تحریر : رشید شاہ فاروقی

350مساجد کے بانی،   صاحب کرامت،مبلغ اسلام اور انسانوں اور جنات کے پیر و مرشد،حضرت بابا عبداللہ شاہ غازی الگزریالی کرناہ،د راوہ او ر کرگل تک اسلام کی اشاعت کرنے والی عظیم شخصیت،جن کے حکم سے گاؤں لا لہ میں جنات نے ایک رات میں مسجد تعمیر کی۔آپ نے دراوہ میں اسلام کی اشاعت میں بنیادی کردار ادا کیا۔تاریخ کی ورق گردانی سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے جد اعلی کا نام شاہ بابا تھا جو افغانستان کے سکونتی تھے۔اور ان کا مزار افغانستان میں موجود ہے۔

ان کے بیٹے حضرت نورالدین ؒ اپنے وقت کے ولی کامل تھے،  جو افغانستا ن سے کشمیر تشریف لائے اور لاریار ولر (اننت ناگ) موجودہ اسلام آباد میں رہائش اختیار کی۔ کہاجاتا ہے کہ اس وقت مغلیہ دورحکومت تھا اور یوسف شاہ ناظم کشمیر تھے۔ ایک روایت کے مطابق آپ کو یوسف شاہ اپنے ہمراہ افغانستان سے کشمیر لایا تھا۔ باباعبداللہ ؒ  شاہ غازی آپ کی چوتھی پشت سے تھے۔

آپ کی درست تاریخ پیدائش کا علم نہیں۔تذکرہ نگاروں کے مطابق آپ دسویں صدی ہجری میں پرگنہ اولر(انت ناگ) اسلام آبا د کے موضع لاریار میں پیداہوئے۔ ابتدائی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد جب مرشد حق کی تلاش شروع کی اور حضرت بابا نصیب غازی ؒ کے خلیفہ حاجی بابا ؒ سے بیعت ہوئے۔

آپ نے تبلیغ دین کا بیڑا اٹھایا۔آپ کی بزرگی زہد وریاضت تقوی پرہیزگاری کا شہرہ سن کر مغل بادشاہ جہانگیر نے مظفرآباد میں آپ کو جاگیر بھی دی ہوئی تھی جہاں آپ کی بیٹھک بھی تھی۔ دوران تحقیق اس جگہ کی نشاہدہی نہیں ہوسکی اور نہ کسی تاریخ کتب سے نشاندہی ہوئی ہے۔البتہ جاگیر پیش کرنے کاتذکرہ تاریخ کشمیر میں ملتا ہے۔

 واقعات کشمیر میں خواجہ محمد اعظم دیدہ مری یوں رقمطراز ہیں ’’تاریخ حسن میں آپ کا نام باباعبداللہ گزریالی کے نام سے آیا ہے اور لکھا ہے کہ آپ شراب وحدت سے مست اور شعود کے سمندر میں مستغرق تھے۔اگر کسی کے منہ سے اللہ کا نام سنتے نہایت جوش وخروش کے ساتھ آپ کی زبان سے حی اللہ نکلتا اور بے ہوش ہوجاتے۔جذب کے عالم میں ہو کربھی آپ فرائض وسنت اور مستحب اعمال کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔

لوگوں کو نیک امور اختیار کرنے اور برے اعمال ترک کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔بہت سے لوگ آپ کے ہاتھ سے مسلمان ہوئے۔ لوگوں کو صراط مستقیم پرلانے کیلئے بیشتروقت دیہات میں گزراتے اور لوگ ان کے نصائح کو خوب غور سے سن کر ان پر عمل کرتے تھے۔

آپ نے بہت سے دیہات میں مسجدیں،حمام،غسل خانے بیت الخلاتعمیر کرائے مسافرخانے بنوائے۔سال 1117؁ھ اورترک علاقہ گزریال گائوں میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے

  واقعات کشمیر صفحہ نمبر939تاریخ بزرگان کشمیر میں پیرزادہ عبدالخالق طاہری آپ کا تذکرہ یوں کرتے ہیں ’’آنجناب زاد وبوم پرگنہ اولر میں تھا۔ وہ موضع لاری یار کے رہنے والے تھے جب خدا طلبی کی حرارت ان کے دل میں شعلہ زن ہوئی تو حاجہ باباؒ کی خدمت میں آئے تھے۔ جو حضرت بابا نصیب ؒ کے خلیفہ تھے اور پھر وہیں سلوک کے مراتب کو تقدیم تک پہنچایا تھا۔کہاجاتا ہے کہ انہوں نے بچپن میں بابانصیب ؒ کو دیکھا تھا۔

