کہانی کار : مشتاق اے بٹ  -فوٹو کریڈٹ : سروشین 

یہ 1945 کی کالج کی بلڈنگ پرانے میرپور کے احاطہ کی تصویر ہے. جبکہ کالج کی ٹیم شملہ انڈیا میں ہونے والے کھیلوں کے مقابلہ میں کچھ ٹرافیاں جیت کر لائی تھی – تصویر میں کالج کے پرنسپل سید مختار شاہ جن کا تعلق سری نگر کشمیر سے تھ، ا بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور انکے ساتھ کالج کے ڈی پی عبدالحمید بیٹھے ہوئے ہیں – تصویر میں کالج کے صرف تین مسلمان طلبا سید سلطان شاہ، محمد حسین رتیال اور چوھدری محمد رفیق ہیں جبکہ باقی سب طلبا میرپور کے مقامی ہندو تھے ۔

میرپور کالج 1944 میں ریاست جموں و کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنے اکلوتے بیٹے  شری کرن سنگھ کے نام سے انٹرمیڈیٹ کی حثیت سے قائم کیا تھا۔ اور یہ سری نگر اور جموں کے کالجوں کے بعد ریاست بھر کا تیسرا کالج تھا ۔

1947 کی تقسیم کشمیر کے بعد یہ آزادکشمیر کا واحد کالج تھا۔ اور اسے 1950 کے لگ بھگ ڈگری کالج کا درجہ دے دیا گیا تھا -1947 تک میرپور ہندو اکثریتی شہر تھا۔ اور شہر میں مسلمان آٹے میں نمک کے برابر تھے –

میرپور کالج کے پہلے اور بانی پرنسپل سری نگر کے پنڈت جیا لال کول تھے -1947 میں تقسیم کشمیر کے وقت ضلع میرپور کے ڈپٹی کمشنر راو رتن سنگھ تھے اور اس وقت  کوٹلی اور بھمبر بھی ضلع میرپور کا حصہ ہوتے تھے ۔

تصویر میں ریاست جموں کشمیر کے نامور سپوت جناب کرشن دیو سیٹھی بھی پچھلی قطار میں بائیں سے دوسرے نمبر پر کھڑے ہیں ۔

سیٹھی صاحب تقسیم کے وقت جموں چلے گئےتھے -وہ گزشتہ دنوں جموں میں انتقال کر گئے ہیں –

وہ جب تک حیات رہے انھوں نے کئی دفعہ اپنی جنم بھومی میرپور کا دورہ کیا -یہی وجہ ہے کہ وفات کے بعد اہل میر پور نے ایک تعزیتی ریفرنس میں ان کو زبر دست خراج تحسین پیش کیا-