پروفیسر محمد ایاز کیانی

‎بھلے وقتوں کی بات ہے لوگ مطالعہ کے شوقین ہوا کرتے تھے
‎ علمی نشستیں ہوا کرتیں تھیں مثبت پیرائے میں تبادلہ خیالات ہوتا سٹڈی سرکل ہوتےاور موضوع کی باریکیوں کو کھنگالا جاتا ایک ایک نکتے پر بحث ہوتی۔یوں سیکھنے سکھانے کی ترغیب ہوتی۔لوگ کتابیں پڑھتے اور پڑھی گئی کتابوں پر مکالمہ ہوتا۔مگر پھر آہستہ آہستہ یہ رجحان زوال کا شکار ہو نا شروع ہوگیا لائبریریوں کی اہمیت و افادیت مادیت کی نظر ہوتی گئی اب کسی بھی پروفیسر ،استاد سے پوچھیے  بھئی کتابیں پڑھتے ہو تو بڑی بے اعتنائی سے جواب دے گا ان کاموں کے لئے ٹائم کس کے پاس ہے۔بحث کے موضوعات عموماً سیاست کے گرد گھومتے ہیں اور رات کو دیکھے گئے ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھے افلاطونوں کو بطور سند پیش کیا جاتا ہے۔حالانکہ ایک عامی بھی اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ وطن عزیز میں ٹی وی سکرین پر بیٹھے اکثر اینکر حضرات اپنے اپنے مخصوص ایجنڈوں کی تکمیل کے لئے بر سرعمل رہتے ہیں۔
‎ریٹنگ  کی دوڑ میں حقائق سے کسی کو سروکار نہیں ہوتا ہر ایک اپنی پراڈکٹ بیچنے میں مصروف ہوتا ہے جس کی مانگ ہوگی وہی بکے گا جہاں سچ کی مانگ نہ ہو وہاں کوئی سچ کیوں بولے گا؟جس طرح شام کے اخبارات میں سنسنی خیزی پیدا کرنے کے لئے جھوٹ کو مرچ مسالہ لگا کر پیش کیا جاتاہے اسی طرح آجکل پرائیویٹ میڈیا چینلز بھی یہی کام کر رہے ہیں۔بدقسمتی سے عوام کا  ذوق ‎ہی اس طرح بنا دیا گیاہے کہ جب تک مرچ مسالہ ٹھیک ٹھاک نہ لگاہولوگوں کو اطمینان ہی نہیں ہوتا۔پہلے وقتوں میں لوگ صحیح تلفظ سیکھنے کے لئے بی بی سی اور نیوز کاسٹرزسے رہنمائی لیاکرتے تھے مگر آج 80 فیصد نیوز کاسٹرز تلفظ کا حشر نشر کر رہے ہیں۔۔
‎بات موضوع سے ہٹ کر دور چلی گئی -بات ہو رہی تھی مطالعہ کی اہمیت کی۔ایک وقت تھا کہ اساتذہ اور علماء دو ایسے طبقات تھے جن کے بارے میں عمومی رائے یہی ہوتی تھی کہ یہ دو طبقات مطالعہ کرتے ہیں۔مگر آج ان دونوں طبقات نے بھی پڑھنے پڑھانے کو ترک کردیاہے۔لائبریریاں سنسان ہیں۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور نمبرز کی دوڑ نے اس رجحان کو فروغ دینے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔بڑے بڑے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے پاس لائبریری کی سہولت موجود نہیں ہے۔پرائیویٹ ہی پر موقوف نہیں اب تو سرکاری اداروں اور جامعات میں بھی کم وبیش یہی صورتحال ہے۔اساتذہ کی اکثریت کتابوں سے کوسوں دور ہے۔ زیادہ سے زیادہ اخباری کالموں کے علم پر بھروسہ کیا جارہا ہے جن کی زندگی ایک دن کی ہوتی ہے۔کتاب بینی کے زوال کے اس رجحان کو فروغ دینے میں سب سے زیادہ کردارسوشل میڈیا نے اداکیا ہے۔