کہانی کار سید واجدالرب

فوٹو کریڈٹ : ڈس کور کوٹلی

               دریائے پونچھ پر بڑالی کے عین سامنے یہ جزیرہ نما خوبصورت قطعہ  چھوٹا سنہوٹ کے نام سے مشہور اور ڈونگی سنہوٹ کا حصہ ہے ۔چھوٹا سنہوٹ  کی آبادی  18 گھروں پر مشتمل ہے جو ان دنوں شدید مشکلات کا شکار ہے ۔  یہاں کے رہائشی محمد اقبال محمد اخلاق محمد خان اور کرامت حسین کے مطابق ڈیم بننے سے قبل انھوں نے ذاتی خرچ سے دریا پر ایک لفٹ لگا رکھی تھی جس کے زریعے وہ دریا کراس کرکے بڑالی مین روڈ پر پہنچ جاتے تھے ۔جبکہ دریا کے کنارے ایک قدرتی باؤلی سے انھیں پینے کا صاف پانی میسر تھا جسے پیٹر انجن کے ذریعے وہ لفٹ آپ کرتے تھے ۔۔ڈیم بننے پر وہ لفٹ اور چشمہ دونوں سے محروم ہو گئے ہیں ۔ڈیم بنانے والی کمپنی نے ان سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ انھیں رابطہ پل بنا کر دے گیاور پانی بھی فراہم کرے گی ۔۔ڈیم بننے کے بعد کمپنی نے پل بنانے سے انکار کر دیا ۔پانی کے لئے بورنگ کروائی مگر وہ منصوبہ ناکام جا رہا ہے ۔اس وقت اس مقام کے سکونتی افراد اور سکول کے بچے ٹیوب کے ذریعے ڈیم عبور کرنے پر مجبور ہیں ۔بارش اور خراب موسم میں  ایسا ممکن نہیں ہوتا۔شدید سردی میں بھی ٹھنڈے پانی میں تیرنا ممکن نہیں اور مریض کو بذریعہ ٹیوب روڈ پر منتقل کرنا انتہائی مشکل اور جان جوکھوں کا کام ہے ۔سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس پہاڑی کے تینوں اطراف سے سلائیڈنگ ہو رہی ہے ۔

مقامی آبادی شدید خطرات سے دوچار ہے اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتی ہے کہ انھیں ڈیم پر رابطہ پل بنا کر دیا جائے۔پینے کے پانی کا مسئلہ حل کیا جائے نیز مغرب کی جانب سے واحد زمینی رابطہ ڈونگی سنہوٹ سے جاٹہ بڑالی  پل تک تین کلو میٹر سڑک بنائی جائے تا کہ ہماری مشکلات کم ہو سکیں 

By editor