کشمیری شہدا کی یاد : کنٹرول لائن پر کھلے آسمان تلے دھرنا

ریاست جموں کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف جانیں قربان کرنے والے کشمیری شہدا کی یاد میں چکوٹھی کے مقام پر شمع روشن کی گئی ۔کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ملک کے چاروں صوبوںاور گلگت بلتستان کے نوجوانوں نے لائن آف کنٹرول پر شمع روشن کرنے کے ساتھ ساتھ انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی ۔اس قومی کارواں کی قیادت قومی اسمبلی کی ممبر ماوری میمن کر رہی تھی جبکہ صحافتی ،سماجی اور انسانی حقوق و امن کے لیے کام کرنے والی تنظیم پریس فار پیس اس کارواں کی منتظم تھی ۔ کارواں نے بھارتی افواج کی جانب سے جموںوکشمیر کے نہتے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف شدید سردی کے باوجود چکوٹھی میں چوبیس گنھٹے تک دھرنا دیا۔دھرنے سے خطاب کرتے ہوئےقائمہ کمیٹی برائے کشمیر و گلگت بلتستان کی ممبر ماروی میمن نے کہا کہ صدر اوبامہ دورہ بھارت کے دوران مسلئہ کشمیر کے حل کے حوالے سے بھارت پر دباو ڈالیں اگر ایسا نہ ہوا تو شدید ردعمل ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ تازہ ترین کشمیری انتفادہ کی اخلاقی حمایت کے لیے پاکستانی نوجوان اپنا بھرپور کردار ادا کریں گئے۔پریس فار پیس کی سرپرست اعلی ٰ ،کشمیری دانشور اور ستارہ امتیاز بیگم تنویر لطیف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کنٹرول لائن پر پاکستان کے چاروں صوبوں سے آ کر نوجوانوں نے پیغام دیا ہے کہ کشمیری تحریک آزادی میں تنہا نہیں بلکہ ملت اسلامیہ پاکستان انکے پشت پر ہیں ۔
آزادکشمیر پیپلزپارٹی کے صدر سردار خالد ابراہم نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی روح ہے اور روح کے بغیر جسم بے معنی ہے ۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت مسلئہ کشمیر کو عا لمی سطح پر اجاگر کرنےکیلیےموثر کردار ادا کرے ۔
پریس فار پیس کے ڈاریکٹر آزادکشمیر راجہ وسیم نے کہا کہ دونوں ایٹمی ممالک تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں اور اپنی عوام کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے اپنے دفاعی اخراجات میں کمی لایں ۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے قیام کے لیے مسلئہ کشمیر کا حل ضروری ہے ۔کشمیری عوام کو دو آپشن دینے کے بجائے تمام آپشن پر غور کرنا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ماروی میمن کا آزاد خطے کے لوگوں کو انکے حقوق دلاونے کے حوالے سے کردار بہت اہم ہے۔
دھرنے کے دوران ایک لاکھ شہدا کشمیر کے نام پکار کر انکو خراج عقیدت بھی پیش کیا گیا۔ماروی میمن کی قیادت میں شدید سردی کے باوجود نوجونواںاور خواتین نے ساری رات کھلے آسمان تلے کنٹرول لائن پر چکوٹھی کے مقام پر گزاری ۔اس کے بعد صبح دس بجےتک دھرنا اختتام پذیر ہوا۔اختتام پر کارواں کے تمام افراد نے کمان پل کی طرف مارچ کیا ۔

یہ کارواں ستائس اکتوبر کی صبح اسلام آباد سے روانہ ہوا تھا اور اگلے دن شام اسی جگہ اختتام پذیر ہوا۔آزادکشمیر کی عوام کی جانب سے محترمہ مارومیمن کاکارواںسمیت اسلام آباد سے چکوٹھی آتے وقت کوہالہ ،دومیل مظفرآباد شہر ،گڑھی دوپٹہ ،کنیانہ اور چناری میں شاندار استقبال کیا گیا۔

دھرنے میں بڑی تعداد میں سیاسی ،سماجی اور صحافتی تنظیموں سمیت ہر مقتبہ فکر کے افراد نے بھر پور شرکت کی ۔
Comments