تحریر : ش م احمد 
اسلامی جمہوریہ بنگلہ دیش زمانے کے نشیب وفراز کا چکر کاٹ کر اب اپنے پچاس سال پورے کرچکا ہے ۔ وزیراعظم حسینہ واجد نےآزاد بنگلہ دیش کی پچاسویں برسی کی تقریب ِزریں اور ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن کا یوم پیدائش ایک ساتھ منانے کااعلان کیا تھا۔ اسی مناسبت سے ۲۶؍ مارچ کو ڈھاکہ میں گولڈن جوبلی تقریب کا انعقاد ہوا ۔ تقریب میں وزیراعظم ہند نریندرمودی مہمان ِ خصوصی کے طور شریک ہوئے۔ خصوصی اجتماع میں حسینہ و اجد کے علاوہ اکابرین ِحکومت ، عسکری قیادت ، روسائے سلطنت اور اشرافیہ کی کہکشاں موجود تھی ۔ بظاہرسب لوگ ہشاش بشاش نظر آرہے تھے مگر لازماً اندر پریشاں رہے ہوں گے کہ ا جتماع گاہ کے باہر بنگلہ قوم جشن ِ آزادی منانے کی بجائے اپنے جگر گوشوں کی لاشیں اُٹھارہی تھی، ملک سوگواری میں ڈوباتھا ، مطلع سیاست پر نخوست کے سیاہ بادل منڈلا رہے تھے ۔ بے بصیرت حکمران ٹولے کو نہ سہی لیکن بنگلہ عوام کے لئے یہ گھمبیر صورت حال اُن کے اجتماعی ضمیر سے سوال کر رہی تھی کیا تم لوگ واقعی آزاد ہو؟ اگر آزاد ہوتے تو آزادی کی پچاسویں سالگرہ منارہے ہوتے، نہ کہ خاک و خون میں رُل جاتے ؟ پھر کیا فرق رہتا ہے غلامی اور آزادی میں؟
  ۲۶؍مارچ کو سچ میں بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد کو مودی مخالف لہر کے آئینے میں سالہا سال بعد پہلی مرتبہ عوامی غم وغصے سے آمنا سامنا ہوا۔ ملک گیر سیاسی ہلچل کا فوری محرک جہاں حکومت کی عدم مقبولیت بتائی جاتی ہے،وہاںنریندر مودی کی ہندواحیا پرست شبیہ بھی حسینہ کے لئے درد ِ سر بن گئی۔ بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان حسینہ واجد کے دورِاقتدار میں دوطرفہ مراسم میں اس قدر گرم جوشی آگئی ہے کہ رواں سال یوم جمہوریہ کے موقع پر تاریخ میں پہلی بار بنگلہ دیش کی ایک فوجی ٹکڑی نے بھی دلی کےمارچ پاسٹ میں حصہ لیا۔ بہر صورت گزشتہ ڈیڑھ برس سے کووڈ ۔۱۹؍ کے سبب مسٹر مودی ملکی حدود سے باہر قدم نہ رکھ سکے۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن بھی عالمی وبا کی وجہ سےاِمسال یوم جمہوریہ کی تقریب میں مہمان ِ ذی وقار بننے سے قاصر رہے، مگر وزیراعظم مودی نے حسینہ واجد کی دعوت پر لبیک کہا اور پہلی بار ملکی سرحد سے باہر جانے کی پرواز بھرلی۔۶۲؍ مارچ کو اُن کا طیارہ بنگلہ دیش کی راجدھانی پہنچا۔ اُن کےڈھاکہ پہنچنے کی دیر تھی کہ اس دورے کے معترضین نے مختلف مقامات پر زوردار مظاہرے شروع کئے ۔ دفعتاً امن وقانون کی صورت حال اتنا پلٹا کھاگئی کہ بنگلہ دیش کا جشن ِزریں ہلاکتوں، زخموں، آنسوؤں اور سسکیوںمیں بدل کررہا۔
