عارف الحق عارف


اس وقت دنیا بھر میں جہاں مقبوضہ کشمیر  اور اس کے مظلوم اور نہتے باشندے ،دہشت گرد اور گجرات میں نہتے مسلمانوں کے قاتل نریندرا مودی کی بھارتی سرکار کے بدترین مظالم اور اس کی متنازعہ حیثیت کو ختم کرنے کی غیر آئینی اور غیر قانونی کاروائیوں کی وجہ سے توجہ کا مرکز ہیں۔ وہیں دنیا کے کونے کونے میں اس کشمیر جنت نظیر سے تعلق رکھنے والے کشمیری بھی ہر شعبہ زندگی میں اپنی محنت لگن، وفاداری، ایمانداری اور دیانت داری کی وجہ سے اپنی شناخت رکھتے ہیں ۔ اور کشمیر کا نام روشن کرتے ہیں۔

آپ کسی بھی شعبے کا جائزہ لیں تو آپ کو اس کے چوٹی کے دو تین افراد میں ایک کشمیری کا نام ضرور مل جائے گا۔ اور وہ اپنی کشمیری پہچان اور شناخت پر فخر کرتا ہوا نظر آئے گا۔

یہی حال پاکستانیوں کا بھی ہے۔ جو بیرون ملک ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ اور زرمبادلہ کی شکل میں پالستان کی معیشت کو مضبوط و مستحکم کر نے میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہے ہیں۔ 

ایسے ہی ایک قابل فخر کشمیری محمد اقبال بٹ ہیں۔ جنہوں نے لباس سازی میں اپنی مہارت کی بنا پر کیلیفورنیا کے صدر مقام سیکرامنٹو میں اپنی شناخت بنائی اور دادو تحسین حاصل کی۔

محمداقبال بٹ

وہ ڈاؤن ٹاؤن سیکرامنٹو میں امریکہ کے ریڈی میڈ لباس کے سب سے بڑے شاپنگ مال میسی میں سوٹ ( کوٹ پینٹ) کے شعبے کے ہیڈ ٹیلر ماسٹر تھے اور ۳۲ سال کی شاندار خدمات کے بعد ۷۴ سال کی عمر میں ہفتہ ۲۹ جنوری ۲۰۲۱ کو سبکدوش ہوئے ہیں۔

۳۲ سال تک میسی جیسے ایک ہی بڑے ادارے میں خدمات انجام دینا اور ٹیلر ماسٹر سے ہیڈ ٹیلر ماسٹر کے مرتبے تک پہنچنا ان کی قابلیت اور صلاحیت کا بجائے خود منہ بولتا ثبوت ہے۔۳۲ سال کی طویل خدمات کے دوران ان کو کیلیفورنیا کے گورنر،سیکرامنٹو کے میئر، کانگریس اور کیلیفورنیا کی ریاستی اسمبلی کے ارکان،مقامی نیوز اینکرز اور صحافی،ڈاکٹروں اور زندگی کے دوسرے شعبوں کے بڑے بڑے لوگوں کے سوٹوں کی تیاری کی وجہ سے ان سے جان پہچان کا موقع ملا۔

ان کی اعلی مہارت اور خدمات پر نا صرف ادارے کی انتظامیہ نے تعریفی اسناد اور ایوارڈ دیئے بلکہ گورنر اور میئر نے بھی ان کی مہارت اور اعلی نفیس کام کی داد دی اور تعریفی خطوط اور اسناد سے نوازا۔ 

کووڈ۔ ۱۹ کرونا کی تباہ کاریوں میں جہاں اب تک دنیا کے سارے ملکوں میں پونے ۲۳ لاکھ  انسانوں کی ہلاکت شامل ہے وہیں دنیا بھر میں اربوں کھربوں کا مالی خسارہ بھی ہوا ہے اور بڑے بڑے کاروباری ادارے تباہ و برباد اور دیوالیہ ہو گئے ہیں۔

