تحریر: خاور نذیر۔ مظفرآباد۔ ایم فل اردو اسکالر نمل،اسلام آباد

ریاست جموں کشمیر بہشت ارضی کے نام سے جانی جاتی ہے۔ لہلہاتی فصلیں، اجھلی وادیاں، گھنے جنگلات، گرتے آب شار، پرشور ندیاں، پرکیف دریاؤں کی روانی غرض یہ کہ اس ریاست کا زرہ زرہ اپنی خوب صورتی کی دلیل دیتا ہے۔ یہ قانون فطرت ہے یا انسانی سوچ کہ ہر خوب صورت شے کے گرد زبردست پہرہ لگا ہوتا۔ کئی خوب صورت پھول کانٹوں کے حصار میں ہوتے ہیں۔ بہ قول شاعر
بے سبب تو نہیں ہر کلی کانٹوں میں
حسن کو یوں خطر کے سوا مت سمجھ
خاور نذیر
ریاست جموں کشمیر ایک عرصے سے تسلط میں ہے۔  ریاست کے باشندے صدیوں کی محکومی، افلاس اور پس ماندگی سے تنگ آکر آزادی، فارغ البالی اور ترقی کے خواب دیکھنے اور اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے مطلق العنانیت سے ٹکرا رہے ہیں۔ 1931میں سنٹرل جیل کے آہنی دروازوں کے باہر لوگوں کاایک مشتعل ہجوم حکام کی بالادستی اور تشدد کے خلاف غم و غصے اور نفرت کے کھلم کھلا اظہار پر اتر آیا اور کتنے ہی مجاہدین کے بدن فوجیوں کی گولیوں سے چھلنی ہو گئے اور شہدا کا لہو سرزمین کشمیر کو سیراب کر گیا۔
شہیدوں کے بہتے لہو سے کشمیر کی سرزمین مسلسل سیراب ہو رہی ہے۔ وہ جزوی یا علامتی خود مختیاری موجود تھی اس کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ تحریک آزادی کشمیر اور اردو شاعری کا گہرا تعلق ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پانپور میں 1919میں پیدا ہونے والے ایک شاعر غلام محمد میر طاؤس نے بہت پہلے کہا تھا:
گھات میں صیاد ، پہلو میں ہے کھٹکا تیر کا
ایک پہلو یہ بھی ہے کشمیر کی تصویر کا
 طالب انصاری نے کہا تھا:
کہو شبیر سے میدان میں پھر للکارتا نکلے
یزید عصر ہے تیار، خنجر آزمانے کو
دُکھ یہ ہے کہ اب جب مقبوضہ کشمیر میں ’’ یزید عصر‘‘ پوری سفاکی کے ساتھ’’خنجرآزما‘‘ ہے مسلم امہ اپنا کوئی کردار ادا کرنے کی بجائے اپنے اپنے مفادات سے وابستہ دکھائی دیتی ہے۔ یہ صورت حال انتہائی تکلیف دہ ہے۔ لگ بھگ یہی تکلیف اور شکایت ہمیں اپنے ہاں کے مختلف طبقات کے رویوں کے سبب بھی ہوتی ہے۔سیاسی سماجی سطح پر اس ظلم و ستم کے خلاف جس رد عمل، سنجیدگی اور حکمت عملی سے آگے بڑھنے کی ضرورت تھی ، اس کا عشر عشیر بھی کہیں نظر نہیں آرہا ہے ۔
اقبال نے ملازادہ ضیغم لولابی کا فرضی کردار تراشا اور اس وسیلے بہت تلخ بات کہ دی تھی۔ یہی کہ ’’تمام عارف و عامی خودی سے بیگانہ‘‘۔ اسی نظم میں اقبال نے یہ بھی کہا تھا:
ملا کی نظر نور فراست سے ہے خالی
بے سوز ہے میخانہ صوفی کی مئے ناب
اے وادی لولاب
اقبال سے لے کر آج کے ہر شاعر  تک سب کے دلوں میں کشمیریوں کی غلامی کا درد سمایا ہوا ہے ۔ اردو شاعری میں کشمیر کو درد اور دکھ کے علاوہ خوب صورتی کے استعارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ صفدر میر نے اپنی نظم ’’فائربندی کی رات‘‘ میں اس جانب اشارہ کیا کہ’’ڈیڑھ سو سال سے موت کا راگ کشمیر سے اٹھ رہا ہے‘‘ تو احمد ندیم قاسمی کا’’مہاراج ادھیراج‘‘ میں کہنا ہے:
’’حضور آپ نے خون انساں سے
اپنے شبستاں کی تاریکیاں دور کی تھیں‘‘
 اور ایک اور نظم’’کشمیر‘‘ میں یہ بھی کہا :
تاریخ پلٹ رہی ہے اوراق
کشمیر کی برف شعلہ زن ہے
جوش ملیح آبادی نے اپنی نظم ’’کمزور کو آسودگیِ دل نہیں ملتی‘‘ میں جنت کشمیر کے بے دار جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا :
’’جو قوم پہ مرتا ہے وہ مرتا نہیں ہے‘‘۔
 حفیظ جالندھری نے ’’کشمیر کے جانباز‘‘ میں یوں لکھ رکھا ہے:
’’وہ دیکھو وادی کشمیر کے جانباز جاتے ہیں‘‘۔
جب کہ احمد فراز نے اپنی نظم’’نیا کشمیر‘‘ میں کہا تھا:
تجھ پر نمرود کی نسلوں نے سدا راج کیا
ان کا مسلک تھا کہ پامال کیا راج کیا
لیکن اب اے مری شاداب چناروں کی زمیں
انقلابات نئے دور میں لانے والے
حشر اٹھانے کو ہیں اب ظلم کے ایوانوں میں
جن کو کہتا تھا یہاں بوجھ اٹھانے والے
پھر تجھے ہیں گل و گلزار بنانے والے 

