سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں کی جانب سے آزادکشمیر میں سیاسی اصلاحات کا مطالبہ اہم اقدام ہے

پریس ریلیز

 لندن (16  جنوری 2012 ) : پریس فار پیس نے آزادکشمیر کی سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں کی جانب سے آزادکشمیر میں سیاسی اصلاحات کے مطالبے کو ایک اہم اقدام قرار دیا ہے ۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں 
آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت نے ایکٹ 1974ء کو مسترد کر دیا  اور ایکٹ 1970ء کے تحت حاصل تمام اختیارات آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اور حکومت کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے  پریس فار پیس کے ڈائریکٹر ظفر اقبال نے آزاد کشمیر کے عوام کے جائز مطالبات قرار دیتے ہوئے کہا کہ  آزادجموںو کشمیر کونسل
 کو ختم کرکے آزادکشمیر میں عدالتی اصلاحات ، آزاد الیکشن کمیشن تشکیل دینے ، آزاد حکومت کو بااختیار بنانے ، لینٹ افیسران کی تعیناتی کا سلسلہ ختم کرنےکا مطالبہکشمیریوں کے دیرینہ مسائل ہیں ۔،  آزادکشمیر اور حکومت پاکستان کے درمیان آئینی   مالیاتی انتظامی طریقہ کار پر گول میز کانفرنس میں ازادکشمیر کی حکمران جماعت سمیت 6 بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین نے شرکت کی ۔
آزادکشمیر کے سابق صدر و وزیراعظم سردار سکندر حیات خان ، سابق صدر میجر(ر) سردار انور خان ، سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ(ن) آزادکشمیر کے رہنما راجہ فاروق حیدر ، ممبر قانون ساز اسمبلی ڈاکٹر نجیب نقی ، جماعت اسلامی آزادکشمیر کے امیرعبدالرشید ترابی ،جموں وکشمیر پیپلزپارٹی کے صدر سردار خالد ابراہیم ، آزادکشمیر کی وزیر اور پیپلزپارٹی کی رہنما فرزانہ یعقوب ،سابق وزیر خواجہ فاروق، مسلم کانفرنس کے رہنما مشیر حکومت سردار عبدالرزاق خان ، جموں وکشمیر پیپلزپارٹی کی رہنما نبیلہ ارشاد ، جسٹس(ر) بشارت شیخ ،چیئرمین سی پی ڈی آر شیخ طارق مسعود ،صدر پی پی ڈی آر ذوالفقار عباسی ، ارشاد محمود ، سینئر بیوروکریٹ اکرم سہیل ، سابق سفیر عارف کمال ، عبدالحمید خان ایڈووکیٹ ، لبریشن فرنٹ کے رفیق ڈار اور گلگت بلتستان سے عائشہ خان نے بھی خطاب کیا۔ان رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آزادجموںو کشمیر کونسل کا ادارہ ، آزادکشمیر کے استحصال کا ذریعہ بن رہا ہے اس ادارے کو ختم کرایا جائے جبکہ حکومت پاکستان سے معاملات کے لیے نیا میکنزم تیار کیا جائے ۔ آزادکشمیر عدلیہ میں اصلاحات لائی جائیں پاکستان کی طرز پر ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے ۔ آزاد الیکشن کمیشن کے لیے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کا طریقہ کار تبدیل ہونا چاہیے ۔ اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ممبر ان پر مشتمل کمیٹی چیف الیکشن کمشنر کا تقرر کرے۔ آزاد کشمیر کے سابق صدر ووزیراعظم سردار سکندر حیات خان نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ایکٹ 1974 ء نام نہاد قانون ہے بدقسمتی سے میں نے ہی 1974 ء میںیہ قانون اسمبلی میںپیش کیا تھا اور اسی قانون سے اختلاف پر مستعفی بھی ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت وفاقی حکومت سے معاملات میں ہم خسارے میں رہتے ہیں ۔ جموںو کشمیر کونسل آزادکشمیر سے جو محصولات حاصل کرتی ہے اس کا 20 فیصد حصہ اپنے پاس رکھ لیا جاتا ہے ۔ سابق وزیراعظم شوکت عزیز سے میں نے پوچھا تھاکہ آزادکشمیر کے محصولات سے 20 فیصد حصہ کیوںلے لیا جاتا ہے ان کاکہنا تھایہ جگا ٹیکس ہے انہوںنے کہا کہ ایکٹ 1974 ء میں ترمیم ہونی چاہیئے تاہم آزادکشمیر کی موجودہ حکومت اور اسمبلی سے ایسی توقع رکھنا عبث ہے ۔ آزادکشمیر حکومت ، ممبران اسمبلی پردباؤ ڈالنا پڑے گا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں ۔ سکندر حیات نے کہا کہ کونسل نے آزادکشمیر حکومت کے متوازی نظام بنا رکھا ہے اسی کے تحت سکیمیں دی جاتی ہیں ۔ یہ سکیمیں پاکستان کے علاقوں ایبٹ آباد، چکوال وغیرہ میں بھی دی جا رہی ہیں۔سردار سکندر حیات خان نے کہا کہ رکاوٹ نہ ہو تو آزادکشمیر میں اوورسیز کشمیری سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے تحت وزراء کی تعداد 11 فیصد رکھی گئی ہے آزادکشمیر میںبھی وزراء کی تعداد اسی تناسب سے ہونی چاہیئے مگر یہاں ہر روز وزیر بن رہے ہیں۔ باپ بیٹی سے وزارت کا حلف لے رہا ہے ۔سابق صدر آزادکشمیرمیجر(ر) سردارمحمد انورخان نے کہا کہ ایکٹ 74 ء میں ترمیم کی ضرورت ہے اس میں سیاستدانوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ لینٹ افسران کا سلسلہ ختم کیا جا سکتا ہے لیکن دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا ہمارے افسران کا انتخاب اور صلاحیت ہے کہ وہ کام چلا سکیں گے۔ سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ایکٹ 74 ء غلامی کی دستاویز ہے ۔ جموںو کشمیر کونسل کی موجودگی میں آزادکشمیر کا نظام نہیں چل سکتا ۔ اگرچہ کونسل وزارت امور کشمیر کی چیرہ دستیوں سے بچنے کے لیے بنائی گئی تھی مگر ایسا نہیںہوا ۔ انہوں نے کہا کہ ایکٹ 1974 ء کوبھٹو نے ملٹری سیکرٹری بھیج کر منظور کرایا تھا۔انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر اسمبلی کو قانون سازی اور حکومت کو ایگزیکٹو اتھارٹی واپس دی جائے ۔میں نے گزشتہ عرصے میں آئی ایس آئی چیف جنرل پاشا سے دو گھنٹے تفصیلی ملاقات کی تھی ۔ میں نے یہ معاملات وہاں پر بھی رکھے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کو ختم کرکے پاکستان کی آئین کی دفعہ 257 کے تحت آزادکشمیر کو پاکستان سے باندھا جا سکتا ہے جبکہ باقی تمام اختیارات آزادکشمیر کوواپس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری وفاداریاں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہمارا تعلق پاکستان کی پارلیمنٹ سے نہیں ہے ۔ منگلا ڈیم سے میر پور والوں کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے لیے ہمیں ارسا سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے حالانکہ اتھارٹی میں ہماری نمائندگی نہیں ۔ جبکہ ارسا میں سندھ اور بلوچستان نے آزادکشمیر کو پانی دینے کی مخالفت کی تھی ۔ پنجاب نے ہماری حمایت کی تھی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایکٹ 74 ء میں ترمیم اور جموںو کشمیر کونسل کے خاتمے کے لیے وہ قانون ساز اسمبلی میں پرائیویٹ بل پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ایکٹ 1974 ء میں ترمیم سے اتفاق کرلیا تھا۔ ایک کمیٹی بھی بنائی گئی تھی مگر بعدمیں وہ اپنے وعدے سے پھر گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جموںو کشمیر کونسل کے ذریعے ماضی میں عدلیہ کو دبانے کی کوشش کی گئی تھی ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ عدلیہ کے اختیارات واپس کیے جائیں اگر آزادکشمیر کو پرامن خطہ رکھنا ہے تو کونسل کو ختم کرنا ہو گا۔ فاروق حیدر نے مطالبہ کیا کہ آزادکشمیر میں لینٹ افسران کا سلسلہ ختم کیا جائے ڈیپوٹیشن پر وفاق سے لوگ لیے جا سکتے ہیں۔ جموںو کشمیر پیپلزپارٹی کے صدر سردار خالد ابراہیم نے کہا کہ وزارت امور کشمیر کو اعتما د میں لیے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ آزادکشمیر میںجو آئین ملا ہے اس کے پیچھے ایک تحریک ہے اس تحریک کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 1970 ء کے آئین میں جو اختیارات دئیے گئے تھے۔ وہ دوبارہ آزادکشمیر اسمبلی کودئیے جائیں ۔ بدقسمتی سے 1974 ء کے آئین کے تحت ہم اسمبلیوں سے حلف اٹھاتے ہیں اگر ہم نے انکار کیا ہوتا تو آج صورت حال مختلف ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ جس دن پاکستان میں الیکشن ہوتے ہیں اسی دن آزادکشمیر میں بھی الیکشن کرائے جائیں تو بہت سی بیماریاں ختم ہو جائیں گی ۔ امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر عبدالرشید ترابی نے کہا کہ جب وہ اسمبلی کے ممبر تھے انہوں نے ایکٹ 74 ء میں ترامیم کے لیے ایک پرائیوٹ بل متعارف کرایا تھا۔ مگر بدقسمتی سے یہ سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکا ۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کو ختم کرکے ایسا میکنزم تیار کیا جانا چاہیے جس سے ہمارا نظام بااختیار ہو ۔ بدقسمتی سے جو اختیارات آزاد خطہ کو حاصل ہیں ان پر صحیح عملدرآمد نہیںکیا گیا سیاسی قیادت کا انتخاب ہمارے سامنے ہے ۔ میرٹ کی پامالی ہوئی ہے ۔اداروںکو تباہ کیا گیا ،برادری ازم کو فروغ دیا گیا ۔ انہوںنے کہا کہ ایکٹ 1974 ء میں ترمیم اور کونسل کے خاتمے کے لیے سب سے بڑی ذمہ داری پیپلزپا رٹی ، مسلم لیگ اور مسلم کانفرنس پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جو قیادت ہے اس نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیںکیں وفاق کی خوشنودی کے لیے غلطیاں کیں ۔ پاکستان کی پارلیمنٹ نے بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ملک کا درجہ نہیں دیا جبکہ آزادکشمیر اسمبلی اس سلسلے میں قرار داد پاس کرچکی ہے ۔ پاکستان پیپلزپارٹی آزادکشمیر کے رہنما سابق وزیر خواجہ فاروق نے اتفاق کیا کہ ایکٹ 74 ء میں ترمیم ہونی چاہیئے اور اختیارات آزاد حکومت کو واپس ملنے چاہئیں ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کو اقتدار کا موقع بہت کم ملا ہے زیادہ تر مسلم کانفرنس حکومت میں رہی ہے ۔جموںو کشمیر پیپلزپارٹی کی رہنما نبیلہ ارشاد نے کہا کہ آزادکشمیر کو جو اختیارات حاصل ہیں انہیں بھی صحیح طریقے سے استعمال میں نہیں لایا گیا ہمیں موجودہ آئین کے اندر رہتے ہوئے مستقبل کے لیے اپنا راستہ تلاش کرنا ہو گا۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ ن لوگوں نے کام کرنا ہوتا ہے وہ ہر مشکل صورت حال میں کام کرلیتے ہیں۔ گلگت وبلتستان کی سول سوسائٹی کی رہنما عائشہ خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کو آزادکشمیر اسمبلی سے منسلک کردیا جائے ۔ گلگت وبلتستان میں بے چینی تھی اسی لیے وہاں پر کچھ اختیارات دئیے گئے ہیں ۔ جسٹس(ر) بشارت شیخ نے کہا کہ سی پی ڈی آر نے آزادکشمیر کی سیاسی قیادت کی کانفرنس کی سفارشات کے نتیجے میں رپورٹ تیار کی ہے اس رپورٹ کے تحت سیاسی قیادت کا اتفاق ہے کہ آزادجموںو کشمیر کونسل کے تمام اختیارات جن کا تعلق قانون سازی ، ٹیکس ، غیر ملکی سرمایہ کاری سے ہے آزادکشمیر اسمبلی اور حکومت کو واپس دئیے جائیں ۔ سی پی ڈی آر کے صدر ذوالفقارعباسی نے کہا کہ سی پی ڈی آر ان اہم ایشوز پر گول میز کانفرنسوںکا سلسلہ جاری رکھے گا آئندہ میر پور ، کوٹلی ،راولاکوٹ اور مظفر آباد میں بھی کانفرنسیں منعقد کروائی جائیں گی ۔
Comments