میسی کو بھی اسی صورت حال کا سامنا ہوا اور اس نے اپنے کئی آؤٹ لیٹس اور  شعبے بند کر دیئے۔اس میں وہ شعبہ بھی شامل تھا جس کے سربراہ اقبال بٹ تھے۔

اقبال بٹ ایک سیلف میڈ انسان ہیں، جنہوں نے جہد مسلسل سے اپنا مقام اور پہچان بنائی اور منوائی۔ان کی زندگی کی کہانی جہد مسلسل سے بھرپور اور بڑی دلچسپ ہے اور آج کل کی نئی نسل کےلئے قابل تقلید اور سبق آموز بھی ہے اور وہ چاہے تو اس سے سیکھ کر ان ہی کی طرح کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔

یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ ہماری اپنی زندگی کی کہانی بھی ان کی جدوجہد سے کافی حد تک ملتی جلتی ہے اس لئے ہم اسے یہاں ذرا تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ 

ہماری طرح اقبال بٹ کا تعلق میرپور آزاد کشمیر سے ہے۔وہ ابھی بچے تھے اور تیسری جماعت پاس کی تھی کہ غربت کی وجہ سے اسکول چھوڑنا پڑا۔

روزی روٹی کمانے کےلئے  کوئی ہنر  سیکھنے کا فیصلہ کیا ان کے بڑے بھائی اسحاق بٹ اسی وجہ سے لاہور جا چکے تھے اور درزی کا کام کرتے تھے۔ اس لئے آسان یہی لگا کہ یہی کام سیکھا جائے۔ اس لئے لاہور چلے گئے،ان سے درزی گری کا کام سیکھا۔جب تھوڑی بہت مہارت حاصل کرلی تو کچھ نیا کرنے اور نئے شہر جانے کی سوجھی اور ہماری طرح ۱۹۶۳ میں کراچی چلے آ ئے۔

چند سال وہاں رہے جامعہ کلاتھ مارکیٹ میں اسی پیشے میں مزیدقدم آگے بڑھائے، لباس سازی کی باریکیوں پر عبور حاصل کیا اور ایمبرائیڈری کا کام بھی سیکھ لیا۔ دو سال بعد ۱۹۶۵ میں روزگار کے بہتر مواقع کی تلاش میں کراچی سے عراق کے شہر بغداد ہجرت کر گئے۔ چند سال وہاں گزارے، تھوڑی بہت عربی سیکھی اور ۱۹۷۰ میں حالات نے ان کو کوئیت جانے پر مجبور کیا۔ آٹھ دس سال وہاں گزارے۔

اب ان کو نئے نئے ملک اور نئے شہر دیکھنے کا چسکا سا پڑ گیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے ۱۹۷۹میں برطانیہ جانے کا موقع بھی نکال لیا۔کچھ عرصہ وہاں رہے۔انگریزی بول چال میں شد بدھ حاصل کی اور اس میں اس قدر مہارت حاصل کر لی کہ اپنا کام چلا سکیں۔

وہاں کے سیر سپاٹے کرتے کرتے جنوری ۱۹۸۲ یں کیلیفورنیا کے دارالحکومت سیکرامنٹو پہچ گئے۔ارادہ امریکہ رہنے کا نہیں،بلکہ اس کے طول و عرض کی صحرا نور دی کا تھا۔

کیلیفورنیا کو دیکھا  تو اس کی آب و ہوا، قدرتی نظاروں اور کھلی ڈھلی جگہوں نے کہیں جانے نہ دیا۔سیکرامنٹو میں ان کی ملاقات ایک سندھی ہندو نوین سے ہوئی جو ٹیلر ماسٹر کی بڑی مشہور دکان میں آرڈر پر سوٹ تیار کرتے تھے۔

