سرحدی تناو کے باوجود آر پار تجارت جاری

posted Dec 26, 2018, 2:05 PM by PFP Admin

آر پار تجارت ، 2018کے دوران 8کروڑ کاکاروبار

 سرحدوں پر کشیدہ حالات کے باوجود رواں برس دسمبرکے اخیر تک  اوڑی اور پونچھ حدمتارکہ کے آرپارمختلف اشیاء کی تقریبا8کروڑ روپے کی تجارت ہوئی ہے ۔دونوں ممالک کے درمیان سیاسی و سفارتی سطح پر کشیدگی جاری رہنے کے باوجود آر پار تجارت کی بحالی پر دنوں طرف کے تجارتی طبقے خوش ہیں تاہم اس مخصوص طرز تجارت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ تجارت دن بہ دن سکڑتی جا رہی ہے کیونکہ یہ ٹریڈ اب کشمیریوں کا نہیں بلکہ اس پر دہلی اور لاہور کے تاجروں کا قبضہ ہے اور کشمیری محض ایجنٹ بن کر رہ گئے ہیں۔

تاجروں کے مطابق تجارت کو مزید فعال بنانے کیلئے مرکزی اور ریاستی سرکار کو نہ صرف اشیاء کو بڑھانا چاہئے بلکہ ساتھ ہی آر پار مواصلاتی نظام اور بینکنگ سسٹم کو بھی متعارف کرانا چاہئے ۔اس دوران ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پچھلے دس برسوں کے دوران6 ہزار 7سو کروڑ کی تجارت ہوئی ہے ۔ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اپریل 2018سے 21دسمبر تک پونچھ راولاکوٹ کراسنگ پوئنٹ سے 104کروڑ 37لاکھ 12ہزار 4سو22روپے کا مال یہاں سے دوسری طرف برآمد کیا گیا جبکہ وہاں سے یہاں 91کروڑ 15لاکھ 33ہزار 2سو96روپے کا مال درآمد کیا گیا ۔

 اس مدت کے دوران یہاں سے وہاں  2314مال سے بھرے ٹرک گئے جبکہ وہاں سے یہاں 1631مال بردار ٹرک آئے ۔ذرائع نے اوڑی سے مظفرآباد کے درمیان تجارت کا حوالہ دیتے کہا ہے کہ اس سال اس تجارتی پوائنٹ سے بھی کروڑوں کی تجارت آر پار ہوئی ہے ۔ذرائع کے مطابق اپریل 2018سے 21دسمبر2018 تک اوڑی کراسنگ پوائنٹ سے 229.8664کروڑ کا مال یہاں سے اُس پار گیا جبکہ 295.8689کروڑ کا مال وہاں سے یہاں درآمد کیا گیا ہے ۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اوڑی سے 2180مال سے بھرے ٹرک ایل اوسی پار گئے اور وہاں سے 2985ٹرک یہاں آئے۔

منقسم ریاست کے آر پار پچھلے کئی برسوں سے تجارت کر رہے تاجر اس تجارت سے مطمئن نہیں ہیں۔تاجروں کا کہنا ہے کہ اس متنازع ریاست کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول(ایل او سی) کے آر پار 2008 سے جاری تجارت عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دینے اور منقسم خاندانوں کو ملانے میں مدد گار ثابت ہو رہی تھی تاہم پچھلے کچھ عرصے سے یہ تجارت صرف نام کی رہ گئی ہے کیونکہ اب اس پر صرف منقسم ریاست کے آر پار کشمیری ہی تجارت نہیں کرتے بلکہ یہ تجارت دہلی اور لاہور کے درمیان ہو رہی ہے ۔اوڑی مظفر آباد کے درمیان ٹرید یونین کے جنرل سکریٹری محمد آصف لون نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب اس ٹریڈ سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ اس تجارت کو آگے بڑھانے میں جتنی کوششیں کی جانی تھیں اتنی کوششیں نہیں ہو رہی ہیں کیونکہ دونوں اطراف سے اس ٹریڈ کو چلانے میں کافی دشواریوں کا سامنا تاجروں کو کرنا پڑتا ہے ۔

آصف کا کہنا تھا کہ ہم نے کئی بارمطالبہ کیا کہ آر پار تجارت کے فروغ کیلے بینکنگ کی سہولت فراہم کی جائے اور ساتھ ہی آر پار موصلاتی نظام کو بھی بحال کیا جائے لیکن اس کی جانب کوئی دھیان نہیں دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ آر پار 21اشیاء کی تجارت کی جاتی تھی لیکن آئے روز ایک ایک کر کے اشیاء پر پابندی عائد کی جاتی ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ اب یہ ٹریڈ کشمیریوں کا ٹرید نہیں رہا ہے بلکہ اس میں اب دہلی اور لاہور کے درمیان تجارت ہو رہی ہے اب کشمیری صرف ایجنٹ بن کر رہ گے ۔آر پار تجارت کے حوالے سے ایل او سی ٹریڈ کے صدر ہلال احمد ترکی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ تاجروں کے ساتھ بینکنگ نظام اور موصلاتی نظام کے جو وعدے کئے تھے اُن کو پورا نہیں کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ1947کے بعد کشمیریوں کو یہی ایک چیز ملی تھی جس کو آگے بڑھانے کی ضرورت تھی لیکن دن بہ دن یہ تجارت سکڑتی ہی جا رہی ہے ۔

ترکی نے کہا کہ یہ تاجر کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ کیا چیز وہاں سے لائیں گے اور کیا یہاں سے بھیجیں گے لیکن جب ہم سرکار کی مرضی سے چیز یں یہاں لاتے ہیں تو اس کا نقصان ہمیں اٹھانا پڑتا ہے اور اس وجہ ہے کہ اب لوگ اس تجارت سے دور ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے ہمارے پاس 647تاجر تھے اب یہ تعداد گھٹ کر 240 رہ گی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دس سال میں 6ہزار 7سو کروڑ کی تجارت ہوئی اور یہ سالانہ 670کروڑ بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک ہم اُس مقام تک نہیں پہنچے ہیں کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ آر پار تجارت روان دوان ہے اور دن دگنی اور رات چگنی ترقی کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے مطالبات سرکار کے پاس رکھے ہیں کہ اشیاء کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ آر پار مواصلاتی نظام بھی بحال کیا جائے اور ساتھ ہی تجارت کو 4دن کے بجائے 6دن کیا جائے ۔تاہم انہوں نے اس بات پر اطمنان کا اظہار کیا کہ سرحد کے آر پار تاجروں کے مال کی چیکنگ کیلئے سکینرکا کام شروع کیا جا رہا ہے اور اس کا فائدہ نہ صرف تاجروں کو ہو گا بلکہ اس سے منشیات پر بھی روک لگ سکتی ہے ۔

 

Comments