تحریر :  جواد جعفری

کشمیر کو خداوند عالم نے بے مثال حسن اور خوبصورتی سے نوازا ہے ۔ اس کے مسکراتے باغ‘ مہکتے گلشن‘ گنگناتے جھرنے‘ گاتی ندیاں‘ فلک بوس پہاڑ‘خوبصورت وادیاں اور مرغزر آنکھوں پر حسن کے ایسے جلوے آشکار کرتے ہیں کہ دیکھنے والا بے اختیار پکار اٹھتا ہے ۔ 

اگر فردوس بر روئے زمیں است

ہمیں است و ہمیں اس و ہمیں اس

اس خوبصورت ماحول کے ساتھ ساتھ اس دھرتی کی کوکھ سے ایسی بابغۂ روزگار شخصات نے جنم لیا جن کے علم و معرفت اور صلاحیتوں سے ایک جہان نے استفادہ کیا۔ یہ چرب دستوں اور تر دماغوں کی سرزمین تاریخ کے کسی دور میں بھی بانجھ نہیں ہوئی بلکہ اس کے سپوت آسمان علم و فن پر چاند تارے بن کر جگمگائے۔

جواد جعفری

اس وادی جنت نشان کا ایک فرزند بیسویں صدی کے آغاز میں آفتاب و مہتاب بن کر طلوع ہوا جس کی فکر کی روشنی نے برعظیم جنوبی ایشیاء کے مسلمانوں کے مقدر کی صدیوں پر محیط سیاہ رات میں اجالے بکھیر دئیے۔ اس نے اس خطے کے گم کردہ راہ انسانوں کی نہ صرف منزل کی طرف رہنمائی کی بلکہ منزل کو ان سے قریب تر کردیا۔ یہ اس کے کلام کا اعجاز تھا کہ ایک گراں خواب قوم خواب غفلت سے جاگی اور اس کے اندر کی حرارت نے اسکے گلے میں پڑے ہوئے آہنی طوق کو پگھلا دیا۔

شاید اسے خدا نے اس قوم کے لیے مسیحا بنا کر بھیجا تھا جس نے اس قوم کے رض غلامی کا علاج خودی و خوداری میں تلاش کیا۔ یہ مر حق آگاہ‘یہ قوم کا مسیحا یہ دانائے رازدروں فرزند کشمیر علامہ اقبالؒ تھا۔ 

کشمیر اور اقبال کا ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعلق ہے ۔ یہ تعلق فقط اسی بات سے متعلق نہیں کہ اقبالؒ کے آباؤ اجداد کشمیر سے گئے یا اقبالؒ کشمیری النسل تھے بلکہ اقبال کو اپنے کشمری النسل ہونے پر جو فخرتھا وہ سرزمین لالہ و گل کے ساتھ ان کے گہرے قلبی تعلق کا غماز تھا۔ اقبالؒ اس تعلق کا بڑے فخر کے ساتھ یوں اظہار کرتے ہیں۔

تنم گل زخیابان جنت کشمیر

دل از حریم حجاز و نوازِ شیراز است

اقبالؒ کا کشمیر سے تعلق جسمانی کم اور روحانی زیادہ ہے ۔ کشمیر سے باہر پیدا ہونے‘پرورش پانے اور بودوباش اختیار کرنے کے باوجود ہمیں اقبالؒ کی روح اور اقبال کی فکر کشمیر کی خوبصورت وادیوں کی سیر کرتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ اس کے گل و نسترن کی دل آویزی اس کا دامن اپنی طرف کھنچتی ہے اس کی وادیاں آغوش محبت وا کرتی ہیں اور اس کی جھیلوں کے نیلگوں پانی میں اپنا تیرتا ہوا عکس دیکھ کر وہ پکار اٹھتا ہے ۔

تماشائے ڈل کن کہ ہنگام شام

دھد شعلہ را آشیاں زیر آب

بشوید زتن تا غبار سفر

زند غوطہ در آب ڈل آفتاب

اسے کشمیر کے ذرے ذرے اور چپے چپے پر حسن ازل کے جلوے بے نقاب نظر آتے ہیں ‘زمین کے سینے پر آسمان سے باتیں کرتے ہوئے کھڑے پہاڑ اور ان کے سروں پر سجی برف کی چمکتی ہوئی چوٹیاں اور ان چوٹیوں سے منعکس ہوتی ہوئی سورج کی کرنیں اسے بے خود کردیتی ہیں اس کی حق بین نگاہ فطرت کے ان بے حجابانہ جلوؤں کو اپنے دل کے اندر جذب کردیتی ہے وہ اس حسین ماحول کے اندر حسن کل اور اس تخلیق کے اندر خالق کے جلوے دیکھتا ہے

