منقسم کشمیریوں کو اپنے آبائی علاقوں کے دورے کا موقع دیا جائے۔ پریس فار پیس

سماجی اور ا من دوست تنظیم پریس فار پیس نے منقسم کشمیریوں کی طرف سے تقسیم کے واقعات کو سوشل میڈیا پر متعارف کرانے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے پاکستان اور انڈیا کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ منقسم کشمیریوں کو اپنے اپنے آبائی علاقوں کے دورے کا موقع دیا جائے۔ ہجرت کے درد کو مذہب اور علاقے کے فرق سے بالا تر ہو کر محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ تقسیم کشمیر تاریخ کا ایک المناک اور درد ناک باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کا جاسکتا یہی وجہ ہے کہ کئی

سال گزرنے کے باوجود آرپارکشمیری اپنے آبائی علاقو ں کی یادوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔    

پریس فار پیس نے اس بیان میں مس رومی شرما پونچھی  سمیت  انسانی حقوق کارکنوں اور ریاستی پریس کی طرف سے تقسیم کے واقعات اجاگر کرنے کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا  کہ تما م امن دوست لوگوں کو بچھڑے خاندانوں کو ملانے میں اپنا قومی اور انسانی کردار ادا کرنا ہوگا۔ وزیراعظم فاروق حیدر منقسم کشمیریوں کو اپنے اپنے آبائی علاقوں کے دورے کروانے میں کردار ادا کرکے سرحد پار مثبت پیغام دیں۔ پریس فار پیس نے پاکستان اور انڈیا کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انڈین کشمیر کے غیرمسلم لوگوں کو شاردہ کے تاریخی اور مذہبی مقام کے دورے کی اجازت دی جاے جس سے علاقے میں سیاحت کو بھی ترقی ملے گی۔ 

پریس فار پیس کے بانی اور کشمیری قلم کار ظفر اقبال نے رومی شرما جیسے سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی  خدمات کو زبر دست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے

 کہا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیےان کارکنو ں کی بے مثال جہدوجد  تاریخ میں جلی حروف سے لکھی جائے گی۔
Comments