کہانی کار: حبیب گوہر۔ تصاویر : سوشل میڈیا 

ایک دوست نے دریک ہم سفری کی دعوت دی تو مصروفیت کے باوجود انکار نہیں کر سکا۔ انکار نہ کرنے کی وجہ دوستی نہیں بلکہ دریک تھی۔

دریک عید گاہ

لفظ دریک ویسے تو مؤنث ہے لیکن پیڑ، بوٹا، درخت، شجر، نخل اور پھر گاؤں، گوٹھ، موضع، قصبہ کے باعث مذکر بولا جاتا ہے۔ ہم اسے مؤنث ہی استعمال کریں گے کیوں کہ یہ فوراً جوان ہو جاتا ہے۔

اس کی لکڑی پسلی کی طرح بے لچک ہوتی ہے۔ تند ہوائیں اسے توڑ دیتی ہیں۔ اس کا برقع (چھال) خاکستری اور سرمئی لیکن ملائم اور چمکدار ہوتا ہے۔

برقع اتاریں تو اس کا تنا ہلکا سرخی مائل سفید اور بھورا ہوتا ہے۔ اس کا چھتری نما پیڑ جھلسے ہوؤں کو پناہیں فراہم کرتا ہے۔ اس کے برگ، گل اور ثمر کے خواص کے احاطے کے لیے علٰیحدہ دفتر درکار ہے۔ دھرکانو معصوموں کی گولہ باری کے کام بھی آتے ہیں۔

دھریک فیض بخش ہے۔ اسے روشنی اور تھوڑا بہت پانی ملے تو دیگر پیڑوں کی نسبت زیادہ آکسیجن دیتی ہے۔ اس کے دو پنکھی اور سہ پنکھی داندانہ دار پتے بکریوں کے لیے من و سلویٰ سے کم نہیں۔ دھریک کی نئی نویلی کلیاں چنبا اور چنبیلی کو شرماتی ہیں۔

دریک  کے لیے ہم کہوٹہ سے نکلے تو تخیل میں دریک کی دو رویہ قطاریں راولاکوٹ کراس کر گئیں۔ خزاؤں کی حاکمیت کے باوجود فضائیں دھریک کے چھوٹے چھوٹے، ہلکے ہلکے اور اودھے اودھے پھولوں کی بھینی بھینی خوشبوؤں سے بھرئی ہوئی تھیں۔

نیم کی اس بہن دھریک (بکائن) کا عوامی تلفظ تہریک ہے۔ لیکن ڈھوک دریک کے بھلے مانس اسے دریک کہتے اور لکھتے ہیں۔

یہ ایک اتوار کی خوبصورت صبح تھی۔ کہوٹہ پتن روڈ پر جنت ارضی کی طرف جانے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ زیادہ تر راولاکوٹ، بن جوسہ اور تولی پیر کے لیے رواں دواں تھے۔ ایک ہم تھے جو دریک کو قبلہ کیے ہوئے تھے۔

چھوٹی جگہوں کو بڑی جھیلیں اور اونچی چوٹیاں ابھرنے نہیں دیتیں۔ آج تک دریک کے لیے کسی سیاح نے رختِ سفر باندھا نہ اسے موضوعِ سخن بنایا۔

مصنوعی بن جوسہ کے رسیا بھلا دریک کے قدرتی نالے پر باندھا گیا بند دیکھنے کیوں جائیں گے؟ ایک دریک ہی نہیں، اس کے پڑوسیوں اور پڑوسنوں سے بھی دنیا ناواقف ہے۔

دریک وادی پرل کے دل راولاکوٹ کے پہلو میں آباد ہے۔ چہڑھ بازار سے گزرتی سڑک عیدگاہ اور ڈیم سے ہوتی دریک بازار میں داخل ہو جاتی ہے۔ سنگ سرخ سے بنی ایک عمارت، وسیع قدرتی میدان، گرلز کالج، ڈیم اور دہمنی میں ایک شکستہ ٹمپل (گردوارہ )اہم مقامات ہیں۔

مارگلہ کے مقام پر دریک اور چہڑھ  کی چوٹیوں کا سنگم ہے۔ موسمِ گل میں اس کے رنگ ڈھنگ کا اندازہ اس سے لگائیے کہ دریک پت جھڑ میں بھی قابل دید ہے۔ دریک کی وجہ تسمیہ کے بارے میں ہمارا خیال یہ ہے کہ پٹکوں اور شملوں کے دور میں یہاں ”اچیاں لمیاں دریکاں” ہوں گی۔ اب وہ دریکیں رہیں نہ وہ شملے۔ البتہ ماہیوں میں ان کی خوشبو اب بھی رچی بسی ہے؎
اچی لمی دھریک ہووے
کتھوں تویز آنا
مینڈا ماہیا نیک ہووے
دریک خوبصورت ڈیم کے علاوہ اپنی لیڈیز مارکیٹ کی وجہ سے بھی منفرد  ہے۔ جہاں دکاندار اور گاہک سب خواتین ہیں۔ بوتیک، پارلر، کاسمیٹکس اور جیولری کے ساتھ ساتھ سلائی اور ٹیوشن سنٹر بھی ہے.

پاس ایک چشمہ ہے۔ سکھیاں اپنی گاگروں میں تازہ پانی بھرنے سے پہلے تازہ چوڑیاں چڑھانے یہاں چلی آتی ہیں۔
دریک کی مٹی میں پونچھ کے دیگر علاقوں کی طرح بغاوت کی کھنک ہے۔ جب کشمیر گلاب سنگھ کی جاگیر بنا تو اس کے خلاف مزاحمت لچھمن پتن (آزاد پتن) سے طولی پیر تک پھیل گئی۔ اس میں دریک بھی شامل تھا۔

اس تحریکِ حریت کے ایک شہید کیپٹن حسین خان نے جن ڈوگرہ علاقوں کو فتح کیا ان میں دریک گاؤں بھی تھا۔تحریک مزاحمت میں دریک کے سردار عبدالرحمن بھی ہیں جنہیں اس تحریک کے کمسن قیدی کا اعزاز حاصل ہے۔

کشمیر کی شناخت چنار ہے۔ لیکن دریک اور کشمیر میں کچھ صفات مشترک ہیں۔ دونوں دل کش اور  فیض بخش ہیں۔ دونوں درانتیوں اور کلہاڑیوں کی زد میں رہتے ہیں۔ دونوں کہرے اور خشک سالی کا شکار ہیں۔ سامراج عوام کو دھرکانووں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔

شاید وہ اس حقیقت سے بے خبر ہے کہ ایک دھرکانو سے دو سے چار تک  پودے سر نکالتے ہیں۔ دھرکانو لمبائی کے رخ دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے اور بیٹھک کے صداقت طاہر کے اس شعر کی یاد دلاتا ہے ؎
بیج پھوٹا کہ تہہِ خاک بغاوت پھوٹی
ایک ہی جڑ سے تنے دو نکل آئے ہائے