انہیں وہاں ملازمت مل گئی اور ۵ سال تک وہیں کام کرتے رہے۔ انگریزی سوٹ کے نامی گرامی ماسٹر  تو تھے ہی ۔سیکرامنٹو ڈاؤن ٹاؤن کے میسی اسٹور کی انتظامیہ کو ان جیسے ماہر کی عرصے سے تلاش تھی۔

قسمت نے یاوری کی،بروقت انتظامیہ سے رابطہ ہوگیا اور منتخب کر لیے گئے یہ ۱۹۸۸ کی بات ہے۔انتظامیہ ان کے کام کی مہارت، محنت اور بر وقت کام مکمل کرنے پر خوش تھی ۔ اور اس نے کئی بار انہیں بہترین کارکردگی پر ایوارڈز سے بھی نوازا ۔

کیلیفورنیا کے سابق گورنر  جیری براؤن کو ان کا تیار کیا ہوا سوٹ بہت پسند آیا کہ ایک بار ان سے ملنے اور شاباش دینے بذات خود میسی کے اسٹور پر آئے،ان کی سوٹ سازی میں مہارت کی خوب تعریف کی اور ان کے ساتھ تصویر بھی بنوائی۔

امریکیوں کی خوبی یہ ہے کہ وہ میرٹ کی بڑی قدر کرتے ہیں۔سیکرامنٹو کے موجودہ میئر  ڈاریل اسٹین برگ بھی ان کے قدردان ہیں۔

اقبال بٹ نے پردیس میں رہتے ہوئے اور  امریکہ آنے کے بعد بھی ہمیشہ اپنے بہن بھائیوں اور خاندان کا بڑا خیال رکھا اور ان کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کیا۔انہوں نے امریکہ کی شہریت ملنے کے بعد اپنے بھائیوں اور بہنوں کو بھی اسپانسر کیا۔ اور وہ بھی امریکہ آگئے ۔ یہ لوگ اب امریکہ کے مختلف شہروں میں کامیاب زندگی بسر کررہے ہیں۔ اور ان کو دعائیں دیتے ہیں۔ ان کے بیٹے احمد اقبال بٹ عرف اکی سیکرامنٹو کی پاکستانی برادری میں بڑے متحرک ہیں۔ 

اقبال بٹ سے ہماری اچانک ملاقات بھی کوئی دو سال قبل اتفاق سے سیکرامنٹو کے ڈاؤن ٹاؤن کی وی اسٹریٹ کی قدیمی مسجد میں ہوئی تھی ۔ جہاں ہمارے عزیز دوست اور بھائی انجینئر مقصود علی کی والدہ محترمہ کے ایصال ثواب کےلئے قرآن خوانی تھی۔ ان سے اس دن کی یہ ملاقات گہری دوستی میں بدل گئی

اقبال بٹ ہمارے ایک کلاس فیلو شبیر راجہ کے بھی گہرے دوست ہیں۔ اور وہی ان کے ساتھ ہماری ۶۳ سال بعد ملاقات کرانے کا سبب بھی  بنے۔ ۲۰۱۹ میں ایک بار ہم ان سے ان کے اسٹور پر عید کی مبارک دینے پہنچے تو انہوں نے اچانک فادر ڈے گفٹ پیش کرکے ہمیں ششدر کردیا۔ جو گیلس بیلٹ تھی۔

اس طرح انہوں نے ہمارے ساتھ اپنی دوستی اور محبت کاعملی ثبوت بھی دیا۔ کہنے لگے، آپ ہمارے بڑے بھائی ہیں۔بڑا بھائی باپ کی جگہ ہوتا ہے اس لیے”  فادر ڈے “ پر گیلس بیلٹ کا ایک چھوٹا سا ہدیہ پیش کرتا ہوں۔  

ہم نے سوچا کہ تحفہ کیسا ہی ہو،قیمتی ہوتا ہے۔اس لئے ہم نے اسے بخوشی قبول کیا اور وہیں پہن کر ان کا شکریہ ادا کیا۔