کہانی کار اور تصویر : ھدایت اللہ اختر 

کبھی اس سڑک سے لوگوں کا سرینگر آنا جانا تھا ۔گلگت میں اسی راستے پہلی جیپ ۱۹۳۲ میں گلگت پہنچی ۔اس سڑک کے بننے سے پہلے یہی سے  شین لوگ (چک) کشمیر پہنچے اور حکمرانی کی ۔

اسی روڈ سے خچروں کے ذریعے کونوداس پُل کی لوہے کی رسیاں گلگت پہنچی ۔اسی روڈ سے گلگت سکاوٹس کے جوان تراگبل دراس تک پہنچے ۔

نہ صرف یہ کہ شین لوگ (چک) کشمیر پہنچے اور حکمرانی بلکہ اسی راستے نے گلگت بلتستان کو ایک اکائی کی شکل دی ، اسی راستے میں پرتاب پُل، رام گھاٹ پُل اور کئی تاریخی جگہیں واقع ہیں ۔

اب یہ راستہ پاکستانی علاقہ چلم چوکی تک سب کے لیئے کھلا ہے لیکن چلم سے آگے گلگت بلتستان کی سر زمین منی مرگ قمری اور چورون تک جانا کوئی چاہئے تو بنا این او سی نہیں جا سکتا ہے چاہئے وہ مقامی ہی کیوں نہ  ہو۔