اصغر عابد کے کشمیر کی جد و جہد آزادی سے متعلق ایک شعری مجموعے کا نام ہی ’’الم تا علم‘‘ہے جب کہ ان کی طویل مثنوی’’کشمیرنامہ ‘‘ ہے جس میں وہ اس امید کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں:
اب نہ کپواڑے میں ٹپکے گا لہو
 ہر کفن بردار ہوگا سرخ رو
اختر عثمان نے لکھا:
یہ سر سناں مرا سر نہیں
یہ گلوب ہے نئے عہد کا
یامین نے اپنی نظم’’پلکوں پر جمے آنسو‘‘ میں لکھا
 ’’ہر گلی سے قبرستان جھانکنے لگا ہے
 ‘‘ اور ’’
چندن کی خوش بو سے مہکنے والے گھر
آگ پکڑ کر اپنے ہی دھویں میں ڈوب رہے ہیں‘
ایک جگہ اقبال اپنی ملت کے جوانوں کو پیغام دیتے ہوۓ کہتے ہیں:
سو تدابیر کیں اے قوم یہ ہے اک تدبیر
چشم اغیار میں بڑھتی ہے اسی سے توقیر
در مطلب ہے اخوت کے صدف میں پنہاں
مل کے دنیا میں رہو مثل حروف کشمیر
حبیب جالب اردو کے مشاہیر میں سے ایک ہیں۔ آپ درد انسانیت سے لبریز شاعر ہیں۔ آپ بھی کشمیریوں کے درد کو سمجھتے ہیں۔تحریک آزادی کشمیر کے متعلق ایک نظم میں کہتے ہیں:
یہ شعلہ نہ دب جائے یہ آگ نہ سو جائے
پھر سامنے منزل ہے ایسا نہ ہو کھو جائے
ہے وقت یہی یارو، جو ہونا ہے ہو جائے
کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم
ہر جابر و ظالم کا کرتے ہی چلو سر خم

