ایک ہزار نامعلوم قبروں کی تحقیقات

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میںپریس فار پیس نے مظاہرہ کیا جس میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں دریافت کئے گئے ایک ہزار نامعلوم قبروں کی تحقیقات کرے۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کے والدین کی تنظیم اے پی ڈی پی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اس نے ایک سال کے دوران لگ بھگ ایک ہزار نامعلوم قبریں دریافت کی ہیں اور الزام عائد کیا تھا کہ ان میں زیادہ تر وہ کشمیری نوجوان ہوسکتے ہیں جو گرفتاری کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے۔
مظفرآباد میں پریس فار پیس  کی زیر اہتمام نکالے جانے والے اس مظاہرے میں درجنوں افراد نے شرکت کی۔ صحافیوں کی تنظیم نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان نامعلوم قبروں کی تحقیقات کرے اور ان قبروں میں دفن افراد کی شناخت کی جائے۔
اس تنظیم کے ایک عہدیدار اورنگزیب سیف اللہ نے الزام عائد کیا کہ ان قبروں میں وہ کشمیری نوجوان دفن ہوسکتے ہیں جن کو ان کے بقول بھارتی افواج نے مسلح جدوجہد کے دوران گرفتار کر کے غائب کیا اور بعد میں حراست میں ہلاک کیا۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کے والدین کی تنطیم اے پی ڈی پی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اس نے گزشتہ چودہ ماہ کے دوران سرحدی قصبہ اوڑی کے کوئی ڈیڑھ درجن دیہات میں لگ بھگ ایک ہزار نامعلوم قبریں دریافت کی ہیں۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کے والدین کی تنظیم اے پی ڈی پی نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ اس نے ایک سال کے دوران لگ بھگ ایک ہزار نامعلوم قبریں دریافت کی ہیں اور الزام عائد کیا تھا کہ ان میں زیادہ تر وہ کشمیری نوجوان ہوسکتے ہیں جو گرفتاری کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے
انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور اے پی ڈی پی کے ترجمان پرویز امروز کا کہنا ہے کہ ان قبروں میں زیادہ تر وہ افراد دفن ہوسکتے ہیں جو حراست میں لئے جانے کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ حراست کے دوران ہلاکتوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پولیس ان کو غیر ملکی شدت پسند قرار دیتی رہی ہے۔
اے پی ڈی پی نے مطالبہ کیا تھا کہ ان قبروں میں دفن افراد کی شناخت کی جائے لیکن بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس نے اس مطالبے کو مسترد کردیا تھا۔
ان بے نام قبروں کی دریافت کے بعد ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی حال ہی میں بھارت سے کہا کہ وہ ان کی فوری، جامع ، آزادنہ اور غیر جانبدرانہ تحقیقات کرے اور ساتھ ہی یہ کہا کہ شواہد بچانے کے لیے قبروں کو محفوظ کیا جائے۔
تنظیم نے کہا عام تاثر یہ ہے کہ ان قبروں میں وہ لوگ دفن ہوسکتے ہیں جنھیں سن انیس سو نواسی سے جاری مسلح لڑائی کے دوران غیر قانونی طور پر ہلاک کیا گیا تھا یا وہ جو لاپتہ ہوگئے تھے یا پھر وہ جو تشدد اور اذتیوں کا شکار ہوکر اپنے جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
لاپتہ ہونے والے افراد کے والدین کی تنظیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ بیس سالوں کے دوران کوئی آٹھ ہزار افراد لاپتہ ہوئے جن میں بیشتر کو بھارتی فوج نے گرفتار کیا۔
لیکن بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ اس عرصے کے دوران کوئی تین سو افراد حراست کے دوران ہلاک ہوئے اور کوئی ایک سو افراد گرفتاری کے بعد لاپتہ ہوگئے۔
اسی دوران بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم جماعتوں نے بعض ہندوستانی رضاکاروں کے ہمراہ ایک 146عالمی عدالت145 کا قیام کیا ہے جو مسلح شورش کے دوران فوجی و پولیس اہلکاروں سمیت عسکریت پسندوں کی146 جنگی146 جرائم کی تفتیش کرے گی۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فوج اور بھارت سے آزادی کی حامی جماعتیں ایک دوسرے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتی رہی ہیں۔
Comments