ڈاکٹر افتخار مغل

لہو مانگتی ہے چناروں کی دھرتی

بہاروں کا دیس ، آبشاروں کی دھرتی 

لہو مانگتی ہے ، لہو مانگتی ہے

چناروں کی دھرتی لہو مانگتی ہے

اٹھو ظلمتِ شب میں شمعیں جلائیں

اُٹھو اس کو خونِ جگر سے سجائیں

صدا میں صدا خون میں خوں ملائیں

اُٹھو جبر سے اُٹھ کے پنجہ لڑائیں

یہ اپنی زمیں ، اپنے پیاروں کی دھرتی

لہو مانگتی ہے چناروں کی دھرتی

لہو مانگتی ہے ، لہو مانگتی ہے

چناروں کی دھرتی لہو مانگتی ہے

چلو ہم پہ جو قرض ہے وہ چکائیں

چلو مقتلوں کو سروں سے سجائیں

جلو میں رہیں گی ہمارے، دعائیں

 اُٹھو دستِ قاتل سے اس کو چھڑائیں

یہ خُلدِ بریں ، یہ بہاروں کی دھرتی

لہو مانگتی ہے چناروں کی دھرتی

لہو مانگتی ہے ، لہو مانگتی ہے

چناروں کی دھرتی لہو مانگتی ہے 

ڈاکٹر افتخار مغل