محترمہ شاہدہ لطیف ایک سیاسی اور سماجی شخصیت ہیں جو تانیثیت کے حوالے سے پوری دنیا میں اپنا مقام رکھتی ہیں۔ کشمیر کے درد میں یوں بین کرتی ہیں کہ اس میں رجائیت کا پہلو بھی نمایاں ہے۔
کچھ کہنے کو سہنے کو ہوا بول رہی ہے
کشمیر کی وادی کی فضا بول رہی ہے
ہر رات کے منظر میں سویرا بھی لکھا ہے
جگنو کے ترنم میں ضیا بول رہی ہے

جاوید احمد بھی کشمیر کے درد رکھنے والے اردو شعرا میں سے ایک ہیں۔ آپ کی نظم "دنیا کے منصفو” عالمی شہرت یافتہ ہے۔ آپ نے اپنی شاعری میں جا بہ جا کشمیر کے موضوع کو محیط اشعار باندھے ہیں، شعر ملاحظہ کیجیے:
دور تک پھیلی ہوئی زنجیر ہے زنداں کی اک
بس وہاں پر ہے فلسطیں اور یہاں کشمیر ہے
اس کا نقشہ بن گیا ہے میرے خد و خال میں
آنکھ تو ڈل جھیل ہے میری زباں کشمیر ہے
رانا سعید دوشی دورِ جدید کے اہم ترین شعرا میں سے ایک ہیں۔ کشمیر کی الفت و محبت آپ کے لہو میں رچ بس چکی ہے۔ کشمیر کے لیے کہے گئے چند اشعار:
خواب کو جانا اک دن خواب کی تعبیر تک
وادیِ کشمیر سے آزادیِ کشمیر تک
سلسلے ٹوٹے ہوۓ ہوں گے بہت جلدی بحال
حلقہ ء زنجیر اک آنے کو ہے زنجیر تک
کس طرح غاصب کو ہم کشمیر اپنا سونپ دیں
ہم نہ دیں اس کو کبھی کشمیر کی تصویر تک
اپنی مٹی سے محبت ہر شخص کے خمیر میں گندھی ہوئی ہوتی ہے۔ شعرا اس سلسلے میں کچھ زیادہ ہی نوازے گئے ہوتے ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے شعرا  کی شاعری سے تحریک آزادی کی گھن گرج سمیت ظلم و استبداد کی مظلومیت جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔ چند شعرا کے شعری مجموعوں  کے نام ملاحظہ کیجئے جن کا موضوع صرف اور صرف کشمیر ہے۔
 جہاد کشمیر از امین طارق عثمانی
 کشمیر چلو از امین طارق عثمانی
 لہو کے مہتاب  از مشتاق شاد
  چنار چاندنی اور چمبیلی از نثارہمدانی
 چناروں کی آگ از  سیدہ آمنہ بہار
پلک پلک زنجیر نذیر انجم
 نفس نفس تعزیر اور کرن کرن تصویر از نزیر انجم کشمیر دھواں دھواں  ازببشیر مغل
 ستون دار از رفیق بھٹی
فصیل کے اس پار از نذر حسین
  احتجاج از جواز جعفری
 ریت پر سفر کا لمحہ از احمد شمیم
 اجنبی موسم میں ابابیل از احمد شمیم
  دست چنار از بلبل کاشمیری،
 کہانی بہتا پانی ہے  از افتخار مغل
 لہو لہو کشمیر از افتخار مغل
کشمیر کے اردو شعرا کے کلام میں سے چند اشعار دیکھیے

 میری آنکھوں میں شب و روز کے افسانے ہیں
دل کے میخانے میں ٹوٹے ہوئے پیمانے ہیں
رونقِ دار  میرے دیس کے دیوانے ہیں
کس طرح  ظلم کو دیتے یہی نذرانے ہیں
 گردش وقت کی تابندہ نشانی ہوں میں
 اہل کشمیر کی مشہور کہانی ہوں میں
(رفیق بھٹی)

 خطہ لولاب کے شاداب پھولوں کے نثار
 وادی گل مرگ کی زندہ بہاروں پر سلام
(بلبل کاشمیری)