 غرض وہ ایک مرد درویش حق آگاہ‘طالب علم، فقیر کامل،ذاکر،عابد تھے۔سنت سنیہ کے مطابق اپنے مشائخ کی سنت پر چل کر شہر اورقریہ کے گر دنواح میں امربالمعروف کو فروغ دیا تھا۔

رشید شاہ فاروقی

پھر ہر جگہ پر مسجدیں،پل غلسخانے بنائے تھے مسائل کا اظہار اور سنت کا افشاں کرتے تھے دیہات کے لوگوں کو اسلام کی واقفیت دیا کرتے تھے اور ان کی اصلاح وفلاح کی طرف لے جاتے تھے۔لوگ ان کو خواہش وآرزو سے گائوں گائوں بلکہ گھر لے جاتے اور ان کی نصیحتوں کو قبول کرتے جاتے۔

آخر پہ شہرکم آتے تھے۔ لوگوں نے جب ان سے پوچھا کہ شہر کیوں نہیں جاتے ہو کہا کہ طالبوں کے ہاتھوں ایک مدت سے ترس رہا ہوں کہ مبادا میری زبان سے کوئی مہمل کلمہ نکلے اور لوگ اسے تصرفات کا نقل اور کرامات کا اظہار سمجھ بیٹھیں۔

 انہوں نے اپنے ہی وطن میں ایک کمبل کا مکان جودامن کو ہ میں چشمہ کے کنارے بنا ہوا تھا تکیہ بنا کر مسجد شریف کی بنیاد ڈالی تھی اورایک جماعت کے ساتھ وہیں بیٹھے رہتے تھے۔انہوں نے ایک فرحت بخش اور مسرت افزاء زندگی گزاری تھی۔ اس دستور کے مطابق متعدد مواضع میں تصرفات کیئے تھے۔آخر کچھ مدت کے بعد اسی سمت میں ان کی زندگی کے ایام تکمیل کو پہنچے اور پھر 1117؁ھ میں عالم بقاء کو سدھارے۔

تاریخ بزرگان کشمیر صفحہ 601تا602 میں تاریخ حسن کے حوالہ سے آپ کے بارہ میں ایک واقع یوں درج ہے کہ ایک مرتبہ ایک بے اولاد مرید نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر 50روپے نذرانہ کے طور پر پیش کیئے اور اولاد کیلئے التماس کی۔

حضرت نے دعا کی کچھ دنوں بعد حضرت علاقہ لار تشریف لے گئے اور 12برس تک علاقہ میں تبلیغ کرتے رہے مسجدیں، حمام،پل تعمیر کروائے۔زوجہ بال کی سٹرک پر مسافرخانے تعمیر کروائے اس علاقہ سے واپسی پر اس مرید کے گھر پہنچے توخوبصورت اور شائستہ 12لڑکے ان کی خدمت میں پیش کیئے گئے۔

حضرت بولے (رسولﷺ کی امت میں اورزیادتی ہو) بیٹوں کے باپ نے عرض کی حضرت یہاں ز مین کی گنجائش نہیں اتنے ہی کافی ہیں۔ حضرت نے پھر دعاکی، اس کی عورت بانچھ ہوگی۔

علاقہ لولاب میں میٹھی گری والی خوبانیوں کا ایک باغ بنوایا تھا۔حضرت 12برس علاقہ لار میں رہے اس عرصہ میں ظالم لوگ زبردستی سے باغ کی گریاں لیتے رہے۔ واپسی پر باغ کی حقیقت لوگوں نے سنائی انہوں نے دعا کی آج سے گری کے بغیر خوبانیاں نکالا کریں اس وقت سے اس باغ کی خوبانیاں گری کے بغیر ہوتی ہیں (حسن)۔