غیر مستند خبریں تجزیے اور تمام تر اخلاقی حدود سے ماوراء اس شتر بے مہار نے مطالعے کے رجحان کی گرتی ہوئی دیوار کو آخری دھکا دیاہے۔جس نے کبھی ایک کتاب نہ پڑھی ہو وہ بھی "مفتی "بن جاتا ہےاور اپنے تئیں اس خبط میں مبتلا ہو جاتا ہےکہ مجھ سے زیادہ پڑھا لکھاکون ہوسکتا ہے؟ جس کے ہزاروں فالوئرز ہیں۔اگر خدانخوستہ یہی صورتحال جاری رہی تو بقول ابن انشاء”ہمارے برادر اسلامی ملک افغانستان میں اول تو کوئی کتاب لکھنے کی جرات نہیں کرتا اور اگر کوئی سر پھرا اس طرح کی جسارت کر بیٹھے تویہ کتابیں پکوڑے اور چلغوزے بیچنے والوں کے کام آتی ہیں”
‎اس عہد زوال میں اگر چند لوگ کتابیں پڑھنے یا لکھنے کی جسارت کریں تو بجا طور پر ایسے لوگوں کی ستائش کی جانی چاہیے -ان کی اس جرات کو سلام پیش کرنا چاہیے کہ وہ اپنی گرہ سے خرچ کرکے اپنے علمی و فکری خیالات دوسروں تک پہنچانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔
‎مائدہ شفیق کا تعلق آزاد کشمیر کے ایک دور دراز اور وسائل کے اعتبار سے نسبتاً پسماندہ علاقے  عباس پور سے ہے۔ آپ نے نمل یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور ویمن یونیورسٹی باغ سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔آپ ایک ابھرتی ہوئی نوجوان لکھاری ہیں آپ کے کالم اردو اور انگریزی میں مختلف اخبارات اور جرائد میں شائع ہوتے ہیں۔آپ نے پرائیویٹ سکولز کے تعاون سے پرائیویٹ لٹریری سوسائٹی قائم کی جس کے پلیٹ فارم سے فروغ ادب کے لئے موثر کردار ادا کر رہی ہیں آپ کی تخلیق(ناول) کو کوڈ۔19 کے تناظر میں اولیت حاصل ہے۔آپ کی تحریروں میں مقصدیت اور تعمیر کردار کا عنصر نمایاں ہے۔
‎برطانیہ میں موجود میرے ادب دوست رفیق دیرینہ ظفر اقبال کی وساطت سے مائدہ شفیق نے اپنا ناولٹ "پاکباز” پچھلے ماہ مجھے ارسال کیا۔۔۔ایک سو چار صفحات پر مشتمل یہ ناولٹ اپنے اندر دلچسپی کا پورا سامان لئےہوئے ہے اور مصنفہ کے مقاصد کی کامیاب تکمیل کرتا ہے۔علمی و ادبی گھرانے سے تعلق کی وجہ سے علم سے محبت آپ کو وراثت میں ملی ہے۔مائدہ کی علم سے محبت اور کتاب سے رشتے کا اندازہ کتاب کے دیباچے میں لکھے اس جملے سے بخوبی ہوتا ہے۔”سوشل میڈیا اور مادیت کی حکمرانی میں کتاب اٹھانے کی ترغیب آسٹن فلپس کے یہ الفاظ دلا سکتے ہیں
Wear a old coat but buy a new book

اخلاقیات ادب سے جڑی ہیں اور ادب سے دوری قوموں کی اخلاقی پستی اور روحانی زوال کی ہیبت ناک پیشنگوئی ہے۔۔”
‎مولوی نذیر احمد کے ناول ابن الوقت سے اُردو ادب میں شروع ہونے والی روایت عبدالحلیم شرر ،شوکت صدیقی، بانو قدسیہ ،اشفاق احمد،ممتازمفتی ،عبداللہ حسین،طارق اسماعیل ساگر ،عزیز احمد اور دیگر سینکڑوں ناولوں سے مزین خوبصورت مالا پر مشتمل  ہے۔