کوہ و دریا و غروب آفتاب

من خدا راہ دیدم آن جا بے حجاب 

با نسیم آوارہ بودم در نشاط

بشنوازنے می سرودم در نشاط

اقبالؒ کشمیر کے اس حسن دل افروز کے دیکھنے کے بعد جب جنت راضی کے مکینوں پر نظر کرتا ہے تو اس خوبصورت دھرتی کے ان بد نصیب باسیوں کی حالت دیکھی نہیں جاتی ۔ وہ زمین کہ جس کے چپے چپے پر پھول مہکتے ہیں جس کے کھیت سونا اگلتے ہیں جس کے درختوں کی ڈالی ڈالی رنگا رنگ میوؤں سے لدی نظر آتی ہے۔ جو زمین ماں کی گود کی طرح شفیق ہے جو آسمان انتہائی مہربان ہے تو پھر اس کے مکین بدحالی کی چلتی پھرتی تصورے کیوں نظرآتے ہیں؟اتنی خوبصورت دھرتی کے مکینوں کا نصیب ایسا کیوں؟اقبالؒ یہ توہین آدمیت برداشت نہیں کر سکتا اور پکار اٹھتا ہے ۔

پنجہ ظلم و جہالت نے براحال کیا

بن کے مقراض ہمیں بے پروبے بال کیا

توڑ اس دست جفاکیش کو یا رب جس نے

روح آزادیءِ کشمیر کو پامال کیا

اقبالؒ جب ماضی کے آئینے میں کشمیر کے حال کی تباہ حال تصویر دیکھتا ہے تو اسے ان دنوں کی یاد تڑپاتی ہے کہ جب کشمیر کے جھرنوں اور جھیلوں‘کھیتوں اور باغوں‘پھولوں اور کلیوں پر اس کے رہنے والوں کا حق تھا۔ کشمیرکی یہ مظلومی اور محرومی اقبالؒ کے حساس دل کو تڑپا دیتی ہے اور یہ وہ کشمیر کا نوحہ یوں کہتا ہے ۔

آج وہ کشمیرہے محکوم و مجبور و فقیر

کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیر

سینہ افلاک سے اٹھی ہے آہ سوزناک

مر حق ہوتا ہے جب مرعوب سلطان و امیر

کہہ رہا ہے داستان بے دردیء ایام کی

کوہ کے دامن میں وہ غم خانہ دہقان پیر

آہ یہ قوم نجیب و چرب دست و تر دماغ

ہے کہاں روز مکافات اے خدائے دیر گیر

اقبالؒ کو کشمیر سے جو لگاؤ تھا اس کی وجہ سے کشمیریوں کی یہ حالت اقبالؒ کے دل پر شدید اثر کرتی تھی کیونکہ اقبالؒ کوخود اپنے کشمیر چھوڑنے کا بے حد افسوس تھا خود کہتے تھے،

موتی عدن لعل ہوا ہے یمن سے دور

یانافہ غزال ہوا ہے ختن سے دور

ہندوستان میں آئے ہیں کشمیر چھوڑ کر

بلبل نے آشیانہ بنایا چمن سے دور

اس سے معلوم ہوتا ہے اقبالؒ ہر گھڑی دل میں کشمیر کی یاد بسائے رہتے تھے اور زمان و مکاں کی دوری کشمیر کے ساتھ اقبالؒ کے تعلق کو کم نہ کرسکی۔اقبالؒ اس شعر کو کشمیر کی محبت کی معراج پر نظر آتے ہیں

ہے جو ہر لحظہ تجلی گاہ مولاء جلیل

عرش و کشمیر کے اعداد برابر نکلے

اقبالؒ کشمیریوں کے زوال تکبت اور بدحالی کی اصل وجہ غلامی سمجھتے ہیں اور وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جب تک ملت کے اندر خودی پیدا نہیں ہوتی اور جب تک ایک نعرۂ مستانہ لگا کر غلامی کی زنجیروں کو توڑ ا نہیں جاتا اس وقت تک کشمیری مسلمانوں کی حالت نہیں بدلی جا سکتی ۔ اس لئے کہ جب تک انسان اپنی جان ہتھیلی پہ رکھ کر منزل مراد کے حصول کے لئے نہیں نکل پڑتا۔راستے کی سختیاں اور تکلیفیں برداشت نہیں کرتا ‘خطروں سے نبرد آزما نہیں ہوتا۔ موجوں کے تپھیڑوں سے لڑتا ہوا اپنی منزل کی طر ف نہیں بڑھتا۔ کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا ۔ اس لیے وہ مسلمان نوجوانوں کی حالت دیکھ کر پکاراٹھتا ہے

