مادری زبان کے عالمی دن پر

زکریا شاذ

اردو کے 99 فی صد شعرا درست اردو لکھتے مگر غلط اردو  بولتے ہیں. اس کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ بیشتر شعرا کی مادری زبان اردو نہیں ہے.

اس کا مطلب یہ ہوا کہ مادری زبان وہ زبان ہوتی ہے جو آپ ٹھیک لکھ سکتے ہوں یا نہ لکھ سکتے ہوں لیکن جب بھی بولیں گے ہمیشہ درست بولیں گے. اور ویسی کوئی غیر زبان بولنے والا بول ہی نہیں سکے گا. بھلے وہ اس زبان کا ماہر ہی کیوں نہ ہو.
میری مادری زبان پہاڑی ہے. اس زبان کے بولنے والے اپنے اپنے علاقے کے موافق اس کو مختلف ناموں سے پکارتے ہیں. مثلا پوٹھوہار کے لوگ اسے پوٹھوہاری کہتے ہیں.لیکن یہ سچ ہے کہ علاقوں کے فرق کے ساتھ اس زبان کے لب و لہجے میں بھی فرق آجاتا ہے.
میرے نذدیک جتنی میٹھی پہاڑی زبان ہم بولتے ہیں شاید ہی کہیں بولی جاتی ہو. یہ مٹھاس آزاد کشمیر کے دو بڑے شہروں کا خاصہ ہے. ان شہروں میں ایک میرپور ہے اور دوسرا میرا شہر کوٹلی ہے. ان دونوں شہروں کے رہنے والے بہت رواں اور میٹھی پہاڑی بولتے ہیں.
اب میں اپنی ایک پہاڑی غزل کے کچھ اشعار سب پہاڑی بولے والوں کے لیے پیش کرتا ہوں. امید ہے سب کو پسند آئے گی.

مُڑی مُڑی چھنڈےِ بال تکےِ کسِے ہور کی
گَلاں کرےِ مہاڑے نال تکےِ کسےِ ہور کی

(ترجمہ :وہ باتیں تو میرے ساتھ کر رہا ہے لیکن بار بار اپنے بالوں کو جھٹک کر دیکھ کسی اور کو رہا ہے)

شیشہ بنی بنی تےِ میں اٌسنے اگےِ کَھلّاں
بدلی بدلی تے او چال تکےِ کسےِ ہور کی

(ترجمہ: میں اس کے سامنے آئینے کی طرح کھڑا رہتا ہوں لیکن وہ اپنے ناز اور چال کے انداز کو بدل بدل کر کسی اور کو دکھا رہا ہے)

نیڑےِ نیڑےِ ہوئی ہوئی مہاڑے کہول بھووےِ
اکھاں وچوں ماری چھال تکےِ کسے ہور کی

(ترجمہ: وہ میرے پاس بیٹھنے کے لیے میرے قریب تر ہوتا جا رہا ہے لیکن پھر بھی اپنی آنکھوں سے چھلانگ لگا کے کسی اور کو دیکھتا جاتا ہے)

ساڑھے نال جس ویلےِ مِلنیاں نظراں
پلکاں ناں سَٹی جال تکِ کسےِ ہور کی

ترجمہ:جس وقت اس کی نظریں میری نظروں سے ملتی ہیں تب بھی وہ اپنی پلکوں کا جال پھینک کے کسی اور کو دیکھتا جاتا ہے

دِلا او تےِ منداں نئیں اے، اپنا ویلا چنگا نئیں اے
ورنہ اُسنی کیہ مجال تکےِ کسے ہور کی

(ترجمہ:اے میرے دل میرا یار تو برا نہیں. میرا وقت ہی اچھا نہیں ہے. ورنہ اس کی کیا جرات کہ میرے ہوتے ہوئے وہ کسی اور کو دیکھے  ..)