 ایک دفعہ خوبانیاں پکنے کے موسم میں سیاحت کے طور پر کھمبریال پہنچا باغ میں اب صرف دو درخت موجودتھے۔میں نے کچھ دانے خوبانیوں کے کھائے جو حد درجہ میٹھے تھے لیکن گری کے بغیر۔بابا نے 1117؁ھ میں دنیا کوا لوداع کہا اور اتر علاقہ کے ایک گائوں گزریال میں ان کی نعش کو سپرد خاک کیا گیا۔تاریخ حسن صحفہ نمبر285۔
تاریخ اقوام کشمیر میں محمد دین فوق نے آپ کا تذکرہ یوں کیا ہے۔’’پیر صاحبان گزریال ہندواڑہ‘‘ اس خاندان کے مورث اعلی حضرت پیر بابا صاحب بیان کیئے جاتے ہیں جن کا مزار  بنیرسوات میں ہے۔آپ کی والدہ سید زادی تھی اور آپ قریش الاصل تھے آپ کے فرزند نوردین بابا سب سے پہلے کشمیر آئے ان کے فرزند ابراہیم بابا ان کے حسین بابا اور ان کے بابا عبداللہ تھے۔

حسین بابا کے فرزندوں میں سے بابا عبداللہ صاحب کشف وکرامات اور موید اسلام کی حیثیت سے کشمیر میں شہرت حاصل کی۔آپ پرگنہ اولر کے موضع لاریارمیں پیدا ہوئے۔
 تاریخ خواجہ ا عظمی،تاریخ کبیر کشمیر میں آپ کے کچھ حالات درج ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگوں کی خواہش پر قریہ قریہ دیہہ دیہہ پھرا کرتے تھے آپ کے ہاتھ پر اکثرلوگوں نے اسلام قبول کیا سنت نبوی اور شریعت اسلامیہ کی اشاعت آپ کا خاص مقصد تھا۔آپ نے اکثر مقامات پر غسل خانے،حمام،مساجد،مسافرخانے تعمیر کرائے، پل تعمیر کرائے۔

آپ حضرت بابا نصیب غازی ؒ کے خلیفہ حاجی بابا سے رتبہ تکمیل وارشاد حاصل کیا۔1117؁ھ میں وفات پائی گزریال ہنڈواڑہ میں دفن ہوئے ان کے فرزند بابا عبدالسلام ان کے بابا پیر بہائوالدین ان کے فرزندپیر حسین بابا تھے جو راجہ شیرا حمد خان والی کرناہ کے زمانہ میں ان کے تمام علاقہ کے قاضی تھے، یہ حسین بابا کے برادر اصغر پیررسول بابا تھے جوبڑے پایا کہ اہل اللہ اورفارسی وکشمیری زبان کی شاعر تھے۔ ان کی بہت سی غیر مطبوعہ تصانیف ان کی اولادکے پاس موجود ہیں۔

 آپ کے چار فرزند تھے پیر عبداللہ بابا،پیر محمد صادق،پیر رحمت اللہ،پیر عبدالاحد،پیر عبداللہ کے فرزند پیر ضیاء الدین ان کے پیر عبدالسلام،پیر محمد انور،پیر محمد صادق کے مولوی محمد عباس،پیر غلام احمد،پیر محمد عباس کے فرزند بہائوالدین پیر رحمت اللہ کے پیر محمد یامین،پیر قطب الدین متقی اور پابند شرح بزرگ ہیں۔(تاریخ اقوام کشمیر صحفہ نمبر714۔)
        اوپر بیان کردہ مختلف تاریخی حوالہ جات  سے عیاں ہے کہ آپ کو تبلیغ دین کے ساتھ ساتھ رفاعی کام کرنے کابے حد شوق تھا۔ اسی شوق کی تکمیل میں آپ نے مسافرخانے،پل،غسلخانے تعمیر کرائے تا کہ مخلوق خدا ان سے استفاد ہ کرسکے۔ آپ کا اہم کارنامہ مساجدکی تعمیر ہے۔تذکرہ نگاروں کے مطابق آپ نے کشمیر میں 370مساجد تعمیر کرائیں جن میں سے ایک سو ایک مساجد صرف وادی نیلم میں تعمیرکرائیں تھیں۔ جن میں سے 3مساجد کا تذکرہ زبان زدعام ہے۔ ان میں سے ایک مسجد سالخلہ دوسرت لالہ تیسری کٹن گائوں میں تھی۔

مسجد سالخلہ:

