نوجوان صحافیوں کے لئے نیپال میں تربیتی ورکشاپ

رُودادِ دل
جب ہم ایک دوسرے کےلئے اجنبی نہ رہے
راجہ محمدوسیم خان

 تربیتی ورکشاپکھٹمنڈو نیپال میں Young and Mid Career Training Workshop for Kashmiri Journalists 
اشرکت کے لیے جب ہم کراچی سے روانہ ہوئے تو ہمیں قطعی طور پر اس بات کا علم نہیں تھا کہ صرف ایک ہفتے پر مشتمل ہمارا یہ سفر ہمیں ایسی یادیں دے جائے گا جو شاید ہماری زندگی کا سرمایہ بن کر ہمیں پل پل ایک جانی پہچانی اپنائیت کا احساس دلانے ،اور ایک ہونے کا یقین دلاتی رہیں گی۔کھٹمنڈ و پہنچ کر ہم اپنے اپنے کمروں میں آرام کررہے تھے کہ اچانک آواز آئی کہ سری نگر سے آنے والے دوست پہنچ گئے ہیں ۔ہم ملنے کے لیے جوں ہی کمرے سے باہر نکلے تو آواز آئی148 میرے مظفرآبادی بھائی !اسلام علیکم ،کیا حال احوال ہیں؟ صحت کیسی ہے ؟ مظفرآباد کیسا ہے ؟لوگ کیا کررہے ہیں؟ ایک ہی سانس میں اتنے سوال داغنے والا انتہائی گرم جوشی سے ملا کہ بالکل یہ احساس ہوا کہ واقعی دل سے دل مل رہے ہیں ۔ سوالات کی بوچھاڑ کرنے والے اشفاق سعید(کشمیر عظمیٰ) نے سینے کے ساتھ لگے رہتے ہوئے اپنا نام بتایا۔ پھر تجمل الاسلام ،اشفاق تانترے،آصفہ امین و دیگر صحافیوں سے بھی ملاقات ہوئی ۔پہلی ملاقات میں ہی ہمیں اپنا بنانے والے سری نگر کے دوستوں سے بیگانگی والی تو کوئی بات ہی نہ رہی تھی ۔ پہلے دن ہی اتنی بے تکلفی ہوئی کہ ہمیں خیال ہی نہ رہا کہ ہمارے ساتھ باغ148 آزاد کشمیر147 سے طاہر عباسی،گلگت سے فرمان علی،اسلام آباد(پاکستان) سے تابندہ کوکب و دیگر صحافی بھی ہیں۔البتہ قبلہ عبد الوحید کیانی صاحب کو بھی جب کبھی فرصت ملتی ہمیں جوائن کر لیتے ۔ پہلی رات سے ہی راقم ،محمدرفیق مغل( نمائندہ آج ٹی وی میر پور)اورنگ زیب سیف اللہ ( دنیا ٹی وی، مظفر آباد ) اور سری نگر سے آنے والے دوستوں کے ساتھ شروع ہوجانے والی نشستوں کی طوالت کا ہمیں احساس ہی نہ رہا ،اور روز ہمارا یہ معمول ہوتا کہ رات دو بجے تک آپس میں گپ شپ کرتے۔ ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی اور سیاسی،سماجی ،اقتصادی حالات سمیت طنز و مزاح کے کئی دور چلتے۔ جموں سے آنے والے ہیمنت کمار کی گائیکی کا دور چلتا تو رات چھوٹی معلوم ہوتی ۔رات کو اکھٹے جامع مسجد کے پاس ریستوران میں کھانا کھانے جاتے اور پھر واپسی پر بازاروں اور فٹ پاتھو ں کی بھی پیمائش کرتے ہوئے ہمیں کبھی یہ احساس نہ ہوتا کہ ہم پیدل کتنا لمبا سفر طے کر آئے ہیں ۔ باتیں تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی تھیں ۔ہم اس قدر گھل مل گئے تھے کہ ان معمولات کے دوران ہمیں کبھی اس امر کا احساس نہیں ہوا کہ ہم پہلی بار مل رہے ہیں ۔ایسا لگتا تھا کہ ان لوگوں سے صدیوں کی آشنائی ہے اور ہم ایک ہی گھر کے بچھڑے لوگ ہیں ۔شاید اس جذبہ دل میں پوشیدہ ہجر وفراق کی تلخ حقیقت بھی تھی۔
