ٹائلٹس کا مد مقابل موبائل ، یا دستی فون

سماجی کارکنوں کے مطابق ان معاشروں میں جہاں عوام کا معیار زندگی جہاں بڑھا ہے وہیں حفظان صحت کے بنیادی اصولوں پر توجہ نہ ہونے کے برابر پائی جاتی ہے۔ اس کے سبب ان ممالک میں بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ایشیا کے تیزی سے ترقی کی طرف گامزن ممالک میں جہاں ایک طرف معیشت مستحکم ہوتی دکھائی دے رہی ہے وہاں دوسری جانب نہایت گندے ٹوائلٹس ان ملکوں کی ساکھ پر لگے ایک دھبے سے کم نہیں۔ سماجی کارکنوں کے مطابق ان معاشروں میں جہاں عوام کا معیار زندگی جہاں بڑھا ہے وہیں حفظان صحت کے بنیادی اصولوں پر توجہ نہ ہونے کے برابر پائی جاتی ہے۔ اس کے سبب ان ممالک میں ایسی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں، جن سے بچا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ تشویش ناک صورتحال ٹوائلٹس یا لیٹرینز کی ہے۔سماجی بہبود اور صحت عامہ کے لیے سرگرم افراد کا کہنا ہے کہ تیزی سے صنعتی ترقی کرنے والے ملکوں میں کم وبیش ہر شخص موبائل فون خرید نے اور اس پر رقم خرچ کرنے کے لیے تو تیار نظر آتا ہے، تاہم لیٹرین بنوانے کے کام کی طرف اس کی توجہ بالکل نہیں ہوتی۔ حفظان صحت کے انتظامات کی حمایت کرنے والے گروپ ورلڈ ٹوائلٹ آرگنائزیشن249 کے بانی Jack Sim سنگا پور کے ایک معروف تاجر ہیں، وہ کہتے ہیں ’ایشیا کے معیشی ترقی کے طرف گامزن ممالک میں ٹائلٹس کا مد مقابل موبائل ، یا دستی فون ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اندازوں کے مطابق 2008 ء اور 2009 ء کے درمیان جہاں دنیا کے دیگر خطوں میں عالمی مالیاتی بحران نے بڑی معیشتوں کو متاثر کیا وہاں ایشیا کی ابھرتی ہوئی قوتوں نے بہت ترقی کی ہے اور آئندہ برسوں میں ایشیائی ممالک میں مزید اقتصادی ترقی دیکھنے میں آئے گی۔ تاہم ایشیا کے شہروں میں ایک طرف Slums یا کچی آبادیوں کا اضافہ ہو رہا ہے تودوسری جانب پبلک ٹوائلٹس یا تو سرے سے پائے ہی نہیں جاتے یا پھر اکا د کا علاقوں میں حفظان صحت اور ٹوائلٹس کی سہولت بہت ہی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں حفظان صحت کے بارے میں عوام میں بہت شعور پایا جاتا ہے۔بنگلہ دیش میں قائم دنیا کی سب سے بڑی غیر سرکاری تنظیموں میں سے ایک BRAC کے ایک اعلٰی اہلکار بابر کبیر کے بقول ’ ٹوائلٹس کی کمی اور حفظان صحت کا فقدان اکیسویں صدی میں بھی ایشیاء کا ایک اہم مسئلہ ہے، جبکہ حفظان صحت کا بہتر نظام ہی معاشرے سے غربت ختم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہوسکتا ہے‘۔بابر کبیر غیر سرکاری تنظیم BRAC کے پانی، حفظان صحت اور پبلک ہیلتھ کے پروگرام WASH کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایشیا کے ترقی پذیر ممالک میں بچوں کی اموات، غربت اور ماحولیاتی آلود گی کا تعلق ان معاشروں میں پبلک ٹوائلٹس کی کمی اور حفظان صحت کے ناقص نظام سے ہے۔ کبیر کے مطابق ان غریب لوگوں پر ہر طرح کی بیماریاں حملہ کرتی ہیں جو حفظان صحت کے ناقص نظام میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہیں روزگار بھی نہیں ملتا اور یہ جو تھوڑے بہت پیسے مزدوری سے کماتے ہیں وہ ان کو لاحق بیماریوں کے علاج میں خرچ ہو جاتے ہیں۔ہیضہ، خوراک کی کمی، بچوں کی جسمانی اور ذہنی نش ونما کی سست رفتاری، بینائی سے محروم ہو جانا، ٹائیفائیڈ، اسہال اور ہیپیٹائٹس یا جگر کی سوجن جیسی مہلک بیماریاں حفظان صحت کے ناقص نظام کے سبب جنم لیتی ہیں۔بابر کبیر کا کہنا ہے کہ غریب افراد، خاص طور سے خواتین اور بچے گوناگوں بیماریوں، کم خوراکی اور اموات سے بچ سکتے ہیں، بشرطیکہ انہیں صاف پانی، حفظان صحت کی سہولیات اور صحت افزا سرگرمیاں میسر ہوں۔سنگاپور سے تعلق رکھنے والے Jack Sim ورلڈ ٹوائلٹس آرگنائزیشن کے بانی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تقریبا ڈھائی بلین انسان اس وقت حفظان صحت اور ٹوائلٹس کی سہولت سے محروم ہیں۔ Jack Sim نے حال ہی میں ایک ورلڈ ٹوائلٹ سمٹ کا اہتمام کیا جس میں انہوں نے بتایا کہ دْنیا بھر میں ٹائلٹس کی سہولت فراہم کرنے کے پراجیکٹ پر ایک ٹرلین ڈالر کی لاگت آئے گی۔ترقی پذیر معاشروں میں پبلک ٹوائلٹس کی کمی بہت سے مسائل کا سبب بن رہی ہیایشیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک بنگلہ دیش میں BRAC,s Wash پروگرام کے تحت غریب لوگوں کو ٹوائلٹ سروس فراہم کرنے کے لیے مائیکرو قرضہ جات دیے جاتے ہیں۔ ایسے ٹوائلٹس کے استعمال کے لیے عوام سے بہت ہی کم سروس چارج لیے جاتے ہیں۔ اس پروگرام کیتحت عوام میں حفظان صحت سے متعلق شعور بیدار کرنے اور ماحول دوست ٹوائلٹس تیار کرنے کے پراجیکٹس بھی شامل ہیں۔ مائیکرو کریڈٹ دے کر لوکل کمیونٹی اور مذہبی رہنماؤں کو ترغیب دلائی جاتی ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے مردوں، وہاں کی خواتین اور نوجوانوں کو حفظان صحت کے اصول بتائیں اور اس بارے میں ان کی باقاعدہ تربیت کریں۔ورلڈ ٹوائلٹس آرگنائزیشن کے بانی Jack Sim کے مطابق ایشیائی ممالک میں جاپان حفظان صحت کے معاملے میں بہت آگے ہے۔ جاپان میں ٹوائلٹس نہایت صاف ستھرے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ جاپانی معاشرے کی اقدار ہیں۔ وہاں گندے ٹائلٹس کو نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ قومی سطح پر باعث شرم تصور کیا جاتا ہے۔ Jack Sim کے بقول ’کسی بھی معاشرے کے لوگوں کی اقدار، روایات اور جمالیاتی حس وہاں کے ٹائلٹس کی صفائی ستھرائی سے جھلکتی ہے۔


Comments