 مودی جی کو اپنے بنگلہ دیشی ہم منصب نے ملک کی گولڈن جوبلی تقریب میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا تھا، اوردعوت نامے کی بھنک پڑتے ہی فوراً سے پیشتر اس کی مخالفت میں تیکھا عوامی ردعمل سامنے آیا۔ ڈھاکہ میں مسلم آبادی کا پارہ ۲۶؍ مارچ سے ہفتہ عشرہ قبل ہی مودی کی مخالفت میں متواتر چڑھتارہا ۔ معترضین بضد تھے کہ وزیراعظم ہند کا دعوت نامہ رد کیا جائے، وہ نہیں چاہتے تھے کہ اپنے وطن میں اُس سیاسی شخصیت کا استقبال کریں جو تنازعات کے گھیرے میں رہی ہے۔ مودی کے خلاف بنگلہ قوم کی ناراضی خاص کرچانکات پر مر کوز تھی : (۱) ۲۰۰۲ کو گجرات میں تقریباًتین ہزار مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ نیز اقلیتی مسلم آبادی کے خلاف آتش زنیاں، لوٹ مار، عزت ریزیاں اور دیگر ناقابل ِبیان وحشانہ حرکات کا ارتکاب بھی ہوا۔ اُن دنوں مودی ریاست میں وزارت اعلیٰ کے منصب پر براجمان تھےلیکن مسلمانوں کی منظم نسل کشی کوروکنے کے برعکس انہوں نے چپی سادھ لی (۲): موجودہ بھاجپا سرکار بائیس کروڑ بھارتی مسلمانوں کے تئیںبھید بھاؤ کر رہی ہے (۳): جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیری جارہی ہیں (۴): بھارت کے شہریت ترممیی ایکٹ ( سی اے سی ) اور نیشنل رجسٹر فار سٹیزنز(این آر سی ) جیسے قوانین پر بنگلہ مسلمان بوجوہ سراپا احتجاج ہیں ۔ان قوانین کے بارے میں بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ عبدالمومن پہلے ہی اپنی مایوسی اور تحفظات کا یہ کہہ اظہار کر چکے ہیں کہ ان سے عالمی سطح پر غلط تاثر گیا ہےکہ بنگلہ دیش میں ہندواقلیت پر مظالم توڑے جارہے ہیں ۔ ا س میں دورائے نہیں کہ شہریت قوانین میں ترمیم سےحکام کو گویا لائسنس ملا کہ وہ آسام اور مغربی بنگال میں بنگالی بولنے والےپشتینی مسلمانوں کو بیک جنبش قلم بنگلہ دیشی درانداز یا غیر قانونی تارکین ِوطن قرار دے کر اُنہیں سیاسی اور سماجی طور اُچھوت بنا ڈالیں۔ بنگلہ دیشی مسلمانوں کو بھارت میں صدیوں سے رہ رہے اپنےہم مذہب اور ہم زبان بنگالیوں کی اپنے آبائی علاقوں میں یہ دُ رگت ہونےپر مودی حکومت کے خلاف سخت غصہ ہے کیونکہ سی اےسی اور این آر سی جیسے متنازعہ قوانین کی خالق مودی سرکار ہی ہے ۔ بھارتی مسلمان شہریت ترمیمی قانون کو نہ صرف سیکولر ازم ، گنگا جمنی تہذیب اور قومی وحدت کے لئے ایک بڑا دھچکا کہتے ہیں بلکہ مسلم اقلیت نئے قانون کو اپنے حال ا ورمستقبل کے لئے خطرے اور خدشے کی گھنٹی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے شاہین باغ دلی جیسے مورچے کئی ماہ تک ملک بھر میں منظم کئے رکھے تاکہ ان قوانین کو کالعدم قراردلوایاجائے مگر بے سود۔ان وجوہ کی بناپربنگلہ مسلم اکثریت کا مودی کے خلاف زوردار صدائے احتجاج بلند کرنا قابل ِ فہم بنتا ہے۔ قبل ا زیں ہندوستانی وزیراعظم نے ڈھاکہ کے کئی سرکاری دورے کئےمگر ایک مرتبہ بھی اُن کا استقبال ’’گو مودی گو بیک‘‘ جیسے نعروں، پُر تشدد مظاہروں ، ماردھاڑ ، توڑ پھوڑ سے نہیں ہوا۔ کہتے ہیں کہ تازہ مودی مخالف روش کے پیچھے خطے میںچین کے بڑھتے ہوئے سیاسی اور بیجنگ کی بھاری سرمایہ کاری  کاعمل دخل بھی ہے۔