خیر، ہماری تربیت صبح نو بجے سٹارٹ ہوتی اور شام پانچ بجے تک رہتی۔148 پیناس 147نے تنازعاتی رپورٹنگ کے حوالے سے شرکاءکی پروفیشنل تربیت کے لیے مثالی انتظامات کیے ہوئے تھے۔ جموں و کشمیر،پاکستان،بھارت اورنیپال کے سینئر صحافیوں سمیت مسلم یونیورسٹی اونتی پورہ کے وائس چانسلر صدیق واحد اور ارشدخان اس ذمہ داری پر مامور تھے ۔پیناس پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر سحر علی پل پل ہماری راہنمائی کے لیے اپنا سار اوقت صرف کیے ہوئے تھیں۔ جبکہ میزبانی کے فرائض سرانجام دینے والی میتو ورما ،ڈائریکٹر پروگرام پیناس کا ہر وقت مسکراتا چہرہ ہمیں تروتازہ رکھنے میں مدد دیتا رہتا تھا۔
وہاں ہمیں کبھی وقت کی طوالت کا احساس نہیں ہوا۔ ہمارا یہ پیار،محبت ،اخوت، یگانگت کا سفر اتنی جلد ی ختم ہو گیا کہ ہمیں احساس بھی نہ ہوا کہ ہم ایک ہفتہ گزار چکے ہیں ۔اس ایک ہفتے میں تو ہماری باتیں بھی مکمل نہیں ہوئیں ۔ آخر ی چند روز تو شاید ہماری زندگی کے یاد گار ترین لمحات تھے ۔اس دوران ذوالفقار علی (بی بی سی)،ہارون الرشید ،ارشد خان بھی ہمارے ساتھ آملتے تھے اور پھر ہماری محفل طلوعِ سحر تک جمی رہتی۔ سید تجمل کے سنجیدہ مزاح،اشفاق تانترے کے ہنسی بکھیرتے لطیفے ،رفیق مغل کی مزاحیہ اداکاری،ہیمنت کمار کی خوبصورت گلوکاری،اور اشفاق پیر کی مظفرآبادی پہاڑی میں ہم ایسے مگن ہوتے کہ ہمیں وقت کی شدید قلت محسوس ہوتی ۔محفل بڑی ہوجانے کے باعث ہماری دلچسپی اور محبت بھی بڑھ گئی تھی ۔ اسی دوران ہمیں یہ احساس ہوا کہ ہمارے ہاں بھی بہت سارے باصلاحیت گلوکار موجود ہیں ۔اورنگ زیب سیف اللہ کے کلاسیکل گانے ،رفیق مغل کے دیسی ماہیوں نے ہمارے اس یقین کو پختہ کیا کہ صلاحیت کی کمی ہر گز نہیں، البتہ ریاض کی ضرورت یقینا ہے ۔کرگل سے آنے والے امیر امان اللہ مسلسل اپنے گانے سنا سنا کر ہمیں یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے رہے کہ ان کو گائیکی میں مہارت حاصل ہے ۔لداخ سے تعلق رکھنے والی ریچن ڈولماجب ہمیں انتہائی کمزور اردو میں پاکستانی گلوکارہ حدیقہ کیانی کا گانا 148بوھے باریاں 147 سناتیں تو ہمیں یہ احساس ہوتا کہ یقینا موسیقی سرحدوں کی قید سے آزاد ہے ۔سری نگر سے آنے والی صحافی آصفہ امین کی مشق دیکھ کر ہم نے اندازہ لگایا کہ ابھی بہت کچھ طے کرنا باقی ہے ۔اپنے قائد ذوالفقار علی میں تو ہمیں بہت بڑا کلاسیکل گلوکار پوشیدہ نظر آیا ۔پھر و ہ دن بھی آگیا جب ہم نے جدا ہونا تھا ۔بدقسمتی سے سری نگر سے آنے والے بھائیوں کی واپسی کی فلائیٹ ہم سے ایک دن قبل تھی ۔جس پر دونوں اطراف کے صحافیوں نے پیناس کے ذمہ داران سے شدید احتجاج کیا ،تاہم وجہ یہ تھی کہ اگلے دن کی کوئی پرواز دستیاب نہ تھی۔ ہم سب کو اپنے دوسرے حصے کے 148رشتہ داروں 147 کی جدائی برداشت نہیں ہو پا رہی تھی ۔ 25 جنوری کی صبح ہمارے لیے انتہائی سوگوار تھی۔ہمیں پتہ تھا کہ ہمارا یہ ساتھ اب صرف چند لمحوں کا ہے ،اور اس کے بعد شاید ہی کبھی زندگی میں ہم ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ سکیں ۔آنکھیں تو صبح سے ہی پرنم تھیں اور اس دن ہماری ساری باتیں بھی رک گئی تھیں ۔ہر ایک خاموش تھا اور نہ وہ پہلے والی ہنسی اور نہ وہ پہلا سا مذاق،ہر چہرہ مرجھایا ہوا تھا ۔آخری لیکچر کے بعد فوراً سری نگر والوں کو ائیر پورٹ روانہ ہونا تھا اور ان کا سامان ہوٹل میں تیار تھا ۔ہم نے بڑی کوشش کی ان کو ائیر پورٹ تک رخصت کرنے کی رسم ہی پوری کریں ، مگر گاڑی میں جگہ بہت ہی کم تھی جس کے بعد سارے لوگ ٹوٹے دل کے ساتھ الواداع ہو رہے تھے ۔جدائی کے اس دل سوز موقع پر اتنی ہمت کس میں تھی کہ اس موقع پر رسمی بات چیت ہی کر لے ۔میں اور رنگ یب سیف اللہ نے بھاگ دوڑ کر ٹیکسی پکڑی اور ہوٹل کے سامنے رک کر ان کا انتظار کرنے لگے مگر وہ باہر نکلنے والے ہی کب تھے ۔وہ سارے لوگ ہمارے منتظر تھے کہ کب ہم ہوٹل پہنچیں اور وہ الوداع ہوں ۔ہوٹل سے الوداع ہو کر راقم ،اورنگ زیب اور رفیق مغل نے ٹیکسی پکڑی ۔سید تجمل اور اشفاق بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ آپ لوگوں کو ائیر پورٹ نہیں آنا مگر ہم بھی کب ماننے والے تھے ۔سب کی باتوں کو سنی اَن سنی کرتے ہوئے ائیر پورٹ جا نکلے ،جہاں ہر کوئی پرنم آنکھوں کے ساتھ مسکرا رہا تھا ۔گروپ فوٹو بنوا کر سب سے باری باری مل کر الوداع کہنا انتہائی دشوار تھا ۔ہم سب پہلی مرتبہ اس نئے تجربے سے گزر رہے تھے ۔اپنی سرزمین کے باسیوں کو ،اپنے جگر گوشوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا کرنا ایسا احساس دلا رہا تھا کہ اپنے جسم کے کسی اٹوٹ انگ کو کوئی اکھاڑ کر الگ کر رہا ہے ۔آنسو تھے کے تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے اور ان ڈبڈبائی آنکھوں سے ہم اپنے بھائیوں کا چہرہ بھی نہ دیکھ سکے ۔اورنگ زیب تو انتہائی جذباتی ہو رہا تھا ۔رفیق مغل کی حالت بھی قابلِ رحم تھی ،اور ہمیں دلاسہ دینے والا بھی کوئی نہ تھا۔ سب کا ایک ہی جیسا حال تھا، کون کس کو دلاسہ دیتا ۔پھر دھند گہری ہوتی چلی گئی اور ہمارے پیارے ایک ایک کر کے ائیر پورٹ کے اندر داخل ہوتے چلے گئے ۔
ائیر پورٹ سے واپسی پر اتنا دِل کس میں تھا کہ اپنے روم میں جاکر آرام کرے ۔وہ ہوٹل جہاں ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ پورا ایک ہفتہ رہے تھے ۔اور اس ایک ہفتے کے اندر بننے والے بے نام رشتے اوردلوں میں پنپنے والی ادھوری محبتیں ہی ہمارا اصل سرمایہ تھیں ۔
rajawasi@gmail.com