کوٹلی میں کشمیر امن کانفرنس

21-01-2010
کوٹلی
 پریس فار پیس کے زیر اہتمام کوٹلی میں کشمیر امن کانفرنس سے جاری ہونے والے متفقہ علامیہ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کشمیریوں کے حق خوداردیت کی بازیابی کے لیے لچک کا مظاہرہ کریں۔عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسلہ کشمیر کے پائیدار منصفانہ اور عادلانہ حل کے لیے پاکستان اور بھارت دونوں پر دباؤ ڈالے ، کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اقتدار اعلیٰ آزاد کشمیر کے عوام کو منتقل کرے۔
کشمیر امن کانفرنس میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر کی رکن محترمہ ماروی میمن ، آزاد کشمیر کے وزیر حکومت ملک نواز ، پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سینئر نائب صدر چودھری یاسیٰن ، جموں و کشمیر پیپلز پارٹی کےسربراہ سردار خالد ابراہیم، قوم پرست راہنما، شوکت مقبول بٹ،حریت کانفرنس آزاد کشمیر کے کنونیئر سید یوسف نسیم، جموں و کشمیر لبریشن لیگ کے میر عبدالطیف ایڈوکیٹ ،لبریشن فرنٹ کے صغیر چغتائی، ڈین یونیورسٹی کالج کوٹلی مشتاق اے ساجد، جماعت اسلامی کے میاں نجیب،کوٹلی بار ایسوسی ایشن کے صدر لیاقت مغل ایڈوکیٹ،حریت راہنما راجہ قیوم ، پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات مطلوب انقلابی ، پریس فار پیس کی سرپرست اعلی محترمہ تنویر لطیف ، ڈاکٹر نگہت یونس ، کے علاوہ کانفرنس کے کوارڈینیٹر محمد خلیل گورسی نے خطاب کیا۔کشمیر پیس کانفرنس کے شرکاء نے کشمیریوں کے مسلمہ حق خود ارادیت کی مکمل حمائت کرتے ہوئے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاری حالیہ پر امن تحریک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہارکیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ مسلہ کشمیر کے پر امن حل کے لیے دونوں ہمسایہ ممالک پر دباؤڈالا جائے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کے قتل عام ،تشدد، گرفتاریوں ، اور کرفیو کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں طاقت کا وحشیانہ استعمال ترک کرے ، انسانی حقوق کے منافی کالے قانون منسوخ کرے اور گرفتار سیاسی و سماجی کارکنوں اور راہنماؤں کو فوری طور پر رہا کرے۔پاکستان اور بھارت کی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کشمیر یوں کے حق خودارادیت کااحترام کرتے ہوئے مسلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پر امن اور منصفانہ طریقے سے تلاش کیا جائے تاکہ علاقے اور جنوبی ایشیا کے وسائل ہتھیاروں کی دوڑ کے بجائے انسانی ترقی پر خرچ ہوسکیں ریاست جموں و کشمیر کے دونوں حصوں میں منقسم کشمیری خاندانوں کو ملانے کے اقدامات کی حمائت کرتے ہوئے اس بات کا مطالبہ کیا گیا کہ امن بس کے زریعے سفر کرنے والے منقسم کشمیری خاندانوں کے لیے غیر ضروری پابندیاں دور کر کے اس عمل کو انسان دوست بنایا جائے اور LOCٹرک سروس کو مزید موثر اور شفاف بنا کر ریاستی عوام کی معیشت کو تقویت دی جائے ۔

کشمیر پیس کانفرنس نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ ریاست جموں و کشمیر کی تینوں اکائیوں ،آزاد کشمیر، بھارتی مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان میں جاری ہائیڈرل منصوبوں اور ڈیمز کی تعمیر کے دوران، ماحولیات ، تعمیرات اور تحفظ آب کے قوانین اور اصولوں کے مطابق مقامی آبادیوں کے تحفظات کو دورانہیں رہائش و روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔خصوصاً منگلاڈیم اور نیلم جہلم ہائیڈرل پاور منصوبے کے متاثرہ لوگوں کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔کانفرنس کے اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ سندھ طاس معائدہ منسوخ کر کہ نیاء منصفانہ معائدہ کیا جائے جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر مین بہنے والے دریاوں کے پانی کے واٹر یوز چارجز مقامی علاقوں کی تعمیر و ترقی اور فلاح عامہ پر خرچ ہو سکیں۔زلزلہ متاثرہ علاقوں کی تعمیر میں غیر معمولی تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آج کی یہ امن کانفرنس میں کہ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے تمام مجوزہ منصوبوں کو فوری طور پر شروع کر کے عوام کے مصائب کا ازالہ کیا جائے اور تعمیر نو کے عمل میں مبینہ طور پر ہونے والی بے ضابطگیوں اور کرپشن کی کا احتساب کیا جائے۔ ریاست کی تینوں اکائیوں کی یونیورسٹیاں دوسرے علاقوں کے طلبا و طالبات کے لیے کوٹہ مختص کر کے سکالر شپس مختص کی جائیں تاکہ ریاست کی نئی نسل میں اخوت یگانگت اور بھائی چارے کو فروغ ملے۔کشمیر امن کانفرنس کے مندوبین نے اس بات کا عہد کیا کہ ریاست جموں و کشمیر میں ایک عادلانہ ، منصفانہ اور جمہوری معاشرے کے قیام کی جدو جہد کے لیے اور خطے میں میرٹ ، قانون ، انصاف کی بالادستی،امن و یکجہتی کے فروغ اور ہر قسم کے مذہبی علاقائی ،قبیلائی اور لسانی تعصبات کے خاتمے کے لیے ہم سب ایک ہیں۔
Comments