  خیر مورخ کا قلم جلّی حروف میں بنگلہ دیش کے حوالےسے۲۶ ؍ مارچ کو دو پہلوؤں سے رقم کرے گا: (۱) مودی کا تحقیق طلب دعویٰ (۲) آگ اور دھوئیں کی وہ خونی کہانی جس نے بنگلہ دیش کے جشن ِزریں کی مسرتوں کو ماتم میں بدل ڈالا۔
پرائم منسٹرمودی نے ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی پچاسویں سالگرہ سے  خطاب کیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے سابق مشرقی پاکستان کے مسلمانوں کی نو ماہ طویل سیاسی وعسکری کشمکش سے ذاتی رشتہ جوڑکر دعویٰ کیا کہ میں بیس بائیس سال کا نوجوان رہاہوں گا جب قیامِ بنگلہ دیش کے آندولن میں شرکت کی ، اس کے صلے میں مجھے جیل بھی ہوئی۔ حسینہ نے یہ اَن سنی داستان سنی توتالی بجاکر اس کا سواگت کیا مگر تاریخ سر پکڑ کر سوال کرتی رہی کہ یہ’’ اہم واقعہ‘‘ اس کے اوراق میں محفوظ کیوں نہیں ؟ مودی پر بنائی گئی فلم اور اُن کی زندگی کے حوالے سےوقائع نگاروں نے آج تک کیوں اس اہم راز کو پردہ ٔ اخفا میں رکھا ؟ تاریخ سینہ پیٹ کر یہ بھی پوچھتی رہی کہ اگر وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی واقعی بنگلہ دیش کے حق میں تھیں، اگرانڈین آرمی نے سچ مچ مکتی باہنی کی فوجی پشت پناہی کی ، اگر فی الحقیقت انڈیا نے شیخ مجیب کو بڑھ چڑھ کر سیاسی حمایت دی تو عنفوان ِ شباب میں نریندر مودی کو بنگلہ دیش کی حمایت کر نے پر جیل میں کیوں ٹھونسا گیا؟ کیا یہ عمل اسٹیٹ پالیسی سےمتصادم نہیں تھا؟
  دوسرا پہلو جس پر وقت کا مورخ انگشت بدنداں رہے گا ،یہ سوال ہے کہ جب وزیراعظم مودی ڈھاکہ تشریف لائے تو بنگلہ دیش کی گولڈن جوبلی تقریب بجھی بجھی ، شہر ی لہولہاں،امن ِعامہ غارت، جگہ جگہ پُرتشدد مظاہرے، توڑ پھوڑ، سوئلین ہلاکتیں ، سینکڑوں زخم زخم مظاہرین، مضروب پولیس اَہل کار ،سنگ باری اور آتش زنیوں سے تباہ سرکاری املاک ۔۔۔ یہ شام غریباں جیسا سماں کیا اشا رے دے رہا تھا؟
                 حق یہ ہے کہ۲۶ ؍ مارچ سے قبل ہی ڈھاکہ یونیورسٹی کے ہزاروں طلبہ اور عام مسلم نوجوانوں نے مودی جی کے مجوزہ دورۂ بنگلہ دیش کے خلاف پروٹسٹ کیا تھا۔مظاہرین کی قیادت کر نےو الی ’’حفاظت ِاسلام‘‘ نامی ایک ملک گیر مذہبی جماعت بھی مظاہرے منظم کر نے میں پیش پیش رہی ۔ چھبیس تاریخ کو’’حفاظت اسلام ‘‘کے ہزاروں کارکن چٹاکانگ اور نارائن گنج وغیرہ علاقوں میں سڑکوں پر اُمڈ ے اور دیوانہ وار احتجاجی مظاہر ے کئے ۔حکومت نے امن وقانون کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر قابو پانے کے لئے جگہ جگہ سر حدی حفاظتی فورس تعینات کر دی مگر پولیس کے ساتھ مظاہرین کی جھڑپیں لاکھ روکے نہ روکی جاسکیں۔ تادمِ تحریر ۱۵؍ مظاہرین جان بحق ہوچکے ہیں ۔ غور طلب ہے کہ جس وقت ڈھاکہ خون آشامیوں میں جل رہا تھا، عین اُسی وقت مغربی بنگال میں مودی اور ممتا کے درمیان انتخابی معرکے کا پہلا مرحلہ اپنے عروج پر تھا ۔