 کسی کے لب پہ شکوہ نہ ہو پھر اپنے اجڑنے کا
تمنا ہے مرا کشمیر یوں آباد ہو جائے
(آمنہ بہار)

 نعرہ ہی نہیں ایمان ہے یہ آزادی کے متوالوں کا
کشمیر کا زرہ زرہ ہے کشمیر کے رہنے والوں کا
(نذیر انجم)

 بار بار اٹھتا ہے غنچوں کومسلنے کے لیے
 ہاتھ گل چین جفا کیش کا  شل ہوجائے
آؤ اے اہل وطن ایک بھی ہو کر دیکھیں
جگڑا کشمیر کا ممکن ہے کہ حل ہو جائے
(صابر آفاقی)

 اے پرچمِ وطن ترے سائے میں بیٹھ کر
رہتے ہیں ہم تو اور بھی بے چین آج کل
(عبدالرزاق بیکل)
 پاؤں کی زنجیر سے میں نے اک شمشیر بنا لی ہے
جاؤ جا کر خبر کرو میرے وقتی آقاؤں کو
(اسد ضیا)

 جب ست رنگی آوازوں کی برکھا برسے بستی میں
 سارے زخم ہرے ہو جائیں یاد آئے کشمیر بہت
 کیا کیا مست منوہر چہرے دل کے جھروکوں میں اترے
لیکن ان شکلوں میں بھائے ہم کو کو ایک تصویر بہت
(احمد شمیم)

 کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو باطل کا یہ شکر
 اچھائی کبھی ہار نہ پائے گی بدی سے
(شاذ)
  عہد حاضر کے کشمیری شعرا کے ہاں بھی  ہمیں تحریک آزادی کشمیر سے متعلق شاعری میں جاتی ہے اس بات کو بڑی شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے کہ کشمیر میں چلنے والی آزادی کی تحریک کو متحرک بخشنے کے لیے ساری کا سہارا لیا جائے شاعر اپنے غم و غصے کا اظہار اپنی شاعری میں کرتے ہیں مثالیں ذیل میں دی جاتی ہے۔
 یا کوئی زلیخا ہے نہ  یوسف سا حسیں ہے
 کشمیر نہیں مصر کا بازار خبردار
(اسرار احمد مغل)

 اپنے زخموں بھرے جسم کو سرخ پھولوں کی ڈالی سمجھ
 دیکھنے ہیں ہمیں ڈل میں کھلتے کنول راستہ مت بدل
(واحد اعجاز میر)

 سرحد پر جس کا بیٹا ابھی کل ہی مر گیا
 محسوس کر رہا ہوں میں اس ایک ماں کا دکھ
(باسط علی راجہ)

 ہم اپنی جنگ لڑیں گے یہ ایوانوں سے کہ ڈالو
 تو اب یہ ظلم مہماں  ہے ارے نادی مبارک ہو

(خاور نذیر)

 اس کے علاوہ بھی کئی شعرا نے اپنے اپنے انداز میں بہت اشعار کہے ہیں جن میں  تحریک آزادی کشمیر سے متعلق کافی مواد موجود ہے الغرض آزاد کشمیر کے شعرا کے ہاں تحریک آزادی کشمیر کو لے کر کافی  ادب تخلیق کیا گیا ہے۔  جس کا احاطہ کرنا اس ایک مضمون میں ناکافی ہے۔  اردو شعرا نے  اپنے اپنے انداز میں  کشمیر سے یک جہتی کی ہے۔  جس کی بازگشت ان کی شاعری سے سنی جا سکتی ہے۔  تحریک آزادی کشمیر  اپنے عروج پر ہے۔  تو اس موضوع پر کہی جانے والی شاعری بھی بے بہا اور بے تحاشہ ہے۔  کشمیری نوجوانوں کی  شہادت پر ایک شاعر جب بہت دکھ اور رنج کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ لکھتا ہے کہ
 اس بات کی دلیل ہے ہم دلبروں کی موت
 بجھتے ہیں سب چراغ سحر کی نمود پر

By editor