حفصہ مسعودی

مسئلہ کشمیر پر جب بھی کسی تقریب میں شرکت کرنے کا اتفاق ہوا ، مقررین کو اکثر طنزیہ انداز میں  ایک سوال کرتے سنا ” آپ بتائیں مسئلہ کشمیر میں آپ کا کردار کیا ہے؟”

یا کوئی اگر تہذیب کے دائرے میں رہ کر بات کرے تو مفکرانہ انداز میں کہتا ہے "آپ سو چئے گا ضرور کہ آپ کا کردار کیا رہا ہے؟ "

خود چاہے کبھی کچھ نہ کیا ہو ، دوسروں کے ضمیر کو لازمی جھنجھوڑتے ہیں ، اور کبھی کبھی یہ سوال دماغ کے ساتھ واقعی چپک جاتا ہے  . تو میں بھی کئی دن سے سوچ رہی ہوں ، میں جو کہ ایک عام کشمیری ہوں ، میرا کردار مسئلہ کشمیر میں کیا رہا ہے ؟

میں نے سوچا کہ کیا میں نے ماں کی طرح کشمیر کو اپنی تمام تر محبت ، توجہ اور کاوش کا مرکز بنایا ؟ نہیں

کیا میں نے ایک زمہ دار باپ کی طرح کشمیر کی ہر ضرورت یا کوئی بھی ضرورت پوری کی ؟  نہیں

کیا میں نے حفاظت کرنے والے بھائی کی طرح کشمیر کی حفاظت کی ؟ نہیں

کیا میں نے ہمدرد بہن کی طرح کشمیر کے زخموں پرمرہم رکھا ؟ نہیں

کیا میں نے زمہ دار بیٹے کی طرح کشمیر کے رستے میں آنے والے کانٹوں کو چنا ؟ نہیں

کیا میں نے ایک محبت کرنے والی بیٹی کی طرح کشمیر کی دلجوئی کی ؟ نہیں

تو جواب یہ ہے کہ میں نے کبھی کشمیر کے ساتھ ’سگے رشتوں ‘ والا کوئی سلوک نہیں کیا ۔ تو پھر میں نے کیا کیا ؟

میں جو کہ  ایک عام کشمیری شہری  ہوں جس کا کردار تمام عمر تنقیدی اور تخریبی رہا ہے اور جس کو سوائے زبانی جمع خرچ ، اور بڑھ چڑھ کر بولنے کے کچھ نہیں آتا۔ میں نے عمر بھر کچھ اس طرح کے کام کئے ہیں۔

میں نے جب بھی کسی این جی او یا تھنک ٹینک کو کشمیر کے لئے کام کرتے  اور اس کے بدلے میں مالی و سماجی فوائد حاصل کرتے دیکھا تو فورا تانگ لگائی  ’بھابی کے تو مزے ہیں بڑی گاڑیوں میں گھومتی ہے ، بڑے بڑے ہوٹلوں میں کھانا کھاتی ہے ، ارے دیتا کون ہے اس کو اتنا پیسہ ؟‘ (پشگی معذرت لیکن ان تنظیموں کا کردار بھی روایتی جنوبی ایشیائی بھابیوں جیسا ہی ہے )

میں نے جب کسی شخص کو کشمیر کے لئے ہتھیار اٹھاتے یا کوئی اور عملی قدم اٹھاتے دیکھا  تو جھٹ بول اٹھی ’ یہ کبھی ماں کی خدمت اور کبھی اسلام کےنام  پر ماں کے سامنے نمبر بنانے کی کوشش کرتا ہے ‘

میں نے جب کسی صحافی قلمکار کو  مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے دیکھا تو فورا کہا ’ ارے اس کو دیکھو ، یہ سمجھتا ہے اس کی لاف زنی سے ماں کو کوئی فائدہ ہوگا ہم نے بہت دیکھے ایسے ہمدرد ‘

اور جب میں نے آزادی کی کسی تنظیم کو کوئی مہیں سی آواز نکالتے سنا تو کڑک آواز میں بولی ’ بہن مجھے پتہ ہے تجھے ہمدردی ہے ، لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے تو اپنے مستقبل پر توجہ دے ، چھوڑ اس قصے کو ‘

اور جب کوئی باہر کا بندہ کشمیر کے لئے آواز اٹھائے ’ یہ خواہ مخواہ سگا بن رہا ہے ، اس کو زیادہ احساس ہو گا یا ہمیں ؟ ‘

تو اپنا کردار مجھے یوں نظر آیا’ اپنی بھابیوں (این جی اوز ) بھائیوں (ہتھیار یا آواز اٹھانے والے مخلص ہمدردوں )  بھتیجوں (اخبارات و صحافیوں ) اور چھوٹی بہنوں ( آزادی کی تنظیموں ) پر تنقید کرنے والی میں  جو کہ ایک عام کشمیری شہری ہوں، میں وہ فسادی نند ہوں جو شادی کے بعد بھی ماں کے گھر مقیم ہے اور جس کی واحد طاقت ماں کا پیار یا دھرتی ماں سے اس کا رشتہ ہے ۔

وہ ماں کے گھر کی ہر چیز پر بلاوجہ اپنا حق سمجھتی ہے اور اس کو نوچ کر کھانا اپنا فرض سمجھتی ہے ۔  جو ہر کسی کے کام میں ٹانگ اڑانے کی ماہر ہے ، اور جب وہ اپنی ہی دھن میں زیادہ پر پرزے نکالنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کو کنٹرول کرنے والا اس کا ایک  ’پتی دیو ‘ موجود ہوتا ہے ،۔

جو دیو کی شکل کا ہی ہے اور اس سے اپنے گھر کے معاملات تو صحیح سے سنبھالے نہیں جاتے لیکن وہ اس فسادی نند کو وقتا فوقتا شٹ اپ کال دے سکتا ہے ، اور اس کے بھی پہلو میں کمزور سی ایک ساس بیٹھی ہے ، جس کا اختیار اپنے بیٹے پر تو نہیں لیکن بڑ بولی بہو کو قابو کرنے کے لئے مشورے دے سکتی ہے ۔

مختصر یہ کہ کشمیر کے پاس کوئی سگا مضبوط رشتہ اگر ہوتا تو یہ کمزور ماں اپنی آخری سانسیں اس بے چارگی کے عالم میں نہ لے رہی ہوتی ۔ کہنا یہ ہے کہ کچھ بھی ہو ، ہماری جنت بہرحال اسی ماں کے قدم ہیں ورنہ زمانے کی ’تتی ہواوں کا سامنا کرنے کی سکت ہم میں سے کسی میں نہ ہوگی  ۔

حفصہ مسعودی

حفصہ مسعودی کا تعلق وادئ نیلم کے گاؤں لوات سے ہے ۔وہ آزاد کشمیر یونیورسٹی سے کشمیر اسٹڈیز میں گولڈ میڈلسٹ ہیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے پیس اور کنفلکٹ اسڈیز میں ایم فل کر چکی ہیں۔ تنازعات کے پرامن حل کے موضوع پر خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں اور آجکل نمل اور انٹرنیشنل اسلامک یونورسٹی اسلام آباد سے منسلک ہیں۔