‎کہانی کے پلاٹ اور کرداروں سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مصنفہ کے پیش نظر جہاں کتاب سے ٹوٹے رشتے کو پھر سے جوڑنا ہے وہیں نوجوان نسل کو بے راہ روی کی دلدل سے نکال کر صراط مستقیم پر گامزن کرنا بھی آپ کے مقاصد میں شامل ہے۔

‎آج موبائل فونز اور سوشل میڈیا نے اخلاقی قدروں اور رشتوں میں گہرے شگاف ڈالے ہیں۔معاشرے کے دیگر اہل درد کی طرح مصنفہ کو بھی اس ناقابل تلافی نقصان پر گہری تشویش ہے-وہ چاہتی ہیں کہ آج کی نوجوان نسل جن خرافات کی نظر ہو رہی ہےوہ اس اندھے کنوئیں میں گرنے سے بچ سکیں- والدین کا ادب و احترام کریں /معمولی معمولی باتوں کی وجہ سے اپنے والدین کی عزت وآبرو کو سر بازار نیلام نہ کریں۔اپنی عفت و عصمت کی حفاظت کریں۔والدین سے شکوے شکایات کی بجائے شکر گزار بنیں- یقیناً اس کے بدلے میں اللہ کی ذات ان پر مہربان ہوگی اور بہتر نعم البدل عطا کرے گی۔ناول میں بیان کردہ کہانی سے مترشح ہوتا ہے کہ مصنفہ اردو ادب کے نامور بابوں اشفاق احمد،ممتازمفتی اور بانو قدسیہ کی فکر سے کافی متاثر ہیں۔من کی دنیا کی صفائی کے لیے چلہ کشی اور صوفی ازم سے جڑے
‎دیگر ذرائع پر عمل پیرا ہوتی ہیں تاکہ دنیاکی بے رغبتی کے احساس کو اپنے اندر جاگزیں کر سکیں۔اس طرح کی ایک جھلک اس جملے  میں ملاحظہ کیجئے۔
‎”لکھاری کی ذات اپنے لیے نہیں ہوتی وہ امر بالمعرف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیتاہے۔”
‎ایک اور جگہ اس فلسفہ زندگی کو یوں بیان کرتی ہیں   
"ہم لاوجود ہیں لاوجود۔۔۔وجود صرف اس کے لئے ہےاور موجود بھی وہی ہے جیسے قرآن کہتا ہے زمین پر جتنے ہیں سب کو فنا ہےصرف تمھارے رب کی ذات باقی رہے گی”
‎آپ کے خیالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نوجوان نسل کو سمجھانا چاہتی ہیں کہ جو کچھ بھی اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اس میں انسان کی بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے اور اللہ انسان کو کبھی بھی مایوس نہیں کرتا۔ہمیں اس ذات عالی پر بھروسہ کرنا چاہیے وہ جو بھی کرتاہے انسان کی بھلائی کے لیے کرتاہے۔
‎میری دانست میں آپ کی یہ پہلی کاوش کامیاب قرار پائے گی اور قوی امید ہے کہ مائدہ شفیق کا مسقبل اس میدان میں کافی روشن ہےاس عمر میں جب ہوا کا رخ بے راہ روی اور فواحش کی طرف ہے آپ نے اس رجحان کی مخالف سمت میں چل کر نسل نو کے لئے نئی طرح متعین کی ہے۔میری دعا ہے کہ مصنفہ شاہراہِ عام سے ہٹ کر آئندہ بھی امر بالمعروف کا علم اٹھائے رکھیں۔اس راستے میں رکاوٹیں آنا فطری امر ہے مگر اگر وہ استقلال کے ساتھ اس راہ پرخار  پر گامزن رہیں توشجرہائےسایہ دار کو بھی موجود پائیں گی اور اس آبلہ پائی کے بعد انجام کار فتح و نصرت ان کا مقدر ہوگی۔۔

By editor