کبھی اے نواجوان مسلم تدبر بھی کیا تونے

وہ کیا گردوں تھا تو جسکا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا

تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں

کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاج سردارا

تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی

کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارہ

لیکن اقبالؒ اس صورت حال سے مایوس نہیں وہ کہتے ہیں۔

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

آج مقبوضہ کشمیر کے پہاڑ اور وادیاں اقبالؒ کے ان اشعا سے گونج رہی ہیں اور سرزمین کشمیر کی نوجوان نسل اقبال کے افکار کی عملی تصویر بن کر اپنے خون رگِ جان سے تحریک آزادی کشمیر کا ایک تابندہ اور درخشندہ باب رقم کر رہی ہے۔ آج کشمیر کی گلی گلی اور کوچے کوچے میں ایک ہی آواز گونج رہی ہے

موت ہے وہ زندگی جس میں نہیں انقلاب

روح امم کی حیات کشمکش انقلاب

اقبالؒ امید کا شاعر ہے وہ کبھی ملت کے اندر موجود اس اجتماعی قوت سے مایوس نہیں ہوا جسے مختلف حیلوں بہانوں سے سلا دیا گیا ہے۔ اس کے خیال میں اس خفتہ قوت کو جودراصل مسلمان کے دل میں ایمان و ایقان کی قوت ہے کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور جب یہ وقت بیدار ہوتی ہے تو پھر کوئی رکاوٹ منزل کے حصول کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی ۔ آج ساری دنیا میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا جو روح پرور منظر نظر آتا ہے ایک سیکولر ملک کے دل سے جس طرح خداوند عالم نے سات مسلمان مملکتوں کو جنم دیا ہے ۔ آج جس طرح یورپ کے ایوان میں تکبیر کی صدا گونج رہی ہے اورآج جس طرح مقبوضہ کشمیر کے مجاہد ین اسلام سروں پر کفن باندھ کر میدان عمل میں کود چکے ہیں اس کی خبر بہت پہلے اقبالؒ نے دی تھی۔ کشمیر کے ساتھ اقبال کا نسبتی اور قلبی تعلق ہمیں اقبالؒ کے کلام میں جا بجا انتہائی واضح نظر آتا ہے ۔ نہ صرف کشمیر بلکہ اہل کشمیر اور کشمیر کی نابغۂ روزگار شخصیات مثلاً ملا طاہر غنی کاشمیری‘ضیغم لولابی اور امیر کبیر سید علی ہمدانی کی فکر شخصیات اور نظریات کو اقبالؒ نے اپنے کلام میں سمو کر ان حلقوں تک بھی پہنچا دیا جہاں شاید اس کے بغیر ان کی رسائی نا ممکن تھی۔ 

جاوید نامہ میں مولانا روم اقبال کا تعارف بلبل کشمیر‘غنی کاشمیری سے کراتے ہیں اور پھر مولانا روم ہی اقبالؒ کوشاہ ہمدان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ اس مردحق پرست و حق آگاہ کے فیض سے وادی کشمیر علم و صنعت اور تہذیب و دین کے موتیوں سے بھر گئی۔ یہ دراصل سید علی ہمدانی کی ذات والا صفات کے ساتھ حضرت علامہ اقبالؒ کی وہ اپنی گہری اور والہانہ عقیدت ہے جس کا اظہار وہ پیر روم کی زبان سے کروا کر اسے اور معتبر بنا دیتے ہیں۔ امیر کبیر سید علی ہمدانی کی شخصیت اور تعلیمات نے کشمیر کے صنم کدے کو جس طرح اسلام کی دل آویزیوں سے مزین کیا تاریخ کے اس خوبصورت و خوشگورا باب کا عکس ہمیں اقبال کے کلام میں بہ تمام و کمال پوری آب و تاب کے ساتھ نظر آتا ہے ۔ سید علی ہمدانی نے کشمیر کی معاشرت کے صرف لباس کو ہی تبدیل نہ کیا بلکہ اپنی نگاہ حکیمانہ کے ذریعے ایسی کیمیا گری کی کہ جس نے کشمیر کے باسیوں کے قلب ونظر کی کمیسٹری تبدیل کر کے رکھ دی۔ یہی وجہ ہے کہ اقبالؒ حضرت امیر کبیر کو کشمیر میں ایک نئی تہذیب کا بانی قرار دیتے ہیں۔