 حسینہ واجد نے بنگلہ دیش میں مودی مخالف مظاہروں کا اصل پیغام سمجھا کہ نہیں، اس پر بحث ٹالتے ہوئے خاتون وزیراعظم کی سیاسی بصیرت پر واویلا کر نے کو جی چاہتاہے ۔ کیاقوم کی آزادی کا جشن عوام کا خون بہاکر منایا جاتا ہے؟ ملک کی وزیراعظم ہونے کے باوجود حسینہ عوام کا موڈ سمجھنے کی بجائے نہتوں کی لاشیں کیوں گراتی رہیں، وہ بھی اُس وقت جب وہ اپنے منصب ِجلیلہ کی وجہ سے آزادی کا مشعل بردار ہونے کا شرف پا رہی تھیں۔
یہ ایک کھلاراز ہے کہ حسینہ حکومت مزاجاً انتقام گیرانہ اور آمریت پسندانہ ہے۔ عملاًعوامی بہبود سےاس کا کوئی لینا دنیا نہیں ۔ یہ اسی کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جب سے شیخ مجیب الرحمٰن خانوادے میں  بچنےو الی اُن کی واحد صاحبزادی بر سراقتدار آئیں، ملک کی تعمیر وترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر کر نے کی بجائے انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں کو دبانے کا بیڑہ اُٹھائے رکھا ۔ بنا بریں آج کی تاریخ میں ملک کا حزب ِاختلاف جیلوں میں ہے ، مذہبی جماعتوں کو سر اُٹھانے کی اجازت نہیں ، رائے عامہ کا کوئی احترام نہیں ، سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لئے پھانسی کے پھندے سجائے جارہے ہیں۔ حسینہ حکومت میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو خاص طور نشانہ ٔ انتقام بنایا گیا ۔ اس ضمن میں سنہ ۷۱  کےگڑھے مردے اُکھیڑنے کا کام متنازعہ اسپیشل ٹریبونل کو دیا گیا ۔ٹریبونل نے اب تک’’ جنگی جرائم میں ماخوذ‘‘ جماعت کے معمر رہنماؤںملا عبدالقادر ، امیر جماعت مطیع الرحمن نظامی اوراُن کے دیگر چار ساتھیووں کو ناکردہ گناہوں کے جرم میں صلیب دی ، جب کہ کئی دہائیوں تک جیل کاٹنےو الے سابقہ امیر جماعت پروفیسر غلام اعظم مصر کے معزول صدرمحمد مُرسی کی طرح دار ورسن چومنے سے پہلے ہی قیدو بند میں دار فانی سے کوچ کر گئے۔ انسانی حقوق کی عالمی انجمنیں کی تنقیدیں صدابصحرا ہوئیں کہ یہ نام نہاد خصوصی عدالت عالمی معیارِ عدل پر رتی بھر بھی نہیں اُترتی بلکہ یہ زیادہ سے زیادہ حکام کے ہاتھ میں آمریت کی تلوار سونپتی ہیں تاکہ وہ اپنے سیاسی مخالفین ، نظریاتی حریفوں ، جمہوریت نوازوں اور آزاد خیالوں کو بزورِ بازو دباسکیں ۔ شاید بنگلہ دیش کی خاتون وزیراعظم یہ آفاقی حقیقت بھول گئی کہ قانونِ مکافاتِ عمل کی بے آواز لاٹھی ہر ظالم وجابر حکمرانوں کو بالآخر ہٹلر ، مسولینی ، سٹالین، پنوشئے، سلوبدان ملیوسوئچ
( سربیا) جیسےحکمرانوں کو دیر سویر عبرت ناک انجام سے دوچار کرکے رہتی ہے۔ لہٰذا۲۶  ؍مارچ کے ڈراؤنے خواب سے حسینہ واجد کی راتوں کی نیندیں اُچاٹ جانی چاہیے ،اور اصلاحِ احوال کی نیت سے اُنہیں اپنےلوگوں کا درد سہلانے کے لئے نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم کی طرح انسانیت نواز حکمت عملی اپنانی چاہیے ۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پا لیسی ہمیشہ اُلٹے نتائج پیدا کرتی ہے۔   ؎
 کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار     
خون کے دھبے دُھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

By editor