بنجونسہ جھیل کو پورے پونچھ ڈویژن میں بالخصوص اور پورے آزاد کشمیر میں بالعموم سیرو سیاحت کی سرگرمیوں کا Hubاور علامت قرار دیا جائے تو یہ بات کسی بھی قدر مبالغہ آمیز نہ ہوگی۔

گھنے جنگلات، صنوبر، دیاروں اور بیاڑ کے دیو قامت درختوں کے دامن میں واقع یہ جھیل اپنے دلفریب نظاروں کے سبب سیاحوں کے لیے سحر انگیزی اور دلر بائی کا باعث ہے، جوہر طرح کے موسم میں سیاحوں کے لیے رعنائیوں  او رسرمستیوں کا سامان رکھتی ہے۔

یخ بستہ اورمنجمد کرنے والی سردی اور کُہرمیں یہ جھیل جب سخت برف کی دبیز چادر اوڑھتی ہے توملک کے طول وعرض سے آئے ہوئے کئی کھلنڈرے اورمہم جو سیاح اسکی  جمی ہوئی سطح پراٹھکیلیاں بھی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں! بہار کے موسم میں جھیل کا پانی آس پاس کے درختوں اور سبزہ کے رنگ میں یک رنگ ہو کر ایک رومانوی اور حسین شکل اختیار کرتا ہے۔ تو پورے ملک  سے سیاحوںکاا ایک انبوہ اُمڈ آتا ہے۔

تاہم سیاحوں کی اس قدر بہتات،اس کے مقابل بنیادی سہولیات کے فقدان اورجھیل کی کم مائیگی گزشتہ کئی سالوں سے ایسے مسائل کے طور پر اُبھرتے رہے جس کی طرف ایک مخصوص مائنڈسٹ کے حامل منتخب نمائندوں اور دیگر متعلقہ ارباب اختیار کی توجہ شاز ہی رہی ہے۔

بھلا ہو پرل ڈویلیپمنٹ اتھارٹی  کہ موجودہ چیرمین سردار فرہاد علی خان  کا جنہوں نے اپنے عہدہ کا چارج سمبھالنے کے بعد ان اجتماعی اہمیت کے حامل مسائل پر اپنی خصوصی توجہ مرکوز رکھی اور جھیل کے باب میں 2.5 2ملین  کا ایک بڑا منصوبہ  منظور کروایا جس کا اب باقاعدہ ٹینڈ ر بھی ہو چکا ہے۔کچھ عرصہ  میں اس منصوبہ پر کا م کا  آغاز ہو نے والا ہے۔

مجوزہ توسیعی منصوبے کی تفصیل

 مجوزہ منصوبہ میں بنجونسہ جھیل کی توسیع، پارکنگ، پبلک واش رومز، مسجد، جھیل کے ارد گرد Fence  وغیر ہ کی تنصیب شامل ہیں۔ان سہولیات کی فراہمی سے سیاحوں کے لیے نہ صر ف بہتر سہولیات کی فراہمی ہوگی بلکہ ایک  تنو ع بھی میسر آئے گا۔یقینا ان سہولیات کی فراہمی سے جھیل کی توسیع اور تزہین سے یہاں کے باسیوں کے لیے خود  روزگاری  بلکہ پورے علاقے کے لیے  معاشی نمو اور خوشحالی کے دروازے کھلیں گے۔  سردار فرہاد  علی خان فی ا لواقعہ  اس کریڈٹ اور تحسین کے مستحق ہیں۔ فرہاد علی زمانہ طالب علمی سے سیاست میں سرگرم رہے ہیں یوں وہ گراس روٹ لیو ل سے  ابھر کر موجودہ مقام تک پہنچے ہیں۔ اُن کے سیاسی نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر تعمیر و ترقی کے باب میں اُن کا ویژن  اور و سعت نظری قابل تعریف اور لائق صد احترام ہے۔ 

موجودہ سہولتوں کی حالت زار

بنجونسہ جھیل کے حوالے سے مجوزہ اقدامات قابل قدر ہیں۔ مگر جھیل کے ارد گرد از کاررفتہ جھولوں کی تبدیلی بھی بے حد ضروری ہے جھیل کے انٹری پوائنٹ پر نسب انتظار گاہ  طبعی عمر پوری کر چکی ہے۔ نجی شعبہ کے تعا ون سے نصب کیے گئے جھولے بھی قدرے ماحول آلودہ اور خطرناک ہیں۔ان کے معیار ر کو بھی بہتر کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ جھیل کے حوالے سے سیاحوں کی آمدورفت اور کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے حوالے سے کوئی مربوط نظام ِ کار موجود نہیں ہے۔ اس سال  ایک مقامی فلاحی تنظیم -بنجونسہ رورل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے تعاون سے Solid Waste Managment  کے حوالے سے ایک منصوبہ زیر کار ہے۔ جس سے قدر ے بہتری آئے گی۔