اقبال ؒ کا دل درد مند اپنے اندر کشمیریوں کے ساتھ گہرے تعلق اور تڑپ سے مجبو ر ہو کر پیر روم سے سوال کرتا ہے کہ ایک ایسی قوم جو اپنے فکرو فن اور علم و عمل کی وجہ سے یکتائے روزگار ہے جس کا دست ہنر مند بے جان چیزوں کو جان عطا کر دیتا ہے ۔ اگر ان کا دست معجز نما لکڑی کے بے جان ٹکڑوں کو چھوئے تو وہ بولنے لگتے ہیں۔

تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ اپنے ہی گھر میں قیدیوں کی طرح اور اپنے ہی ملک میں پردیسیوں کی مانند رہنے پر مجبو ہیں ۔کیا وجہ ہے کہ ان کے ہنر مند ہاتھوں سے بنا ہوا خوبصورت ریشم و کمخواب ان کے غیر آقاؤں کے جسم کی زیب و زینت کا باعث بنتا ہے لیکن شب و روز کی جان گسل محنت کے باوجود ان کے جسم صرف چند چیتھڑوں کے حقدار ہیں اور تارتار لباس میں لپٹے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

ان کے بہتے دریاؤں کے اندر پرورش پانے والی مچھلیاں دوسروں کا مقدر ٹھہرتی ہیں اور غیروں کی خدمت ان کے نصیب میں لکھ دی گئی ہے۔ اقبالؒ اپنے کلام کی فصاحت کی معراج پر پیر روم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ زعفران کے خوبصورت پھولوں کو جنم دینے والی کشمیر کی مٹی کہ جس کے ذرے ذرے میں لالہ و نرگس و نستران کی بوئے جا ن فزرچی بسی ہے کسی دوسرے شہاب الدین کو کیوں پیدا نہیں کر سکتی ۔

اقبالؒ کے اس سوال کے جواب میں شاہ ہمدان فرماتے ہیں کہ اس جسم کی خاکستر میں روح ایک موتی ہے ۔ دراصل یہ روح ہی حیات انسانی میں قوت و طاقت کی علامت ہے۔ جب تک یہ جسم کی برف نہیں پگھلتی اس وقت تک اس کی تہوں کے اندر مستور روح کے موتی کا جلوہ ممکن نہیں ہے ۔

باز تو گویم رمز باریک اے پسر

تن ہمہ خاک است و جان والا گوہر

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جسم کی شکستگی لاچاری اور مجبوری کے باوجود اگر انسانی روح تنو مند و طاقتورہے تو یہ چنگاری کسی وقت بھی بھڑک کر شعلے کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔ کشمیر کا بلبل رنگین نو اغنی کاشمیری بھی اقبالؒ کے کلام میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر نظر آتا ہے ۔ اقبالؒ غنی کاشمیری کے دل کاکرب اور درد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

باد صبا اگر بہ جنیوا گزر گئی

حرف زمان بہ مجلس اقوام باز گو

دہقان وکشت و جوئے و خیابان فروختند

قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند

اقبالؒ کشمیر کے حسن دل آویزی‘دل بستگی اور دلربائی مناظر فطرت کی فراوانی‘ماحول کی سحر آفرینی کے باوجود کشمیر کے باسیوں کی حرمان نصیبی کی وجہ سے کسی مسیحائے وقت کی عدم وجود کو گردانتے ہیں کہ جو ان کے تن مردہ میں حیات نو پیدا کر کے ان کے جسم کی رگوں میں منجمد ہونے والے لہو کو دوبارہ دوڑنے پر مجبور کردے۔ اپنی نظم ’’وادئ لولاب‘‘میں وہ اس جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں

گر صاحب ہنگامہ نہ ہو منبر محراب

دیں بندہ مومن کے لئے موت ہے یا خواب

اے وادئ لولاب

بیدار ہوں دل جس کی فغان سحری سے

اس قوم میں مدت سے وہ درویش ہے نایاب

وادئ لولاب

گویا اقبالؒ کی شخصیت ہمیں کشمیر کی محبت میں گندھی ہوئی نظر آتی ہے یا کشمیر ہمیں اقبالؒ کی شخصیت میں رچا بسا لگتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اقبالؒ کے کلام میں کشمیر ‘اہل کشمیر اور داستان کشمیر جا بنا نظر آتی ہے۔