سردار قیوم افسر خان//

سابق ممبر قومی اسمبلی اور لاکھوں مظلوم افراد کی موثر آواز حافظ سلمان بٹ اللہ کی جنتوں کے مہمان بن گے۔ اللہ رب العزت درجات بلند فرمائیں۔ آمین ۔ اس موقعہ پہ برادر جبران بٹ اور دیگر فیملی ممبران سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ حافظ صاحب اپنے زمانہ طالب علمی میں پورے پاکستان اور کشمیر میں ایک جرا ت مند، دلیراور صالح راہنما کے طور پہ ابھرے۔

پاکستان میں 1992 کے الیکشن میں قاضی حسین احمد مرحوم کے حلقہ میں الیکشن مہم چلانے کا موقعہ ملا ۔ وہاں دیگر راہنما لیاقت بلوچ صاحب ، میاں مقصود صاحب اور دیگر کے علاوہ حافظ صاحب کے حلقہ میں بھی جانے کا اتفاق ہوا۔ پورے لاہور شہر میں ھر کسی کے انتحابی جلسہ کی ڈیمانڈ تھی کہ حافظ صاحب کو لازمی شرکت کرنا ھے۔

ایسا ہی ایک جلسہ میاں مقصود صاحب کے حلقہ کا تھانہ گوالمنڈی کے علاقے میں رکھا گیا تھا۔ قاضی صاحب اسٹیج پہ پہنچ چکے تھے۔ قاضی صاحب کی موجودگی کے باوجود شرکاء جلسہ کی نگاہیں کسی کی متلاشی تھیں ۔

ایک سائیڈ سے درویش سا فرد بغیر کسی پروٹوکول کوئی ھٹو بچو کی صداییں نہیں ۔ داخل ہوا مجھے آج بھی یاد ہے ۔ رات ساڑھے دس بجے کا وقت تھا سارا لاہور باھر نکل آیا تھا۔ لاھوریوں نے اپنے مخصوص انداز میں حافظ صاحب کا استقبال کیا۔

منوں گلاب کے پھول حافظ صاحب کے ساتھ ساتھ ھم جیسے ھزاروں نوجوانوں کے حصے میں آئے۔ حافظ صاحب کا استقبال دیکھنے لائق تھا ۔ حلقہ بھی میاں مقصود صاحب کا تھا ۔پنڈال میں سے درجنوں افراد نے ایک ساتھ جو نعرہ بلند کیا وہ یہ تھا ”سوھنا چٹا شیر جوان سیلمان سیلمان۔۔مارے مکا کھڈے جان سیلمان سیلمان ”۔

سارے کا سارا پنڈال آٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ایسا استقبال میں نے اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ حافظ صاحب نے مختصر خطاب کیا ۔ مجمے کو گرمایا اور واپس لوٹ گے۔ لوگوں کی ان سے محبت کا یہ عالم تھا کہ حافظ صاحب کا ماتھا چوما جارھا تھا۔ کوئی ھاتھ چوم رھا تھا ۔ حافظ صاحب کے حلقے کی حدود میں لاہور کی بدنام زمانہ جگہ بھی آتی تھی۔

حافظ صاحب کے مدمقابل میاں صلاح الدین یوسف عرف صلی کا تعلق بھی اسی کے ارد گرد تھا ۔ میاں صاحب نے بیڈ لنگونج کا استعمال کیا، جیسے انتخابات کے موسم میں جوش خطابت میں کوئی چیلنج کر لیتا ہے۔ مجھے اچھی طرح سے یاد نہیں آرھا کہ میاں صاحب کیا کہ بیٹھے تھے۔

ھم دوسری شام حافظ صاحب کے حلقہ میں موجود تھے حافظ صاحب نے اس شام ایک بڑے پروگرام میں اعلان کیا کہ کل شام کو میں میاں صلاح الدین یوسف کی حویلی کے دروازے پہ اسٹیج لگاوں گا۔ باقی کا حساب کتاب وہیں کریں گے۔ انہوں نے نہ صرف کہا بلکہ دوسرے دن شام لاہور کی انتظامیہ کے لاکھ منع کرنے کے باوجود میاں صلاح الدین یوسف کی حویلی کی جانب کارواں چل پڑا۔

اور اس اللہ کے شیر نے اسکے گھر کے دروازے پہ اسٹیج لگایا ۔ میاں صلاح الدین یوسف لاہور کا بااثر ترین فرد تھا۔ سینکڑوں جرائم پیشہ افراد نے اسکی حویلی میں پناہ لے رکھی تھی۔ حافظ صاحب بھی اسے ایک چیلنج دیکر قیادت کے اصرار پہ وہاں سے چلے آئے۔

حافظ صاحب پیپلزپارٹی کے میاں صلاح الدین یوسف مرحوم مسلم لیگ کے میاں اظہر مرحوم پیپلزپارٹی کے جہانگیر بدر مرحوم کو شکست دے کر تین مرتبہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے ممبر بنے ۔۔۔

آج وہ ھم میں نہیں رھے لیکن پاکستان، کشیمر کے لاکھوں مظلوم طبقات کی آس آج ٹوٹ گئی۔ اللہ رب العزت حافظ صاحب کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس عطا فرمائیں ۔ آمین ثم آمین۔ قاضی صاحب مرحوم بھی ہمیں اسی ماہ کے آغاز میں داغ مفارعت دے گے تھے ۔ اور آج اسی ماہ کے اختتام پہ حافظ صاحب بھی چل بسے ۔۔حافظ صاحب انشاءاللہ رب کی رحمتوں کے سائے تلے جنت میں ملاقات ھو گی۔