سالخلہ بمبہ حکمرانوں کی راجدانی رہا ہے۔سالخلہ کے مقام پر ایک مسجد تعمیر شدہ تھی جواب موجود نہیں۔1960؁ء تک اس کے آثار تھے کچی دیواروں پر دیودار لکڑ کے تختوں کی چھت لگی ہوئی تھی۔ یہ چھوٹی سی مسجد تھی علاقہ میں یہ بات معروف تھی کہ اگر کسی کی چوری ہوجاتی یادیگر کوئی ایسا معاملہ درپیش ہوتا تو جس شخص پر الزام ہوتا اسے سالخلہ مسجد میں قسم اٹھانے کو کہا جاتا۔

اگر وہ شخص قسم اٹھا لیتا تو اسے معاف کردیا جاتا لوگوں کا اعتقاد تھا کہ جوشخص بھی اس مسجد میں جھوٹی قسم اٹھاتا ہے اسے فوراًنقصاں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔یہ روایت بھی مشہور ہے کہ باباعبداللہ گزریالی ؒکے جنات ماتحت تھے کچھ تذکرہ نگاروں کے مطابق آپ کے مرید بھی تھے وہ ہرمسجد میں جنات میں سے ایک امام متعین کرتے تھے جو جنات کو نماز پڑھاتے۔حسین شاہ ساکنہ گہل نے بچپن میں کسی شخص کا واقع سنایا تھا (نام یاد نہیں رہا)  اس نے سالخلہ مسجد کے پاس پہنچکر اس کی طرف ہاتھ کر کے جھوٹی قسم اٹھائی تھی تو اس کابازو نا کارہ ہوگیا تھا
مسجدشریف لالہ:

یہ مسجد بھی آپ کی تعمیر کردہ ہے سینہ بہ سینہ روایت کے مطابق بابا عبداللہ گزریالی نے یہ مسجد جنات کے ذریعہ ایک دن میں تعمیر کرائی۔ابتداء میں یہ پتھر کی دیواروں اور دیودار کے تختوں کی چھت سے تعمیر تھی۔وقتاًفوقتاً مقامی لوگ اس کی تعمیر کراتے رہے اب تختوں کی جگہ جستی چادرکی چھت ڈالی ہوئی ہے۔گائوں کے لوگوں کے مطابق رات کے وقت اس مسجد میں جانے یا ٹھہرنا ممکن ہے۔
مسجد شریف کینتھا ل کٹن:
دوران تحقیق ڈاکٹر عبدالرشیدشاہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے آبائواجداد سے سن رکھا ہے کہ کٹن کے موضع کینتھا ل میں ایک دیودار کا درخت تھا اس سے تیل جیسے پہاڑی زبان میں (لو)کہتے ہیں جودیودار کی لکڑی کا عرق ہوتا ہے نکلتا تھا۔ جن لوگوں کو خارش کی بیماری ہوتی تھی وہ دیودار کا تیل جسم پر لگاتے اس سے افاقہ ہوجاتا تھا۔ا سی طرح جس مال مویشی کو خارش (کھوشی)کی بیماری ہوتی تھی اسے اس تیل سے مالش کرتے تھے تو وہ ٹھیک ہو جاتا تھا۔

عورتیں سر کی جوئیں مارنے کیلئے اس تیل کااستعمال کرتی تھیں۔تواہم پرستی کی وجہ سے جاہل لوگوں نے اس درخت کو دیوتا مان کر اس کی پوجا شروع کردی۔ حضرت بابا عبداللہ گزریالی  ؒ تبلیغ کے سلسلہ میں گائوں گائوں جاتے تھے ایسے ہی ایک دورہ کے دوران لوگوں نے آپ کودرخت کی پوجا کا واقع سنایا توآپ نے موقع پر جاکر اس درخت کو کٹواکر اسی کی لکڑی سے اس جگہ پر مسجد تعمیر کرادی۔اس مسجد پر جو تختی نصب کرائی گئی تھی وہ صدیاں گزارنے کے باوجود آج بھی موجود ہے۔قدیمی مسجد کی جگہ اب پختہ مسجد تعمیر ہے۔