مگر دیرپا اور پائیدار بنیادوں پر مربوط اور منضبط نظام  کے  حوالے سے متعلقہ اداروں کو منصوبہ سازی کر کے اس مسئلہ کے مستقل تدارک کے لیے کوئی لائحہ عمل دینا چاہیے۔ 

بنجوسہ میں ہاوسنگ سکیم کا منصوبہ

 پرل ڈویلیپمنٹ اتھارٹی بنجونسہ جھیل کے نواع میں ہائوسنگ سکیم کا ایک منصوبہ رکھتی ہے۔ جو محکمہ جنگلات اورپرل ڈویلیپمنٹ اتھارٹی کے درمیان باہمی آویزیشن اور مقدمہ بازی کی بنا پر التواء کا شکار ہے ۔مجوزہ ہائوسنگ سکیم کے حوالے سے ہو سکتا ہے پرل ڈویلیپمنٹ اتھارٹی کوئی مربوط پروگرام رکھتی ہوجو مختلف حلقوں کی طرف سے اُٹھائے گئے تحفظات کا ازالہ اور شافی بھر جواب بھی ہو۔

تاہم اس حوالے سے ٹورازم پر نظر رکھنے والے ماہرین اور فیمدہ حلقوں کی رائے ہے کہ مجوزہ ہائوسنگ اسکیم کے بر عکس اس قطعہ اراضی پر فائیوسٹار ہوٹل، بچوں کے لیے پلے لینڈ، ہائپر سٹار کی طرز پر شاپنگ مال ڈسپلے سنٹرز، عجائب گھر کی اگر تعمیر کی جائے تو پرل ڈویلیپمنٹ اتھارٹی کے لیے  بہت ہی بہترین آپشن  ہو گا۔ بقول موجودہ صدر یاست، ہاشوانی گروپ    اور دیگر بہت  سے سرما یہ کا ریہاں فائیوسٹار ہوٹل  اور اس طرح  کی دیگر سو لیات  وغیرہ کے حوالے سے ایسی  دلچسپی رکھتے ہیں۔

 پی ڈی اے کے لیے اس متبادل آپشن سے سیاحوں کے لیے اضافی سہولیات میسر آئیں گی بلکہ پرل ڈویلیپمنٹ اتھارٹی کے لیے بطور ادارہ آمدنی کا ایسا مستقل ذریعہ میسر آئے گا۔ جو اس ترقیاتی ادارہ کی پائیداریت Sustainability اور خود انحصاری کا موجب ہوگا۔ایسی مثالیں شازونادر ہی ملتی ہیں کہ کسی تفریح مقام کے اتنے قریب ہائوسنگ سکیم کی بنیاد ڈالی گئی ہو۔ ایسی رہائشیی سکیمیں ہائی جین Hygenie کے مسائل کے علاوہ سماجی قضیو ں کا باعث ہو سکتی ہیں۔ اور قدرتی حسن کو ماند کرنے کا سبب  بھی!

عملے کی اخلاقی تربیت

بنجونسہ جھیل کے ارد گرد تراڑکھل روڈ بلکہ گوئی نالہ روڈ تک ،نجی اور سرکاری شعبہ میں گیسٹ ہائوسز، مہمان خانوں، ریفریشمنٹ مراکز کی قابل لحاظ تعدادموجود ہے۔ جو سہولیات کی نگاہ سے سیاحوں کی کم حقہ  ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ مگر ان میں مقیم خدمات کی فراہمی پر مامور افراد کی  پیشہ وارانہ اخلاقیات اور ابلاغ کے فن کو اور بہتر کرنے کے لیے محکمہ سیاحت اور غیر سرکاری حکومتی اداروں کو Orientation   ورکشاپس کے ذریعے ان کی استعداد کار کو بہتر کرنے کے پروگرامات بھی بنا نے چا ہیں، تاکہ ایسے خدمات کا ر اور سہولیات دہندگان  بہتر انداز میں سیاحوں کی خدمت،رہنمائی اور سہولت کار ی کے فرائض باطریق احسن سرا نجام دے سکیں۔ 

