کہانی کار  اور تصاویر سردار وقاص رشید 

آپ نے یہ محاورہ تو سُنا ہوگا۔ کہ لاٹھی ہاتھ کی، بھائی ساتھ کا۔ اس محاورے کا مطلب ہے کہ لاٹھی وہی جو ہاتھ میں ہو اور بھائی وہی جو ساتھ دے۔ آزادکشمیرکے ایک دور افتادہ گاؤں میں ایک درویش صفت انسان ایسا ہے جس نے اس محاورے پرپورا عمل کرکے خدمت خلق اور سماجی فلاحی کاموں کی ایک روشن مثال قائم کی ہے۔

لاٹھی(سوٹی) یا چھڑی، اور عصا بنانے کے ماہر۔۔۔۔۔۔۔۔ہورنہ میرہ، کوٹیڑہ راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے محترم شفیق صاحب اپنے فن کے ماہر مانے جاتے ہیں۔

ایک لمبے عرصے سے وہ انتہائ مہارت اور نفاست سے بہت ہی خوبصورت اور مختلف ڈیزائن کی لاٹھیاں اور عصا وغیرہ اپنے ہاتھوں سے تیار کرتے ہیں -میرا خیال ہے کہ د نیا کی کسی مارکیٹ میں کوئی مشین بھی اتنی خوبصورتی سے بل کھاتی اور مختلف ڈیزائن کی لاٹھیاں تیار نہیں کر سکتی۔

خوبصورت لاٹھیاں وہ مارکیٹ میں فروخت نہیں کرتے

خاص بات یہ ہے کہ یہ خوبصورت لاٹھیاں وہ مارکیٹ میں فروخت نہیں کرتے اور نہ ہی آئندہ ارادہ رکھتے ہیں اور وہ صرف اپنے ذوق وشوق اور لگن کی وجہ سے کئ کئ دنوں اور مہینوں کی محنت کے بعد یہ لاٹھیاں تیار کرتے ہیں۔

ضعیف العمر لوگوں،مریضوں اور مجھ سمیت اپنے ہزاروں جاننے والوں کو اب تک سینکڑوں خوبصورت لاٹھیاں تحفے میں دے چکے ہیں۔

کوٹیڑہ پونچھ  اور گرد و نواح کی تمام جامع مساجد میں ان کے ہاتھ کا بنا ہوا عصا موجود ہے۔ جو خطیب صاحب بروز جمعہ استعمال کرتے ہیں۔

موصوف آزاد کشمیر اور پاکستان کے کئ شہروں میں اور مختلف ممالک میں موجود اپنے دوستوں اور جاننے والوں کو بھی بطور تحفہ بھیج چکے ہیں۔اگر وہ مارکیٹ میں فروخت کریں تو ہاتھ سے بنی مختلف ڈیزائن کی یہ لاٹھیاں بہت مہنگے داموں فروخت ہوسکتی ہیں اور ان کے لیئے ایک اچھی آمدن کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ کسی ضرورت مند کو بطور تحفہ تو دے سکتا ہوں لیکن کبھی بھی فروخت نہیں کروں گا۔

جنگل اور مختلف جگہوں سے لکڑی تلاش کرنا اور پھر گھر پہ چھوٹے اوزاروں سے مہینوں کی محنت سے انتہائ خوبصورت لاٹھی تیار کر کے کسی کو تحفے میں دے دینا باعث ثواب تو ہے لیکن ہر کسی کے بس کی بات نہیں اور آج کے مصروف دور میں انتہائ مشکل کام ہے۔جس پر وہ داد کے مستحق ہیں-

وسیع حلقہ احباب رکھنے والے محترم شفیق صاحب اپنے فن میں مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ انتہائ خوش مزاج،ملنسار اور بہترین شخصیت کے مالک بھی ہیں۔بلا شبہ ایسے لوگ کسی بھی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔محترم شفیق صاحب آپ کے ذوق و شوق اور جذبے کو سلام اور دعا ہے کہ اللہ پاک سلامت رکھے۔