ہوا میں اڑنے والی گھوڑی اور اس کے نشانات

اس کے علاوہ مشہور روایت ہے کہ بابا عبداللہ الگزریالی گھوڑی پرسفر کرتے تھے جس کے ساتھ اس کا بچہ (بچھیری) بھی ہوتی تھی۔ یہ گھوڑی ہوامیں اڑتی تھی بعض تذکرہ نگارروں کے مطابق یہ جنات ہوتے تھے جو گھوڑی کی شکل میں ہوتے تھے جن پر آپ سوار ہوکر دور دراز علاقوں میں جاتے تھے اس سلسلہ میں بہت سی روایات مشہور ہیں وادی نیلم میں متعدد جگہوں پرایسے پتھر موجود ہیں جن پر آپ کی گھوڑی کے پائو ں کے نشانات پائے جاتے ہیں

نشانات بمقام سلاں دواریاں:

علامہ حمیدالدین برکتی نے ایک ملاقات میں بتایا کہ سلاں(دواریاں) کے مقام پر ایک بہت بڑے پتھرپر بابا عبداللہ کی گھوڑی کے پائوں کے نشانات موجود تھے جن میں مٹی جمی ہوئی تھی جب گائوں میں کوئی بیمار ہوجاتا تھا تو لوگ ان نشانات سے مٹی اٹھا کر لاتے تھے اور بطور تبرک استعمال کرتے تھے۔قدرت خداکی ان کو شفاء ہوجاتی تھی۔
کاندری نالہ:

سیف اللہ راشدی صدرمعلم نے دوران تحقیق بتایا کہ کاندری نالہ میں ایک بہت بڑا پتھر ہے جس پربابا عبداللہ کی گھوڑی کے پائوں کے نشانات موجود ہیں جوانہوں نے بذات خود دیکھے ہیں ان میں مٹی جمی ہوئی ہے۔یہ جگہ اسی نسبت سے ڈنگہ بابا عبداللہ کہلاتی ہے۔
دلپئی کٹن

دوران تحقیق ڈاکٹر عبدالرشید شاہ نے بتا یا کہ دلپہی پل بازار کے قریب پہاڑی پر بابا عبداللہ ؒ کی گھوڑی کی پائوں کے نشانات موجود ہیں جو انہوں نے خود دیکھے تھے جو سال 2009؁ء تک موجود تھے۔سال 2010؁ء کے طوفانی سیلاب نے اگرانہیں نقصان نہ پہنچایا ہوتو اب بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
شرف پل اشکوٹ کا پہاڑ اور شانک:

اشکوٹ کے موضع کشتی جہاں پر پیر محمد اعظم شاہ ؒ کی نسل آباد ہے کے قریب ہی شاہرائے نیلم پرا یک پل لگا ہوا ہے جس کی بائیں جانب ایک پہاڑ ہے جوشرف پل کا پہاڑ کہلاتا ہے۔شرف اردومیں عزت کو پل کشمیر میں پہاڑ کو کہتے ہیں۔(شرف پل) یعنی عزت والا (متبرک پہاڑ) پیرمحمد اکبر شاہ (مرحوم) نے 1970-71؁ء میں ایک مرتبہ بتایا تھا کہ انہوں نے خود دیکھا تھا کہ 1940؁ء تک اس پہاڑ پر پتھروں کاچوکاندا بنا ہواتھا جس کے بارہ میں کہا جاتا تھا کہ اس پہاڑ پر باباعبداللہ ؒ نے ظہر کی نماز اد ا کی تھی۔عوام نے عقیدت کی بناء پر اس پہاڑ کو عزت والا پہاڑ قراردے کر اس پر چڑھنا چھوڑ دیاتھا۔اس سے ملحقہ جنگلات کا بہت بڑا رقبہ ہے جو شرف پل کا جنگل کہلاتا ہے۔موضع کشتی میں جنات کی آبادی تھی جس کی آثار آج بھی موجود ہیں۔کشتی سے اشکوٹ اور گہل کوجانے والی سڑکات کے سنگم پر پتھر کی بنی ہوئی ایک کشتی الٹا کر پتھروں پر رکھی ہوئی ہے۔اس کی نسبت سے اس موضع کانام بھی کشتی ہے۔ایک روایت کے مطابق یہ کشتی نہیں بلکہ تھال(پاتر) ہے۔پرانے زمانے میں درخت کاٹ کر اس کے تنے سے برتن بنائے جاتے تھے جس برتن میں آٹا گوندا جاتا تھا یاروٹی کھائی جاتی تھی اسے’’شانک‘‘ کہتے تھے۔ درست طورپر نہیں کہا جاسکتا شانک کس زبان کا لفظ ہے۔اسی طرح کا یہ پتھر کا برتن ہے جسے کشتی کانام دیا گیا ہے۔

