خدمت لینا تو درست نہیں ہوگا۔ اور وہ بھی شاید اس طرح کچھ پیسے بنالیتے ہوں۔

صبح سورج نکلنے سے پہلے ہی انہوں نے ہمیں آواز دی اور پھر اندر آکر آگ جلائی۔ بکری کے دودھ کی چائے بنائی گئی۔ چائے پی کر ہم لوگ باہر نکلے ۔میرے شوہر نے بزرگ کی خدمت میں کچھ رقم پیش کی جو انہوں نے قبول نہیں کی ۔

ہمارے بار بار اصرار پر بولے ” ہم غریب لوگ ہیں لیکن اتنے بے غیرت نہیں کہ مہمان کی خدمت پیسے کے عوض کریں۔” پھر اپنی جیب سے ایک پرانا سا خاکی لفافہ نکالا اور میری طرف بڑھادیا۔

میری سوالیہ نظروں کے جواب میں بولے۔۔” رکھ لو بیٹی۔ میری طرف سے ایک حقیر سا تحفہ ہے۔ میری مرحومہ گھر والی کی ہیں ۔آج پہلی دفعہ ایک بیٹی میری مہمان بنی تھی۔ اسے خالی ہاتھ رخصت نہیں کرسکتا”
لفافے میں چاندی کی پرانی سی دو چوڑیاں تھیں۔
جھیل سیف الملوک کا سارا پانی میری آنکھوں میں آگیا تھا۔ سب خوبصورت منظر دھندلا گئے تھے۔ سب بلندیاں  صفر ہوگئ تھیں۔ ہم تینوں مہر بہ لب تھے۔