بنجونسہ جھیل اپنے ماخذ سے نکلنے کے بعد 5کلو میٹر تک بنجونسہ کے 20ہزار مکینوں پر مشتمل گائوں کو دو حصوں میں تقسیم کرتی ہوئی ہموار اور بل کھاتے ہوئے چینل پر رواں دواں رہی ہے اس چینل پر مزید ایک اور جھیل کی تعمیر کی جاسکتی ہے بلکہ ٹرائوٹ او ر دیگر مچھلی کی  اقسام کے فش فارمز بنائے جا سکتے ہیں۔ حال میں سروے آف پاکستان اور آزادکشمیر کے فشیرز ڈیپارٹمنٹ نے اس حوالے سے امکانات اور مواقعوںکی نشاندہی کی ہے۔ متعلقہ اداروں کو اس جانب بھی خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اس سے سیاحت کے لیے نہ صرف مزید سیاحتی Points کا اضافہ ہو گا۔ بلکہ بڑی آبادی کو آبی خوراک اور روزگار کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔ 

بنجونسہ جھیل کے اطراف میں گھنے جنگل کے ساتھ قابل لحاظ آبادی    قیام  پزیر ہے۔ ماضی میں متعدد بار خوفناک جنگلی جانور مقامی آبادی میں گھس آتے رہے ہیں جس سے پالتو جانوروں اور انسانی زندگی خطرات سے دوچار ہوتی رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام جنگل کے گرد Fencing  اور ریزروائر لگا کر جنگلی حیات  اور آبادی کو بچایا جائے۔ 

سیاحوں کے تحفظ اور سہولت کاری کے لیے چند سال قبل بن جونسہ چوکی کا قیام عمل میں لایاگیا تھا۔ جو منصوبہ سازوں کے زاویہ نگاہ سے خوش کُن قدم تھا۔مگر عمومی رائے ہے کہ چنداستثناہی  اچھے اہلکار وں اور چوکی ذمہ داران کو چھوڑ کر اکثر اہلکار، سول کپڑوں میں سیاحوں کا تعاقب کرتے رہتے ہیں جو سہولت کاری اور تحفظ کے بجائے خوف و ہراس اور دھونس کا موجب ہوتے ہیں۔اس  حوالے سے سیاحتی مقام پر ہونے کے ناطے پولیس چوکی کو اپنے روایاتی کردار کو بدل کر ا پنے  ٓآپ   کو   سیاحت دوست اور تحفظ آور بنانے کی ضرورت ہے۔ جملہ معترضہ کے طور پر یہ عرض کرنابھی ضروری ہے کہ پولیس چوکی کے قیام کے بعد چوکی کے نواع میں جرائم کی وارداتوں میں معتدبہ اضافہ  ہواہے۔خصوصاََ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چوریاں تشویش ناک حد تک بڑھی ہیں۔جن کی برآمدگی تاحال سوالیہ نشان ہے۔!۔ 

فی الواقعہ بنجونسہ ایک بڑا  پبلک سیاحتی مقام ہے جو پورے پونچھ ڈوثزن بلکہ کشمیر کامنہ مہاندرہ  ہے۔جو سب کے لیے سانجھ اور سب کی شناخت ہے۔کوئی ٹوریسٹ جب ملک کے طول و عرض سے اس مقام کی طرف عازم سفر ہوتا ہے تو تمام رستہ میں ایک خوانچہ فروش، چھلی بیچنے والے سے لیکرہر شعبہ ہائے روزگار کی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے۔ معاشی سرگرمی بڑھتی ہے۔سماجی رشتے استوار ہوتے ہیں۔لہذا اس مقام کی تاریخی اور سیاحتی حیثیت سے کوئی کھلواڑیہاں کے باسیوں کو  پہلے گوارہ تھا اور نہ  آئند ہ ہوگا۔ 

پرل ڈویلیپمنٹ اتھارٹی اور جنگلات کے علاوہ، یہاں کے منتخب نمائندوں اور خصو صا محکمہ  سیاحت کو  اس خطہ میں، بن جونسہ جھیل، تولی پیر، چھوٹا گلہ چڑیا گھر  کے باب میں مزید انفراسٹریکچر اور  سپر سٹریکچرکی تعمیر کے حوالے سے بتدریج منصوبہ سازی کر کے اسے مزید ترقی دینے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔ بلکہ عمومی طور ریاست کے اندر سیر و سیاحت کے  حوالے سے جو بے انتہا پوٹینشل  مو جود ہے  اسکی تلاش کر کے  فروغ دینے کی  اشدضرورت ہے۔   یہ عمل   ریاست کے  سب  باسیوں کے لیے روزگار ی اور ترقی کا باعث ہو گا۔۔ خصوصا ان لو گوں کے لیے جو معاشی امکانات کی کمی کے سبب دیار غیر کی خاک چھانتے  ہو ے  اپنی جو انیاں صرف کر دیتے ہیں!۔ اوراپنے  پیاروں سے  سالوںدور رہتے ہیں! اوربہت تھوڑی قیمت میں اپنی محنت بیچتے ہیں!۔مزکورہ بالا مندر جا ت ارباب

 اختیار کی انتہائی توجہ  کے منتظر ہیں…….