اسی موضع میں برلب سٹرک پتھر کا تندور بنا ہوا ہے کہاجاتا ہے کہ جنات کاتندور تھا یہ تندور سال 2010؁ء تک موجود تھا اب بھی شاہد موجود ہوگا۔اسی طرح اس موضع سے ایک نالہ جونالہ گہل کہلاتا ہے LOCسے آکر دریائے نیلم میں گرتا ہے۔یہاں جنات کاگھراٹ (جندر) تھا۔ ایک بہت بڑے پتھر کو کاٹ کر اس سے پانی لاکر آگے چکی چلائی گئی تھی یہ پتھر جسے پہاڑی زبان میں ناوا کہتے ہیںموجود ہے۔ یہاں سے راستہ گزرتا تھا اب پختہ سٹرک بن گئی ہے۔پیر خاندان نے اس جگہ پر آٹا پسنے کی چکی بھی چلا رکھی ہے۔یہاں سے آتے جاتے لوگوں کو اور ان کے مال مویشی کو جنات نقصان پہنچاتے تھے جس کی شکایت بابا عبداللہ ؒ سے کی گئی توانہوں نے جنات کو یہاں سے نکال دیا۔
جب مردہ بندر زندہ ہو گیا

 کچھ ناعاقبت اندیش لوگ اولیاء اللہ کو ہمیشہ ستانے اور ان کا امتحان لینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ایسے ہی ایک واقع مولانا انورشاہ (مرحوم) ساکنہ دواریاں جو زائداز سوسال کی عمر میں مظفرآباد میں فوت ہوئے نے بتایا کی وادی نیلم میں ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے باباعبداللہ ؒ کی دعوت کی اوربندر کو مار کر اس کا گوشت پکایا۔جب آپ دعوت پر تشریف لے گئے توسالن آپ کے سامنے رکھا گیا آپ سالن کو دیکھتے ہی جلال میں آگے اورفرمایا کہ کم باذن اللہ (اٹھ اللہ کے حکم سے) تو بندرکھڑا ہوگیا۔ اس واقع کے بارہ میں علاقہ میں پہاڑی شاعر نے کچھ شعر بھی بنائے ہوئے ہیں۔
کھاو جی پیرو دعوت ہے

اے اچی جگہ بئیڑ والا

اے سچی چنجی کھینڑ والا

اے غاران وچ رہنڑ والا

اے منہ توکج نہی کینڑ والا

کھائو جی پیرو دعوت ہے

پیر جدوں جلال وچ آیا

کم بااذن اللہ دا نعرہ لایا

مریا بندراٹھ بیٹھا

چھالاں ماردا جنگل وچ گیا

علاقے وچ بڑا شور پیہا

لوگاں بڑی لعن تعن کیتی

دعوت والا فرآیا نہیں مسیتی

بہرحال آپ کے وادی نیلم کے باسیوں پر بڑے احسانات ہیں روایت ہے کہ تبلیغ کے سلسلہ میں خواتین کی تربیت ان کے مسائل حل کرنے کے حوالہ سے آپ کی ہمشیرہ بھی آپ کے شانہ بشانہ رہتی تھی۔جو دوران تبلیغ فوت ہو کر چک مقام اٹھمقام میں مدفون ہیں ان کے ساتھ ایک مرد بھی دفن ہے۔مصنف ناگ سے نیلم سمیع اللہ عزیز کی تحقیق کے مطابق یہ آپ کے بھانجے ہیں ان کا نام بھی بابا عبداللہ ہے۔

آپ کی چوتھی نسل سے ایک پیر عبداللہ بابا ؒ ہوگزرے ہیں گمان اغلب ہے کہ چک مقام میں وہی مدفون ہیں۔ ان کے تایا پیر حسین بابا ؒ راجہ شیر احمد والی دراوہ کے دور میں ان کے کل علاقہ کے قاضی تھے۔مسٹر بیٹس نے اپنی مشہور زمانہ کتب اے گزیٹر آف کشمیر میں بھی زیات عبداللہ بابا ؒ کا ذکر کیا ہے۔مگر کوئی تفصیل نہیں دی۔بابا عبداللہ شاہ غازی الگزریالی کا مزار گزریال کپواڑہ میں مرجع خلائق ہے۔